Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 8
زویا زارون ٹھیک کہہ رہا ہے تم گھر چلی جاؤ بچوں کے پاس” زارون کی بات سنتے سفینہ بیگم نے کہا۔۔
مگر ماما میں زری کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی “انکی بات سنتے زویا نے کہا عالم صاحب بھی پاس ہی کھڑے تھے
بیٹا تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے رات کافی ہو رہی ہے” عالم صاحب بولے۔۔
ڈیڈ آپ کو بھی گھر چلے جانا چاہیے اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کریں گے فلحال تو آپ تھکے سے لگ رہے ہیں ” آپ زویا کو چاچی لیکر گھر چلے جائیں جائیں ہم دونوں ہیں یہاں” روحان انکے پاس آتا بولا
بیٹا مجھے یہاں رہنے دو اپنی بچی کے پاس” سفینہ بیگم بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔
ٹھیک ہے سفینہ بیگم زویا بچے تم چلو میرے ساتھ ” عالم صا حب بولے تو زویا کو چار و ناچار چلنا پڑا انکے ساتھ ۔۔
دونوں بچوں کو سنبھالنا اب سیما کے بس سے باہر ہوگیا تھا دونوں سونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور بس روئے ماما کرتے روئے جا رہے تھے۔۔ میڈ بھی تھی ساتھ انہیں سنبھالنے کے لیے مگر وہ دونوں اب اپنی ماؤں کو یاد کرنے لگے تھے ۔۔
زویا کو تو آ جانا چاہئے تھا پتا تو یوسف کا نہیں رہتا اسکے بغیر اور نا ہی عروش ۔۔انکے رونے سے میرے سر میں درد ہونے لگا ہے “کیا نئی مصیبت آن پڑی ہے ” سیما بیگم اکتائی سی بولی ۔۔
اتنے میں زویا اور عالم صاحب کمرے میں آئے۔۔
زویا نے آتے ہی یوسف کو گلے سےلگایا تھا جو ماں کی آغوش پاتے فوراً چپ ہوگیا ۔۔اور عروش کو بھی گلے لگایا مگر وہ چپ نا ہوئ ۔۔
کہاں رہ گئے تھے آپ لوگ کوئی خیر خبر ہی نہیں دی ابھی تک ۔۔اور زویا بچوں کی کچھ پرواہ ہے تمہیں ” سیما نے آتے ہی انکی کلاس لینا شروع کردی۔۔
سیما تسلی رکھو تمہیں پتا تو ہے زری بچی کا ابھی تک اسکی حالت خطرے میں ہے ابھی تک ڈاکٹروں نے کوئی آس امید نہیں دی اسکا ہوش میں آنا ضروری ہے۔۔ عالم صاحب نے اسے ٹوکتے کہا ۔۔
تو وہ ذرا شرم سار سی ہوئی۔۔اور پھر اگلا سوال پوچھا ۔۔
آپریشن تو ہوگیا نا کیا ہوا بچہ تو ٹھیک ہے نا۔۔
ہاں بچی ٹھیک ہے مگر زرتاج کو ابھی تک ہوش نہیں آیا دعا کرو اس کے لیے” عالم صاحب بولے ۔۔مگر سیما کی سوئی تو بچی کے نام پہ اٹک گئی ۔۔
کیا بچی” زویا جو بچوں کو لیکر باہر جانے لگی تھی انکی آواز پہ رک گئی ۔۔
ہاں بیٹی ہوئی ہے ماشاءاللہ سے ٹھیک ہے بس ذرا کمزور ہے مگر خطرے سے باہر ہے ۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔
پھر بیٹی ہوگئی ہے ” وہ افسردہ سی بولی ۔۔
زویا حیرانی سے دیکھ رہی تھی انہیں”
کیا کہہ رہی ہو تم یہ اللہ کی دین ہے” عالم صاحب نے کہتے زویا کی جانب دیکھا جو انہیں شکوہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
زویا بیٹا تم بچوں کو کمرے میں لے جاؤ انہیں سلاؤ تمہاری تائی کا دماغ تو ہمیشہ ہی آسمان پہ رہتا ہے ۔۔ زویا چلی گئی وہاں سے۔۔
کیا کہا آپ نے میرا دماغ خراب ہے” زویا کے جاتے ہی وہ غصہ سے بولی۔۔
چپ کر جاؤ سیما بیگم میں پہلے ہی زرتاج کو لیکر پریشان ہوں اور تم کیا فضول باتیں لیے بیٹھ گئی ہو” غصہ سے کہتے واش روم میں بند ہوئے..
میرے بیٹے کی خوشیوں کو تو جیسےنظر لگ گئی ہے” پیچھے سے وہ بڑبڑاتے رہ گئی..
زویا بچوں کو لئے کمرے میں آئی اسے سیما کی باتوں سے بہت دکھ ہوا تھا..
کیا بنے گا آخر زرتاج اور اسکی بچیوں کا.. یہ فکر ستا رہی تھی.. اور اوپر سے اپنی ساس کی باتیں جنہوں شروع سے ہی انکا احساس نہیں کیا..
بچوں کو سلانے کے بعد روحان کو کال کی..
وہ تینوں اس وقت آئی سی یو کے باہر کھڑے تھے جب روحان کا فون بجا زویا کا نمبر دیکھتے سائیڈ پہ ہوا..
ہیلو روحان زری کیسی ہے”
ویسے ہی ہے ابھی ڈاکٹرز دیکھ رہے ہیں ” اور بچے کیسے ہیں “
بچے اب ٹھیک ہیں جب آئی تھی تو دونوں رو رہے تھے خاص طور پہ عروش اب جاکر سوئی ہے ” زویا بولی..
ٹھیک ہے پھر تم بھی ریسٹ کرلو میں ہوں یہاں زری کی فکر مت کرو انشاءاللہ ٹھیک ہوجائے گی”کہتے ہی روحان نے کال کٹ کردی..
انشاءاللہ ” زویا نے بھی کہا تھا..
رات کو بارا بجے کے قریب ڈاکٹر نے انہیں مثبت خبر دی تھی ۔۔زرتاج کی ہارٹ بیٹ نارمل ہو رہی اور وہ ریکور کرہی ہے اور جلد ہی وہ ہوش میں آ جائے گی ۔۔سب کی جان میں جان آئی تھی ۔اس وقت زارون تھا زرتاج کے پاس۔۔
زارون اسکے پاس کھڑا بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔۔چہرے پہ آکسیجن ماسک لگا ہوا ایک دن میں ہی پھول جیسا کھلا ہوا چہرہ مرجھا سا گیا تھا ۔۔جھک کر اس کے ماتھے پہ محبت کی مہر ثبت کی تھی ۔۔
تب ہی روحان کے ساتھ سفینہ بھی کمرے میں آئے ۔۔
زارون تھوڑا پیچھے ہوا سفینہ نے پیار سے زرتاج کے سر پہ ہاتھ پھیرا ۔۔ اور اسکا ماتھا چوما تھا ۔۔خدا میری عمر بھی تمہیں لگا دے مگر تمہیں کچھ نا ہو۔۔
زارون پاس کھڑا بولا ۔۔
چاچی آپ کی دعاؤں سے زرتاج کو نئی زندگی ملی ہے بس آپ دعا کریں کہ جلد ہی اسے ہوش آجائے۔۔
زارون یہ تمہاری محبت ہے جس نے زرتاج کو کچھ ہونے نہیں دیا۔۔ روحان نے زارون کے کاندھے پہ ہاتھ رکھے کہا۔۔
تم چاچی لیکر اب گھر چلے جاؤ میں ہوں اب زرتاج کے پاس ۔۔زارون نے روحان سے کہا ۔۔
چاچی آپ گھر چلی جائیں ورنہ آپکی طبیعت بھی یہاں ہسپتال میں رہتی خراب نا ہوجائے۔۔ زرتاج اب ٹھیک ہے صبح تک ہوش آجائے گا۔۔روحان تم چاچی کو لے جاؤ۔۔
مگر بیٹا تم اکیلے ہوگے اور بچی کو بھی ضرورت ہوگی کسی کی” سفینہ بولی ۔
نرس ہیں یہاں اسے سنبھالنے کے لیے’چاچی آپ بے فکر ہوکر گھر جائیں۔۔زارون نے کہا
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی جب بھی میری ضرورت ہو فوراً بولا لینا۔۔ روحان بولا اور سفینہ کو لیے باہر بڑھا۔۔
رات تین بجے زرتاج کو ہوش آیا تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں ہے وہاں آس پاس نگاہ دوڑائی سامنے کرسی پہ زارون بیٹھا ہوا نیند میں ہونے کے باعث اسکی گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی تھی ۔۔اپنے آ پ کو مشین میں جکڑا ہوا پایا تھا ۔۔
پھر اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھا کسی انہونی کا احساس ہوا تھا ۔۔کہیں اسکے بچے کو کچھ نا ہوگیا ہو۔۔ اسکی سانس اکھڑنے لگی وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگی ۔۔ زار۔۔ زار۔۔ زارون۔۔ زرتاج کو لگا جیسے اسکی سانسیں بند ہو جائیں ۔۔
زارون کی آنکھ کھلی تھی اسی وقت زرتاج کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ گھبرا گیا۔۔
زرتاج ۔۔زرتاج کیا ہوا تمہیں ۔۔ زرتاج ۔۔ زارون اسکی گال تھپ تھپاتے ہوئے بولا ۔
نرس ۔۔نرس۔۔ زارون نے وہیں سے آواز لگائی ۔ نرس فوراً دوڑی چلی آئی زرتاج کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ فوراً سے ڈاکٹر کو بلانے بھاگی۔۔
زار۔۔ زارون ۔۔مم۔۔میرا بچہ” زرتاج نے بمشکل پوچھا تھا ۔۔
اسی وقت ڈاکٹر اوپر آگئی اور اسے چیک کرنے لگی زرتاج کی بات ڈاکٹر نے بھی سن لی تھی ۔۔
تمہارا بچہ بلکل ٹھیک ہے زرتاج بس تم ہی نہیں ٹھیک ۔۔ موت کے منہ سے واپس آئی ہو ۔۔اب دوبارا اپنی طبیعت مت خراب کر لینا۔۔ ڈاکٹر نے کہتے اسے انجیکشن دیا ۔۔ اور وہ پھر سے غنودگی میں چلی گئی ۔۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ابھی اسے اور ریسٹ کی ضرورت ہے میں نے اسے نیند کا انجیکشن دیا ہے تاکہ صبح تک سکون میں رہے اسکا ابھی زیادہ بولنا یا سوچنا ٹھیک نہیں ۔۔ڈاکٹر زارون کو تسلی دیتی چلی گئی۔۔
زارون زرتاج کے قریب آیا اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔
“تم چپ بلکل بھی اچھی نہیں لگتی بلکہ تنگ کرتی ہی اچھی لگتی ہو” کہتے ہوئے اسکے ماتھے پہ محبت بھرا لمس چھوڑا تھا ۔۔
صبح زویا نے ناشتہ بنایا تھا زارون اور زرتاج کے لیے سفینہ اور روحان تیار تھے ہوسپٹل جانے کے لیے ۔۔
زویا کو جانے سے روحان نے منع کردیا تھا بچوں کی وجہ سے۔۔
زارون اس وقت ڈاکٹر کے کیبن موجود تھا ۔۔ ڈاکٹر اسے زرتاج کی رپورٹس کے متعلق بتا رہی تھی ۔۔
“جہاں زرتاج کی زندگی کے بچ جانے کی اچھی خبر ہے وہیں کچھ بری خبر بھی ہے ” ڈاکٹر رپورٹس کو دیکھتے ہوئے خاموش ہوئی۔۔
ڈاکٹر کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔۔”زارون بولا۔۔
زرتاج اب کبھی دوبارا ماں نا بن سکے ” ہم نے کوشش کرکے زرتاج کو تو بچا لیا ہے مگر اب ان کے دوبارہ ماں بننے کوئی امید نہیں ” ڈاکٹر انتہائی نفیس انداز میں اپنی بات پوری کی ۔۔
ڈاکٹر میرے لیے زرتاج کی زندگی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے میرے پاس دو بیٹیاں ہیں مجھے مزید کی خواہش نہیں” زارون نے مسکراتے کہا۔۔
یہ تو آپکا بڑا پن اور محبت ہے آپکی بیوی کے لیے ورنہ لوگ تو بیٹے کی خواہش کرتے ہیں ” اس لیے وہ اس بات کو قبول نہیں کر پاتے۔۔ڈاکٹر نے اس سراہتے ہوئے کہا
نہیں مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں زرتاج ہی میری زندگی ہے مجھے صرف اسی کی چاہ ہے زارون کہتے اٹھا اور باہر کی جانب بڑھا جیسے ہی دروازہ کھولا باہر روحان اور سفینہ کو کھڑا پایا.. انکے انداز سے صاف لگ رہا تھا وہ سب باتیں سن چکے ہیں..
مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ کن لفظوں تمہارا شکریہ ادا کروں.. انکی آنکھیں بھر آئیں تھی کہتے..
زارون نے انہیں گلے سے لگا تھا..
چاچی کیسی باتیں کررہی ہیں آپ ” میں نے کوئی مہان کام نہیں کیا “
تمہارا دل اور تم بہت مہان ہو میرے لئے ” سفینہ نے اسکا ماتھا چومتے کہا..
چاچی بس یہ بات آپ زرتاج کو اور کسی کو کبھی نہیں بتائیں گی” زارون نے کہا..
روحان نے زارون کے کاندھے پہ ہاتھ رکھے کہا۔۔” زرتاج کیسی ہے “
اب ٹھیک ہے آپ لوگوں کا ہی انتظار کر رہی تھی ۔۔” زارون کہتے آگے بڑھا ۔۔
زرتاج کو اب آئی یو سے دوسرے روم میں شفٹ کردیا گیا تھا ۔۔
سفینہ کمرے میں داخل ہوئی زرتاج بیٹھی تھی ہوئی نرس اسکے پاس کھڑی تھی ۔۔
ماما ” زرتاج نے خوش ہوتے کہا۔۔
کیسی ہو میری بچی سفینہ نے اسے گلے سے لگایا۔۔ سفینہ کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے۔۔
ماما میں ٹھیک ہوں ” زرتاج ان سے الگ ہوتی انکے آنسو صاف کئے ۔۔
میں خوش ہوں بیٹا بس ڈر گئی تھی تمہیں دیکھ کر ۔۔”
اب آپ کے سامنے ہوں بلکل ٹھیک تو بس اب نہیں رونا “
زویا نہیں آئی وہ پیچھے روحان کو اکیلا آتے دیکھ بولی ۔
زویا بچوں کی وجہ سے نہیں آ پائی عروش تمہیں بہت یاد کررہی تھی اس لیے اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے اور چھوٹی ہے ہوسپٹل نہیں لا سکتے اسے” سفینہ نے کہا ۔۔
کیسی ہو زری روحان اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے بولا ۔۔
ٹھیک ہوں حان بھائی” زرتاج نے مسکراتے کہا۔۔
اچھا مجھے آفس جانا ہے لیٹ ہو گیا ہوں ” تو روحان نے ٹائم دیکھتے کہا۔۔ اور وہاں سے چلا گیا۔۔
زارون میں ناشتہ لائی تھی تم دونوں کے لیے ” سفینہ ٹفن ٹیبل پہ رکھتے بولی۔۔
زرتاج نے تو ناشتہ کرلیا ہے اسے میڈیسن دینی تھی “
زارون نے کہا۔۔
اچھا ٹھیک ہے ” تم نے بیٹی دیکھی ہے اپنی ‘ سفینہ زرتاج سے بولی..
جی ماما زارون صبح لائے تھے مجھے دکھانے کے لیے ابھی وہ ویک ہے تو اسے نرسنگ روم میں ہی رکھے گے ” ..
روحان آفس پہنچا تھا.. کچھ ہی دیر میں اسکی اہم میٹنگ تھی..
سر مسٹر کمال اور مس آئرہ کب کے آ چکے ہیں بس آپ کا ویٹ ہو رہا.. اسکا انٹر کام بجا تھا اسکی پی اے نے اسے انفارم کیا..
جی انہیں بٹھائے بس میں آ رہا ہوں..
آئرہ نے نوٹ کیا آج میٹنگ میں روحان پہلے کی طرح اتنا ایکٹو نہیں ہے جتنا پہلے ہوتا ہے..
میٹنگ ختم ہونے کے بعد.. آئرہ روحان کے آفس میں آئی.. جبکہ اسکا باپ حیدر کمال جا چکا تھا..
کیا بات ہے روحان آپ مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہیں ” اور آفس بھی لیٹ آئے ہیں.. ” آئرہ نے انتہائی فکرمندی کا مظاہرہ کیا..
نہیں ایسی کوئی بات ہے” روحان نے اسے ٹالنا چاہا..
ایز یور وش ” آپ نہیں بتانا چاہتے تو کوئی بات نہیں.. ” وہ کہہ کر چپ ہوئی..
وہ دراصل گھر میں کچھ پروبلم ہے میری بھابھی ہاسپٹل میں ہیں.. وہ میری بھابی ہی نہیں بلکہ میری کزن اور چھوٹی بہن کی طرح ہے” بس اس کے لئے زرا پریشان تھا ..” بٹ ناؤ شی از فائن ” روحان نے اسے پریشانی کی وجہ بتا ہی دی..
اوہ ‘ سو سیڈ .. اب کیسی ہیں” آئرہ نے فکر مند ہوتے کہا..
اللہ کا شکر ٹھیک ہے”
تین دن میں زرتاج کو ڈسچارج کردیا تھا ہاسپٹل سے..
آج زارون زرتاج اور اپنی بیٹی کو لئے گھر آیا..
سب نے بہت اچھا ویلکم کیا تھا زرتاج کا.. زارون نے اپنی بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا.. اور ساتھ زرتاج چلتی ہوئی اندر آئی..
اب اس وقت حال میں بیٹھے تھے یوسف اور عروش اس ننھی پری کو دیکھتے ہوئے بہت خوش ہو رہے تھے وہ بہت چھوٹی سی تھی..
زارون بھئی اب اس چھوٹی گڑیا کا نام نہیں سوچا کیا ابھی تک اب ہم اسے کس نام سے بلائیں.. روحان نے ہنستے ہوئے کہا..
ہاں سوچا ہے نام” زارا ” زارون نے مسکراتے ہوئے کہا زرتاج کو دیکھتے کہا..
ماشاء اللہ.. عالم صاحب بولے..
بہت ہی پیارا نام ہے ” سفینہ نے بھی کہا جبکہ سیما ان سب معاملات میں خاموش ہی تھی..
ویسے تو زارا نام مجھے پہلے ہی بہت پسند تھا کیونکہ یہ نام میں اپنی بیٹی کا رکھنا چاہتا تھا ” روحان زارون کیساتھ بیٹھا..
رہنے دو پہلے ہی دو بیٹیاں ہوگئیں ہیں اب سب نے کیا” سیما کہہ رہی تھی کہ عالم صاحب نے اسے چپ کروا دیا..
بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں سیما بیگم ایسے یوں ناشکرا پن نہیں کرتے “
زرتاج نے اپنی ماں کی جانب دیکھا تھا کیونکہ اسے اچھا نہیں لگا.. سفینہ نے سر ہلاتے تحمل کا مظاہرہ رہے چپ رہنے کا اشارہ کیا ..
مام پلیز میرے لئے میری بیٹیاں ہی سب کچھ ہیں مجھے یہی بہت عزیز ہیں ” زارون نے اپنی ماں کو سمجھانے کی کوشش کی..
ابھی تو یہ تمہیں عزیز ہی لگے گی مگر بڑھاپے کا سہارا بیٹے ہی ہوتے ہیں جس کی کمی تمہیں بعد میں ہی پتہ چلے گی.. سیما اپنی بات پہ قائم تھی جیسے..
سیما اللہ نے چاہا تو بیٹا بھی ہوجائے فلحال تو ہماری دونوں بچیاں موت کے منہ سے واپس آئی ہیں اپنا دل بڑا رکھو” عالم صاحب نے اسے تحمل سے سمجھاتے کہا مگر سفینہ کے دل پہ تو جیسے بجلیاں گری تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ زرتاج اب کبھی ماں نہیں بن سکے گی.. اور یہ بات اگر سیما کو پتہ چلی تو وہ اسکی بیٹی کا جینا مشکل کردےگی..
چلو زارا اور زرتاج کو کمرے میں لے چلو ” عالم صاحب نے زویا سے کہا..
بیٹا اسے میرے کمرے میں لے چلو زارا ابھی چھوٹی ہے اور زرتاج کو خود کئیر کی ضرورت ہے ” سفینہ بولی..
نہیں چاچی میں سنبھال سکتا ہوں ” زارون نے کہا..
بیٹا زرتاج کو ابھی بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے” اور دن میں تم آفس چلے جاؤ گے کچھ دن کی بات ہے.. پھر زرتاج سنبھل جائے گی اور پھر اسے تمہارے کمرے میں ہی شفٹ کردیں گے”
چارو ناچار زارون کو ماننا پڑا..
زویا زرتاج کو لئے اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھی..
شکر کر تیری بیگم کا میکہ صرف ایک سے دوسرے کمرے تک ہی ہے ” ورنہ کیا بنتا تیرا..
سب کے جانے کے بعد روحان زارون سے بولا..
مذاق اڑا رہا ہے میرا تو ” زارون نے آنکھیں چھوٹی کرتے کہا..
نہیں تیری شکل ہی ایسے بن گئی ہے ” روحان نے مزید تنگ کیا.. اور زارون بنا جواب دیے سیڑھیاں چڑھ گیا..
زویا زرتاج کو لئے کمرے میں آئی..
ماما پتا نہیں تائی امی کو کیا ہوگیا ہے جب سے زارا پیدا ہوئی تب سے وہ ایسی ہی عجیب سی سڑی ہوئی باتیں کررہی ہیں.. زویا کو اپنی تائی کی باتیں پسند نہیں آئی..
بیٹا بس تم انکی باتوں کو نظر انداز ہی کرو تو بہتر ہے ” اور زرتاج تم بھی اگنور ہی کرو تو بہتر ہے ” جبکہ سفینہ تو خود اندر سے خوف زدہ تھی..
زویا تیار رہنا آج شام کو میں جب آفس آؤں تو ہم نے آج ایک پارٹی پہ جانا ہے..
روحان صبح آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا جب روحان نے اسے بتایا..
پارٹی کیسی پارٹی” زویا نے روحان کو کورٹ پہناتے کہا..
بزنس پارٹی ہے ہمارا پراجیکٹ بہت کامیاب جا رہا ہے اس لئے یہ پارٹی آرگنائز کی گئی ہے بڑے بڑے بزنس مین آئیں گے اس لئے .. اور ہاں بہت ہی اچھا سا تیار ہونا ہے آج ” روحان اسکی گال پہ کس کرتے باہر چلا گیا..
کیا مصیبت ہے ” زویا نے جھر جھری سی لی تھی کیونکہ اسے اس طرح کی پارٹیز بلکل بھی نہیں پسند
