Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 26)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 26)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
یمن کچھ ہی لمحات پہلے یونیورسٹی پہنچی۔۔۔۔ اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔ کلاسز لینے کے بعد وہ گیٹ سے جیسے ہی نکلی سامنے ہی یارش شاہ کھڑا تھا۔۔۔۔
آج امبر چھٹی پر تھی۔۔۔۔ یمن نے اس نے پر غور نا کیا اور اس کو مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے دوسری طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
یارش نے جیسے ہی اس کی یہ حرکت دیکھی وہ غصے سے مٹھیاں بھینج گیا۔۔۔۔ اور قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔
” تمھیں نظر نہیں آرہا ہے کہ میں کھڑا ہوں۔۔۔۔ تو پھر وہاں کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔ ؟ “
یارش نے اس کی راہ میں آتے ہوئے اسے روک کر کہا۔۔۔ جبکہ یمن کو اس کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا۔۔۔۔!!
” نہیں مجھے نظر نہیں آرہا۔۔۔ میرے راستے سے ہٹو۔۔۔ مجھے جانا ہے۔۔۔۔ !! “
یمن نے اسے پیچھے ہٹنے کا کہا اور اپنے جانے کا کہا جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
” بھائی نہیں آئے گا تمھارا مس یمن یارش شاہ۔۔۔۔۔!! “
اس نے یمن کے پورے نام پر زور ڈالتے ہوئے اسے بتایا کہ اس کا بھائی نہیں آئے گا۔۔۔۔!
” کیوں۔۔۔۔ ؟؟ “
یمن نے بھائی کے نا آنے کی وجہ دریافت کی۔۔۔۔
” میں نے منع کیا ہے۔۔۔۔۔۔!! “
یارش نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس پر یمن نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔!!
” آپ مجھے بتائے گے کہ آپ نے کس خوشی میں منع کیا ہے۔۔۔۔ ؟ “
یمن نے ہلکا سا روڈ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔
” میں نے ان سے کہا تھا کہ آج میری بیوی میرے ساتھ گھومنے کے لیے جائے گی۔۔۔۔۔!!
انھوں نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔۔!! “
یارش نے اسے بتایا کہ اس نے یمن کے بھائی کو اسے یونی سے لے جانے کے لیے اس لیے منع کیا کیوں کہ آج وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔!
یہ سنتے ہی یمن طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔
” کس نے کہا کہ میں تمھارے ساتھ جاؤ گی۔۔۔۔۔ ؟ “
یمن نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
” اور کس نے کہا ہے کہ تم میرے ساتھ نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔!! “
اس نے مسکراتے ہوئے کہا٬٬٬٬٬___
” مسٹر یارش شاہ بہتر یہی ہے کہ یہاں سے چلے جائے آپ۔۔۔۔ اور کوئی تماشا نا لگائے۔۔۔۔
میں خود گھر چلی جاؤ گی۔۔۔۔۔!!! “
یمن نے اسے جانے کا کہا۔۔۔۔ اب کی بار اسے غصہ چڑھا۔۔۔۔۔
” دیکھو یمن۔۔۔۔ مجھے غصہ مت چڑھاؤ اور چپ چاپ میرے ساتھ چلو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔!! “
یارش نے غصے میں خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔ جبکہ یمن طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔
” آپ کو غصہ بھی آتا ہے۔۔۔۔ مجھے تو لگا کہ مسٹر یارش شاہ کو صرف اور صرف چالیں چلنا اور دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا ہی آتا ہے۔۔۔۔۔۔ !! “
یمن نے کافی سریس انداز میں اسے رات والی اس کی ہی کہیں ہوئی باتیں یاد دلائی۔۔۔۔!
” یمن۔۔۔۔۔!! تم بغیر سچ کو جانے اتنی بڑی بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔!!”
یارش کو اس کی یہ بات بہت بری لگی تھی۔۔۔۔
” میں سچ سے آشنا ہوں بلکہ ابھی کل رات کو ہی تو میں تمھاری حقیقت سے آشنا ہوئی ہوں۔۔۔۔۔!! “
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے جواب دیا۔۔۔۔
” اور کل سے تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی ہو۔۔۔۔ ؟ “
اس نے بات بدلنا چاہی۔۔۔۔
” بلوک لسٹ میں ہو میری۔۔۔۔۔۔!! “
اس نے بڑے ہی فخر سے اسے بتایا تھا۔۔۔۔ جس پر یارش ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
” شرم کرو شوہر کو بلوک لسٹ میں رکھا ہے شوہر کو۔۔۔۔۔۔!! “
یارش نے شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
” تمھیں شرم نہیں آئی بیوی کو دھوکا دیتے ہوئے۔۔۔۔۔ ؟ اور ابھی تو صرف موبائل بلوک لسٹ میں ہو۔۔۔ کل زندگی سے بھی بلوک کر دو گی تمھیں میں مسٹر یارش شاہ۔۔۔۔!! “
وہ اسے غصے سے سناتے ہوئے رکشہ روک کر اس پر بیٹھ کر چلی گئی۔۔۔ یارش نے اسے کئی مرتبہ روکنا چاہا کبھی غصے سے تو کبھی پیار سے۔۔۔۔
پر یمن نے اس کی ایک بات بھی نا سنی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔ وہ اس کی طرف سے دیے گئے دھوکے جو کبھی بھی بھول نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔!!
” میری بات کان کھول کر سن لو۔۔۔۔ اگر میرے کہے ہوئے کام میں کوئی بھی بھول چوک ہوئی۔۔۔۔۔ تو تم لوگوں کو چھوڑو گی نہیں میں۔۔۔۔۔!!! “
اس کھنڈر نما جگہ میں جیا کھڑی ہوکر ان تین سامنے کھڑے ہوئے شخص کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔
” میم۔۔۔۔۔!! آپ نے فکر نہیں کرنی کام کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہوگی۔۔۔۔ ویسے بھی ہم کونسا یہ کام پہلے کر رہے ہیں۔۔۔۔!!
عاصم سر کے کہنے پر ہم آپ کی مدد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ اور وہ ہمارے لیے بیت ہی زیادہ معزز ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!
آپ نے بالکل بھی فجر نہیں کرنی ہے۔۔۔۔۔!! ہم ایسی کوئی غلطی نہیں کرے گی۔۔۔۔
جس کی وجہ آپ کو کوئی پریشانی ہو۔۔۔۔۔ ! “
اس سامنے کھڑے ہوئے بھاری بھرکم شخص نے اپنی بات کی وضاحت کی۔۔۔۔ !! “
جس پر جیا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!!
” گڈ۔۔۔۔!! اب تم سب لوگ اپنے کام پر لگ جاؤ شاباش۔۔۔۔۔ اور کل صبح تک مجھے یہ خوشخبری دے دینا۔۔۔۔۔!! “
جیا ہلکا سا مسکرائی اور کہا۔۔۔۔ اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔!! “
” یار آج کافی لیٹ ہوگئی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔!! “
عشاء بوکھلا سی گئی تھی۔۔۔۔ ماحد کافی دیر سے اس کا انتظار کافی دیر سے کر رہا تھا۔۔۔۔۔!
وہ باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔ جبکہ جیا اسے جاتے ہوا دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔۔
” جاؤ جاؤ جلدی جاؤ۔۔۔۔ موت کو گلے لگاؤ اور پھر لاش بن کر شام کو واپس آؤ۔۔۔۔۔۔!!”
دور کھڑی جیا نے جاتی ہوئی عشاء کو دیکھ کر شیطانی مسکراہٹ لیے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں بہنیں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔۔۔۔۔!!
اور یہ سچ ہے کہ وہ دونوں ایک باپ کی اولاد ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔!! جیا کی والدہ نے بیس سال پہلے جھوٹ بولا تھا کہ یہ بچی ان کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔
جبکہ ایسی کوئی بات کے بھی نہیں۔۔۔۔۔۔!! لیکن پھر بھی انھوں نے ہمیشہ اسے اتنا ہی پیار دیا جتنا کہ عشاء کو پھر بھی انھیں یہی صلہ دے رہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔؟
عشاء کو یونیورسٹی اتارتے ہوئے ماحد آفس کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اس بات سے انجان تھا کہ اب ان میں بیت دوریاں پیدا ہونے والی تھی۔۔۔۔۔
عشاء نے جیسے ہی قدم گیٹ کی طرف بڑھائے کسی شخص نے پیچھے سے آتے ہوئے اس کے چہرے پر رومال رکھ دیا۔۔۔
عشاء کا دل بہت گھبرایا۔۔۔۔ وہ اس رومال کو ہٹانے کے لیے مچلنے لگی تھی۔۔۔۔۔!!
لیکن وہ بھی کیا کرتی۔۔۔۔۔۔؟ کیسی اس مظبوط بھاری بھرکم صحت والے شخص کو بتاتی۔۔۔۔
آخر کار وہ بے ہوش ہوگئی۔۔۔ اور باقی دونوں لوگ وہاں گاڑی لے کر آگئے تھے۔۔۔۔!!
عشاء کو گاڑی میں ڈالتے ہوئے انھوں نے گاڑی کی رفتار تیز کی اور وہاں سے نکلتے ہی جیا کو فون کیا۔۔۔۔۔۔!!
” گڈ۔۔۔۔۔۔!! مجھے تم لوگوں سے امید تھی کہ مجھے مایوس نہیں کرو گے۔۔۔۔۔!! “
جیا نے جیسے ہی ان کے منھ سے یہ خبر سنی کہ ان لوگوں نے عشاء کو کس نیپ کر لیا ہے۔۔۔۔! وہ بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔۔
” جی میم۔۔۔۔ آپ کا شکریہ۔۔۔۔۔!! اب آپ ہمیں بتا دے کہ ہمیں اس لڑکی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔ ؟“
اس نے عشاء کے متعلق اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔
” میری بات غور سے سنو وہ لڑکی مجھے زندگی نہیں چاہئیے کسی بھی صورت میں۔۔۔۔
تم لوگ اسے قید رکھو گے۔۔۔۔ اس نے منھ پر ٹیپ لگا کر رکھو گے۔۔۔۔
اور اگر وہ زیادہ تنگ کرے تو اس کے سر میں ایک زور دار ڈنڈا برسا دینا۔۔۔۔!!
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔ تمھیں جو سلوک کرنا ہے اس کے ساتھ کرو۔۔۔!
اسی وجہ سے تو اسے اغواہ کروایا ہے۔۔۔ ہر ایک بات میری یاد رکھنا وہ زندہ واپس نہیں آنی چاہئیے۔۔۔۔۔!! “
جیا نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ وہ عشاء کے ساتھ جو کرنا چاہے کر سکتے ہیں۔۔۔۔!
اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔! بس وہ زندہ نا رہے۔۔۔۔۔!!
” یس میم۔۔۔۔۔!! “
وہ پر اعتماد لہجے میں کہتا ہوا فون بند کر گیا۔۔۔۔۔ جیا کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔
” اب شادی بھی میری اور ماحد بھی میرا۔۔۔۔۔۔!! “
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔
کئی گھنٹے گزرنے کے بعد اس نے ہلکی ہلکی سی آنکھیں کھولیں تھی۔۔۔۔۔ عشاء کو کافی ہائی کیمیکل دوز دی گئی تھی۔۔۔
اس وجہ سے وہ کافی دیر تک بے ہوش رہی۔۔۔۔
اور جب ہوش آیا تو خود کو رسیوں سے جکڑا ہوا پایا۔۔۔۔ منھ ہر ٹیپ نہیں لگی تھی۔۔۔۔
وہ جس جگہ ہر موجود تھی وہ جگہ مکمل پر اندھیرے کے زیرِ اثر تھی۔۔۔۔
یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہاں پر صرف اندھیرے کا ہی راج تھا۔۔۔۔ وہ ایک بند کمرہ میں بالکل درمیان میں تھی۔۔۔۔
کمرے میں نا ہی کوئی روشن دان تھا اور نا ہی کوئی کھڑکی تھی۔۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں اس کے لیے سانس لینا بھی بہت مشکل ہونے والا ہے۔۔۔۔
” ماحد۔۔۔۔۔۔۔!! “
ہلکا سا ہوش آتے ہی اس کی زبان سے سب سے پہلا لفظ ماحد کے نام کا ہی تھا۔۔۔
اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال ماحد کا ہی آیا تھا۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اسے پوری طرح ہوش آنے لگا۔۔۔ وہ مکمل طور پر ہوش میں آگئی تھی۔۔۔
اور اسے سب یاد آیا کہ کیسے یونیورسٹی پہنچتے ہی اسے کڈنیپ کیا گیا۔۔۔۔!! اس کے بعد جو بھی ہوا اسے کچھ معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔
” کھولا مجھے۔۔۔۔۔۔! میں کہاں ہو۔۔۔۔۔۔ بچاؤ پلیز۔۔۔۔۔۔۔!! “
وہ چلائی تھی۔۔۔۔ پر یہاں ہر کوئی بھی اس کی فریاد سننے والا نہیں تھا۔۔۔۔
” بچاؤ مجھے پلیز کوئی ہے۔۔۔۔۔۔!! “
وہ ایک مرتبہ پھر سے چیخی۔۔۔۔۔۔ جب ہی کھڑاک کی ایک زور دار آواز پیدا کرتے ہوئے اس شخص نے دروازہ کھولا۔۔۔۔ عشاء کا دل گھبرایا۔۔۔
وہ دکھنے میں بہت ہی زیادہ عجیب تھا۔۔۔۔ اسے دیکھ کر اسے ویسے ہی خوف آرہا تھا۔۔۔۔۔!! جب ہی وہ اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
