Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 16)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 16)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
ماحد اس وقت گھر سے نکلا تھا۔۔۔۔۔!” شام کے چھ بج رہے تھے۔۔۔۔ آج وہ عشاء کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
کچھ وقت اس کے ساتھ اکیلے میں گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔”
اس کے لیے اس نے عشاء کے والد سے بھی اجازت لے لی تھی۔۔۔۔!
جبکہ عشاء کی سوتیلی ماں کو یہ قطع گوارہ نہ تھا کہ وہ کہیں بھی ماحد کے ساتھ جائے۔۔۔۔۔”
” میری بات کو سمجھیں ایسے کیسے آپ عشاء کو کہیں بھی ماحد کے ساتھ بھیج سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟
اس طرح اچھا نہیں لگتا اور پھر لوگ اس بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔ میں تو کہتی ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے عشاء کو روک لے۔۔۔۔۔!”
وہ عشاء کو ماحد کے ساتھ جانے سے روکنے کے لیے ناجانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔!
” یار بس کردو۔۔۔۔! کب سے تن یہی باتیں کریں جارہی کری جارہی ہو۔۔۔۔ وہ دونوں جائے یا نا جائے تمھیں اس سے کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔؟
میاں بیوی ہیں وہ دونوں میری اجازت کے بغیر بھی وہ لے کر جا سکتا تھا لیکن اس نے مجھ سے پوچھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔
تو میں اسے انکار کیسے کرتا۔۔۔۔۔! اب خبردار جو ایسی کوئی بات اپنے منھ سے نکالی بھی تو۔۔۔۔۔!”
وہ غصے سے گویا ہوتے ہوئے کمرے سے نکل گئے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ وہ انھیں دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔۔! وہ شخص تو اس کی کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔”
جیا ابھی کھڑکی میں آکر کھڑی ہی ہوئی تھی کہ دروازے پر کسی کی گاڑی کا ہارن بجا۔۔۔۔!”
وہ سمجھ گئی کہ یہ کوئی اور میں ہے بلکہ ماحد ہی ہے۔۔۔۔ لیکن پھر اس کی نظروں کے سامنے سے عشاء گزری۔۔۔۔۔!
عشاء وائٹ کلر کی لانگ فراک میں کافی اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔! جبکہ اسے دیکھتے ہوئے جیا کا خون کھولنے لگا۔۔۔۔!
” گھوم لو۔۔۔۔ گھوم کو جتنا گھوم سکتی ہو گھوم کو عشاء ماحد کے ساتھ۔۔۔۔۔!
پر میری بات یاد رکھنا کہ وہ صرف اور صرف میرا ہے سمجھیں تم۔۔۔۔۔!
تمھیں تو میں چھوڑو گی نہیں۔۔۔ تم نے میری زندگی برباد کی ہے۔۔۔۔۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔!”
اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔۔۔! وہ غصے سے بولی تھی۔۔۔۔ اس کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ عشاء ماحد کے ساتھ گھومنے جارہی ہے۔۔۔۔!”
جس کی وجہ سے وہ مزید عشاء سے جل رہی تھی۔۔۔۔۔ لیکن وہ کیا جانے کہ جلنے والوں کی زندگی میں ہمیشہ جلنا ہی لکھا ہے۔۔۔۔۔!”
” بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔!”
جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی تو اس وقت ماحد نے اس کے حسین سراپے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔”
” شکریہ۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔!”
مسکرا کر اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے عشاء نے ماحد سے اس کا حال پوچھا۔۔۔۔”
” اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہو اور تم سناؤ کیسی ہو۔۔۔۔!”
ماحد نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا اور اس سے حال احوال پوچھا۔۔۔۔۔!
” میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔ ویسے ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔ !”
عشاء نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔”
” جب پہنچے گے خود ہی دیکھ لینا۔۔۔۔۔!”
ماحد نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے کہا اور گاڑی کو اس کی منزل کی راہ پر ڈال دیا۔۔۔۔۔”
جبکہ ہلکی پھلکی باتیں وہ دونوں کرتے رہے۔۔۔۔!”
ساری تیاریاں مکمل ہو گئی تھی۔۔۔۔ اور گھر پر مہمانوں کا آنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ سب بہت خوش تھے۔۔۔۔۔!
آیت نے اب تک سارا وقت دادی جان کے ساتھ گزارا تھا۔۔۔۔! جبکہ ذیشان اس دور سے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔
البتہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ آیت اس کے قریب رہے۔۔۔ کیونکہ وہ اس کے ماں باپ کے قاتل کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔!
لیکن پھر بھی خود کا یوں گھور ہونا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ شائید وہ پہلی لڑکی تھی جس نے ذیشان شاہ کو اگنور کیا تھا۔۔۔! لیکن آج کا دن اس کے بھائی کا تھا۔۔۔۔!
یارش بہت لگ رہا تھا سب کو لیکن کیا وہ واقع اتنا خوش تھا جتنا وہ سب کو دیکھا رہا ہے۔۔۔۔۔؟”
کچھ ہی لمحات میں ہونے والی دلہن یمن کو اسٹیک تک لایا گیا۔۔۔۔ یارش نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔”
” یہ لو یارش بیٹا یمن کو منگنی کی انگوٹھی پہناؤ۔۔۔۔!”
دادی کے کہنے پر یارش نے انگھوٹھی پکڑی اور یمن کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔! یمن کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔!
جبکہ سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔۔۔! سب کے چہروں پر خوشیاں رونما ہو رہی تھی۔۔۔۔!
جبکہ اب یمن کی والدہ نے یمن کو یارش کو انگوٹھی پہنانے کا کہا۔۔۔۔” جس پر یمن نے سر ہاں میں ہلایا اور انگھوٹی پکڑتے ہوئے یارش کے ہاتھ میں پہنا دی۔۔۔۔!”
جس سے سب لوگ خوش تو ہوئے ہی تالیاں بھی بجی اور پھولوں کی بارش بھی کی گئی۔۔۔۔!” یمن ہلکا سا جبکہ یارش کھلکھلا کر مسکرایا۔۔۔۔!
یہ خوشی کیا ان دونوں کے لیے سہی تھی۔۔۔۔۔۔؟
