Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Last Episode Part 2
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Last Episode Part 2
رک جاؤ ارحم ورنہ ” ابھی وہ بول رہا تھا ایک فائر کی آواز گونجی اور زوردار چیخ برآمد ہوئی تھی سب ہی ہکا بکا کھڑے تھے۔۔
ارحم کے سینے سے خون کے فوارے ابل رہے تھے اسکی آنکھیں وحشت سے پھیل گئی ۔۔اور اگلے ہی پل زمین بوس ہوگیا بند ہوتی آنکھوں سے زارون کا دھندلا سے چہرہ نظر آیا جو گن لیے کھڑا تھا ۔۔اور پھر اسکی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی۔۔
زرتاج کا بھی سر چکرانے لگا یہ منظر دیکھتی بے ہوش ہوتی زمین پہ گرگئی ۔۔
زارون ” روحان پیچھے سے بھاگتا ہوا آیا۔۔
یہ کیا کردیا تم نے”
اس کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا یہ لوگ اسے یہاں سے جانے دے دے رہے تھے۔۔ زارون نے سرخ ہوتی آنکھوں سے روحان کو دیکھتے کہا۔۔
انسپیکٹر نے آگے بڑھتے رومال سے اسکے ہاتھ اسلحہ لیا۔۔اور دوسرے نے اسے ہتھکڑی لگانے لگا۔۔
یہ کیا کررہے ہو تم لوگ ” روحان یہ سب ہوتے دیکھ کہا
زارون نے قانون ہاتھ میں لیا ہے ” اسے یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔ ایس پی نے آگے بڑھتے کہا ۔۔
روحان پلیز میری پرواہ مت کرو زرتاج کو دیکھو ۔۔ ” زارون نے کہا ۔
روحان زرتاج کی طرف بڑھا جو زمین پہ بے ہوش پڑی تھی۔۔
زری آنکھیں کھولو۔۔ زرتاج کا سر اپنے ہاتھ میں لیتے دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ تھپتھپایا روحان بھی کافی گھبرا چکا تھا یہ ساری سیچویشن دیکھتے ۔۔ اتنے میں انکا پیچھا کرتے آئرہ بھی وہاں پہنچ چکی تھی روحان کے پاس آئی فٹ سے اسکے پاس بیٹھی جو زرتاج کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا ۔۔
روحان کیا ہے یہ سب” یہ آس پاس کا وحشت زدہ منظر وہ بولی پولیس والے اسٹریچر پہ لاشیں اٹھا رہے تھے۔۔
یہ زرتاج ہے میری بھابھی یہ اغوا ہوگئی تھی ” تم اسے ہوسپٹل لے جاؤ میرے بھائی کو پولیس نے پکڑ لیا ہے کیونکہ اس نے اس شخص کو مار دیا جس نے اغوا کیا تھا ۔۔ مجھے زارون کے ساتھ جانا ہے ” تم لے جاؤ گی زری کو’ روحان نے انہتائی عاجزانہ کہا۔۔
ہاں ہاں میں لے جاتی ہوں” روحان تم فکر نا کرو اسےمیری گاڑی تک پہنچانے میں ہیلپ کردو” تم فکر مت کرو ” آئرہ نے تسلی دیتے کہا۔۔
روحان نے زرتاج جو گود میں اٹھایا اور گاڑی تک لے گیا آئرہ نے بیک سیٹ کا دروازہ کھولا فٹ سے روحان نے زرتاج جو پچھلی پہ ڈالا اور آئرہ کی جانب متوجہ ہوا۔۔ ” ہوسپٹل پہنچتے مجھے کال کردینا میں زویا کو بھیجتا ہوں یہ زویا کی بہن ہے” روحان جانے لگا پھر مڑا اور بولا” تھینکس “
اٹس اوکے تم جاؤ تمہارے بھائی کو ضرورت ہے تمہاری میں زرتاج کو دیکھ لوں گی” آئرہ کہتے زرتاج کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔
زارون کو ہتھکڑی لگا کر پولیس وین میں بٹھایا جا چکا تھا روحان بھی پولیس وین میں جا کر بیٹھ گیا “
@@@
روحان نے کال کر کے عالم صاحب کو ساری صورتحال سے آگاہ کردیا اور زویا کو ہوسپٹل پہنچنے کا کہا۔۔
ایک اور طوفان برپا ہوا تھا گھر میں زارون کے گرفتار ہونے کی خبر سن کر سیما تو آپے سے باہر ہی ہوگئی۔۔
جس دن سے یہ لڑکی میرے بیٹے کی زندگی میں آئی ہے اس دن سے سکون برباد ہوگیا ہے میرے بیٹے کا ” کونسی منحوس گھڑی میں اسکے ساتھ نکاح ہوا تھا زارون کا “
سیما چپ ہوجاؤ ” ایسا نہیں کہتے ۔۔ زارون جلد ہی رہا ہوجائے گا ” عالم صاحب بھی صدمہ میں تھے اس وقت ۔۔
سفینہ بھی الگ پریشان تھی سیما کی مزید باتوں کو نہیں سن سکتی تھی اٹھ کر چلی گئی اپنے کمرے میں دکھی تو وہ بھی بہت تھی اس وقت”
زویا ہوسپٹل کے لیے اکیلی ہی ڈرائیور کے ساتھ نکل چکی تھی”
@@@
ایس پی کے آفس میں زارون اور روحان دونوں بیٹھے تھے ۔۔
اکمل ساری سیچویشن تمہارے سامنے تھی زارون نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔ اگر وہ ارحم کو نہیں مارتا تو وہ زرتاج کو گولی مار دیتا۔۔ روحان نے ایس پی کو سمجھانے کی کوشش کی
اگر یہ کام ہم میں سے کسی نے کیا ہوتا ٹھیک تھا مگر زارون نے قانون کو ہاتھ میں لیا گولی ادھر اُدھر بھی مار دیتا ہاتھ پیر پہ مگر سیدھا اسکے سینے پہ جا ماری وہ اسی ٹائم ہی ایکسپائر ہوگیا ۔۔ اسنے اپنی بیوی کا بھی مرڈر کیا تھا پھانسی تو اسے ہونی ہی تھی ۔۔ مگر میں کوشش کروں گا سزا کم ہو اسے ” اس لیے آسان سا کیس بنایا ہے تاکہ زیادہ سزا سے بچ سکے ورنہ سیدھا تیرہ چودا سال کے لیے اندر جائے گا ۔۔ اچھا سا وکیل کرو اس کے لیے۔۔
اندر کردو عمر قید ہی کیوں نا ہوجائے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں اسے مارنے کا میری عزت پہ ہاتھ ڈالا ہے اس نے موت تو اسکا مقدر بننی تھی۔۔ زارون نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
دیکھا تم نے اسکا اٹیٹیوڈ تم اسکو سزا سے بچا رہے ہو اور یہ الٹا داداگری پہ اتر آیا ہے ۔۔ ایس پی نے روحان سے کہا۔۔
روحان نے زارون کی دیکھتے کہا” چپ رہو تم زارون ۔۔ بلکہ اب اپنی زبان بند ہی رکھو ۔۔
سر ” ایک انسپکٹر اندر آیا۔۔
ہاں بولو لاشیں بھجوا دی پوسٹ پارٹم کے لیے”
ییس سر ” ایک بندہ آیا ہے جو اس عورت کے قتل کا عینی شاہد بتاتا ہے خود کو۔۔
اچھا بھیجو اسے ” وہ تینوں اسکی بات پہ چوکنا ہوئے۔۔
تھوڑی دیر میں آفس میں آصف انٹر ہوا ۔
تم” زارون اور روحان اسکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔
سر ارحم نے اپنی بیوی کو گولی ماری ہے اور اسے میں ہی لایا تھا ” مجھے ارحم کے ارادوں کی بھنک تھی اس لیے نظر رکھے ہوئے تھا اس پہ اور اسکی بیوی کو بھی اسکے کارناموں کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور وہ پاکستان اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے آئی تھی مگر افسوس کہ وہ ماری گئی ۔۔ میں اس وقت وہیں چھپا ہوا تھا جب ارحم نے اپنی بیوی کا مرڈر کیا اور میں نے اس وقت ویڈیو بھی ریکارڈ کرلی تھی پھر آپ لوگ آگئے اور زارون سر نے اسکا مرڈر کردیا مجھے بہت افسوس ہورہا ہے کہیں نا کہیں میں بھی ذمیدار ہوں اس واقعے کا ” آصف نے سر جھکائے اعتراف کیا
تمہاری گواہی بہت مدد گار ثابت ہوگی زارون کو بچانے کے لیے۔۔ یہ ویڈیو پولیس کے حوالے کر دو اور جب جب تمہیں تفتیش کے لیے بلایا جائے اس وقت حاضر ہونا ہے ۔۔ایس پی نے اسے وارن کرتے کہا
جی جی سر میں حاضر ہوں ” مگر زارون سر نے کچھ غلط نہیں کیا انہیں پلیز چھوڑ دیں” آصف نے التجا کی
تم جاؤ ابھی کیا کرنا ہے یہ میں نے تہ کرنا ہے ” ایس پی نے زرا روبہ دار لہجہ میں کہا۔۔
اب تم جاؤ روحان زارون کی ضمانت کا بندوست کرو ” عدالت کا جو فیصلہ ہوگا وہی ہوگا اب ” ایس پی نے کہا مگر روحان کا دل نہیں کیا اٹھنے کا ۔۔
@@@
زرتاج کا ابھی ٹریٹمنٹ چل رہا تھا جب زویا بھاگتی ہوئی آئی ہسپتال کے کوریڈور میں” آئرہ بینچ پہ ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔وہ اسے پہنچانتے کھڑی ہوئی ۔۔
آپ زویا ” آئرہ نے کہا۔۔
جی میں زویا زرتاج ” زویا نے پھولے ہوئے سانس سے کہا
جی انکا ٹریٹمنٹ چل رہا ہے ابھی” آئرہ نے ایمرجنسی وارڈ کی طرف اشارہ کرتے کہا۔۔
پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی میری زری کو ” زویا نے بھرائی آواز میں کہا ۔۔ پھر نظر آئرہ پہ اٹھی جو حسن کا پیکر تھی۔۔
آپ کون ہیں ” زویا نے پوچھا۔۔
مم۔۔میں ” وہ کیا کہے کہ وہ کون ہے روحان کی اور اسکی۔۔ ” میں اور میرے ڈیڈ روحان کے ساتھ ملکر ایک ایک بزنس پروجیکٹ پہ کام کررہے ہیں اس لیے روحان سے اچھی بات چیت بھی ہے۔۔ یہ کہتے آئرہ نے بڑی مشکل سے ضبط کیا اپنے آنسوؤں پہ
روحان کو پولیس وین میں جاتے دیکھا تو تجسس میں اسکا پیچھا کرتی گئی تو آگے یہ حادثہ ہوچکا تھا اور روحان نے انہیں ہوسپٹل پہنچانے کا کہا میں لے آئی۔۔ آئرہ نے کہا ۔
بہت شکریہ آپکا آپ ہمارے مشکل وقت میں ہمارے کام آئیں ” زویا نے اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتے اپنایت سے کہا۔۔ آئرہ نے اسے شاک سے دیکھا
اتنے میں ایک ڈاکٹر باہر آئیں ۔۔ ” پیشنٹ کے ساتھ کون ہے “
جی میں ہوں زرتاج کی بہن کیسی ہے اب وہ ” زویا ڈاکٹر سامنے جاتی فٹ سے بولی ۔۔
جی اب وہ خطرے سے باہر ہے کسی صدمہ کے تحت وہ بے ہوش تھی ۔۔
ڈاکٹر میں ان سے مل سکتی ہوں ابھی ” زویا نے کہا۔۔
جی بس انہیں نیند کا انجیکشن دیا ہے پرسکوں رہنے کے لیے آپ چلی جائیں انکے پاس مگر بات تو فلحال ان سے کوئی مت کیجئے گا” ڈاکٹر اسے تاکید کرتی چلی گئی۔۔
زویا بھی زرتاج کے پاس چلی گئی۔۔
آئرہ بینچ پہ بیٹھ گئی ۔ اسے رونا آرہا تھا ” دو تین آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے ” پھر انہیں صاف کرتی سامنے دیکھا تو روحان آرہا تھا ۔۔ اپنے آپ کو نارمل کرتی کھڑی ہوئی۔۔
روحان اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔۔
کیسی ہے زرتاج اب “
ٹھیک ہے زویا بھی آگئی ہے ” آئرہ زبردستی مسکراتے کہا۔۔
تھینکس ” میں تمہارا شکر گزار رہوں گا ” روحان ابھی بول رہا تھا کہ زویا زرتاج کو دیکھ کر واپس باہر آئی روحان پہ نظر پڑی۔۔
” روحان” فٹ سے بھاگ کر روحان کے سینے سے جا لگی اور رونے لگی ” روحان نے اسکے گرد اپنے بازو پھیلائے اور اسے تسلی دینے لگا ۔۔
زویا بس سب ٹھیک ہو جائے گا” کہتے اسکی نظریں آئرہ پہ تھی جسکی آنکھیں سرخ تھیں اور مسکرانے کوشش کررہی تھی۔۔ اور پھر وہ سر نیچے کیے چلی گئی وہاں سے ۔۔
آئرہ ہوسپٹل سے باہر آئی تو آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا اسکی آنکھوں سے اسے شرمندگی ہو رہی تھی وہ دو پیار کرنے والوں کو الگ کرنے کا سبب بن رہی تھی ” صد شکر بھی تھی کہ وہ وقت سے پہلے پیچھے ہٹ گئی ۔۔ ورنہ وہ دو لوگ نہیں انکا پورا خاندان بھی بکھر سکتا تھا ۔۔
زویا پلیز کام ڈاؤن” سب ٹھیک ہو جائے گا” روحان اسے الگ کرتے کہا ۔
زارون کہاں ہے زرتاج نے پوچھا تو کیا جواب دوں گی” زویا نے نم ہوتی آنکھوں سے کہا۔۔
وہی جو سچ ہے ” زارون نے مرڈر کیا ہے ارحم کا ” زرتاج کے لیے ۔۔ روحان کہا
@@@
اگلے دن زرتاج کو ڈسٹارج کردیا گیا تھا ہوسپٹل سے ۔۔ روحان اور زویا اسے لیے گھر آ ئے سارا گھر جیسے ویران تھا انکے استقبال کے لیے بھی آگے کوئی نا تھا۔۔ زویا زرتاج کو لیے اسکے کمرے میں آئی تاکہ وہ آرام کرلے زارون کو لیکر وہ بھی کافی پریشان سی ہوگئی تھی۔۔
پھر سب نے اسکا کمرے میں ہی حال چال کرنے آئے تھے عالم صاحب بھی کچھ دیر کے لیے اسے تسلی دیتے چلے گئے مگر سیما نہیں آئی اسکی نظر میں وہی اسکی ذمہ دار ہے
@@@
روحان کی مسلسل کوششیں تھیں زارون کو سزا کم سے کم ہو ۔۔
آج تیسری اور آخری پیشی تھی ۔۔ ایس پی خود گواہ بنا تھا زارون کا ۔۔ اس نے زارون کے حق میں ہی گواہی دی یہ سب اس نے اپنی بیوی کو بچانے کے لیے کیا تھا ارحم پہلے ہی اپنی بیوی کو مار چکا تھا اور وہ زرتاج کو بھی گولی مار سکتا تھا چونکہ اس نے زرتاج پہ بھی پستول تانی ہوئی تھی ۔۔ اور آصف کی بھی گواہی لی گئی جو وہ بھی چشم دید گواہ تھا۔۔
ایسے میں زارون کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ یہی قدم اٹھاتا “
جج نے بھی تفصیلی فیصلہ سنادیا ۔۔
زارون کو قانون کو ہاتھ میں لینے کے لیے چھہ ماہ قید کی سزا سنائی اور کچھ لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا چونکہ مرڈر اس نے سیلف ڈیفنس کیا تھا اسکا ارادہ ایسا نہیں تھا ۔۔
@@@
آج زارون کی سزا بھی ختم ہو رہی تھی پورے گھر میں ایسے رونق تھی جیسے کوئی شادی ہو ۔۔ روحان اور عمار زارون لینے کے لیے گئے ہوئے تھے۔۔
زرتاج بھی آج بہت شوق سے تیار ہوئی تھی زارون کے اسکی پسند کے کھانے بنائے تھے خود۔۔
آج تو وکھری ہی لگ رہی ہو جیسے کوئی بارات آ نی ہو ایسے شوق میں پھر رہی ہو ۔۔ روحا اسکے کمرے میں آئی ۔۔
ہاں تو ” شوہر آ رہا ہے میرا ” زرتاج نے زرا اتراتے کہا۔۔
او ہو شرم کرلو” دو بچوں کی اماں ہو ۔۔ روحا نے کہا
تمہارا شوہر بھی آیا ہوا ہے تمہیں تو شرم نہیں آتی” زرتاج نے بھی ٹکا سا جواب دیا۔۔
زری تم ” روحا نے ناک چڑھاتے بولنا چاہا جب زویا نے اسے آواز دی
” روحا جلدی آؤ نیچے روحان بس آنے ہی والے ہوں گے زارون کو لیکر”
ہاں آئی ” روحا نے آواز دے کر کہا ۔۔ ” تم گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جاؤ زرا بھائی نے فریش بھی تو ہونا ہے آکر ” روحا نے اسے چھیڑتے کہا تو زرتاج حیا سے سرخ پڑی تھی ۔
او ہو شرما گئی “
روحی دفع ہوجاؤ” زرتاج نے اسے آنکھیں دکھائی تو وہ ہنستی بھاگ گئی ۔
زارون گھر میں داخل ہوا سب ہی اسکی راہ میں کھڑے تھے سب کے ہاتھوں میں پھولوں کے ہار تھے ۔۔ اپنی ماں کے گلے لگا وہ سب سے پہلے جو آنسوؤں پہ قابو نا رکھ سکی تھیں” زارون کے گلے لگتے رودی ۔۔
ماں کو دلاسہ دیتے وہ اس سے الگ ہوا ۔۔ پھر اپنے باپ کے گلے لگا وہ بھی آبدیدہ ہوئے اپنے بیٹے کے گلے سے لگ کر ۔۔ زارون کی بھی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔
پھر وہ روحا کے پاس آیا جس نے اسکی بیٹی زارا کو اٹھایا ہوا تھا ۔۔ روحا کو سائیڈ سے گلے لگایا اور زارا کو گود میں لے لیا وہ اب آٹھ ماہ کی ہوچکی تھی کافی بڑی لگ رہی اور بہت زیادہ پیاری بھی ۔۔ اس پہ بے حد پیار آیا تھا ۔۔ اسکی دونوں گالوں پہ کس کرتے عروش کی طرف متوجہ ہوا اسکی آنکھیں بھیگ رہی تھی اپنی بیٹیوں سے ملتے ہوئے۔۔
عمار نے آگے بڑھ کر زارا کو اسکی گود سے لیا وہ کافی ایموشنل ہوچکا تھا۔۔ زارون جاؤ کمرے میں فریش ہوجاؤ پھر کھانا کھاتے ہیں بہت بھوک لگی ہے۔۔ عمار نے سوگوار ماحول کو چینج کرنا چاہا۔۔
اور باقی سب سب ملتا وہ سیڑھیاں چڑھ گیا ۔۔
عمار نے زارا کو روحا کے حوالے کیا۔۔ ” اب گھر جانے کا پلین ہے یا ترساتے ہی رہنا اسی وجہ سے ہماری ترقی رکی ہوئی ہے۔۔ روحا کے کان کے قریب ہوتے سر گوشی کی تو وہ حیا سے سرخ پڑ ی تھی ۔۔ عمار پلیز تنگ مت کریں ۔۔ وہ چلی گئی کچن میں زویا کی ہیلپ کرنے۔۔
عمار اتنا سا منہ بناتے روحان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے اب ” کیا ہوا ہے
روحان نے کہا۔۔
کیا بتاؤں سالے صاب آپ کو ‘ عمار نے روحان کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
روحان نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔ تو وہ کھسیانہ سا مسکرایا۔۔ “مائنڈ یور لینگویج ” روحان نے کہا
اب اس میں۔ مائنڈ والی کیا بات ہے رشتہ ہی ایسا ہے اب ہمارا ” اور یہ گھور کر کیا دیکھ رہے ہیں داماد ہوں اس گھر کا وہ بھی اکلوتا” عمار تھوڑا اکڑ کر بیٹھ کر بولا ۔
اپنی حد میں رہو کوئی ہڈی نا تڑوا کر جانا یہاں سے ” روحان نے کہا
جو مرضی کرلیں آپ کی بہن کو لیکر جاؤ گا ” وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھتا بولا۔۔
ہاں تو سیدھی سیدھی بکواس کرو نا ” جورو نہیں مل رہی اتنے مہینوں سے ” روحان ہلکا سا مسکرا کر بولا۔۔
آہا ” خود کی بیوی کبھی گئی نہیں نا میکے ” وہی میکا وہی سسرال ۔۔ مجھ غریب سے پوچھے کوئی ” سہی سے ہنی مون بھی نہیں منانے دیتے ۔۔
ہاں تو ابھی لے جاؤ روکا کس نے ہے جا نے کے لیے ۔۔ روحان نے اسے دیکھتے کہا۔۔
دل تو کررہا ہے افریکہ کے جنگلوں میں لے جاؤں جہاں آپ لوگوں کا سایہ دور دور تک نا پڑے ۔۔ عمار نے منہ کے زاویہ بگارتے کہا۔۔
جہاں مرضی لے جاؤ ہمیں جب اپنی بہن کی یاد آئے گی ہم وہاں بھی پہنچ جائیں ۔۔ روحان نے ہنستے کہا ۔
ایسا کرو پھر مجھے ہی گھر داماد رکھ لو۔۔ عمار نے تنک کر کہا۔۔
یہ تو اچھی بات ہمیں ڈرائیور کی تلاش تھی تم کافی اچھی ڈرائیونگ کرلیتے ہو” روحان نے مذاق اڑاتے کہا۔۔
حد ہے ویسے کوئی عزت نہیں میری سسرال میں ۔۔ برا سا منہ بناتے اٹھ گیا روحان سر ہلاتے ہنس دیا
@@@
زارون کمرے میں داخل ہوا تو زرتاج سامنے ہی کھڑی تھی ۔۔ زارون کو دیکھتے ہی منہ موڑ کر کھڑی ہوگئی ۔۔ پیچ کلر کا خوبصورت ہلکے کام والا سوٹ پہنے وہ کافی پیاری لگ رہی تھی ۔۔ سیاہ بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا۔۔
زارون آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے اس تک پہنچا۔۔ اور پیچھے سے اسے اپنے سینے لگا لیا۔۔
زرتاج کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے تھے ۔
کیوں کیا ایسا آپ نے زرا خیال نا میرے اور ہماری بچیوں کے بارے میں کتنی مشکل سے یہ مہینہ کاٹے ہیں” بھیگے لہجہ میں شکوہ کیا تھا۔۔
کمال ہے تمہارے لیے یہ سب کیا اور تم ہی گلہ کررہھ ہو” اسکے بالوں میں منہ چھپاتے مدھوش لہجہ میں کہا۔۔
