Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 9
روحان آفس کے سارے کام نمٹا کر جلدی گھر پہنچا تھا ۔۔کیونکہ اسے بھی جلدی گھر پہنچ کر پارٹی کے لیے ریڈی ہونا تھا ۔۔کیونکہ پارٹی مسٹر حیدر کمال کی طرف رکھی گئی تھی۔۔
گھر پہنچتے ہی سیدھا وہ اپنے کمرے میں گیا۔۔
زویا تم تیار ۔۔ کمرے میں آتے ہی اسنے زویا کو آواز دی مگر زویا کو پہلے سے تیار دیکھ وہ دنگ رہ گیا۔۔
بلیک کلر کی سلک کی ساڑھی پہنے ہوئے گلے میں ڈائمنڈ کی نازک سی جیولری پہنے کالے سیاہ بال کھلے چھوڑے ہوئے سافٹ سا میک اپ کیے نازک سا سراپہ لیے اسے بہکانے کے پہ در تھی ۔۔ وہ آہستہ سے چلتا ہوا اسکے قریب آیا۔۔ ” کیا خیال ہے جانم آج جانے کا موڈ نہیں ہے کیا۔۔” وہ مدھوشی کے عالم میں بولا ۔۔
کیوں کیا ہوا میں ٹھیک نہیں لگ رہی” زویا نے پریشانی سے اپنی ساڑی اور میک اپ کو دیکھتے کہا
روحان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔ اتنی خوبصورت لگو گی تو میرا موڈ تو چینج ہوجائے گا نا ۔۔
پارٹی کو چھوڑو ہم اپنی پارٹی مناتے اسکے سرخ ہونٹوں پہ فوکس کیے بولا تھا ۔۔
اسکا ارادہ بھانپ کر زویا نے اسکا حصار توڑا تھا ۔۔
” روحان پلیز میرا میک اپ مت خراب کریں اتنی محنت سے تیار ہوئیں ہوں۔۔” اور اگر نہیں جانا تھا تو پہلے بتا دیتے ” زویا تیوری چڑھاتے غصہ ہوتے بولی ۔۔
روحان کچھ بولتا کہ اسکا فون بج اٹھا۔۔ جسے دیکھتے اسنے زویا سے کہا۔۔ اچھا یار کپڑے ریڈی کرو۔۔ چلتے ہیں واپس آکر دیکھوں گا تمہیں ۔۔ کہتے ہی واش روم میں بند ہوا۔۔
ہائے ۔۔اسکی دوست ہاتھ ہلاتی ہوئی اسکے پاس آئی
ہائے۔۔ جواباً آئرہ نے بھی ہاتھ ہلایا ۔۔
واؤ۔۔ کتنی پیاری لگ رہی ہو تم آج کس پر بجلیاں گرانے کی تیاری ہے ۔۔ اسکی دوست نے اسکے سراپہ حسن پہ نگاہ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔
جو بلیک کلر کا سلیو لیس گاؤن پہنے جس پہ بہت ہی خوبصورت سلور نگوں کا کام تھا جو شہر کے بڑے ڈیزائنر کا تیار کردہ تھا۔۔
ہاتھ میں پہنے قیمتی ہیروں کا بریسلیٹ ۔۔کانوں میں پہنے ڈائمنڈ کے ائیر رنگ صاف شفاف صراحی دار گردن ہلکا سا سافٹ سا میک اپ کیے کہ وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی وہاں موجود سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔۔
آئرہ تمہاری نظریں بس باہر کی طرف ہیں آخر کس کا اتنا بے صبری سے انتظار ہو رہا ہے۔۔
انتظار ہی تو نہیں ہو رہا آخر کب آئے گا وہ”..
اوہ اچھا کہیں تو وہ شخصیت روحان تو نہیں ۔۔” اسنے کہا تو آئرہ شرما گئی تھی ۔۔
اوہ آئرہ تم بلش کررہی ہو ” کہیں واقعی تمہیں محبت ہوگئی ہے”
ہاں ” اس نے شرماتے ہوئے کہا۔۔
اور آج میں روحان سے اپنی محبت کا اظہار کرنے جا رہی ہوں”
کیا تم اظہارِ محبت کرو گی ؟ خود.. وہ حیرت سے بولی..
کیوں اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے.. وہ صرف میرا ہے اور میں جانتی ہوں اسکے دل میں بھی وہی جذبات ہیں جو میرے دل میں اسکے لئے ہیں ” اس نے بڑے غرور سے کہا.. جو مان وہ کئے بیٹھی تھی وہ کچھ دیر میں ٹوٹنے والا تھا..
اور پھر وہی ہوا.. کچھ ہی دیر میں حال کے سامنے گاڑی رکی تھی.. فرنٹ سیٹ سے روحان اترا جو بلیک کلر تھری پیس پہنے ہوئے تھا.. آئرہ سامنے ہی متوجہ تھی اسے دیکھتے کھل سی گئی..
واہ میچنگ ہوگئی ڈریس کی اسکی دوست نے اسے کہنی مارتے کہا..
روحان نے دوسری سائیڈ کا دروازہ کھولتے ہاتھ آگے بڑھایا..
زویا نے اسکے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور آہستگی سے باہر نکلی.. بلیک ساڑھی میں دمکتی اسکی سرخ و سفید رنگت.. روحان کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی آگے بڑھ رہی تھی..
آئرہ یہ کون ہے”
آئرہ اپنی جگہ پہ منجمد کھڑی تھی روحان کے ساتھ کسی اور کو دیکھ وہ ساکت رہ گئی .. وہ بس نا میں ہی سر ہلا سکی..
روحان اسکے باپ حیدر کمال کے ساتھ مصافحہ کررہا تھا..
گڈ ایوننگ ” میٹ مائے وائف.. زویا..
زویا نے سلام کیا ” اسلام علیکم”
وعلیکم السلام ” نائس ٹو میٹ یو”
روحان سب سے زویا کا تعارف کررہا تھا..
آئرہ پتھرائی سی نظروں سے روحان اور زویا کو دیکھ رہی جو ایک دوسرے کیساتھ بے حد خوش نظر آ رہے تھے..
روحان نے زویا کا ہاتھ تھاما ہوا تھا..
ہیلو ” پاس سے گزرتی روحان کی پی اے کو آئرہ کی دوست نے آواز دے کر بلایا..
ییس میم”..
یہ روحان کے ساتھ لڑکی کون ہے”
یہ مسز روحان ہیں ” آپ کو نہیں پتا روحان سر کی وائف ہیں ” پی اے نے کہا..
تمہارے سر میرڈ ہیں “
ہاں ” روحان سر میرڈ ہیں ” انکا تو دو سال کا بیٹا بھی ہے” اس نے تو انکی معلومات میں مزید اضافہ کیا.. اور چلی گئی..
آئرہ کے سر پہ تو جیسے سر پہ پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا..
آئرہ پلیز کنٹرول .. روحان نے تو تم سے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی یہ تو جسٹ تمہاری ہی فیلنگز تھی..
وہ بول رہی تھی مگر آئرہ وہاں سے چلی گئی..
آئرہ ایک سا ئیڈ پہ کھڑی تھی سب سے الگ اسے تو بس روحان کا غم کھائے جا رہا تھا ۔۔
ہیلو تم یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔ روحان کی آواز پہ وہ پلٹی تھی ۔۔ آنکھیں رونے کے باعث سرخی مائل ہورہی تھی ۔۔
روحان نے اسکا ستا ہوا چہرہ دیکھ تھوڑا پریشان ہوا ۔۔
آئرہ کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو “
شٹ اپ ” تند و تیز لہجہ میں بولی۔۔ روحان اسکے لہجہ پہ شاک ہوا۔۔کبھی اس نے اس طرح بات نہیں کی تھی ۔۔
تم نے مجھے پہلے کبھی بتایا نہیں تمہاری بیوی بھی ہے” انتہائی بدتمیزی سے بولی تھی۔۔
یہ کس انداز میں بات کررہی ہو تم مجھ سے اور یہ ہمارے درمیان اس طرح کے کوئی تکلفات نہیں تھے کہ میں تمہیں ہر بات بتاتا مگر ایسا کوئی موقع نہیں ملا اور تم اس طرح سے مجھ سے سوال نہیں کرسکتی اپنی لمٹ میں رہو تم ۔۔ روحان کا پارا بھی چڑھا تھا۔۔
کر سکتی ہوں سوال میں تم سے بیکوز آئی لو یو ۔۔ جب سے تمہیں پہلی بار دیکھا ہے ۔۔” وہ رو دی تھی ۔۔
روحان تو دنگ تھا اسکے بےباک انداز پہ ۔۔
تم پاگل ہو آئرہ محض دو مہینہ ہمارے درمیان صرف بزنس ریلیشن ہی رہا ہے اس سے آگے میرے لیے تم کچھ نہیں ہو”
روحان تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے میں تمہیں برباد کردوں گی ” آئرہ نے تو اسکا گریبان پکڑ لیا تھا ۔۔
وہ دونوں ایک سائیڈ پہ تھے اس لیے سب کی نظروں سے اوجھل تھے۔۔ روحان نے ادھر ادھر دیکھتے اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑتے اپنے کالر چھڑائے۔۔
اور وہاں سے نکلا تھا ۔۔ زویا جو عورتوں کے ساتھ کھڑی باتوں میں مصروف تھے وہ سیدھا زویا کے پاس گیا۔۔
ایکس کیوز می زویا ۔۔ زویا کے پاس آتے وہاں سے ایکس کیوز کرتا زویا کا ہاتھ پکڑے حال سے باہر نکل گیا۔۔
کیا ہوا روحان آپ مجھے باہر کیوں لے آئے ۔۔” روحان اپنے غصہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا جو اسے آئرہ پہ اس وقت شدید آرہا تھا۔۔
ہم کہیں اور چلتے ہیں مجھے تمہارے ساتھ اکیلے میں ٹائم اسپینڈ کرنا ہے” کہتے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
مگر روحان اچانک سے اس طرح پارٹی چھوڑ کر آجانا اچھا تو نہیں لگے گا”زویا نے کہا
آئی ڈونٹ کیئر” کہتے ساتھ ہی اسنے گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔
روحان وہاں سے چلا گیا اسے چھوڑ کر وہ اپنی جگہ پہ کھڑی رہی ” اسکے باپ نے دور سے وہ سارا منظر دیکھ لیا تھا روحان کے جاتے اسکے سر پہ آن پہنچا۔۔
آئرہ گھر جاؤ ” وہ غصہ سے دانت پیستے بولے۔۔
پاپا ہی از میرڈ ” وہ لال ہوتی آنکھوں سے انہیں دیکھتی بولی۔۔
شٹ اپ آئرہ گو ٹو ہوم ناؤ” میری عزت کا جنازہ مت نکالو یہاں سب جانتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہے ” مسٹر حیدر کمال دانت پیستے بولے تھے۔۔ اور اسے بازو سے پکڑے باہر کی جانب لے گئے ۔۔
ڈرائیور میڈم کو گھر چھوڑ کر آؤ” ۔۔ آ ئرہ کو گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیور کو آواز دی اور وہ دوڑا چلا آیا ۔
آئرہ گاڑی میں بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
مسٹر کمال اندر آئے سب آئرہ کا پوچھنے لگے ۔۔انہوں نے یہی بہانا بنایا کہ آئرہ کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اس لیے وہ گھر چلی گئی۔۔
روحان کیا بات ہے کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں جب ہم پارٹی تھے تو سب ٹھیک تھا لیکن جب سے ہم وہاں سے آئیں ہیں مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا”
وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے سامنے کھانا پڑا تھا مگر روحان نے ٹھیک سے نہیں کھایا تھا کچھ زویا کو پریشان سا لگا..
ہاں ٹھیک ہے بس ایسے ہی کوئی بات نہیں ہوئی ہے وہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے بولا..
گھر چلیں ” زویا نے کہا..
ہاں چلو ” روحان اٹھ گیا..
آئرہ نے کمرے میں آتے سارا کمرہ تہس نہس کردیا..
ہاتھ میں پہنا بیش قیمتی بریسلٹ زمین پہ دے مارا کانوں پہنے قیمتی ائیررنگز اتارزمین پہ پٹخے تھے .. اسکے آنکھوں کے سامنے وہی منظر بار بار آ رہے تھے روحان اور زویا ایک ساتھ چلتے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتے ہوئے روحان کا محبت پاش نظروں سے زویا کو دیکھنا..
نو..
نو.. نیور..
روحان تم میرے جسٹ میرے..
میں تمہیں چھین لوں گی.. زندگی میں پہلی بار کسی کی چاہ کی ہے میں نے اور وہ صرف اور صرف تم ہو..
اور واش روم میں جا بند ہوئی..
مسٹر کمال بڑے غصہ میں گھر میں داخل ہوئے سیڑھیاں چڑھتے انکا رخ آئرہ کے کمرے کی جانب تھا..
دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئے کمرہ میں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا.. اندازے سے سوئچ بورڈ پہ ہاتھ مارتے لائٹس آن کی.. سارے کمرہ کا نقشہ بدلا ہوا تھ ا.. قیمتی
چیزیں زمین بوس ہوئیں تھی.. زمین سے پڑا ڈائمنڈ بریسلیٹ اٹھایا.. آئرہ بیڈ پہ آڑھی ترچھی اوندھے منہ پڑی ہوئی..
آئرہ کیا ہے یہ سب ” کیوں کررہی ہو یہ سب تم.. کس کے لئے.. ” وہ اس کے سر پہ پہنچتے گرجے تھے..
پاپا.. آئی وانٹ روحان.. “ہی از میرڈ.. اسنے سر اٹھاتے روتے کہا.
شٹ اپ آئرہ ” میں کچھ دنوں سے نوٹس کررہا تھا تم روحان میں انٹرسٹ لینے لگی ہو اس لئے آج میں اسے اسکی فیملی کے ساتھ انوائٹ کیا تھا.. اور وہ آیا اپنی وائف کے ساتھ.. اگر اس کے دل میں بھی تمہیں لے کر ایسے کوئی جذبات ہوتے تو وہ اپنی وائف نا لاتا ساتھ.. یہ صرف تمہارے دماغ کا فتور ہے اور تم اس فتور کو جلد از جلد نکال دو اپنے ذہن سے” … مت تماشا بناؤ میرا ساری دنیا کے سامنے.. وہ بے بس ہوئے آخر میں اسکے سامنے..
اور اگر نا نکالوں تو ” اسنے ڈھٹائی سے کہا..
آئرہ میں نے تمہاری ہر ضد پوری کی مگر خدا کے لئے یہ ضد چھوڑ دو.. وہ شادی شدہ ہے تم میری اکلوتی اولاد ہو.. وہ سمجھاتے ہوئے بولے..
اب اس چیپٹر کو کلوز کردو ” دوبارہ میں اس ٹاپک پہ کوئی بات نہیں کروں گا ” وہ وارن کرتے چلے گئے..
نو پاپا یہ چیپٹر تو اب کھل چکا ” وہ بھی اپنی ضد پہ قوم تھی..
وہ دونوں گھر آئے تھے.. روحان چینج کرکے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا.. زویا واشروم میں تھی.. روحان ابھی آئرہ کی باتوں سے پریشان تھا.. وہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ آئرہ اسے لیکر اتنی جذباتی ہوجائے گی.. آئرہ کے لئے اسکے دل میں ایسی سوچ دور تک نہیں تھی.. اتنا تو وہ خان چکا تھا آئرہ ایک ضدی لڑکی ہے..
زویا فریش ہوکر باہر آئی.. روحان بیڈ پہ لیٹے سر کے نیچے ہاتھ رکھے گم سم سا لیٹا ہوا تھا.. روحان.. زویا نے آواز دی تو بولا نہیں..
روحان زویا نے پاس آتے اسے ہلایا ” روحان “
ہاں ” اس نے چونک کر زویا کو دیکھا..
کیا ہوگیا ہے آپکو آنکھیں کھول کر سو رہے ہیں..
نہیں تھک گیا ہوں.. ” مسکراتے ہوئے بازو پھیلایا اپنا تو زویا اسکے بازو پہ سر رکھے لیٹ گئی.. تو روحان نے اسے خود میں بھینچ لیا تھا..
زرتاج اب پہلے سے بہت بہتر ہوگئی تھی.. اب وہ اپنی بیٹی خود سمبھالنے لگی..
زارون آفس سے آکر سیدھا زرتاج کے پاس ہی آ جاتا..
اس نے زارا کو اٹھایا ہوا تھا.. اور اسکے ننھے سے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لئے اس سے باتیں کررہا تھا..
بہت پیار آ رہا ہے اپنی بیٹی پہ ..زرتاج انہیں دیکھتی بولی…
تو تم کیوں جیلس ہو رہی ہو ” زارون بولا..
میں کیوں جیلس ہوں گی بھلا.. زرتاج ناک پھلاتی بولی..
ہاہا.. ہو رہی ہو جیلس.. مجھے لگ رہا ہے” مجھے زارا بہت ہی پیاری لگتی ہے میرا دل کرتا ہے میں سارا وقت بس اسے گود لیے پھرتا رہوں.. جب تم لوگوں سے دور ہوجاتا ہوں تو عجیب سی بے چینی ہونے لگتی ہے.. “
زارون یہ تمہاری محبت ہے ہمارے لئے ” بس کچھ دن میں ہی ہم آجائیں گے اپنے کمرے میں اب میں ٹھیک ہوں ٹھیک سے چل پھر لیتی ہوں.. ” زرتاج زارون کے پاس آتی بولی..
زارون نے زارا کو بے بی کاٹ میں پیار سے لٹایا اور زرتاج کو زور سے گلے سے لگا لیا.. بے چینی محسوس کررہا تھا خود میں.. کچھ دیر بعد اس سے الگ ہوا.. اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور اسکے ماتھے پہ محبت بھرا لمس چھوڑتے پیچھے ہوا اور چلا گیا کمرے سے.. زرتاج پیچھے سوچتی رہ گئی اسے ..
