Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 1
روحا اپنے کمرے میں لال پھولوں سے سجی سیج پہ بیٹھی تھی نظریں جھکاۓ.. اندر سے بہت گھبرا بھی رہی تھی عمار کو سوچ کر.. پوری شادی میں وہ نروس رہی تھی.. اور اب عمار کا سامنا اسکے لئے کٹھن ہو رہا تھا.. کافی دیر سوچتے ہوئے گزر گئی.. اور تکیہ کے ساتھ ٹیگ لگا گئی.. اور یونہی اسکی آنکھ لگ گئی..
رات کافی ہو رہی تھی جب عمار کمرے میں آیا وہ دوستوں میں گھرا ہوا تھا.. ایک بجے وہ کمرے میں آیا..
لو جی یہ محترمہ تو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے. کہتا ہوا اسکے قریب آیا..
وہ آنکھیں بند کئے گھنی پلکوں کے جھالر گراۓ.. پتلی سی میں ناک پہنی ہوئی باریک سی تار جیسی بڑی سی نتھلی..
لال سرخ ہونٹ.. وہ بڑی فرصت سے اسکا جائزہ لے رہا تھا.. جب کسی کی نظروں کی تپش سے اسکی آنکھ کھلی.. تو سامنے کالی شیروانی میں ملبوس عمار کو سامنے کھڑا پایا جو اسے ہی غور سے دیکھے جا رہا تھا..
تو فوراً سے سیدھی ہو بیٹھی..
آآ.. آپ.. کک.. کب آئے.. وہ گھبرائی سی بولی.. لفظوں میں لغزش واضح تھی..
ابھی آیا جب تم سو رہی تھی.. وہ سنجیدگی سے بولا..
وہ سر گراۓ بیٹھی تھی.. دل زوروں سے دھڑکا تھا..
تم چینج کرلو ایزی ہو جاؤ.. وہ ویسے ہی کھڑا تھا.. اسکی گھبراہٹ کا نوٹ کرتا بولا..
جی.. جی مم.. میں ٹھٹ.. ٹھیک ہوں.. وہ کانپتی آواز میں بولی..
روحا ..وہ اسکے سامنے بیٹھتا اسکا ہاتھ پکڑ گیا..
اسکی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھی..
تو وہ جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ گئی..
تم گھبرا کیوں رہی ہو وہ بھی مجھ سے کم آن یار.. میں کوئی ویمپائر تو نہیں ہوں.. یاکوئی ہٹلر.. وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا اسکے کاندھ تھام گیا
مم.. مجھے چینج کرنا ہے.. وہ جلدی سے اٹھ گئی.. اور اپنا آرام دہ سوٹ لیے واشروم میں بند ہوگئی.. پتہ نہیں وہ ایسا بیہیو کیوں کررہی تھی..
عمار کا موڈ سخت خراب ہوا تھا.. اپنی شیروانی کی بٹن کھولنے لگا..
روحا باتھ روم میں آتی خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگی..
کافی دیر بعد وہ واشروم سے باہر آئی.. عمار چینج کئے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا.. کمرے میں زیرو بلب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی.. وہ اب بیڈ پہ جانے سے گھبرا رہی تھی.. کافی دیر وہ اپنی جگہ جمی کھڑی رہی..
محترمہ آجاؤ کچھ نہیں کہتا.. سو جاؤ.. جب وہ ٹس سے مس نا ہوئی تو بول پڑا.. وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی بیڈ تک آئی دوسری پہ سائیڈ فاصلہ بناتی لیٹ گئی..
تھکاوٹ کے باعث وہ پھر سے نیند کی آغوش میں جلد ہی چلی گئی.. ڈرپوک کہیں کی ” عمار بس سوچتا آنکھیں موند گیا..
آج ولیمہ تھا سب ہی تیاری کررہے تھے روحا کے ولیمہ پہ جانے کیلئے.. زرتاج منہ سوجاۓ بیٹھی تھی.. کیونکہ وہ سفر نہیں کر سکتی تھی.. اسکی پریگنیسنی کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا.. اور انہیں دوسرے شہر روانگی تھی.. کراچی سے حیدرآباد تک تھا سب اپنی گاڑیوں میں جا رہے تھے.. زارون بڑے مزے سے تیار ہو رہا تھا.. زرتاج عروش کو گود میں لئے بیڈ پہ بیٹھی تھی.. جو ابھی ڈیڑھ سال کی ہوئی تھی..
تم خیال رکھنا اپنا میں ولیمہ ختم ہوتے ہی رات کو ہی آجاؤں گا.. وہ مصروف سے انداز میں گھڑی پہنتا بولا.. بلیک تھری پیس سوٹ بوٹ پہنے وہ ہینڈسم لگ رہا تھا..
جہاں مرضی جاؤ میری بلا سے.. ” وہ کلس کر بولی تھی..
زری یار کیا ہوگیا ہے.. ” کوئی جواب تو سیدھے منہ دے دیا کرو.. ” اب کے زارون تپ چڑھی تھی..
تو میں روحی کے ولیمہ پہ نہیں جا رہی تمہاری وجہ سے.. “
تو میں نے کیا کیا ڈاکٹر نے منع کیا ہے تمہیں اتنا لمبا سفر کرنے سے.. وہ اسکے رخسار پہ ہاتھ رکھے نارمل انداز میں بولا.. تو وہ منہ پھیر گئی تھی.. عروش اپنے بابا کو دیکھ اچھلنے لگی زرتاج کی گود سے.. تو زارون نے اسے گود میں بھر لیا.. اور اسے اٹھاۓ کمرے سے باہر آیا..زرتاج بھی اسکے پیچھے ہو لی..
سب ہی تیار کھڑے تھے.. اچھا سفینہ ہم کل تک آئیں گے شاہانہ کے اسرار پہ رہنا پڑے گا.. زارون واپس آجاۓ گا تم خیال رکھنا گھر کا اور میری بہو کا.. سیما دروازے پہ کھڑی سفینہ کو تاکید کررہی تھی.. زارون زرتاج کے پاس آیا.. عروش کو اسکے حوالے کیا جسکا موڈ ابھی بنا ہوا تھا..
یار روحی کی وجہ سے جا رہا ہوں مگر میں تمہیں چھوڑ کر کہیں جا سکتا ہوں بھلا.. تم تو میری جان ہو وہ اسکی بھری بھری گال کھینچتا بولا..
زارون..
گال کھینچنے سے اسے سخت چڑ تھی جو وہ جان بوجھ کر چھیڑتا اسے بہت.. تو جھک کر اسکی رخسار پہ لب رکھ گیا.. تو اسنے آنکھیں دکھائی زارون کو جب سب کے سامنے یہ حرکت کر گیا..
سفینہ مسکرائی تھی اوراندر بڑھ گئی جب کہ سب اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے.. زارون کی گاڑی میں سیما اور عالم صاحب جا رہے تھے جبکہ روحان اور زویا الگ گاڑی میں جا رہے تھے..
روحا گولڈن کلر کامدار فراک پہنے اسٹیج پہ سجی سنوری بیٹھی تھی.. اور ساتھ ہی عمار نیوی بلو کلر کا پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھا..
شاہانہ اب مہمان کی آؤ بھگت کررہی تھی.. جب حال میں عالم صاحب. اپنی فیملی کو لئے داخل ہوئے..
تو شاہانہ اور اسکے شوہر سب سے خوش دلی سے ملے..
بھائی صاحب اتنی دیر.. مہمانوں کی طرح آۓ ہیں آپ.. وہ شکوہ کرتی بولی..
بس گھر سے نکلتے ہوئے دیر ہوگئی.. ” سیما بولی..
زویا ان سے ملتی اسٹیج پہ آئی تھی روحا تو جیسے اداس ہوگئی تھی اٹھ کر زویا کے گلے سے لگی تھی..
زویا نے پیار سے اسے خود سے الگ کیا.. بس ایک دن میں ہی اتنی اداس ہوگئی.. لگتا ہے عمار نے بہت تنگ کیا ہے.. وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی..
اگر تنگ کرتا تو پتا نہیں کیا حال ہوتا.. وہ بیٹھا ہی روحا پہ طنز کرگیا.. روحا تو سمجھ گئی تھی اور کچھ زویا بھی..
اور باقی سب بھی آکر ان سے خوش دلی سے ملے تھے..
ولیمہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا.. زارون نے فوراً نکلنا تھا.. اچھا روحان میں جا رہا ہوں..”
تم صبح چلے جانا اب” دیر ہوگئی ہے کافی.. ” روحان گھڑی دیکھتا ہوا بولا جو گیارہ بجا رہی تھی..
نہیں بھائی زری کی وجہ سے نہیں رک سکتا پہلے ہی بہت ناراض ہے.. ” وہ زرتاج کو سوچتے ہوئے بولا..
ہاں تو آبادی پہ کنٹرول رکھنا تھا نا.. روحان اسے چھیڑتے بولا….
بس تم سے آگے نکلنے کے چکر میں تھا.. بڑھا لی آبادی..تم بھی کرلو ترقی.. وہ بھی ڈھیٹ بنا ہنستا بولا..
بھئی میں اپنی بیگم کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا پہلے ہی بہت نازک ہے.. روحان اسے آنکھ مارتے بولا..
ہاں تو میری کونسا پلاسٹک کی ہے.. صحتمند بیوی ہے میری ماشاللہ سے.. بس اپنے بچوں کے بارے میں کمپرومائز نہیں کرسکتا.. اس لیے اسے ساتھ نہیں لایا ناراض ہوئی بیٹھی ہے..
اچھا بھئ ناراض کیوں ہوتے ہو.. جاؤ اپنی بیوی کے پاس.. ” روحان اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھے بولا تو وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا..
زویا روحا کیساتھ ہی گھر آئی.. وہ اسکے کمرے میں آئی تھی..
“ماشاللہ بھئی کمرہ تو بہت ہی اچھا ہے تمہارا.. ” وہ اسکے کمرے میں نگاہ دوڑائی بولی.. ” رروحا مسکرائی
اور اس کمرے میں رہنے والا کیسا ہے.. وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی..
تو روحا سر جھکا گئی.. “
ہیلو تم سے پوچھا ہے کچھ ” زویا اسکے جھکے سر کو دیکھتی بولی..
اچھے ہیں ” وہ بس اتنا ہی بول پائی..
پتہ نہیں کیوں وہ عمار کے سامنے وہ گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی تھی.. اس لیے وہ ٹھیک سے اسکے ساتھ بات ہی نہیں کرپائی..
بس اچھا.. “دروازے پہ عمار دونوں پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا.. پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھائے ان کے پاس آیا.. روحا بیڈ پہ بیٹھی تھی ..اور زویا پاس کھڑی تھی..
ایک اچٹتی نگاہ روحا پہ ڈالی تھی جو اسے دیکھتے سر جھکا گئی.. پھر زویا کی طرف متوجہ ہوا..
آپکی نند صاحبہ مجھ سے ایسے ڈرتی ہے جیسے میرے سر پہ سینگ ہے اور میرے بڑے بڑے دانت باہر کو نکلے ہوئے ہیں..
زویا نے روحا کو دیکھا جو سر جھکاۓ بیٹھی تھی.. عمار روحا شاۓ ہے.. ڈرتی نہیں ہے بس گھبرا گئی ہے نئی جگہ ہے شاید اس لئے..
ہاں تو مجھے بتاۓ نا کس چیز کی گھبراہٹ ہے.. بات تو کرے شاید میں کچھ ہیلپ کر سکوں.. وہ کہتا واشروم میں بند ہوا تھا..
روحی کیا ہے یہ سب” زویا نے تھوڑا سا غصہ دکھایا اسے..
کک.. کچھ.. بھی نہیں.. زویا بھابھی.. وہ بڑی مشکل سے بولی..
دیکھو روحی عمار تمہارا شوہر ہے اور تمہارا یہ بیہیو اسے پسند نہیں آیا.. اور تم نروس کیوں ہو رہی ہو اتنی وہ کون سا تمہیں کھا جائے گا.. ” وہ اسکے پاس بیٹھی اسے سمجھاتے بولی..
پتا نہیں کیوں بھابھی مجھے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے.. مم.. مجھ سے بات بھی نہیں ہو پاتی.. وہ اپنی مشکل بیان کرتی بولی..
اچھا میں جا رہی ہوں اچھے سے بات کرنا اس سے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے وہ کونسا کوئی غیر ہے..
وہ اسے سمجھاتے اٹھ گئی..
روحا بیڈ پہ بیٹھی انگلیاں مروڑ رہی تھی کیسے اور کیا بات کرے اس سے.. پھر خود کو دلاسہ دینے لگی اور زویا کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی اب وہ کے سامنے گھبرائے گی نہیں اور بات کرنے کی کوشش کرے گی.
کچھ دیر بعد عمار واش روم سے چینج کر کے باہر آیا.. روحا اسی کے انتظار میں نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی..
عمار نے بغور اسکی سجے سنورے روپ کا جائزہ لینے لگا پھر بیڈ کی دوسری سائیڈ آکر اسکے برابر میں لیٹ گیا..اور کمبل اوڑھے منہ دوسری طرف کر لیا..
روحا تو اسے دیکھتے حیران ہی ہوۓ جا رہی تھی..
پھر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ بھی اپنا آرام دہ سوٹ لیتے واشروم میں بند ہوگئی..
عمار نے اسکے جاتے ہی پلٹ کر واش روم کے دروازے کی جانب دیکھا..
وہ انتظار کر رہا تھا کہ وہ اسے پکارے گی مگر.. وہ اٹھ گئی..
” میں تب تک تم پہ کوئی حق نہیں جتاؤں جب تک خود نہیں مجھے بلاتی ” وہ خود سے بڑبڑاتے پھر سے منہ موڑے لیٹ گیا..
کچھ دیر بعد وہ چینج کئے باہر آئی. اسکی لال سرخ آنکھیں اسکے رونے کی داستان سنا رہی تھیں..
عمار کا رویہ اسکے لئے نا قابل برداشت ہو رہا تھا..
اسکے برابر میں لیٹتی آنکھیں موند گئی.. اور سونے کی کوشش دونوں کررہے تھے..
ماریہ اپنی پری کو دلیہ کھلا رہی تھی..جو ابھی دو سال کی تھی.. جب وقار آفس سے تھکا ہارا گھر آیا.. تو دعا بھاگ کر اپنے پاپا سے لپٹ گئی اور اس نے اسے بانہوں میں بھر کر ڈھیر سارا پیار کیا تھا..
ماریہ پانی کا گلاس لئے اس کے سامنے حاضر ہوئی.. وقار نے نظر بھر ماریہ کی جانب دیکھا.. سفید دوپٹہ لئے اسکی سفید رنگت دمک رہی تھی
وقار پانی پیتا کھڑا ہوا تھا.. کھانا لگاؤ میں فریش ہو کر آیا..
وقار فریش ہوکر کھانے کی ٹیبل پہ.. اور کو دیکھتے ہی اسے غصہ آیا تھا..
ماریہ یار کوئی پاکستانی کھانا بھی بنالو ..
میکرونی اور ساتھ رشین سیلڈ کو کو دیکھتا منہ وینگا ٹیڈا کرتابولا..
تو اب مجھے جو آتا ہے میں وہی بناؤں گی ناں.. ماریہ بڑے آرام سے میکرونی کھاتے بولی..
اب اس سے کیا پیٹ بھرتا ہے سیدھا سا سالن روٹی بنا لیا کرو.. جب سے اماں چھوڑ کر گئی ہیں.. میں ترس گیا ہوں روٹی کھانے کو.. اب آفس سے آتا اپنے لیے روٹی بنانے سے رہا اور باہر کی کھا نہیں سکتا.. وہ بڑبڑاتے میکرونی کو نگلنے لگا تھا جو کھا کھا کر وہ عاجز آگیا تھا..
کچھ مہینے پہلے اسکی ماں اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی اور گھر کی ساری ذمہ داری ماریہ کے کاندھوں پہ آگئی تھی ..
جب تک اماں جی تھی.. انہوں نے مجھے کچن کا کام نہیں کرنے دیا. اب مجھ سے نہیں بنتا سالن.. مگر کوشش کر رہی ہوں سیکھ لوں.. میکرونی ایزی لگتی ہے جھٹ پٹ بن جاتی ہے.. سالن کے کتنے پروسس ہوتے ہیں.. میں بھول جاتی ہوں پہلے کیا ڈالنا ہے.. پیاز فرائی کرنے کے بعد کیا کرنا ہے..
جیسے تیسے وہ پیٹ بھر کر اٹھ گیا.
ماریہ نے سارے برتن سمیٹے اور وکی کیلئے کافی بنا کر کمرے میں آئی وکی اپنی گڑیا کیساتھ کھیل رہا تھا..
ماریہ نے کافی وکی کو تھمائی دعا کو اٹھا لیا تھا..اوکے لٹل گرل اب سونا ہے.. وہ اسے لئے دوسرے روم میں چلی گئی.. جو دعا کا کمرہ تھا باربی ڈول کہ تھیم سے سجایا ہوا تھا کمرہ..
کچھ ہی دیر میں وہ سوئی.. اور ماریہ کو بھی نیند آنے لگی تھی.. وہ اٹھ کر کمرے میں آئی.. وقار اسکا ہی انتظار کررہا تھا.. وہ اسے اگنور کرتی واش روم چلی گئی کچھ دیر بعد نکلی اور بیڈ پہ کمبل اوڑھے لیٹ گئی..
وکی نے ضبط کیا تھا خود پہ.. بیڈروم میں آتے ہی وہ اسکے لئے اجنبی بن جاتی..
وہ اسکے دوسری سائیڈ آکر خاموشی سے لیٹ گیا.. ایک دیوار کھڑی تھی انکے درمیان جو وکی میں ہمت نہیں تھی گرانے میں وہ اس انتظار میں تھا کہ شاید وہ خود اسکی طرف قدم بڑھاۓ مگر.. ایسا ہو نا سکا.. وکی کچھ سوچتے ہی اسکی طرف کروٹ لی وہ جو دوسری سائڈ منہ کئے آنکھیں میچے لیٹی تھی..
ایک دم سے وہ اسے کھینچے اپنے حصار میں لے گیا.. وہ اسکے ساتھ دوبارہ زبردستی نہیں چاہتا تھا انتظار کررہا تھا اسکی پیش قدمی کا مگر اسے مجبوراً ایسا آج کرنا پڑ رہا ہے..
وقار مجھے نیند آ رہی پلیز سونے دو.. سرد سا لہجہ تھا ہر جذبات سے عاری
..
آخری کب تک ایسا چلے گا ماریہ کب تک.. یہ اجنبیت کی دیوار گرا کیوں نہیں دیتی.. میں تمہیں خود میں محسوس کرنا چاہتا ہوں اپنے روم روم میں بسانا چاہتا ہوں تمہاری سانسوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنا چاہتا ہوں.. تمہاری روح تک کی رسائی چاہیے.. تمہارے جسم کی نہیں.. پلیز ماریہ محسوس کرو مجھے.. وہ اسکی مکمل اپنے حصار میں لئے ہوئے تھا.. ایک ہاتھ اسکے گولڈن بالوں میں پھنسائے اسکے چہرہ کو اپنے چہرہ کے مزید قریب تر کیا .. ماریہ کو لگا اسکی گرم سانسیں اسکا چہرہ جیسا جھلسا رہی ہیں وہ آنکھیں میچ گئی.. وقار نے باری باری اسکی آنکھوں دھکتے لب رکھے تھے..
ماریہ کے وہ اسکی سانسوں کو قید کرگیا تھا.. ماریہ کو اذیت ہونے لگی تھی اس لمحے سے ..وہی لمحے جیسے تازہ ہوگئے ہوں جب پہلی دفعہ اس نے زبردستی کی تھی اسکے ساتھ اسکی ذات کے پرخچے اڑا دیے تھے اسکے وجود کو دو کوڑی کا کردیا تھا..
وکی اسکے لبوں کو آزادی بخشتا پیچھے ہوا تو اسنے آنکھیں زور سے میچی ہوئی تھی چہرہ پہ اذیت تھی.. وقار کو خود سے نفرت محسوس ہوئی اس لمحہ.. مگر ایک سوچ اسکے ذہن میں در آئی کہ اگر میرا ماضی داغ دار ہے تو اسکا ماضی بھی تو گناہ گار ہے.. وہ بھی تو روحان کے ساتھ تعلق میں تھی اپنی مرضی دے اور اپنے بواۓ فرنڈ سے بھی تعلق میں تھی جو فزیکل تھے.. مگر وہ زیادہ گناہ گار کیوں ہے..
ماریہ .. وہ اس سے سوال کرنا چاہتا تھا مگر پھر چپ ہو گیا..
ماریہ نے آنکھیں کھولیں تھیں..
ماریہ میں تم سے محبت کرتا ہوں.. تم اگر ساری زندگی بھی مجھے میرے گناہ کی سزا دو گی تو سہہ لوں گا مجھے صرف تمہارا سکون چاہیے ..جو شاید میرے ساتھ نہیں مگر اپنی بیٹی کیلئے سہہ لوں گا.. ہمارا ماضی جو بھی رہا ہو.. مگر اپنا حال اور مستقبل ایسا ہو کہ ہماری اولاد فخر کرسکے ہم پہ”.. وہ کہتے ہی اس سے الگ ہوکر دوسری سائیڈ کروٹ لے لی..
ماریہ کو ایک پل کیلئے اپنا ماضی بھی یاد آیا تھا.. وکی اسکا ماضی بھی اچھے سے جانتا تھا پھر بھی اسکے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کررہا تھا.. “
