Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 10
ماما اب مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے اپنے کمرے میں
چلے جانا چاہیے..
کمرے میں سفینہ اور زویا موجود تھی جب زرتاج نے کہا.. اب تو اسے ایک مہینہ ہونے والا تھا.. سفینہ کے کمرے میں آئے ہوئے..
ٹھیک ہے جیسے تمہارے مرضی.. سفینہ نے مسکراتے کہا..
زارون کے بغیر تو اسکا بھی دل نہیں لگتا ہے.. زویا نے اسے چھیڑتے کہا..
زرتاج بس خاموش رہی سچ تو یہی تھا..
زویا مت تنگ کرو اسے جانا چاہتی ہے تو اسے جانے دو اچھی بات ہے اسے ذمہ داری کا احساس ہے زارون بھی اسکی ذمہ داری ہے سو کام ہے اسکے کرنے والے.. سفینہ نے زویا کو ڈپٹتے کہا..
ماما میں نے کونسا اسے منع کررہی ہوں جائے اپنے کمرے میں..
سر اب اور کتنا سوچیں گے مسلسل لاس ہونے کی وجہ سے بینک کی لان کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے اگر اگلی قسط ٹائم پہ نا دی تو آپکی کمپنی ضبط ہوجائے اس سے اچھا ہے کہ ہم مسٹر اے کے کی ڈیمانڈ ایکسیپٹ کرلیں اسکے علاوہ اور کوئی کمپنی ہمارے ساتھ کنٹریکٹ کرنے کو تیار نہیں ہے..
مسٹر آصف زارون کو پوری طرح کنوینس کرنے کی کوشش کررہے تھے..
زارون اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کو دیکھ رہا تھا.. پریشان سا اپنی چیئر پہ بیٹھا تھا..
ٹھیک ہے مسٹر آصف آپ انہیں کل ہی بلائیں میں بات کرنے کے لیے تیار ہوں.. زارون کے پاس اب اس نے کوئی دوسرا راستہ چھوڑا ہی نہیں تھا وہ کمپنی کو بہت برے طریقہ نقصان پہنچا چکا تھا..
شور سر میں ابھی انہیں میل کردیتا ہوں.. مکرو عزائم کو سر انجام دیتے ہوئے وہ آفس سے چلا گیا..
زارون سر تھام کے رہ گیا.. گھر جانے کا وقت ہو چکا تھا.. لیپ ٹاپ بند کر کے وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاتے باہر نکل گیا..
روحان بھی آفس کا کام ختم کرتے باہر نکلا جب اسکا فون بجا..
آئرہ کا نمبر دیکھ جھنجھلایا.. کال کٹ کردی..
اس دن کے بعد سے اسکا آئرہ سے دوبارہ سامنا نہیں ہوا تھا.. روحان بھی اس سے دوبارہ نہیں ملنا چاہتا تھا..
دوبارہ پھر سے اسکی کال آنے لگی..
آخر تنگ آتے اس نے کال اٹھا لی..
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ.. وہ اکتایا سا بولا..
روحان کیسے بات کررہےہو تم ” میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں” آئرہ معصوم بنتے بولی..
مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی مہربانی کرو مجھ پہ پلیز میری زندگی میں آگ مت لگاؤ اب بھی وقت ہے واپس مڑ جاؤ مجھ سے سوائے نفرت کے کچھ حاصل نہیں ہوگا تمہیں.. ” وہ تیزی سے اپنی بات مکمل کرگیا..
بات تو سن لو میری بس اپنی ہی بات کئے جا رہے ہو” دیکھو میں تم سے اس دن کے لئے معافی مانگتی ہوں میں جانتی ہوں غلطی میری ہے میں تم سے محبت کر بیٹھی.. اب بتاؤ میں اپنے دل کا کیا کروں ” کیسے مناؤں اسے جو مانتا ہی نہیں ” وہ کھوئی سی بولی..
روحان نے فوراً کال کاٹ دی..
آئرہ نے فون بند ہوتے موبائل کو بیڈ پہ پٹخا تھا.. کتنے دنوں سے گھر میں بند تھی وہ اسکے باپ نے آفس کے معاملات سے دور کردیا تھا..
اب تو یہ پاسیبل ہی نہیں ہے کے میں تم سے دور ہوجاؤں .. ایک آنسوں اسکی آنکھ سے بے مول ہوکر گرا..
زارون تھکا ہارا سا سیڑھیاں چڑھتے اپنے کمرے میں آیا مگر زرتاج کو کمرے میں پاتے جیسے ساری تھکن دور ہوگئی تھی..
زری تم ” ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ اس تک آیا..
کیوں ؟ نہیں ہونا چاہیے تھا” وہ دونوں ہاتھ باندھ کر مصنوعی غصے سے بولی..
نہیں ” زارون نے بھی جان بوجھ کر کہا..
کیا” زرتاج کی آنکھیں باہر آئی نا سنتے..
میرا مطلب کیوں نہیں ” اپنے الفاظ کی درستگی کرتا اسکی کمر میں ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا..
ہاں تو ایسے بولو نا سارا موڈ خراب کردیا تھا ایک سیکنڈ میں.. ” زرتاج نے بچوں کی طرح منہ پھلاتے کہا..
چلو شکر ہے تمہارا بھی موڈ بنا” زارون نے اسکی ناک کے ساتھ ناک رب کرتے کہا..
زارون ” ابھی تو دو تین مہینہ دور رہنا ہے اچھا ” وہ اس سے دور ہوتی بولی..
تو پھر یہاں کیا لینے آئی ہو جاؤ اپنی ماں کے کمرے میں.. زارون نے تیوری چڑھاتے کہا..
زارون میں سچ میں چلی جاؤں گی.. ” وہ اسے انگلی دکھاتے غصہ سے بولی..
ہاں تو جاؤ نا کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو” وہ اپنا کوٹ اتارتے واش روم میں بند ہوا..
ہہم میری ہی غلطی ہے مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا.. وہ پیر پٹختی کمرے سے باہر چلی گئی..
نیچے زویا کھانا لگا رہی تھی.. زارا سفینہ کے ہاتھ میں تھی.. عروش اور یوسف اپنے دادا کے ساتھ کھیل رہے تھے..
لاؤ میں ہیلپ کروا دوں تمہاری ” زرتاج کچن میں آتی بولی..
رہنے دو میں کرلوں گی ..زویا نے کہا..
ٹھیک ہوں میں اب .. کردیتی ہوں اسکے ہاتھ سے برتن لیتی بولی تو زویا مسکرادی..
کھانا کھانے کے بعد تو بڑے اپنے کمروں میں چلے گئے.. زارون زارا کو گود میں اٹھائے بیٹھا تھا.. روحان عروش اور یوسف کو لیکر بیٹھا تھا.. جو اسکے ساتھ کھیل رہے تھے.. زرتاج زویا کے ساتھ کچن میں تھی..
زارا نے گلا پھاڑ کر رونا شروع کردیا.. زارون کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کیسے چپ کروائے..
زرتاج جلدی سے باہر آئی.. زارا کو گود میں اٹھا لیا.. اسے سونا ہے اب..
وہ اسے سہلاتے بولی..
چلو پھر کمرے میں زارون نے اسکے قریب ہوتے کہا..
نہیں میں ماما کے کمرے میں ہی جاؤں گی.. ” وہ اسے آنکھیں دکھائے بولی..
میری بچی میرے ساتھ سوئے گی.. زارون نے عروش کو اٹھا لیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا.. تو زرتاج بھی اسکے پیچھے چل پڑی..
روحان بھی یوسف کو اٹھائے کمرے کی طرف بڑھا..
زرتاج نے زارا کو سلا کر اسے بے بی کاٹ میں لٹایا.. عروش زارون کے ساتھ سو چکی تھی..زارون کو اگنور کرتی زرتاج لائٹ آف کرتے بیڈ پہ لیٹی تھی درمیان میں عروش تھی دوسری سائیڈ زارون..
زارون نے آہستہ سے عروش کو سائیڈ پہ کیا اور زرتاج کی طرف آیا..
زارون.. زرتاج نے دانت پیستے کہا..
شش.. زارون نے اس کے لبوں پہ انگلی رکھتے اسے مزید کچھ بولنے سے روکا..
کتنے دن ہوگئے دور سوتے ہوئے کتنا مس کیا میں نے تمہیں اس کمرے میں.. وہ اسے اپنے ساتھ لگائے بولا ۔۔
سوجاؤ بس تمہیں محسوس کرنا چاہتا تھا خود میں۔۔اسکا سر اپنے سینے پہ رکھتے سرگوشی کی۔۔
زرتاج کو لگا اسکی محبت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔۔اسکے گرد ہاتھ باندھے وہ بھی آنکھیں موند گئی۔۔
آج میٹنگ ہونا تھی زارون کی اور زارون انکی تمام ڈیمانڈ کو مانتے انکے پیپرز پہ سا ئن کردئیے اسے گلٹ بھی تھا اس نے گھر میں کسی سے بھی مشورے کے بغیر کمپنی کے چالیس فیصد شیئرز انہیں دے دئیے ۔۔
تھینک یو سو مچ سر یہ ڈیل پکی ہوئی اب ہماری کمپنی کا نام آپکی کمپنی کے ساتھ جڑ گیا ہے اب ہم ساتھ کام کریں کچھ ہی دنوں میں ہمارے باس بھی آپ سے ملاقات کریں گے ۔۔”
اور وہ لوگ میٹنگ ختم ہوتے ہی چلے گئے۔۔
سر آپ ٹینشن مت لیں اب ” اب سمجھیں آپ کی ساری پریشانیاں ختم۔۔ وہ زارون کے ساتھ بہت بڑی گیم کھیل چکا تھا اور زارون کو پتا بھی نہیں چلا۔۔ جس کا اندازہ زارون کو کچھ دنوں میں ہوجائے گا۔۔
کہیں میں نے کچھ غلط تو نہیں کردیا ۔۔ مجھے ڈیڈ کو بتانا چاہئے تھا ۔نہیں ۔ میں کچھ ہی عرصہ میں اپنے شیئرز دوبارہ خرید لوں گا فلحال تو بینک کی قسط بھی دینی ہے ۔۔ اس ڈیل سے جو پرافٹ ملے گا اس سے بینک کا قرضہ اتر جائے گا ۔۔وہ اپنی منفی ہوتی سوچوں کو جھٹکتا خود کو تسلی دینے لگا۔۔
سر ڈیل ہوگئی مسٹر زارون نے سائن کردئیے ہیں ہمارے پیپرز پر۔ ۔
واؤ زبردست ” ارحم نے پیپر دیکھتے کہا ۔۔ آپ لوگ جائیں اب “
یہ میری پہلی کامیابی ہے” زارون عالم ملک ۔۔ دیکھنا تم اب میں کیا کرتا ہوں تمہاری ساری کمپنی کیسے ختم ہوتی ہے بہت ہوشیار سمجھتے تھے خود کو اپنے پیر پہ خود ہی کلہاڑی مار لی۔۔ اب تمہارے ہاتھ سے کمپنی بھی جائے گی اور بیوی بھی ” شیطانی ہنسی ہنسا تھا..
پھر کال لگائی۔۔۔
ہیلو سر ” مبارک ہو۔۔ مسٹر آصف نے کال اٹھاتے کہا۔۔
بہت خوب بہت اچھا کام کیا ہے تم نے” ارحم خوش ہوتے بولا۔۔
سر اب آپ مجھے کب خوش کریں گے ” مسٹر آصف نے بھی لالچی انداز میں کہا۔۔
بہت جلد اور بہت زیادہ ۔۔ ارحم نے کہتے کال کاٹ دی۔۔
زارون گھر دیر سے آیا تھا.. آفس سے تو وہ ٹائم سے نکل گیا مگر اسکا دل نہیں کیا گھر آنے کا ..
گھر داخل ہوا تو گھر خالی ویران تھا سب ہی اپنے کمروں میں جا چکے تھے.. وہ گیارا بجے کے قریب گھر آیا تھا.. کاندھے پہ کوٹ ڈالے شرٹ کے اوپری بٹن کھلے ہوئے بکھرے ہوئے کاندھوں کو گرائے سر جھکائے وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی سر جھکائے سیڑیاں چڑھتا اپنے کمرے میں پہنچا زرتاج بچوں کو سلا چکی تھی ۔۔ وہ زارون کا انتظار کررہی تھی ۔۔
زارون کمرے میں داخل ہوا تھا اسے دیکھ وہ کھڑی ہوگئی ۔۔
“زارون کہاں تھے آج گھر اتنی دیر سے آئے ہو۔۔”
کہیں نہیں تھا کام تھا کچھ صوفہ پہ کوٹ پھینکتے واش روم کی طرف بڑھا۔۔
کھانا لگاتی ہوں فریش ہوجاؤ” پیچھے سے زرتاج بولی ۔۔
نہیں کھانا ” بے دلی سے کہتا واش روم میں بند ہوا تھا ۔۔
زرتاج کو وہ آج پریشان سا لگا ۔۔
زارون واش روم سے باہر آیا تو زرتاج کمرے میں نہیں تھی وہ صوفہ پہ بیٹھ گیا۔ آج اپنے کئے گئے فیصلہ پہ پچھتاوا سا تھا سوچ میں پڑا ہوا تھا کاش کہ وہ بتا دیتا گھر ڈیڈ کو روحان کی مدد لے لیتا ۔۔ مگر اسے مناسب بھی نا لگا بتانا ۔۔ وہ سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب زرتاج دو مگ کافی کے لے کر آئی کمرے میں۔۔
زارون ” کافی۔۔ کب اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
چپ چاپ کپ تھام لیا تھا ۔۔
زرتاج صوفہ پہ اسکے قریب بیٹھ گئی۔۔
” کیا بات ہے پریشان سے لگ رہے ہو”
کچھ نہیں بس آفس میں کام زیادہ تھا تھک گیا ” بس اتنا کہہ کر خاموشی سے کافی پینے لگا ۔۔ اور پھر کافی ختم کر کے چپ چاپ بیڈ پہ چلا گیا ۔۔
زرتاج کو اسکا بیہیو عجیب سا لگا اسکی خاموشی میں کوئی راز تھا جو وہ چھپا رہا ہے ” اسکی خاموشی دیکھ اپنے تئئ اندازہ لگایا
“@@@
آج اتوار تھا چھٹی کا دن تھا تو روحان اور زارون گھر تھے ۔۔ دوپہر کے کھانے پہ زارون موجود نہیں تھا ۔۔سب ہی اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے ۔۔
زارون کہاں ہے اسے آج صبح سے گھر غیر موجود رہنے پہ عالم صاحب بولے ۔۔ زرتاج زارون کدھر ہے صبح سے نظر نہیں آیا”
زرتاج تو خود انجان تھی اس سے کہ کہاں گیا” پتہ نہیں ” وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔
سیما کو غصہ آیا تھا زرتاج پہ۔۔
” کیوں نہیں پتا اوور تمہیں” اور کسے پتا ہوگا” کتنے دن سے میں دیکھ رہی ہوں الجھا الجھا سا لگ رہا ہے زارون” رات کو بھی گھر دیر سے آتا ہے صبح بھی جلدی آفس چلا جاتا ہے آ ج بھی گھر نہیں ہے” سیما زارون کی طرف سے پریشانی سے بولی۔۔
سیما اب اسے کیوں سنا رہی ہو ” زارون آتا ہے تو بات کرتا ہوں اس سے کیا مسئلہ ہے آفس میں الجھا ہوا ہے کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے اس پہ ” عالم صاحب سیما کو تسلی دیتے بولے۔۔
روحان تم زرا کسی دن چکر لگاؤ کمپنی میں کیا چل رہا ہے ایک بار اس نے بات کی تھی مجھ سے کمپنی کے بارے دیکھو زرا کیا معاملات ہیں ” عالم صاحب رو حان کی طرف متوجہ ہوئے “
ڈیڈ فلحال تو میں خود اپنے بزنس میں زیادہ مصروف ہوں مگر میں کوشش کروں گا چکر لگا لوں کمپنی میں ” زارون سے میں خود بات کرتا ہوں وہ کیا کہتا ہے” روحان نے تسلی بخش جواب دیا تو وہ پھر کچھ نا بولے۔۔
@@@
شام کو روحان کمرے میں تھا جب اسے بار بار آئرہ کی کالز آئی جا رہی تھی جسے وہ اگنور ہی کررہا تھا ۔۔ وہ باز نا آئی تو اسکا دماغ ٹھکانے لگانے کے ارادے سے کال اٹھائی اور بالکونی میں آگیا۔۔
” کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ کیوں میرا سکون بر باد کیا ہوا ہے تم نے ” کال اٹھاتے ہی وہ پھٹ پرا۔۔
اور جو میرا سکون برباد ہوا اسکا کیا” وہ بھی آگے سے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے بولی۔۔
بکواس بند کرو اپنی چاہتی کیا ہو آخر”
“تم سے ملنا چاہتی ہوں ” وہ بھی بجائے بات گھمانے کے سیدھا بولی۔۔
مجھے نہیں ملنا تم سے اتنا فضول وقت نہیں ہے میرے پاس” روحان فوراً انکار کردیا۔۔
پلیز روحان بس آخری دفعہ بات کرنی ہے تم سے پلیز دوبارہ کبھی تنگ نہیں کروں گی پلیز” وہ التجائیں کرتی بولی۔۔
نہیں” مگر روحان نے پھر سے انکار کردیا۔۔
پلیز بس ایک بار آجاؤ ملنے کے لیے اسکے دوبارہ کبھی تنگ نہیں کروں گی ایک بار تو سن سکتے ہو نا میری بس صرف ایک مرتبہ” وہ پھر سے مسکینوں کی طرح التجا کرتے بولی۔۔
بس ایک بار ” روحان غصیلی آواز میں کہا
پھر آئرہ نے اسے پتہ بتایا جہاں ملنے آناتھا۔۔
@@
روحان نے بلیک ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک ہی پینٹ پہنے تیار سا کمرے سے باہر نکلنے لگا تو زویا کمرے میں آئی۔۔
” کہاں جا رہے ہیں اس وقت”
میں باہر جا رہا ایک دوست ہے اس سے ملنے کے لیے ” روحان نے آگے سے بہانہ بنایا۔۔
کون سا دوست ہے” وہ اسے دیکھتے بولی۔۔
زویا پلیز یہ انویسٹیگیشن بند کرو جانے دو اور ہو سکتا ہے لیٹ بھی ہوجاؤں ۔۔” روحان چڑ کھاتا بولا اور چلا گیا۔۔زویا تو بس اسے دیکھتی رہ گئی ۔
@@
روحان آئرہ کے بتائے ہوئے پتہ پر پہنچ گیا ۔۔ وہ ساحل کے قریب کھڑا تھا جگہ کافی سنسان تھی وہاں کوئی نہیں تھا تھوڑی دیر بعد آئرہ آئی وہاں ۔۔
لال رنگ کی فراک پہنے ہاتھوں میں لال ہی چوڑیاں پہنے ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے کچھ الگ لگ رہی تھی ورنہ وہ ہمیشہ ماڈرن ہی لباس پہنے ہوتی تھی۔۔
روحان ایک نظر ڈالی اس پہ اور چہرہ موڑ لیا۔۔
تمہارے لیے ہی اتنا تیار ہوئی ہوں ایک بار تو دیکھ لیتے ” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
جلدی بولو کیا بات کرنی تھی میرے پاس ٹائم نہیں ہے ” شام کے سائے رات میں ڈھل رہے سورج سمندر میں ڈوبتا دکھائی دے رہا تھا ۔۔ روحان کی نظریں سامنے ہی تھیں۔۔
مجھ سے شادی کرلو” وہ بے باک انداز میں سیدھا بول گئی۔۔
تو روحان نے اسکی طرف گردن موڑتے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
جو اسے دیکھ مسکرا رہی تھی اسکے ایسے ہی ایکسپریشن کی توقع کررہی تھی۔۔
پہلے مجھے شبہ تھا مگر اب مجھے یقین ہوگیا ہے تم واقعی ہی پاگل ہو ” تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ تم سے شادی کرلوں گا ۔۔ ” وہ کہتے وہاں سے نکلنے لگا جب آئرہ نے اسکا بازو تھام لیا ۔۔
پلیز روحان ایسا مت کرو میرے ساتھ “
” تم اچھی طرح جانتی ہو میں شادی شدہ ہوں ” میں زویا صرف زویا سے پیار کرتا ہوں۔۔” وہ اتنا کہہ کر آگے بڑھا جب آئرہ نے اسکے منہ پر اسپرے کردی جس سے اسکا سر چکرانے لگا آس پاس کا منظر گھومتا ہوا دکھائی دینے لگا ۔۔اور وہ ہوش و حواس کھو بیٹھا اور زمین بوس ہوگیا ۔
جب گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے ” یہ کیسے ہوسکتا ہے جو چیز آئرہ کو پسند آجائے اور وہ اسے چھوڑ دے ” کبھی نہیںں”
آئرہ اسکے قریب بیٹھتی بولی جو بیہوش زمین پہ گرا ہوا تھا۔۔
گارڈز ” اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالو” ۔۔آئرہ نے کھڑے ہوتے اپنے بوڈی گارڈز کو آواز لگائی جو اسکی ایک آواز پہ دوڑے چلے آئے ۔۔ تو روحان کو اٹھا کر آئرہ کی گاڑی میں ڈالا۔۔
