Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 17)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

وہ لوگ ایک بہت ہی خوبصورت جگہ پر پہنچے تھے۔۔۔۔۔! وہ ایک دریا کا کنارہ تھا۔۔۔۔۔ جہاں ایک خوبصورت سیٹ اپ لگایا گیا ہے۔۔۔۔!

ماحد نے گاڑی اس منظر کے سامنے روکی۔۔۔۔۔۔” اور گاڑی کا دروازے کھولتے ہوئے باہر نکلا اور عشاء کی طرف بڑھتا ہوا اس کا دروازے کھولا۔۔۔۔!

” یہ کس کے لیے ہے۔۔۔۔۔؟”

ماحد نے عشاء کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔! عشاء نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے سوال پوچھا۔۔۔۔”

” جئنا کے لیے۔۔۔۔۔!”

وہ کافی سریس انداز میں اس کے پوچھے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسے چونکا گیا۔۔۔۔”

” جئنا۔۔۔۔؟ وہ کون ہے اب۔۔۔۔؟”

عشاء نے غصے سے سرخ پڑتے ہوئے چہرے پر ضبط پاتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔”

” جئنا تمھیں نہیں پتا میری دوسری بیوی۔۔۔۔!!! جس سے میں نے کل ہی شادی کی ہے۔۔۔۔!

کچھ دیر میں وہ یہاں ہر پہنچ جائے گی۔۔۔۔! مس عشاء ماحد مہر۔۔۔۔!”

وہ اپنی ہنسی کو دباتا ہوا بامشکل ہی سریس انداز میں بولا تھا۔۔۔” کیونکہ عشاء کا ایکسپریشن دیکھنے والا تھا۔۔۔۔!

” ت۔۔۔ و آپ نے مجھے دھوک۔۔۔۔”

اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتی وہ اسے اپنے سینے میں بھینج گیا تھا۔۔۔۔!” وہ مزید اسے پریشان نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔”

” کچھ بھی نہیں ایسا میری جان کچھ بھی نہیں میں تو بس ایک چھوٹا سا مزاق کر رہا تھا۔۔۔۔۔!

بس اس کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اور نہ ہی کبھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔۔!

ماحد میر کے دل پر صرف اور صرف عشاء مہر کا راج ہے اس کے علاؤہ کسی اور شخص کا نہیں ہے۔۔۔۔۔!

اور یہ سارا سیٹ اپ صرف اور صرف میری جان عشاء کے لیے ہے۔۔۔۔!”

اس کی یہ باتیں سنتے ہوئے اسے شدید غصہ سا چڑھا اور اس کے سینے پر مکے برسانے لگی۔۔۔۔!

” آپ کا شرم نہیں آتی مجھ معصوم سی جان کے ساتھ ایسا مزاق کرتے ہوئے۔۔۔۔؟”

وہ کافی غصے میں اس سے بولی تھی۔۔۔۔” اور رخ موڑ گئی۔۔۔۔! جبکہ اگلے ہی لمحے وہ اس کے گالوں پر اپنے ہونٹ رکھ گیا۔۔۔۔”

جس ہر عشاء کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔!”

” ماحد میں آپ کو چھوڑو گی نہیں۔۔۔۔!”

وہ غصے سے بولی اور اس کی طرف بھاگی۔۔۔۔! جو یہ گستاخی کرتے ہوئے وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔۔”



وہ اس کے پیچھے پیچھے اس جگہ تک پہنچ گئی جہاں ہر سارا سیٹ اپ سجایا گیا تھا۔۔۔۔!”

وہ جگہ وہ سیٹ اپ بہت ہی زیادہ خوبصورت تھا۔۔۔۔ حاصل کر عشاء کو وہ بہت پسند آیا تھا۔۔۔۔” وسیع ٹیبل پر ایک خوبصورت سی لائن گلاب کی پتیوں سے لکھی گئی تھی۔۔۔۔

” Esha Mahad Mehar I Love you 🔥❤️

اسے پڑھتے ہوئے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔۔” جبکہ ماحد نے باقاعدہ اونچی آواز اس بات کا اقرار بھی کیا۔۔۔۔”

جسے سنتے ہوئے وہ مسکرائی اور اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔ ماحد بھی اس کی طرف ہی بڑھ رہا تھا۔۔۔۔!”

” چلو بھئی اب تمھاری باری ہے۔۔۔۔۔ اظہارِ محبت کرنے کی۔۔۔۔!”

ماحد نے گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔! عشاء کا چہرہ پھر شرم سے سرخ پڑ گیا۔۔۔۔”

” کیا اظہار کیے بغیر محبت کا احساس نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ ؟”

عشاء نے ایک اہم سوال اس کے سامنے رکھا جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔!”

” نہیں میری جان۔۔۔۔۔! محبت تو وہ احساس ہے جو کسی کے کہنے پر نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔۔!

بلکہ محبت خود بخود ہو جاتی ہے۔۔۔۔ محبت کی نہیں جاتی۔۔۔۔! محبت ہو جاتی ہے۔۔۔۔! جس طرح مجھے تم سے ہوئی۔۔۔۔!

لیکن آج تمھیں مجھے آئی لو یو کہنا ہو گا۔۔۔۔۔! ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤ گا۔۔۔ اور تم ہر دفعہ یہی کہتی ہو۔۔۔۔

لیکن اس بار ایسا کچھ بھی نہیں چلے گا تمھیں مجھے آئی لو یو کہنا ہی ہوگا۔۔۔۔! سمجھی تم۔۔۔۔!”

ماحد نے اس کی بات کا آہستگی سے جواب دیتے ہوئے اسے وارن بھی کیا۔۔۔۔!”

” اور اگر میں نہ کہو تو۔۔۔۔!”

عشاء نے تھوڑا سا اتراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔” جس پر ماحد اس سے تھوڑا دور جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔!

” پھر میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔۔!”

وہ خاصی روندو شکل بناتے ہوئے عشاء کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔۔! جسے دیکھ وہ بھی مسکرایا۔۔۔۔!”

” تھوڑا سا دانس نہ ہو جائے۔۔۔۔!”

ماحد نے مسکراتے ہوئے ہی اسے ایک ترکیب دی۔۔۔۔ عشاء ہلکا جھجھکی۔۔۔۔۔!”

جب ہی ماحد نے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔! اس کا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھتے ہوئے وہ اسے اپنے بہت قریب کر گیا۔۔۔۔”

عشاء اس کے اس عمل کو حیرانگی سے دیکھ کر ہی رہ گئی۔۔۔!” جب ہی اس نے دانس شروع کیا۔۔۔۔!

ایک اچھے سے دانس کے بعد انھوں نے ڈنڑ انجوائے کیا۔۔۔۔!” اور وقت دیکھا تو دس بج گئے تھے رات کے۔۔۔۔”

عشاء پریشان ہوئی کہ کہیں اس کے بابا اسے ڈانٹے نا۔۔۔۔!”

” فجر مت کرو انکل سے میں نے کہہ دیا تھا کہ عشاء کچھ لیٹ بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔!”

اس کی پریشانی جو بھانپ گیا تھا وہ۔۔۔۔! اس کی بات سن کر وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!”

” لیکن مجھے گھر جانا ہے کافی تھک گئی ہوں میں۔۔۔۔! بائی دا وے کافی اچھا سرپرائز تھا یہ۔۔۔۔!”

اس نے ماحد کے سرپرائز کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔!” جس پر وہ ہلکا سا مسکرا گیا۔۔۔۔!”

” اور میرے سرپرائز کا گفٹ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟ “

وہ جیسے ہی کھڑی ہوئی ماحد نے اس کے پاس آتے ہوئے کہا۔۔۔۔!”

” کونسا گفٹ۔۔۔۔؟”

عشاء نے اسے گھورا۔۔۔۔۔!” جس ہر ماحد ہلکا سا مسکرایا اور تھوڑا سا آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اس کے گالوں پر اپنے دہکتے لب رکھ دیے۔۔۔۔!”

جس سے عشاء کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔!” وہ فوراً پیچھے ہوئی۔۔۔۔!”

” یہی ہے میرا گفٹ۔۔۔۔۔!”

وہ مسکراتے ہوئے بولا جس پر عشاء بھی ہلکا سا مسکرائی اور وہ دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔!”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *