Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 2
زارون رات 2 بجے کے قریب گھر پہنچا تھا.. کمرے میں داخل ہوا تو زرتاج عروش کو ساتھ لگاۓ سو رہی تھی.. ایک نظر ان ماں بیٹی پہ ڈالی اور واش روم میں بند ہوا تھا..
چینج کرکے وہ فریش سا باہر آیا.. عروش کو آہستگی سے نکالا زرتاج کے پاس سے سائیڈ پہ اسے کس کر کے اب اس جگہ پہ خود آیا اور زرتاج کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے قریب ہوا.. زرتاج کی آنکھوں کی پتلیاں ہل رہی تھی وہ جان چکا تھا کہ وہ جاگ چکی ہے.. اسکے بالوں میں انگلیاں پھنساتے اسکے لبوں پہ جھکا تھا اسکے انداز میں شدت تھی..
زرتاج آس سے آزادی پانے کیلئے اسکے سینے پہ مکے برسانے لگی تھی.. زارون اپنی مرضی سے پیچھےہٹا..
انسانیت نام کی چیز ہے تم میں.. وہ اپنا بگڑا تنفس بحال کرنے لگی تھی.. اور غصہ سے بولی تھی..
وہ شریر سا مسکرا رہا تھا..
تو زرتاج نے مکا مارا اسکی کاندھے پہ..
“جب گیا تھا تب بھی لڑ رہی تھی اور اب بھی لڑائی ، چاہتی کیا ہو.. ” وہ اسکی گال زور سے کھینچتا بولا..
سونے دو مجھے تنگ مت کرو” وہ اسکا حصار توڑنے کی ناکام کوشش کرتی بولی..
اب نیند کھل ہی گئی ہے تو پھر کرم نوازش کردو” حسیییں کردو میری آج کی رات” وہ بنا اسکی باتوں کا اثر لئے اسکی گردن پہ جھکا تھا اور پھر شدت سے جھکا تھا زرتاج کی جان ہلکان ہوئی..
زارون.. ” اسے پیچھے کرتی زور سے بولی..
وہ بھرپور مسکرایا تھا.. آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی اور وہ غصہ پھنکاری..
جاہل ہو تم “
پیار کررہا ہوں.. ” اور تم اینوی گلے پڑ جاتی ہو.. “چلو اب تمہاری باری کس می.. وہ اپنے لبوں پہ انگلی رکھے فرمائشی انداز میں بولا..
زرتاج کی آنکھیں مزید پھیلی اسکی فرمائش پر..
” مجھے نیند آرہی ہے سونے دو پلیز ” وہ آنکھیں بند کرتے بولی..
بس سوتی رہا کرو اور کوئی کام نہیں آتا بس کھالیا ٹھوس لیا اور سو لیا..”غصہ ہوتا بولا.. اور مڑنے لگا کہ زرتاج نے اسے روک لیا.. اور اسے زور سے پکڑ لیا..
اب کہاں” آئبرو اچکاتے پوچھا..
سونے اور کہاں اور چھوڑو.. ” میں ہی بس پاگل ہوں جو تمہیں پیار کرتا رہتا ہوں اور تم بس غصہ ہوتی رہتی ہے.. ” وہ بچوں کی طرح شکوہ کررہا تھا..
تو وہ اسکی سینے پہ سر رکھ گئی.. ” تنگ کرتے ہو تو لڑتی ہوں نا” پل میں نرم پڑی ناراضی بھی برداشت نہیں تھی..
“میں نے کب تنگ کیا ” دوبارہ اسکی کمر کے گرد حصار باندھ گیا.. اور بالوں میں ہاتھ ڈال کے ایک بار پھر شدت سے اسکے لبوں پہ جھکا تھا..
زرتاج اسکے کاندھے پہ مکے برسانے لگی تھی..
“تم نہیں باز آنے والے.. ” شدت بھرے لمس سے.. بپھر گئی تھی..
” اب تمہاری باری لے لو اپنا بدلہ مجھ کوئی پروبلم نہیں.. “
بڑے مزے سے بولا تھا بنا اسکے غصہ کی پرواہ کئے..
تو زرتاج نے تکیہ اٹھا کر اسے مارنا شروع کردیا.. اچانک حملہ سے وہ گڑبڑا گیا..
“زرتاج عروش آٹھ جاۓ گی ” تکیہ کو زور سے پکڑتے زارون نے اسے روکا..
“اب اسکا بدلہ مجھے چاہیے.. “اسکے دونوں ہاتھوں کو قابو کرتا اسے بیڈ کیساتھ پن کیا تھا..
اب اور زیادہ شدت تھی اس کے لمس میں جسے سہتی وہ بے حال ہوئی تھی.. دیوانہ وار آس پہ شدت لٹانے لگا تھا.. اسکے سامنے بے بس ہوتی خود کو اسکے سپرد کر گئی..
🥀🥀🥀
زارون اٹھ جاؤ.. ” وہ اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹا سو رہا تھا.. جب زرتاج اسے اٹھا نے آئ..
“کیا ہے سونے دو.. ” نیند میں بھری آواز میں بولا..
زارون اٹھ جاؤ”.. آفس نہیں جانا آج دیر ہو رہی ہے..
“کیا ہے یار رات کو بھی تنگ کرتی رہتی ہو سونے نہیں دیتی اور صبح بھی تنگ کئے جا رہی ہو.. “
وزن دیکھا ہے اپنا” ..انگڑائی لیتا اٹھا تھا..
” زرتاج کا منہ کھلا تھا.. ” اور آنکھیں پھیلی تھی اسکی گوہر فشانی پہ..
تم باز آجاؤ”.. میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا..
اچھا ناشتہ بناؤ شاور لیکر آتا ہوں ..” ایک تو سفر کی اتنی تھکاوٹ تھی اور اوپر سے تم نے تھکا دیا.. “
انگڑائی لیتا واشروم کی جانب بڑھ تھا اس سے پہلے کے پھر سے حملہ آور ہوتی وہ جلدی سے واشروم میں بند ہوا..
🥀🥀🥀
سب اس وقت ناشتہ کی ٹیبل پہ بیٹھے تھے ٹیبل طرح طرح کے لوازمات سے سجا ہوا تھا..
اتنا تکلف شہانہ.. عالم صاحب سب لوازمات دیکھتے بولے..
آپ کونسا روز روز آتے ہیں یہ ہماری چھوٹی سی مہمان نوازی ہی سہی..
شہانہ نے ہنستے کہا تو سب ہنس دیے..
روحا نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی تھی.. زویا نے نوٹ کیا تھا وہ اب بھی پریشان ہے جبکہ عمار بالکل نارمل انداز میں سب سے باتیں کررہا تھا..
ناشتہ کے بعد زویا روحا کے کمرے میں تھی..
” روحا رات میں بات ہوئی تھی عمار سے.. ” زویا نے اسکے سامنے بیٹھتے نرمی سے پوچھا..
تو اس نے نا میں سر ہلایا تھا اور موٹے موٹے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے..
“تم نے کوشش کی بات کرنے کی.. “زویا نے پھر پوچھا
تو اس نے نا کے انداز میں ہی سر ہلایا.. “مجھ سے بات ہو ہی نہیں پائی.. اسکا اتنا روڈ بیہیو تھا..
“تو تم نے کرنی تھی نا بات ہو سکتا وہی چاہتا ہو تم پہل کرو.. “زویا نے اسے سمجھاتے کہا..
“تو وہ بھی تو کرسکتے ہے نا بات میں ہی کیوں ” وہ ضدی لہجہ میں بولی
” ایسے نہیں چلتا ایک کو تو آپنی انا مارنی پڑے گی.. “
“کیوں وہ مجھے لیکر آیا ہے.. ” میں نے اپنا گھر چھوڑا اسکے لیے” وہ اپنی بات پہ اڑ گئی..
“ٹھیک ہے جو جی میں آتا ہے کرو.. ” مجھے کیا پڑی ہے تم دونوں اپنے مسئلہ خود ہی سلجھاؤ.. زویا کو تو تپ چڑی تھی روحا پہ.. انکو انکے حال پہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا
بارہ بجے اب سب رخصت ہو رہے تھے..
روحا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ انکے ساتھ چلے.. ..
بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں پہ بن باندھا ہوا تھا..
روحان نے روحا کو گلے لگایا تھا.. کتنا مشکل رہا تھا اس سے الگ ہونا.. آنکھیں نم ہوئی تھی ساتھ ہی روحا کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی تھی روک نہیں ہائی اپنے آنسوؤں کو..
زویا ساتھ ہی یوسف کو اٹھائے کھڑی تھی.. سب ہی باری باری اس سے ملے تھے..
اگر ہماری بیٹی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اپنی بیٹی سمجھ کر معاف کردینا.. عالم صاحب اپنی بہن شاہانہ سے بولے تھے انکے ساتھ عمار بھی کھڑا تھا.. سیما کی بھی آنکھوں میں نمی تھی..
یہ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ بھائی صاحب.. روحا میری بیٹی ہی ہے.. “
روحا کے سر پہ ہاتھ رکھتے انہوں نے کہا تھا..
سب رخصت لیتے اپنی گاڑی میں بیٹھتے روانہ ہوئے
🥀🥀🥀
رات کو وہ اپنے ٹھکانے لگے تھے..
سفر کافی طویل ہوگیا تھا..
زرتاج اور سفینہ نے انکا استقبال کیا تھا..
کھانا کھاتے ہی سب اپنے کمروں کو ہو لئے..
🥀🥀🥀🥀
زویا کل کیلئے اچھے سے کپڑے نکالنا ایک بہت ہی امپورٹنٹ میٹنگ ہے..
میٹنگ سے کپڑوں کا کیا تعلق.. زویا الماری کی طرف بڑھتی بولی..
تاکہ مقابل پہ اچھا امپریشن پڑے آدھا کام میرے کمال کا اور آدھا پرسنیلٹی کا ہونا ہے.. وہ شریر سا مسکراتا بیڈ پہ لیٹا تھا..
اچھا.. کہیں کل کوئی لڑکی تو نہیں آرہی میٹنگ کیلیے.. وہ اسکی طرف مڑتی دوقدم آگے چل کے آئی بولی تھی..
ہاہا.. بڑی تیز ہو.. وہ اسکے صحیح تکے پہ ہنستا ہوا کھڑا ہوگیا تھا دوقدم چلتا اسکا اور اپنا فاصلہ مٹا گیا..
جبکہ زویا کو اسکی ہنسی آگ لگا گئی..
روحان اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسے اپنے ساتھ لگا گیا.. مگر زویا کی ناک پہ غصہ جوں کا توں تھا..
ایک اور نئی ماریہ ہوگی.. وہ غصہ میں کہہ گئی مگر روحان کو طیش دلا گئی تو اس نے جھٹ سے اسے چھوڑا تھا..
زویا کو احساس ہوا وہ غلط کہہ گئی ہے.. روحان.. ” اسنے بولنا چاہا مگر وہ غصہ پیتا صوفہ پہ بیٹھ گیا..
ایم سوری حان” میرے منہ سے نکل گیا میرا وہ مطلب نہیں تھا.. ” زویا اس کے سامنے آتی بولی..
ماضی کی تلخ یادیں تازہ ہونے لگی تھی.. زویا پلیز ڈسٹرب مت کرو جاؤ یہاں سے.. ” اپنے غصہ پہ قابو پاتے سخت لہجہ میں بولا تھا.. ہاتھ کی مٹھی بھینچی تھی..
حان پلیز مجھے معاف کردیں.. معصومیت سے کہتی اسکے پاس بیٹھتی اسکے کاندھے پہ سر رکھ گئی..
زویا میں ماضی بھولنا چاہتا ہوں مگر تم میری غلطیاں دوہرا کر پھر سے مجھے پیچھے لا کھڑا کردیا .. ” اب کہ وہ قدرے نارمل ہوتے بولا تھا..
اچھا جو ہوا سو ہوگیا.. مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے آپ میرے ہیں اور رہیں گے.. ” وہ اسکے کاندھے پہ سر رکھے اسکی بازو میں ہاتھ ڈالتی بولی..
وکی بھائی سے بات ہوئی آپکی.. ” کبھی ملنے نہی آئے.. ” وہ پھر بلا قصہ چھیڑ گئی..
“نام مت لو اس کمینہ کا میرے سامنے جو اس نے کیا ہے نا ماریہ تو شاید اسے معاف کردے مگر میں نہیں کروں گا میری آڑ میں اس نے وہ گناہ کیا ہے.. میں نے زندگی کے پانچ سال ایسے دو شخص کے ساتھ گزارے جو انتہائی نیچ گھٹیا اور تھے.. “
اپنے غصہ کو کنٹرول کرتا بولا
مگر انہوں نے اپنی غلطی بھی تو سدھار لی ہے نا تو پھر یہ نفرت کیسی” اب تو انکی بیٹی بھی ہے.. “
تم نے بات کی ہے اس شخص سے تم نہیں باز آتی پھر.. جب کہہ چکا ہوں کہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تو.. “
بس کردیں وہ خود کال کرتے ہیں.. ” آپ کا پوچھتے ہیں معافی مانگتے ہیں مجھے لگتا ہے اب کے انکی سزا ختم ہو جانی چاہئے.. ماریہ جیسی بھی تھی مگر اسے سدھرنے کا موقع مل گیا ہے.. ہاں مجھے اسکا نام اور وہ بالکل بھی نہیں پسند.. “
زویا سو جاؤ رات ہوگئی ہے مجھے آفس جانا ہے صبح جلدی اٹھنا ہے.. سفر کی بھی تھکان ہوئی ہے.. وہ اسکا بھاشن ختم کرتا بولا..
آپ “
جاؤ پلیز لیو می آ لون” وہ پھر کچھ بولنا چاہتی تھی کہ روحان بول پڑا اب کہ اسکی آواز قدرے تیز تھی..
تو وہ سہم گئی تھی.. اور اٹھ کر بیڈ پہ چلی گئ..
یوسف سو رہا تھا اسے درمیان میں کرتی اسکے ساتھ لیٹتی آنکھیں موند گئی..
روحان نے ماتھا مسلا تھا اپنا..
پھر وہ بھی اٹھ کر بیڈ پہ آیا..
ایک تو یہ دشمن بیچ میں اڑا رہتا ہے.. یوسف کو درمیان میں آرام سے سویا ہوا دیکھ بولا..
اب ماں بھی نخرے دکھاتی سونی بنی.. یوسف کو بڑے آرام سے سائیڈ پہ اس جگہ خود آیا تھا.. اسکے گرد بازو حائل کرتے.. اسکے لبوں کا قید کرگیا تھا..
وہ غصہ سے مزاحمت کرنے لگی مگر وہ اسکے ہاتھ قابو کرگیا تھا.. کچھ دیر اس سے الگ ہوتا شریر نظروں سے مسکراتے اسے دیکھنے لگا ..
ہٹیں پیچھے مجھے سونا ہے.. ناک چڑھاتی بولی..
میں سلاتا ہوں نا تمہیں.. کہتے ہی وہ پھر سے اس پہ جھکا تھا..
🥀🥀🥀
شام سے عمار غائب تھا..
اب تو رات ہونے کو آئی تھی.. شہانہ نے اسے کال کی تو بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ ہے..
رات ہوگئی تھی..
روحا کمرے میں بیٹھی اس دشمن جاں کا انتظار کررہی تھی..
مگر وہ آنے سے رہا..
تھک ہار کر وہ لیٹ گئی تھی سونے کیلئے..
رات بارہ بجے کے قریب عمار گھر لوٹا تھا..
وہ اپنے دوستوں میں ہی تھا ..ٹائم کا پتا ہی نہیں چلا تھا..
اپنے کمرے میں آیا تو سامنے بیڈ پہ روحا سو رہی تھی.. اس پہ ایک نظر ڈالتا واش روم میں بند ہوا تھا..
تھوڑی دیر بعد فریش سا باہر آیا.. بیڈ کی دوسری سائیڈ اسکے قریب لیٹ کر اس فلم کو دیکھنے لگا جو دو دن سے اس نے لگائی ہوئی تھی.. بات بھی نہیں کررہی تھی پاس بھی نہیں آنے دیتی تھی.. اسلئے اس نے اب ٹھان لی جب تک وہ خود نہیں بلائے گی وہ بھی اس سے خود سے بات نہیں کرے گا .. مگر اب اس سے دور رہنا تھوڑا ناممکن لگ رہا تھا.. اسکا سویا ہوا وجود اسکے لئے امتحان بن رہا تھا جی چاہ رہا تھا کہ اسے باہنوں میں بھرلے مگر انا آڑے آ رہی تھی..
خود پہ نظروں کی تپش محسوس کرتے وہ نیند میں کسمسائی تھی اسے ہلتا دیکھ جلدی سے دوسری طرف کروٹ لی تھی..
روحا نے آنکھیں کھولی تھیں.. سامنے عمار دوسری طرف کروٹ لئے لیٹا تھا..
اسکے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی اب اتنی بھی کیا ناراضی.. دو آنسوں بے مول ہوکر گرے تھے..
کانپتا ہاتھ اسکے کاندھے پہ دھرا تھا..
عمار نے آنکھیں کھولی ہوئی تھی مگر ہلا نہیں تھا..
آخر مجھ سے کیا غلطی ہوگئی جو یوں مجھ سے منہ موڑ گئے ہیں یا کسی اور کو پسند کرتے ہیں.. وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی تھی..
عمار اسی وقت پلٹا تھا.. اور اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا.. وہ روتے اسکی شرٹ بھگونے لگی تھی..
یہی سوال میں تم سے کروں تو.. اسے خود میں بھینچے وہ بولا.. کمر کے گرد بازو حائل کئے تھے..
اس نے سر اٹھا کر بھیگتی آنکھوں سے دیکھا تھا اسے..
عمار کو اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا تھا ان آنکھوں میں.. باری باری اپنے تشنہ لب رکھے تھے ان آنکھوں پہ.. آنکھوں سے ہونٹوں تک کا سفر کیا تھا.. روحا تو جی جان سے کانپی تھی..
اسکے سینہ پہ ہاتھ رکھے اس سے دور ہونا چاہا تھا مگر.. وہ اسکے ہاتھوں کو قابو کرتا اسے تکیہ کے ساتھ پن کرتا اسکے اوپر آیا تھا..
نو..ڈئیر وائفی اب نہیں چلے گی.. اسکی کان میں میں سرگوشی کرتا اسکی کان کی لو چوم گیا.. اسکی صراحی دار گردن پہ نظریں جا ٹھہری تھی بے خودی میں وہ شدت بھرا لمس چھوڑ تھا.. اسکا ننھا سا دل پھڑپھڑانے لگا تھا..
وہ ایک دوسرے میں سمو گئے اپنے رشتہ کو مضبوط بندھن میں بندھ گئے..
🥀🥀🥀🥀
وہ ٹرمینل مشین پہ تیز تیز دوڑ رہا تھا اسکی رگیں تنی ہوئی تھی.. چہرے کا تاثرات کافی سخت اور سنجیدہ تھے..
دو سال سے وہ انتھک محنت کررہا تھا..
اب وہ بھاری ڈمبل اٹھا کر اسے اوپر نیچے کررہا تھا.. جس سے اسکے بازو کے مسلز مزید پھول رہے تھے..
اسے بدلہ لینا تھا اپنی انسلٹ کا اپنی چھینی ہوئی محبت کا.. جسے دوبارہ سے پانے کیلئے وہ بے چین تھا.. وہ ایک بار تو ناکام ہوگیا مگر اب وہ اپنے آپ کو مزید طاقتور کررہا تھا ہر طرح سے.. جسمانی طور پہ بھی اور فنائنشل طور پہ بھی..
اب ہاتھ میں میں باکسنگ گلوز پہنے پوری پاور مکے برسا رہا تھا اپنی سوچ کا محور اس دشمن جان کو اور اسکو چھین لینے والے دشمن کو بھی..
اپنی محبت بھی حاصل کرنی ہے اور بدلہ بھی لینا ہے..
اس پورے خاندان کو سبق سکھانا ہے..
اپنی نفرت کی آگ میں جلتے ایک کے بعد ایک مکا چھت سے لٹکے ہوئے بیگ پہ برسائے جا رہا تھا..
