Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 11
رات کے دس بجنے والے تھے اور روحان کا اب تک کوئی اتا پتا نا تھا۔۔ فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔ زویا کو روحان کی فکر ہورہی تھی ۔۔ گھر میں تو اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا وہ دوست سے ملنے گیا ہے ۔۔مگر اب ناجانے کیوں اسے پریشانی ہونے لگی تھی۔۔
@@
زارون آخر بات کیا ہے کوئی پریشانی ہے تو بتائیں کتنے دن ہوگئے یوں چپ چپ سے ہیں گھر میں بھی سب آپ کا مجھ سے پوچھ رہے ہوتے ہیں۔۔ آج بھی آپ سارا دن گھر نہیں آئے ۔۔ “
زارون کو خاموشی سے کمرے میں آتے سوتا ہوا دیکھ زرتاج اس کے سر پہ کھڑی بولی ۔
کام تھا آج اس لیے نہیں تھا گھر ۔۔ اب ہر بات کا حساب دینا ہوگا ۔۔ ” آفس ہی جاتا ہوں اور سیدھا گھر آتا سو الجھنیں ہوتی ہیں کام کی ۔۔ ” وہ بیزاریت سے بولتا آنکھیں میچ گیا۔۔
تایا ابو نے کہا ہے روحان بھائی سے کہ آپ کے آفس چکر لگا لیں دیکھ لیں کہ آ پ کو آفس میں کیا معا ملات ہیں ہیلپ ہوجائے گی آپ کی” زرتاج کی بات پہ زارون نے فٹ سے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
کیوں کہا ڈیڈ نے ایسا انہیں مجھ پہ بھروسا نہیں ہاں کچھ معاملات میں مجھے مشکل ہو رہی ہے مگر سب سنبھال لوں گا ۔۔ مجھے کسی کی ہیلپ کی ضرورت نہیں ۔۔روحان اپنے کام سے کام رکھے ,, دانت پیستے زارون نے کہا تھا۔۔
زرتاج کو زارون کا رویہ عجیب سا لگا “
زارون تو کیا ہوا روحان بھائی نے اپنا بزنس الگ کیا ہے مگر ہیں تو وہ آپ کے بھائی۔۔ تو پھر اس میں غصہ کرنے والی کیا بات ہے”
مجھے تنگ مت کرو سونے دو ” اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے وہ لیٹ گیا۔۔
اب زرتاج کو یقین ہو گیا تھا کہ ضرور آفس میں ہی کوئی گڑبڑ ہے اسے روحان سے سیدھا بات کرنی چاہیے۔۔
@@@
روحان اس وقت ایک کمرے میں موجود تھا بیڈ پہ بے ہوش پڑا ہوا تھا ۔۔ اس کے قریب آئرہ بیٹھی ہوئی تھی جو روحان کے ہوش میں آنے کا انتظار کررہی تھی ۔۔بلیک ٹی شرٹ پہ مٹی لگی ہوئی اپنے لال دوپٹہ سے وہ مٹی صاف کرنے لگی چہرے پہ لگی مٹی جو صاف کرنے لگی۔۔ روحان جو ہوش میں آگیا تھا اس نے آنکھیں کھولیں سر چکراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے اپنے چہرے پہ کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے جھٹ سے ہاتھ پکڑ لیا سامنے دیکھا تو
آئرہ اسے دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔
یہ کیا بد تمیزی ہے آئرہ ” وہ فٹ سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور غصہ سے اسے گھورتے بولا ۔۔
تمہیں کیا لگتا ” آئرہ بیڈ سے اٹھتے بولی۔۔
مجھے پتا ہوتا تم اتنی گھٹیا حرکت کرو گی تو میں کبھی تم سے ملنے نہیں آتا۔۔” وہ کہتے کمرے کے دروازے کی قدم بڑھانے لگا۔۔
تم یہاں سے باہر نہیں نکل سکتے میری اجازت کے بغیر” پیچھے سے آئرہ نے آواز دی۔۔
تم آخر چاہتی کیا ہو” روحان اسکی طرف آتے غصہ سے چلاتے بولا۔۔
تم سے شادی ” وہ بھی بڑے آرام سے بولا ۔۔
ہر گز نہیں میری زندگی میں صرف زویا ہے اسکے علاوہ میں کسی کو بھی اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا۔۔”
تو میں کونسا کہہ رہی ہوں اسے چھوڑ دو بس تم مجھے اپنا نام دے دو میں بس اسی میں گزارا کرلوں گی۔۔” وہ لہجہ میں پیار سموئے بولی ۔۔
تم پاگل ہو” وہ دانت پیستے بولا۔۔
تم نے ابھی میرا پاگل پن دیکھا ہی کہاں ہے” وہ جنون سے بولی تھی اور پھر وہاں ٹیبل پہ پڑا کاغذ اٹھا کر روحان کی طرف بڑھایا ۔۔اور ساتھ ہی اپنے وکیل کو آواز لگائی جو کمرے سے باہر کھڑا اسکے بلانے کا ہی انتظار کررہا تھا ۔
یہ کیا ہے” ایک نظر اس پہ اور پھر دوسری نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے پیپرز پہ ڈالی
اس پہ سائن کردو بس ” پیپرز اسے دیتے ہوئے بولی۔۔
روحان نے جب پیپر پڑنا شروع کیے تو دنگ رہ گیا
آئرہ ” کیا ہے یہ ” تمہارا دماغ واقعی میں خراب ہوگیا ہے تمہیں کیا لگتا ہے میں ان پیپرز پہ سائن کردوں گا۔۔
میری زندگی زویا کے علاوہ اور کو ئی نہی آسکتا ۔۔ یہ کورٹ میرج کے پیپرز ہیں ” میری زندگی ہے کوئی مذاق نہیں ہے۔۔ پیپر اس کے سامنے لہراتے روحان غصیلے لہجے میں کہا ۔۔
ان پہ سائن کردو ورنہ میں اپنی جان لے لوں گی ابھی اسی وقت” آئرہ کو پتہ تھا وہ اتنی آسانی سے ماننے والا ہے۔۔
” تم نہیں تو کچھ بھی نہیں “
وہ بھی کہاں ہار ماننے والی تھی ۔
بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے ۔۔ ” روحان نے پیپر ٹیبل پہ پٹخ دیے اور دروازے کی جانب قدم اٹھایا ۔۔
روحان تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ” آئرہ نے پوائزن کی شیشی ہاتھ میں اٹھاتے کہا۔۔
میم پلیز ” اسے نیچے پھینکیں یہ واقعی کوئی مذاق نہیں ہے” وکیل کی آواز پہ روحان پیچھے مڑا تب تک آئرہ وہ زہر کو منہ لگا چکی تھی ۔۔ روحان نے فوراً سے آئرہ کی طرف بڑھتے شیشی کو ہاتھ مار کر زمین پہ دے ماری مگر آئرہ زہر پی چکی تھی۔۔
” پاگل ہو کیا اپنا نہیں تو کم از کم اپنے باپ کا خیال کرلو تم اکلوتی اولاد ہو تم انکی روحان چلاتے ہوئے آئرہ سے کہا۔۔
صرف تم ” روحان کو پیار بھری نظروں سے دیکھتی وہ بولی ۔ اور اسکے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوگئی۔۔
آئرہ ہوسپٹل چلو ۔” روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنا چاہا مگر وہ اپنے قدموں میں جم گئی۔۔
روحان نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ” پہلے سائن کرو ورنہ میں کہیں نہیں جانے والی یہی دم دے دوں گی اور اسکے ذمہ دار صرف تم ہو” وہ اپنی بات پہ قائم تھی اسے موت کا بھی خوف نہیں رہا۔۔
سر پلیز اس وقت آپ انکی بات مان لیں اگر انہیں کچھ ہوگیا آپ کے ساتھ ساتھ کمال سر مجھے بھی پھانسی پر لٹکا دیں گے ۔۔ ایک سائن ہی تو ہے ” آئرہ کی حالت اب غیر ہونے لگی تھی مگر اپنی جگہ پہ قائم کھڑی تھی۔۔
روحان نے جلدی پیپرز اٹھاتے ان پہ وکیل سے پین لیتے سائن کردیے ۔۔ آئرہ کے چہرے مسکراہٹ نمودار ہوئی اور ساتھ زمین پہ گری ۔۔منہ سے جھاگ کر خون بھی نکلنے لگا تھا زہر نے اثر دکھانا شروع کردیا ۔
روحان نے جلدی سے آئرہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور باہر کی جانب بھاگا۔۔
جلدی گاڑی اسٹارٹ کرو ہاسپٹل جانا ہے جلد از جلد ۔۔ گاڑی میں بیک سیٹ پہ آئرہ کو ڈالا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا ڈرائیور نے بھی پھرتی دکھاتے گاڑی زن سے بھگائی ۔۔
آئرہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی اس وقت وہ روحان کی گود میں سر رکھے ہوئی تھی اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے روحان کو دیکھنے لگی ۔۔
آئرہ پلیز اپنی آنکھیں بند مت کرنا ۔۔ وہ اسکے چہرے پہ ہاتھ رکھے پریشانی سے بولا ۔۔ آئرہ کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اسے یہ پل سب سے حسیں پل لگ رہے تھے ۔
دس منٹ میں ہی ہاسپٹل کا سفر طے کرتے وہ پہنچے آئرہ کو اسٹریچر پہ ڈالے تیزی سے آپریشن تھیٹر کی جانب دوڑ لگادی۔۔
آئرہ کا فوراً ٹریٹمنٹ شروع کردیا گیا ۔۔ وکیل بھی فوراً پہنچ گیا ہاسپٹل اس نے آئرہ کے والد کمال حیدر کو اطلاع کردی تھی ۔
روحان پریشانی میں وہاں بینچ پہ سر نیچے کیے بیٹھا ہوا تھا۔۔
اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا نا روحان عالم ملک میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ” کمال حیدر نے آتے ہی روحان کا گریبان پکڑ لیا۔۔
اپنی بیٹی کی غلطیوں کا ذمہ میرے سر مت ڈالیں” یہ سب اس نے خود کیا ہے صرف مجھ سے میرج پیپرز پہ سائن کروانے کے لیے۔۔ روحان نے بھی اسی ٹون میں جواب دیا تھا۔۔ کمال حیدر نے گریبان چھوڑ دیا اور شاک سے روحان کو دیکھا پھر وکیل جانب دیکھا جو سر جھکا گیا۔۔
سر آئرہ میم نے رو حان کو زبردستی اٹھوایا اور انہیں اپنے فارم ہاؤس میں لے آئی مجھ سے میرج پیپرز بنوائے اور ان پہ روحان سر کے سائن لینے کے لیے انہیں بلیک میل کرکے سائن کروانے کے لیے پوائزن لیا۔۔ وکیل نے سر جھکائے ساری تفصیل بیان کردی۔۔
روحان تم سائن کردیتے بعد میں سارے معاملات میں خود دیکھ لیتا۔۔ بے بسی کہا تھا انہوں نے۔۔
سائن کردیے ہیں سر ” روحان نے کہتے اپنا رخ موڑ لیا۔۔ اسے زویا کے لیے اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ اس سے شدید محبت کرتا ہے ۔۔مگر آئرہ کو کبھی اپنی زندگی میں شامل نہیں کرے گا۔۔
مسٹر کمال بینچ پہ بیٹھ گئے تھے ۔۔ اپنی اکلوتی اولاد کے ہاتھوں بے بس ہوگئے تھے۔۔
@@@
رات بارہ بجنے کو آئے مگر روحان ابھی تک گھر نہیں آیا ۔۔
زویا کو ٹینشن بھی ہو رہی تھی اور روحان پہ غصہ بھی آ رہا تھا شدید۔۔
وہ کال نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
آنے دو گھر چھوڑوں گی نہیں میں ” تکیہ سیدھا کرتے سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔
@@@
ڈاکٹرز نے آئرہ کے حوالے سے مثبت خبر سنائی تھی آئرہ اب خطرے سے باہر تھی۔۔
رات کے دو بج رہے تھے ۔۔آئرہ کو دوسرے روم میں شفٹ کردیا گیا تھا۔۔
سر میں چلتا ہوں زویا میرا انتظار کررہی ہوگی ۔۔ “
روحان کمال صاحب سے مخاطب ہوا ۔
میں تم سے شرمندہ ہوں روحان ۔۔آئرہ نے اپنی ضد میں آکر میرے ساتھ ساتھ تمہارا بھی سکون بھی برباد کردیا۔۔
سکون ہی نہیں لائف بھی ” کہتا وہ رکا نہیں تھا ۔۔
اور وہ سر تھام کہ رہ گئے تھے ۔۔ اب کیا ہوگا اس مسئلہ کا حل ۔۔ آئرہ پہ شدید غصہ بھی آ رہا تھا۔۔ مگر ایک بار وہ ٹھیک ہو جائے پھر اچھے سے اسکی خبر لینے کا ارادہ رکھتے بس خاموش ہوگئے ۔۔
آئرہ میں تمہاری ضدیں پوری کر کے تھک گیا ہوں مگر اب تم وہ ضد کر بیٹھی ہو جو میں چاہ کر بھی پوری نہیں کرسکتا۔۔
تمہاری ماں کے جانے کے بعد میں نے تمہاری خاطر دوسری شادی نہیں کی ساری زندگی اکیلے گزار دی ۔۔ تمہیں ہر طرح کی عیش وعشرت دے کر تمہیں بہت بگاڑ دیا تم اب اس حد تک نکل آئی ہو کہ کسی کے بسے بسائے گھر کو اجاڑ دو۔۔ نہیں آئرہ تم یہ ڈیزرو نہیں کرتی ہو ۔۔ وہ اکیلے بیٹھے خود سے ہی بڑبڑا رہے تھے
@@@
روحان کو گھر پہنچتے رات کے تین بن گئے تھے ۔۔
اپنے کمرے آیا تو سوئی ہوئی زویا پہ نظریں ٹھہر سی گئی ۔۔ وہ اسے کوئی دیکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔۔اپنی تمام تر سوچوں کو جھٹکتے وہ واش روم چلا گیا ۔۔
فریش ہو کر بیڈ پہ آیا زویا دوسری سائیڈ اسکی طرف کروٹ لیے سو رہی تھی درمیان میں انکا بیٹا یوسف سو رہا تھا۔۔ دونوں کو تکنے لگا جو انکی زندگی ہیں۔۔
پھر آج گزرے واقع ذہن میں گردش کرنے لگا ۔۔ اس پل کو سوچ پچھتاوا ہوا کہ وہ کیوں آئرہ کی باتوں میں آکر اس سے ملنے چلا گیا ۔۔ وہ اس حد کو گزر جائے گی وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔ اب ان کاغذوں کا کیا جس پہ وہ دستخط کر چکا تھا ۔۔ اس بارے میں گھر میں کسی کو بھی نہیں پتہ لگنا چاہیے خاص طور پہ زویا جو۔۔ اب اس معاملہ کو بہت ہی محتاط طریقہ سے ہینڈل کرنا ہوگا آئرہ بہت چالاک ہے کتنی چالاکی سے اس نے پیپر سائن کروائے اپنی زندگی تک کو خطرے میں ڈال دیا وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔۔ انہی سوچوں میں گم وہ نیند کی وادی میں اتر گیا۔۔
@@@
صبح جب زویا کی آ نکھ کھلی تو روحان کو اپنے برابر میں سویا ہوا پایا ۔۔ایک پل کے لیے چہرے پہ خوشی کی لہر دوڑ گئی اور دوسرے ہی پل مسکراتے ہونٹ سکڑ گئے۔۔
یہ کب آئے اور کہاں تھے اب تک ” اٹھنے دیں پھر پوچھتی ہوں ۔۔ خود سے بڑبڑاتے واش روم میں بند ہوئی ۔۔
@@@
زارون جب آفس میں داخل ہوا تو سب اسے دیکھ رہے تھے ۔۔ آج اسے ایسے لگا جیسے وہ کسی اور کی کمپنی میں آیا ہو۔۔
اپنے آفس روم میں داخل ہوا تو اپنی کرسی پہ کسی اور کو بیٹھا ہوا پایا جو اپنا رخ دوسری طرف موڑے بیٹھا تھا۔۔
بڑے تعجب سے اپنی کرسی پہ بیٹھے اس شخص کو دیکھا۔۔
کون ہو تم اور میرے آ فس میں کیا کررہے ہو.
میں اس کمپنی کے سسٹی پرسنٹ شیئرز کا مالک ہوں.. ” وہ ویسے ہی منہ موڑے بیٹھا بولا..
اوہ تو مسٹر اے کے ” یہ کیا طریقہ ہے ملنے کا.. اور ساٹھ نہیں صرف چالیس پرسنٹ ” ارحم کو پہنچانے بغیر بولا..
ہاہا.. ارحم کرسی موڑتے اسکی جانب دیکھتے زور دار قہقہہ لگایا تھا..
تم”
گھٹیا انسان تمہاری جرأت بھی کیسے ہوئی میرے آفس میں قدم رکھنے کی” زارون کا تو خون کھول اٹھا تھا اسے اپنے سامنے اور اپنے آفس میں اپنی کرسی میں جما ہوا دیکھ..
اے کے ۔۔یعنی ارحم خان پہچان بھی گئے اور پہچانتے بھی نہیں ۔۔
تمہیں سڑک پہ لانا میرا مشن تھا ۔۔ اسی دولت کا غرور تھا نا تمہیں ۔۔ دیکھو دو سال ۔۔ صرف دو سال میں میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور تم کہاں پہنچ گئے۔۔
دیکھو اپنی اوقات تم آج ۔۔” ارحم نے کرسی پہ بیٹھے ہی بڑے غرور سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔
شٹ اپ بکواس بند رکھو اپنی تم کل بھی وہی گھٹیا آدمی تھے اور آج اس سے بھی زیادہ گرے ہوئے ہو۔۔
یہ میری کمپنی ہے تمہارے چالیس پرسنٹ کے شئیرز کے پیسہ کل تمہارے منہ پہ ماردوں گا ۔۔نکلو یہاں سے” زارون نے اسے باہر کا راستہ دکھایا ۔۔
ہاہاہا ۔۔ یہ وہی پیپرز ہیں جس پہ تم نے خود سائن کیے ہیں غور سے پڑھو چالیس نہیں ساٹھ ہیں ” ۔۔
ارحم پیپرز اسکے سامنے پھینکتا نکل گیا وہاں سے۔۔
اسکے جاتے زارون نے وہ پیپرز اٹھا کر پڑھنا شروع کیے تو اسکی آنکھیں پھٹی رہ گئی ۔۔ وہ واقعی وہی کاغذ تھے جس پہ اس نے سائن کیے تھے۔۔
وہ اپنی کرسی پہ گرنے کے انداز سے سے بیٹھا تھا کیسے کھا گیا وہ اتنا بڑا دھوکہ۔۔
سر یہ مسٹر اے کے تھے ” مینیجر آصف نے ڈرتے ڈرتے کہا کہیں اسکا پول نا کھل گیا ہو۔۔
آصف اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ ارحم ہے تو میں کمپنی بینک کو دے دیتا مگر اس کمینے کو ہاتھ کبھی نا دیتا۔۔
سر یہ آپ کیا کہہ رہے اور آپ کیا ارحم خان کو پہلے سے جانتے ہیں۔۔ مسٹر آصف نے تجسس سے کہا۔۔
ہاں ۔۔ دشمنی کی آڑ میں وہ اتنا گر جائے گا یہ میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا نکلا۔۔ زارون نے دانت پیستے کہا۔۔
آصف نے تو وہاں سے اس وقت کھسکنا بہتر سمجھا ۔۔
اوہ تو کوئی پرانی دشمنی ہے ” اس لیے تو وہ ارحم نے اتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے۔۔مسٹر آصف اپنے کیبن میں آتے بڑبڑایا ۔۔
” مگر جو نقصان تم نے اسے پہنچایا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے ” اسکے اندر سے جیسے آواز آئی تھی تو وہ گھبرا گیا۔۔
@@@
روحان اٹھ جائیں اور کتنا سونا ہے نو بج گئے۔۔ روحان کو اٹھاتے ہوئے زویا بولی۔۔۔
روحان نے انگڑائی لیتے آنکھیں کھولیں ۔۔
کیا بات ہے کچھ زیادہ ہی تھک سے گئے ہیں ۔۔کہاں تھے رات کو آپ۔۔
ہاسپٹل میں” روحان کے منہ سے اچانک نکلا تھا وہیں چپ ہوگیا۔۔
ہاسپٹل کیوں۔۔ ” کیا ہوا تھا آ پ ٹھیک تو ہیں” زویا پریشانی سے اسکے پاس بیٹھتی بولی۔۔
ٹھیک ہوں یار ” دوست ساتھ تھا اسکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔۔اس لیے” روحان نے جلدی سے بات سنبھالی اور بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیگ لگا کر بیٹھ گیا۔۔
فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے آپ بندہ بتا تو دیتا ہے ۔
موبائل گاڑی میں تھا پریشانی میں اس طرف دھیان ہی نہیں گیا ۔۔ اور پلیز اگر یہ انویسٹیگیشن بند ہو گئی ہو تو کپڑے نکال دو لیٹ ہوگیا ہوں آفس سے۔۔ اسکے مزید سوالوں سے بچنے کے لیے روحان نے بات بد لی۔۔
تو اٹھ کر اسکے کپڑے نکالنے لگی۔۔ روحان کی نظریں زویا پہ ہی جمی ہوئی تھی ۔۔ کتنا پیار تھا فکر تھی اسکے چہرے دوسری طرف اس صدی کا چہرہ لہرایا اسکی آنکھوں کے سامنے جھرجھری سی لیتے اٹھ گیا بیڈ سے۔۔
