88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 17

قسط نمبر 17 (سیکنڈ لاسٹ )

سیزن ٹو
روحان کال کاٹ کر پھر سے اپنے کام میں بزی ہوگیا لیپ ٹاپ پہ ۔۔ وہ جانتا تھا آئرہ اسے پھر سے ٹریپ کرنے کی کوشش کرے گی۔۔
ابھی کچھ دیر گزری ہی تھی کہ اسکے موبائل پہ اسے وٹس ایپ ویڈیو ریسیو ہوا۔۔
جسے دیکھتے ہی اسکے جیسے ہوش اڑ گئے ۔۔آئرہ دو چار آوارہ اوباش گنڈوں میں پھنسی ہوئی تھی ۔۔ جو اسے حراساں کررہے تھے۔۔ ویڈیو کے نیچے نوٹ لکھا تھا ہیلپ از پلیزاور ساتھ میں لوکیشن بھی سینڈ کی تھی ۔
روحان فوراً اٹھا اور باہر کی جانب تیزی سے بڑھا ۔۔
آپ کہاں جا رہے ہیں اس وقت ‘ زویا نے پیچھے سے پکارا ۔۔
آتا ہوں ایک ارجنٹ کام ہے۔۔ اتنا کہتے وہ نکل گیا۔۔
ایک تو پتا نہیں کونسا ایسا ارجنٹ کام ہے جو آ ئیے دن نکلا ہی رہتا ہے ” زویا نے ماتھے پہ بل ڈالتے کہا۔۔
@@@
چلو تم لوگوں کا کام ہوگیا نکلو ابھی ۔۔” آئرہ کی دوست نے دور سے کھڑے ویڈیو بنائی تاکہ ایسا لگے جیسے کوئی چھپ کر ویڈیو بنا رہا ہو۔۔ کرن نے تھنب دکھاتے اشارہ کیا کہ ویڈیو بن گئی تو آئرہ نے انہیں پر ے دھکیلتے کہا۔۔
وہ ریسٹورنٹ کی پچھلی سائیڈ پہ تھے وہ باریک اور تنگ گلی تھی ۔۔جہاں وہ یہ ڈرامہ شوٹ کررہے تھے مگر اس بات سے بے خبر کے یہ کھیل ان پہ ہی الٹا پڑنے والا ہے۔۔
کیا ہوا ۔۔ کیا کہا اس نے ” آئرہ نے کرن کے پاس آتے کہا۔۔
مجھے نہیں لگتا وہ آئے گا ویڈیو دیکھتے ہی وہ آف لائن ہوگیا دوسرا کوئی جواب ہی نہیں دیا” کرن نے پریشانی سے کہا۔۔
افف ” بہت ہی ڈھیٹ انسان ہے کوئی ” آئرہ نے کوفت سے کہا۔۔
انکی پیمنٹ انہیں دو اور دفع کرو انہیں آج نہیں کوئی کام بننے والا۔۔کرن کہتی آگے چل پڑی۔۔
آئرہ نے اپنے پرس سے کچھ نوٹ نکالتے ان کرائے کے گنڈوں کے پاس گئی۔۔
یہ لو اور جاؤ بس “
کیا ہوا میم ساب شوٹنگ ختم ہوگئی ” ان میں سے ایک نے آگے بڑھتے پیسے پکڑے ۔۔
ہاں ایسا ہی سمجھو” وہ کہتی مڑی اور ابھی ایک قدم آگے بڑھی ہی تھی کہ اسکا ہاتھ کسی کی گرفت میں آگیا۔۔وہ مڑی تو دیکھا اس ایک بدمعاش نے اسکا ہاتھ پکڑ ا ہوا تھا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ” آئرہ کو اس وقت شدید خوف آیا ان سے مگر نڈر بنتی خود کو چھڑواتی بولی۔۔
ارے میم صاب ۔۔ نقلی ریپ کرنے کا ہم پیسا لیتا مگر اصلی ریپ فری میں کرتا ۔۔ ہاہاہا اس آوارہ اوباش نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے کہا۔۔
آئرہ کی جان تو حلق میں آئی تھی۔۔
چھ۔۔چھوڑو مجھے ” کرن۔۔ کرن ۔۔ہیلپ می بچاؤ مجھے ” وہ چلائی تھی۔۔
کرن اپنے دھیان میں آگے بڑھی تھی مگر آئرہ کے چلانے کی آواز سنتے پیچھے مڑی تو اسکی آنکھیں ابل کر باہر آئیں۔۔
آئرہ آئرہ۔۔ کرن آگے بڑھتی کہ اس میں سے ایک بولا۔۔
آہاں آج تو مزے ہیں ایک کے ساتھ ایک فری ۔۔ ” ان میں سے ایک اوباش نے کہا تو کرن کے قدم وہیں جم گئے ۔۔
آئرہ نے اسے رکتے دیکھا تو پھر آوازیں لگائیں ۔۔کرن ہیلپ ” آنسوں اسکی آنکھ سے رواں تھے اسکے بازو انکی جکڑ میں تھے۔۔خود کو چھڑواتی ہلکان ہو رہی تھی ۔
لے چلو اسے گاڑی میں۔۔ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگے تھے۔۔
پلیز چھوڑ دو مجھے تم جتنے پیسے کہو گے میں اتنے دوں گی تمہیں پلیز چھوڑ دو ۔۔وہ گڑگڑا رہی تھی انکی جکڑ میں جو اسے کھینچتے ہوئے لے جا رہے تھے
پیسے سے زیادہ قیمتی ہو تم ہمارے لیے لڑکی ” ایک نے خباثت سب کہا تھا ۔۔
ایک پرانی سی کھٹارا وین تک پہنچتے اسکا دروازے کھولتے زبردستی اس میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔
” نہیں چھوڑ دو مجھے اللہ کا واسطہ ہے چھوڑ دو ” وہ گڑگڑا رہی تھی مگر انہوں نے زبردستی اسے وین میں پھینکا ابھی دروازہ بند ہوتا کہ کسی نے دروازے پہ ہاتھ رکھتے دروازا بند ہونے سے روکا ۔۔
روحان ” آئرہ کی تو جیسے جان میں جان آگئی تھی روحان کو پکارا تھا۔۔ روحان نے کی رگیں تنی ہوئی تھی غصہ سے ایک نظر آئرہ کے حلیہ پہ ڈالی اور پھر سب کو گھور کر دیکھا۔۔
اے کون ہے تو چل جا ” ورنہ جان سے جائے گا۔۔ ایک لڑکے نے روحان کا گریبان پکڑتے کہا ۔۔ تو روحان نے سختی سے اسکا بازو جکڑا اور دوسرے ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے منہ پہ دے مارا جسے وہ اوندھے منہ گر پڑا ۔۔
کرن روحان کو دیکھتی بھاگی چلی آئی اور آئرہ کو وین سے نکالتے ایک سائیڈ پہ لے گئی ۔
آئرہ تم ٹھیک ہو” ۔۔ آئرہ ابھی بس ہچکییوں سے روئے جا رہی تھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
دوسرے لڑکے نے روحان کو پیچھے سے آکر وار کیا تو روحان مڑکر اس پر بھی تا بڑتوڑ مکے اور لاتوں کی برسات کردی ۔۔ ایک بعد ایک اس نے ساروں کی درگت بنا ڈالی ۔۔ وہ سب اپنے جان بچاتے اپنی کھٹارا وین لے کر بھاگے ۔۔ روحان کا رخ اب آئرہ کی طرف تھا ۔۔ اسکو آئرہ اور اسکی دوست کے حلیہ پہ بے حد غصہ آرہا تھا۔۔
روحان ” آئرہ روحان کے گلے جا لگی تھی۔۔
روحان شکر ہے تم آ گئے ورنہ پتا نہیں آج کیا ہو جاتا” آئرہ نے اسکے گلے روتے ہوئے کہا۔۔ روحان نے کاندھے سے پکڑ کر آئرہ کو خود سے الگ کیا ۔۔
چٹاخ” ایک تھپڑ آئرہ کے منہ پہ جڑ دیا۔۔
روحان تم آئرہ کو کیوں مار رہے ہو ” کرن کو آئرہ کو پکڑتے کہا جو منہ پہ ہاتھ رکھے اسے صدمہ سے دیکھے جا رہی تھی
آئرہ تم بہت ہی گھٹیا اور گری ہوئی لڑکی ہو تم اپنا مقصد پانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتی ہو” پہلے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور” اب اپنی عزت بھی داؤ پہ لگا دی تم نے ” آخری جملہ اس نے چلا کر کہا”
کرن بھی اب تو شاک ہوئی تھی۔۔ اب وہ کرن کی طرف دیکھتے بولا۔۔
اور تم کیا سمجھتی ہو میں بہت بے وقوف ہوں جو سمجھ نہیں سکتا تم لوگوں کی فیک بنائی ہوئی ویڈیو دیکھ کر میں اسی وقت سمجھ گئا تھا ۔۔ کوئی مووی کی ڈائریکٹر نہیں ہو تمہاری آواز بھی ویڈیو میں ریکارڈ ہوگئی تھی گڈ شارٹ ” کہہ رہی تھی تم ” اس میں تمہیں سبق سکھانے کے لیے آیا تھا مگر یہاں کا تو منظر ہی بدل چکا تھا “
ان کرایہ کے موالیوں پہ اعتبار کرلیا تھا یہ رات کے گیارہ بجے تمہیں پیسے لیکر تنگ کریں گے ۔۔
اس گنڈے نے بھی اعتراف کرلیا تھا مار کھا کر کہ تم نے ان لوگوں کو بلایا تھا مگر انکی نیت بدل گئی تمہیں دیکھ کر ۔۔
روحان بول رہا تھا اور وہ دونوں سن سی کھڑی تھی۔۔ اپنی غلطی پہ نادم تھی۔۔
آئرہ سر جھکائے کھڑی آنسو بہائے جا رہی تھی ۔۔ کیا چاہتی ہو اب تم ” تمہیں جو شوق اب چڑھا ہوا ہے نا وہ بھی پورا کردیتا ہوں اس ہوٹل میں بھی کمرے بنے ہوئے آجاؤ” آئرہ کا ہاتھ پکڑے روحان آگے بڑھا ..
روحان چھوڑو آئرہ کو” روحان کی باتوں کا مفہوم سمجھتے کرن نے آگے بڑھتے آئرہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ آئرہ بھی شاک تھی روحان کی باتوں پہ۔۔
تم جاؤ اب تمہارا کام ختم ہوگیا ” روحان نے اسے ہاتھ سے اشارہ کرتے کہا ۔۔
تم ایسا نہیں کرسکتے وہ پہلے ہی بہت ڈر گئی ہے صدمہ میں ہے ” پلیز میں سوری بولتی ہوں یہ ساری پلیننگ میری تھی وہ بے قصور ہے ” روحان کی مضبوط گرفت سے آئرہ کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے کہا۔۔
ہاں تو جس مقصد کے لیے پلیننگ کی تھی اب وہی مقصد سر انجام دینے لگا ہوں اب تمہاری دوست کا شوق پورا ہونے جا رہا ہے تو کیوں انٹرپٹ کررہی ہو بیچ میں ” وہ بھی اب اپنی بات پہ اڑ گیا تھا۔۔ آئرہ تو مزید شاک میں تھی اسے تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیسے روکے روحان کو وہ روحان کا ساتھ چاہتی ہے اور اسکا کوئی مقصد نہیں
تمہیں زویا کی قسم ہے اگر تم زویا سے مخلص ہو تو تم ایسا کچھ نہیں کرو گے” کرن کو اچانک زویا کا خیال آیا۔۔
اور اسکا واسطہ دیا تو روحان نے فوراً اسکا ہا تھ چھوڑ دیا ۔۔جس پہ آئرہ دنگ رہ گئی واقعی اس نے زویا کے نام پہ اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
روحان نے ایک سرسری سی نگاہ آئرہ پہ ڈالی جو حیران نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔ اور وہ رکا نہیں تھا فوراً وہاں سے چلا گیا۔۔
اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہی تھی۔۔
چلو آئرہ ” کرن نے اسے کاندھے سے تھامے گاڑی تک لائی۔۔
کرن گاڑی چلا رہی تھی اور آئرہ بس خاموش سی بیٹھی تھی آنسو بھی اسکے خشک ہوچکے تھے وہ تو اس منظر میں ہی کھوئی ہوئی تھی جب اس نے زویا کی قسم پہ اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔
گھر آگیا ہے آئرہ ” کرن نے ہلا کر کہا جو کھوئی ہوئی بیٹھی تھی۔۔
ہہم” گاڑی سے اترتے گھر میں داخل ہوئی اور اپنے کمرے میں آئی۔۔ کرن بھی اسکے پیچھے آئی۔۔
آئرہ میں تو تمہیں یہی مشورہ دوں گی کے پلیز چھوڑ دو اب اپنی ضد ” تم ایسے شخص کو کبھی اپنی طرف مائل نہیں کر سکتی جو تمہارا کبھی ہو ہی نہیں سکتا ‘
وہ تمہاری ادھوری محبت ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی” اسے چھوڑ دینا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے” کرن بول رہی تھی اور وہ خاموش رہی ۔۔ وہ کچھ نا بولی تو اٹھ کر چلی گئی۔۔
@@@
روحان کمرے میں آیا تو زویا سو چکی تھی ۔ وہ غصہ میں کیا کرنے جا رہا تھا آئرہ کے ساتھ “
اسکی زندگی میں صرف اور صرف زویا ہے اور کوئی بھی نہیں ۔۔ اسے اب جلد از جلد آئرہ سے اس کاغذی رشتہ کو ختم کرنا ہوگا ۔۔
@@@
آج روحا آئی تھی اپنی ساس کے ساتھ گھر میں خوب رونق لگی ہوئی تھی ۔۔
شکر ہے اسے بھی میکے کی یاد آگئی ورنہ میاں جی سے ہی فرست نہیں تھی۔۔ زرتاج نے روحا کو چھیڑتے کہا۔۔
تو تم آ جاتی ملنے تمہاری بھی تو پھپھو کا گھر ہے ” پیچھے بیٹھی پھپھو نے بھی اسکے کان کھینچے ۔۔
ہاں تو پھپھو وہ “
ہاں دو اب جواب تم ” پھپھو بہت پریشان کیا ہوا تھا اس نے فون پہ آتی نہیں ہو آتی نہیں ہو” روحا نے بھی مزید مصالحہ لگایا ۔۔
پھپھو میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی دو ماہ کی ہوئی ہے زارا ” چھوٹی بچی کیساتھ سفر کیسے کرسکتی تھی میں۔۔ زرتاج اپنی صفائی پیش کرتے بولی
ہاں تو اسکے میاں کے پاس بھی وقت نہیں ہے اس لیے بچی کو میں خود لے آئی ملوانے”
واہ پھپھو” مجھے تو لگا تھا اب آپ ساس کا روپ دھار چکی ہوں گی” مگر یہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی ہے ” اور اس نکمے کے پاس اتنا بھی کیا کام آگیا مصروفیت ہی نہیں ختم ہو رہی تھی ۔۔ زرتاج بنا بریک لگائے بولے جا رہی تھی یہ سوچے بنا کے سیما بھی وہیں پہ موجود ہے ۔
زرتاج اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور کتنی بار کہا ہے کہ عمار کا نام اب تمیز سے لیا کرو روحا کا شوہر ہے وہ”
زرتاج کی زبان دانتوں تلے آئی تھی ۔۔ روحا نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی ۔۔ زویا سب کے لیے چائے بنا کر لائی۔۔
ہم باہر چل کر چائے پیتے ہیں روحا نے اپنی چائے اٹھائی اور باہرلان کی طرف چل دی ۔۔ زویا زرتاج بھی اسکے پیچھے چل دی۔۔
روحا نے باہر آتے ہی زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔۔
اب تم کیوں ہنس رہی ہو” زویا نے اسے ہنستے دیکھ پوچھا اور زرتاج نے اسے چپ کروانے کے لیے اسکی کمر میں دھموکہ جڑ دیا ۔۔
آہ” اب مار کیوں رہی ہو اپنی زبان قابو میں رکھتی زویا بھابھی آپ نے سین مس کردیا ابھی ماما کے ہاتھوں حوصلہ افزائی ہوگئی بیچاری کی ۔۔ روحا نے زرتاج کو تنگ کرتے کہا۔۔
روحی تم مذاق اڑاؤ گی زری کا ” زویا نے اسے ٹوکتے کہا ۔۔
ہاں تو یہ کون سا کم ہے” روحا نے باز نا آتے کہا ۔۔ اور یونہی انکی کھٹ پٹ چلتی رہی ۔
@@
روحان آفس میں بیٹھا تھا جب اسکا انٹرکام بجا ۔۔ سر مس آئرہ ہیں ۔۔
روحان نے اپنا ماتھا مسلا ۔۔ بھیج دو ” کوفت سے کہا۔۔ اسے کل کا واقعہ پھر سے یاد آگیا ۔۔
کیوں آئی ہو تم یہاں ” مجھے تمہاری شکل نہیں دیکھنی ۔۔”
جانتی ہوں بس آخری بار تم سے ملنے آئی ہوں ” وہ اسکے سامنے آتی بولی ۔۔
آخری بار والی بات پہ اس نے سر اٹھا کر دیکھا اسے۔۔
حیران مت ہو سچ کہہ رہی ہوں مجھے احساس ہو چکا ہے اس بات کا کہ میں غلط تھی ۔۔ میں نے ہر طرح سے تمہیں آزما لیا ہے ” زویا کی محبت تم پہ ہر طرح سے قابض آ چکی ہے “
میرا طریقہ غلط ہو مگر میری نیت نہیں ” آج اس بے نام رشتہ سے آزادی دینے آئی ہوں میں تمہیں” ایک کاغذ اپنے پرس سے نکالتے اس کے سامنے رکھے ۔۔ روحان بس اسے ہی دیکھے جا رہا تھا پھر سامنے رکھے کاغذ اٹھائے ۔۔ وہ ڈیوورس پیپرز تھے حیران نظروں سے آ ئرہ کی جانب دیکھا۔۔
تم فکر مت کرو ڈیڈ سے ہوئے کانٹریکٹ پیپرز میں نے دیکھ لیے تھے ” وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ میں اپنی ضد چھوڑ دوں اگر میں ان سے کہوں گی تو میں نے خود تمہیں چھوڑا ہے تو کچھ نہیں کریں” یہ سب انہوں نے میری ضد کے آگے مجبور ہو کر کیا تھا ۔۔
” وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ” اس لیے میری خوشی چاہتے ہیں مگر اس پر تو وہ بھی راضی نہیں تھے ۔۔
سائن کردو اب اس میں میری کوئی سازش نہیں ہے ” وہ کہہ کر چپ ہوئی آج اسکی آواز میں چہرے پہ اداسی تھی ۔۔
اچھا ہے تمہیں احساس تو ہوا دیر سے ہی سہی ” یہی سب پہلے سوچ لیتی تو آج یہ نوبت نا آتی میں نے تمہیں دوست سمجھا تھا مگر تم جذبات میں کہاں سے کہاں نکل گئی” روحان نے پیپرز اٹھاتے ان پہ سائن کردیا ۔۔
شکریہ آئرہ نے اسکے سامنے سے پیپرز اٹھائے اور دروازے کی جانب بڑھی پھر مڑ پیچھے دیکھا اور بولا۔۔
مگر میں تم سے محبت کر بیٹھی شاید یہی میری غلطی ہے اور یہ غلطی میں ساری زندگی کرتی رہوں گی”اسکی آواز بھرا گئی وہ کہتی نکل گئی وہاں سے ۔۔
روحان کے سر سے تو جیسے بوجھ اتر گیا ” کتنا سکون میں محسوس کررہا تھا خود کو “
محبت کا علم نہیں ہے تمہیں آئرہ محبت کے معنی سمجھو گی تو خود کو بے وقوف ہی سمجھو گی ۔۔بعض دفعہ جس سے ہم محبت کے دعوے کررہے ہوتے ہیں وہ ہماری محبت ہوتی ہی نہیں ” برسوں پہلے یہ غلطی میں بھی کرچکا ہوں ” جب اپنی حقیقی محبت (زویا) سے ملا تو پتا چلا کہ جو میں محبت کسی سے کررہا تھا تو وہ فریب تھی میری اصلی محبت تو میری ہمسفر تھی “
@@@
آج روحان اور زارون بھی گھر جلدی آ گئے تھے روحا کا سنتے ۔۔ گھر میں روحا کی وجہ سے کافی رونق تھی ۔۔ شام کے کھانے کے بعد سب لوگ حال میں بیٹھے تھے زارون اور روحان باہر لان میں تھے ۔۔
آج کافی فریش سے لگ رہے ہو لگتا ہے نئے لوگ راس آگئے ہیں” زارون نے طنزیہ کہا تھا۔۔ آج دونوں اس دن کے بعد سے اب مل رہے تھے۔۔
روحان کے چہرے پہ خوشی اور اطمینان دیکھ زارون نے کہا۔۔
بس زویا کے ہی ہمیشہ چمچے بنے رہنا ” کبھی بھائی کے بھی جذبات سمجھ لیا کرو ” روحان نے کافی کا سیپ لیتے مسکراتے کہا۔۔
ہہم جذبات ” بہت مچل رہے ہیں آجکل تمہارے ” دو دو جو رکھ کے بیٹھے ہو” زارون نے پھر طنز کیا۔۔
ہاں تو اب مزے بھی نا لیں ” تم کیوں جل رہے ہو ” قدرت نے موقع دے ہی دیا اب فائدہ تو اٹھانا چاہیے نا گھر میں بھی اور باہر بھی” روحان اسے تنگ کرتے بولا اپنی ہنسی پہ بمشکل قابو پایا ہوا تھا۔۔
ہاں کرلو مزے گھر کے باہر کے ابھی ڈیڈ کو بتاتا ہوں سب کچھ جا کر۔۔
ارے زارون میرے بھائی کچھ دن تو رک جاؤ” پھر بتا دینا ۔۔ روحان نے اسکا جاتے بازو پکڑ لیا اور اپنے سامنے کرتے کہا۔۔
بہت خوب اور تم مزے لیتے رہو” میں چپ چاپ دیکھتا رہوں” زارون کا پارا ہائی ہوا تھا ۔۔
ہاں تو میں خوش تمہیں برا لگ رہا ہوں ” روحان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
اور زارون نے ماتھے تیوری چڑھائی اسے ہنستا ہوا دیکھ ۔۔
یار ” تم بھی نا ۔۔ روحان نے ہنستے ہنستے کہا اس سے زارون کی شکل دیکھ مزید ہنسی آ رہی تھی ۔
اچھا ۔۔ میں آج بہت خوش ہوں اس لیے نہیں کے اب دو دو کے مزے لوٹ رہا ہوں ۔۔ بلکہ اس لیے اس آئرہ کو ڈیوورس دے دی ہے میں نے اس نے خود ہی لی ہے مجھ ” میں نے کہا تھا نا کہ سب ٹھیک کرلوں گا مجھے ٹائم دو ” اور ایوی جذباتی بن جاتے ہو”
ہمیشہ ڈیڈ کی طرح ہی سوچنا بس زویا سے ہی رشتہ ہے تم لوگوں کا مجھ سے تو نہیں وہ خفگی سے کہتا منہ موڑ گیا۔۔
سوری یار مجھے غصہ آگیا تھا ” زارون نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
ہہم غصہ آگیا تھا ” اسکا ہاتھ جھٹک دیا
بس اب کیا کروں میں ” اب اس لڑکی کی چھوٹی بہن بھی تو نہیں تھی ورنہ میں یوں اعتراض نا لگاتا ۔۔” دونوں بھائی خوش ” وہ اسکے کاندھے پہ ہاتھ ڈالتے مسکا لگاتے کہا۔۔
خود کے پاس نہیں تھی اس لیے میرے پاس بھی نہیں رہنے دی ” بہت پیاری تھی یار” وہ اسے دیکھتے ایک آنکھ دباتے بولا تو دونوں قہقہ لگاتے ہنس دیے”