88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 16

سیزن ٹو
عالم صاحب بھی آفس سے گھر چلے گئے تھے روحان بھی جا چکا تھا۔۔
زارون آفس میں اپنی سیٹ پہ سوچوں میں گم بیٹھا تھا ۔۔
روحان کے چہرے پہ وہ خوشی نظر نہیں آئی اسے ۔۔جو ہونی چاہیے تھی ۔۔وہ مسکرا رہا تھا مگر مسکراتا ہوا نہیں لگ رہا تھا جیسے زبردستی مسکرانے کی کوشش کررہا ہو۔۔
کوئی تو بات تھی جو وہ اس سے چھپا رہا تھا ۔۔ وہ اس سے بات ضرور کرے گا ۔۔ آخر حقیقت کیا ہے ۔۔
اتنے میں آفس کا گیٹ ناک ہوا اور آصف اندر آیا۔۔
زارون سیدھا ہوکر بیٹھ گیا وہ ابھی اس بات سے لاعلم تھا کہ وہ بھی ارحم کے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔
سر میں ریزائن کررہا ہوں آپ کی کمپنی سے یہ لیٹر ہے ” وہ سر جھکائے مودبانہ انداز میں بولا ۔۔
لیکن کیوں” زارون نے استفسار کیا۔۔
کیونکہ میں بھی آپکا مجرم ہوں ۔۔” میری مدد سے ہی ارحم آپکی کمپنی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔۔ اور جب مجھے احساس ہوا کہ یہ سب غلط ہو رہا ہے تو میں ہی عالم سر کے پاس گیا تھا انہیں سب بتانے “
وہ بولے جا رہا تھا اور زارون تو حیران ہوئے جا رہا تھا ۔۔ مگر اس نے کہا کچھ نہیں لیٹر اٹھا کر رکھ لیا۔۔ ” تم جا سکتے ہو” بس اتنا ہی کہا۔۔
سر آپ کچھ کہیں گے نہیں ” وہ تو منتظر تھا کہ زارون اسکا گریبان پکڑ لے یا اسے باتیں سنائیں مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔
میرے پاس تمہیں کہنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے ” غلطی میری بھی ہے ۔۔ آستین کا سانپ پالا ہوا تھا میں نے اور میں اس سے بے خبر رہا۔۔
میں شرمندہ ہوں سر ” وہ سر جھکائے بولا۔۔
تمہاری شرمندگی کا اب کیا فائدہ بہت کچھ تباہ ہوگیا ۔۔ “
چلے جاؤ بس”.. زارون نے بس اتنا ہی کہا اور وہ چلا گیا وہاں سے۔۔
@@@
ارحم شدید غصہ میں تھا وہ سیدھا اپنے گھر آیا تھا ۔۔اسکا جی چاہ رہا تھا سب کچھ تیس نہس کردے ۔۔ زارون اور اسکے خاندان پہ بہت غصہ آ رہا تھا اسے ۔۔
اتنے عرصہ کی پلیننگ سے وہ اپنا مقصد میں کامیاب ہوا تھا ۔۔مگر اتنی آسانی سے وہ کیسے پھر سے اس پہ سبقت لے گئے ۔۔
اب اسے جلد ہی اپنا اگلا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اتنی آسانی سے تو وہ بھی ہار ماننے والا نہیں تھا۔۔
@@@
روحان اپنے آفس میں بیٹھا تھا کسی کام میں اسکا دل نہیں لگ ر ہا تھا ۔۔ آج میٹنگ بھی اس نے کینسل کروا دی۔۔
وہ سر پکڑے آفس میں بیٹھا تھا ۔۔ کیسے ٹھیک کرے وہ سب جو اس کی وجہ سے بگڑنے والا ہے گھر بھی نہیں بتا سکتا زویا کو تو بلکل بھی نہیں ۔۔
اتنے میں اسکا موبائل رنگ ہوا بغیر نمبر دیکھے اس نے کال اٹھا لی۔۔
ہیلو ۔۔
ہیلو ڈئیر ہبی ہیں”” آئرہ کی سنتے ہی وہ چونک گیا۔۔
تم””
ہا ں ۔۔میں ” کیوں اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے ۔۔ کل بھی بھاگ گئے تھے مگر آج نہیں ۔۔ آج ڈنر کا پلین بناتے ہیں کہیں باہر اچھی سی رومانٹک جگہ پہ” وہ اپنی ہی ٹون میں بولے جا رہی تھی بنا اسکی بات سنے۔۔
پلیز ابھی مجھے ڈسٹرب مت کرو میں بزی ہوں کام کرنے دو ” اور ڈنر کے لیے وقت نہیں میرے پاس پھر کسی اور دن سہی” کوفت سے کہتے اس نے کال کٹ کر دی”
کال کٹنے پہ آئرہ پیچ و تاب کھاتی رہ گئی ۔۔ پھر اپنے باپ کو کال کر کے بتایا “
تم فکر مت کرو میں بات کرتا ہوں اس سے “.. کمال حیدر نے اسے تسلی دیتے کال کاٹ دی..
آئرہ سے بات کرنے کے بعد اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہی ہوا تھا.. ابھی کچھ دیر گزری تھی کہ کمال صاحب کی کال آگئی..
مزید کوفت ہوئی تھی منہ کے زاویے بگاڑتے کال اٹھا لی..
اسلام علیکم..
وعلیکم السلام.. روحان تم بھول گئے ہو کہ ہمارا کیا معاہدہ ہوا تھا.. تمہاری کتنی بڑی پروبلم سولو کی ہے میں نے ” کمال صاحب جتاتے ہوئے بولے..
نہیں بھولا ہوں سر مجھے یاد ہے.. “
تو پھر اگر آئرہ تمہارے ساتھ ڈنر پہ جانا چاہتی ہے تو کیوں انکار کیا تم نے”
سر آپ شاید بھول رہے ہیں میں نے آپ سے کیا کہا تھا.. میں آپ کی بیٹی کو خوش نہیں رکھ سکتا.. اور آپ نے کہا تھا یہ میرا اور آئرہ کا مسئلہ ہے تو آپ اب بیچ میں کیوں بول رہے ہیں” روحان نے دو ٹوک جواب دیتے کمال صاحب کی بولتی بند کردی..
مگر پھر بھی تمہیں اب آئرہ کے سافٹ کارنر رکھنا ہوگا ” تم بھی اب سمجھنے کی کوشش کرو”
سر پلیز مجھے بلیک میل مت کیجئے میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں.. روحان کہتے کال کٹ کردی..
کمال صاحب سمجھ چکے تھے کہ آئرہ کی بات مانتے وہ اسے اندھیرے کنویں میں دھکیل چکے تھے.. چونکہ یہ انتخاب آئرہ کا تھا تو اب اسے ہی ان سب معاملات سے نمٹنا ہوگا..
@@@
رات کے کھانے پہ سب ہی موجود تھے آج کھانا انتہائی خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا..
روحان کو چھت کی جاتے دیکھ زارون بھی اسکے پیچھے چلا گیا..
روحان کو گھٹن محسوس ہورہی تھی نیچے اس تازہ ہوا کھانے کے لیے وہ اوپر آگیا اور کچھ وقت اکیلے میں گزارنا چاہتا.. کافی کا مگ لئے چھت پہ آگیا..
ہر طرف سناٹا تھا.. پورے چاند کی روشنی ہر سمت چھائی ہوئی تھی.. وہ ابھی کرسی پہ آکر بیٹھا ہی تھا کہ اس کے زارون آکر بیٹھ گیا..
کیا بات ہے آج بڑا سیڈ موڈ ہے “
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے” روحان سیپ لیتا بولا.
اچھا پھر اکیلے اکیلے بیٹھے ہو جیسے کوئی محبوبہ کی یاد ستا رہی ہو..” وہ اسے چھیڑتا بولا..
بکواس بند کرو تم کیوں آئے میرے پیچھے ” روحان اسے ٹوکتا ہوا بولا..
تمہاری پریشانی کا سبب جاننے”
کونسی پریشانی تم تو خوامخواہ میرے پیچھے پڑ گئے ہو ” وہ بیزاری سے بولا..
کمال حیدر کے ساتھ کوئی کنٹریکٹ ہوا تمہارا ” وہ تکا مارتا بولا.. جس سے اس نے چونک کر اسکی طرف دیکھا..
کک..کیا کہہ.. رہے ہو تم کیسا کانٹریکٹ” اسکی زبان ہکلائی..
بتا دو بتادو تم دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے.. مجھے مارا اسی وجہ سے تھا نا کہ چپ رہا تھا.. اگر بتا دیتا تو معاملا حل ہوجاتا..
اگر تم خاموش رہے تو تمہارے معاملات بھی مزید بگڑ سکتے ہیں”
کاش کہ میں بتا سکتا ” وہ بس سوچوں میں گم اتنا ہی بول سکا۔۔
مطلب کچھ تو گڑ بڑ ہے” زارون نے کہا تو ہڑبڑا گیا..
نن۔۔نہیں۔۔ کتنی بار کہا ہے کہ کوئی بات نہیں ہے کیوں میرا دماغ خراب کررہے ہو ..وہ تھوڑا غصہ سے بولا۔۔
اب تم میرا دماغ خراب کررہے ہو چپ چاپ بتا دو سب سچ سچ “” زارون نے تنبیہ انداز میں کہا۔۔
اب روحان مزید نہیں چھپا سکتا تھا ۔
بول دو میرے بھائی جو بات دل میں ورنہ یوں ہی چپ چاپ سہتے رہو گے..زارون نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا ۔۔
روحان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ۔۔
کمال حیدر نے اتنی آسانی سے ہمارا کام اس لیے کیا ہے کہ اسکی ڈیمانڈ ہے” ۔۔
اور روحان نے شروع سے لیکر آخر تک ساری بات بتا دی زارون کو۔۔
آئرہ سے کورٹ میرج سے سائن سے لیکر کمال صاحب کی شرائط تک اسے آئرہ کو اپنانا ہوگا “
روحان تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا” یہ کیا کردیا تم نے بھاڑ میں جاتی کمپنی تم اپنا اور زویا کا رشتہ تو داؤ پر نا لگاتے ” زارون کا تو میٹر ہی گھوم گیا تھا اسکے انکشاف پہ۔۔
میں کیا کرتا ڈیڈ کی پریشانی مجھ سے نہیں دیکھی گئی۔۔ یہ میں نے انکے لیے کیا ہے” روحان افسردہ ہوتے کہا۔۔
ہاں انکے اب اگر انہیں پتا چلے گا تو کیا ہوگا ۔۔ وہ تو بہت خوش ہوں گے نا تمہارے اس کارنامے پر ” وہ تمسخر اڑاتے گویا ہوا۔۔
میں کرلوں گا کچھ نا کچھ ” روحان نے جیسے خود کو تسلی دی۔۔
کیا کرلو گے تم زویا کو پریشان کرو گے اسے اب مزید غم دو گے ” پہلے تمہاری وجہ سے اس نے کیا کچھ نہیں سہا اب ایک اور ستم اسکے لیے۔۔” نہیں روحان تمہیں آئرہ کو فوراً چھوڑنا ہوگا ورنہ زویا نہیں رہے گی تمہاری لائف میں ۔۔ زارون نے غصہ سے دانت پیستے کہا۔۔
زارون ” زویا کو چھوڑنے کے نام پہ روحان کو غصہ آیا۔۔
زارون تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو زویا میری زندگی رہے یا نا رہے اس کا فیصلہ تم کیسے کر سکتے ہو” روحان نے اسے غصہ سے کہا۔۔
ہاں تو میں زویا کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ” تم نے دھوکا دیا ہے پھر سے چیٹ کیا ہے اسے روحان ” زارون کا بھی پارا ہائی ہوا تھا ۔۔
تم کیا سمجھ رہے ہو یہ سب میں نے اپنی خوشی سے کیا ہے تمہارے لیے کیا ہے یہ سب اور تم مجھے دھوکہ باز کہہ رہے ہو”..
ہاں تو نہیں کرنا تھا نا یہ سب اس میں تم زویا کے ساتھ زیادتی کیوں کی ” میں ڈیڈ کو بتا دوں گا سب ۔۔ زارون چلاتے کہا۔۔
آہستہ بولو زارون” اور ڈیڈ کو بتا دو گے تو وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے مجھ سے زیادہ انہیں زویا عزیز ہے “
زارون میرے بھائی کام ڈاؤن ہمیں اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے بجائے اس کے لڑنے کے ” روحان اسے کاندھے سے پکڑ کر تحمل سے سمجھانا چاہا۔۔
روحان تم نے بہت غلط کردیا ہے ” یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔ تم کل ہی کمپنی کے سارے ڈاکومنٹ کمال حیدر کو دے دو اور آئرہ کو طلاق دے دو بس ” زارون کرسی پہ بیٹھا اسے صلاح دیتے بولا۔۔
روحان بھی اسکے سامنے کرسی پہ بیٹھا ۔۔
” یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو”.. یہ آئرہ کی وقتی اٹریکشن اور ضد ہے جسے وہ محبت سمجھ بیٹھی ہے ” تھوڑا ٹائم دو تاکہ اسے سمجھا سکوں کہ وہ غلط ہے ۔۔ اور شاید اسے سمجھ آجائے اور خود ہی اپنی ضد چھوڑ دے ۔۔
زارون نے اسے دیکھا اور کھڑا ہوا کرسی سے اور بولا “اور اگر ایسا نا ہوا تو”
تو پتہ نہیں ” وہ منہ دوسری طرف کیے بولا ۔۔
روحان ایک مہینہ میں سب ٹھیک ہونا چاہیے سب ۔۔ ورنہ پھر تمہیں ڈیڈ ہی بتائیں گے” گویا کہ دھمکی دی تھی وہ پھر رکا نہیں تھا وہاں سے چلا گیا۔۔
روحان کی بے سکونی میں مزید اضافہ ہی ہوا تھا ۔۔
میں بھی زویا کی خوشی ہی چاہتا ہوں ” کب اسے تکلیف دی ہے اب زیادہ سے زیادہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔
@@@
زارون اپنے کمرے بیڈ پہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔
اسے روحان کی گئی حماقت پہ غصہ آرہا تھا ۔۔وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے ” چاچی کو کتنا دکھ ہوگا ۔۔زویا کو کتنی تکلیف ہوگی ۔۔اور ڈیڈ کیا گزرے گی ان پہ۔۔ کاش کے روحان ایک بار مجھ سے پوچھ لیتا میں کبھی نا کرنے دیتا اسے ایسا۔۔
زارون کو خیالوں میں کھویا دیکھ زرتاج نے اسے آواز دی ۔۔
زارون “
ہاں” اس نے چونک کر زرتاج کی طرف دیکھا۔۔
ہاں کیا ہوا ہے”
کچھ نہیں ہوا بس تمہیں دیکھ رہی تھی کوئی ٹینشن ہے”
نہیں کوئی ٹینشن نہیں ہے بس کل کے بارے میں سوچ رہا تھا آفس کا کام کا برڈن کافی بڑھ گیا ہے ” تم لائٹ آف کردو مجھے سونا ہے ۔۔ وہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا آنکھوں پہ بازو رکھ لیا۔۔
اب اسے کیا ہوگیا پھر سے ۔۔ زرتاج نے بڑبڑاتے لائٹ اوف کی اور خود بھی سونے کے لیے لیٹ گئی ۔
@@@
روحان آپ کہاں تھے ۔۔ کافی دیر چھت پہ گزارنے کے بعد روحان کمرے میں آیا اور زویا کو جاگتا ہوا پایا ۔
کہیں نہیں میں چھت پہ تھا۔۔ زارون بھی وہیں آگیا تو بات چیت اس سے کافی لمبی ہوگئی تھی۔۔تم سوئی نہیں ابھی تک ۔۔
بیڈ پہ لیٹتے دوسرے بازو پھیلایا تھا زویا کے لیے ۔۔ جو فوراً سمجھتی اسکی بازو پہ سر رکھے اسے لپٹ گئی۔۔
نہیں آپ کے بغیر نیند نہیں آتی مجھے ” اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے بولی۔۔
روحان نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
“کیوں”
” یہ عادت آپ ہی نے ڈالی ہے اور اب ” کیوں ” کہہ رہے ہیں۔۔”
روحان نے مسکرا کر اسکا معصوم چہرہ دیکھا۔۔ پھر اسکے ماتھے پہ محبت بھری مہر ثبت کی۔۔اور اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔
@@@
زارون اپنے آفس میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔ آج کام بہت زیادہ تھا ۔۔تمام پورانے ورکر دوبارا بلائے جو ارحم نکال چکا تھا ۔۔ بہت زیادہ نقصان ہوچکا تھا ۔۔ اب نئے سرے سے سارا کام شروع کرنا تھا ۔۔
تمام میٹنگز نمٹا کر کر آفس میں آیا مگر اب بھی بے سکون ہی تھا اسے زویا کی طرف سے پریشانی کھائے جا رہی تھی۔۔
روحان نے ٹھیک نہیں کیا ۔۔ وہ کیسے سب درست کرے گا ۔۔اتنا کچھ بگڑ گیا ہے صرف اسی کی وجہ سے”..
اس سب میں وہ خود کو ہی ذمہ ڈار ٹھہرا رہا تھا۔۔
@@@
روحان نے سارا دن آئرہ کی کالز کو اگنور کیا ۔۔ نا ہی اسکی کال اٹینڈ کی اور نا کاٹی ۔۔سارا دن خود کو کام میں مصروف رکھا۔۔
آئرہ نے غصہ سے موبائل کو بیڈ پہ پھینکا اور کمرے سے باہر آگئی ۔۔
ڈیڈ روحان میری کال نہیں اٹھا رہا ہے ۔۔ کیوں پریشان کررہا ہے مجھے آپ نے اس سے بات نہیں کی ۔۔ وہ کمال صاحب کے سر پہ آکے کھڑی انہیں غصہ سب بول رہی تھی۔۔
کمال صاحب ٹی وی لانج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔۔آئرہ کی بات سنتے ٹی وی اوف کردیا۔۔
کیا بات کروں میں روحان سے “
میں نے صرف اس کے ہاتھ پیر باندھے ہیں کے وہ تمہیں اپنی مرضی سے چھوڑ نا سکے ۔۔ “اور اس سے آ گے میں اور کچھ نہیں کرسکتا۔۔
اس لیے کہتا ہوں ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے تم چھوڑ دو اپنی ضد ۔۔ ” وہ بے بس ہوئے تھے اسکے سامنے ۔۔
میں اس کے گھر چلی جاؤں گی بتاؤں گی سب کو اپنے اور روحان کے رشتہ کے بارے میں ۔۔” وہ ابھی اپنی ضد پہ اڑی ہوئی تھی۔۔
پھر ۔۔پھر کیا ہوگا تمہیں روحان کے دل میں اسکے گھر میں جگہ مل جائے گی اپنا لے گا تمہیں وہ ” طنزیہ انداز میں کہا۔۔
تو وہ خاموش رہی تھی جانتی تھی ایسا کچھ نہیں ہونے والا
پھر تم اس سے بھی جاؤ گی ۔۔ وہ کہتے چلے گئے وہاں سے ۔۔
وہ صوفہ پہ بیٹھ گئی۔۔ کیا کرے ایسا کہ روحان اسکے بس میں آجائے اب وہ کسی صورت بھی روحان کو کھونا نہیں چاہتی اسے کچھ نا کچھ تو کرنا ہوگا ۔۔ ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھنے سے بھی کام نہیں بنے گا۔۔
شام کے سائے اب رات میں ڈھل چکے تھے ۔۔ اس کے دماغ میں ایک ترکیب سوجھی اس میں اس نے اپنی دوست کو بھی شامل کیا۔۔ اسے کال کرکے ساری تفصیل بتائی اور وقت پہ جگہ پہ پہنچنے کہا جس کی اس نے ہامی بھرلی ۔
وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں گئی تیار ہونے کیلئے “
واڈروب سے ایک ماڈرن سا جوڑا نکالا جسکی آستینیں نا ہونے کے برابر تھی ۔۔ وہ ایک ٹاپ تھا جو گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تھا ۔۔پیچ کلر کا خوبصورت سا ماڈرن ٹاپ پہن کر وہ اب شیشہ کے سامنے کھڑی خود کا جائزہ کے رہی تھی ۔۔ بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے ۔۔ ہلکا سا سافٹ میک اپ کیے ۔۔ ہائی ہیل پہنے وہ ٹک ٹک کرتے باہر گاڑی تک گئی۔۔ اور خود ہی گاڑی لے کر نکل گئی ۔۔
اوپر کمرے کی بالکونی میں کھڑے کمال صاحب کی نظر اس پہ گئی ۔
آج کافی دنوں بعد وہ اس طرح سے گھر سے نکلی تھی ۔۔
“اب پتا نہیں اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا ہے۔۔” وہ خود سے بڑبڑاتے کمرے میں چلے گئے۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک ریسٹورنٹ کے باہر تھی ۔۔جہاں باہر اسکی دوست کھڑی اسکا انتظار کررہی تھی ۔۔جس نے اسی کی طرح کا ماڈرن لباس پہن رکھا تھا ۔۔
یو لوکنگ گڈ ” تھینک گاڈ تمہاری شکل تو دیکھنے کو ملی آ ج بہت دن بعد اکٹھے انجوائے کریں گے ۔۔ مزا آئے گا ۔۔ اسکی دوست کرن ایکسائیٹڈ ہوتی بولی ۔
ہاں مزہ تو آئے گا ایک کام کرنا ہے تم نے میرا ” وہ اسے لیے کلب میں انٹر ہوئی۔۔
@@@
روحان کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آگیا ۔۔ زویا یوسف کو سلا رہی تھی ۔۔روحان اپنے لیپ ٹاپ پہ بزی تھا ۔۔
جب اسے ایک کال آئی۔۔ ان نون نمبر دیکھا ۔۔ یہ کون ہو سکتا ہے۔۔
ہیلو” ۔
ہیلو آپ روحان بول رہے ہیں ” مقابل گھبرائی سی آ واز آئی ۔۔
جی ہاں آپ کون ۔۔ “
” وہ ۔۔ وہ ۔۔ میں ۔۔ آئرہ کی فرینڈ ہوں ۔۔ ہم اس وقت ساتھ تھے تو کچھ آوارہ لڑکوں نے ہمیں گھیر لیا میں تو ان سے بچ کر نکل آئی مگر آئرہ انکے بیچ میں پھنس گئی ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں آئرہ کا موبائل میرے پاس تھا تو میں نے پہلے آپ کو کال کردی پلیز ہیلپ کیجئے آپ کی مسز کی عزت اور جان دونوں خطرے میں ہیں۔۔” گھبرائی سی آواز میں اس نے کہا۔۔
روحان نے ایک نظر زویا کو دیکھا ۔۔ پھر بولا ۔۔
یہ بھی کوئی آئرہ کی سازش ہوگی مجھے پھر سے ٹریپ کرنے کے لیے ” پولیس کو کال کرلو ” دھیمے سے کہتا کال کاٹ گیا ۔۔
آئرہ نے کچھ گنڈے موالیوں کا بندوست کر رکھا تھا اپنی دوست سے کہہ کر ۔۔ کرن کا نو اشارہ سن اسے مایوسی ہوئی۔۔
وہ نہیں آرہا ہے کہہ رہا پولیس کو کال کرلو ۔۔
مجھے پتا تھا ایسا ہی ہوگا۔۔” اب نیکسٹ پلان ہے اسے بلانے اب دیکھنا بھاگا چلا آئے گا ۔۔
@@@
روحان کال کاٹ کر پھر سے اپنے کام میں بزی ہوگیا لیپ ٹاپ پہ ۔۔ وہ جانتا تھا آئرہ اسے پھر سے ٹریپ کرنے کی کوشش کرے گی۔۔
ابھی کچھ دیر گزری ہی تھی کہ اسکے موبائل پہ اسے وٹس ایپ ویڈیو ریسیو ہوا۔۔
جسے دیکھتے ہی اسکے جیسے ہوش اڑ گئے ۔۔آئرہ دو چار آوارہ اوباش گنڈوں میں پھنسی ہوئی تھی ۔۔ جو اسے حراساں کررہے تھے۔۔ ویڈیو کے نیچے نوٹ لکھا تھا ہیلپ از پلیزاور ساتھ میں لوکیشن بھی سینڈ کی تھی ۔
روحان فوراً اٹھا اور باہر کی جانب تیزی سے بڑھا ۔۔
آپ کہاں جا رہے ہیں اس وقت ‘ زویا نے پیچھے سے پکارا ۔۔
آتا ہوں ایک ارجنٹ کام ہے۔۔ اتنا کہتے وہ نکل گیا۔۔