Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284

Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 Last updated: 6 October 2025

59.6K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beparwah Season 2

By Ayesha Noor

چلو تم لوگوں کا کام ہوگیا نکلو ابھی ۔۔" آئرہ کی دوست نے دور سے کھڑے ویڈیو بنائی تاکہ ایسا لگے جیسے کوئی چھپ کر ویڈیو بنا رہا ہو۔۔ کرن نے تھنب دکھاتے اشارہ کیا کہ ویڈیو بن گئی تو آئرہ نے انہیں پر ے دھکیلتے کہا۔۔ وہ ریسٹورنٹ کی پچھلی سائیڈ پہ تھے وہ باریک اور تنگ گلی تھی ۔۔جہاں وہ یہ ڈرامہ شوٹ کررہے تھے مگر اس بات سے بے خبر کے یہ کھیل ان پہ ہی الٹا پڑنے والا ہے۔۔ کیا ہوا ۔۔ کیا کہا اس نے " آئرہ نے کرن کے پاس آتے کہا۔۔ مجھے نہیں لگتا وہ آئے گا ویڈیو دیکھتے ہی وہ آف لائن ہوگیا دوسرا کوئی جواب ہی نہیں دیا" کرن نے پریشانی سے کہا۔۔ افف " بہت ہی ڈھیٹ انسان ہے کوئی " آئرہ نے کوفت سے کہا۔۔ انکی پیمنٹ انہیں دو اور دفع کرو انہیں آج نہیں کوئی کام بننے والا۔۔کرن کہتی آگے چل پڑی۔۔ آئرہ نے اپنے پرس سے کچھ نوٹ نکالتے ان کرائے کے گنڈوں کے پاس گئی۔۔ یہ لو اور جاؤ بس " کیا ہوا میم ساب شوٹنگ ختم ہوگئی " ان میں سے ایک نے آگے بڑھتے پیسے پکڑے ۔۔ ہاں ایسا ہی سمجھو" وہ کہتی مڑی اور ابھی ایک قدم آگے بڑھی ہی تھی کہ اسکا ہاتھ کسی کی گرفت میں آگیا۔۔وہ مڑی تو دیکھا اس ایک بدمعاش نے اسکا ہاتھ پکڑ ا ہوا تھا۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے " آئرہ کو اس وقت شدید خوف آیا ان سے مگر نڈر بنتی خود کو چھڑواتی بولی۔۔ ارے میم صاب ۔۔ نقلی ریپ کرنے کا ہم پیسا لیتا مگر اصلی ریپ فری میں کرتا ۔۔ ہاہاہا اس آوارہ اوباش نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے کہا۔۔ آئرہ کی جان تو حلق میں آئی تھی۔۔ چھ۔۔چھوڑو مجھے " کرن۔۔ کرن ۔۔ہیلپ می بچاؤ مجھے " وہ چلائی تھی۔۔ کرن اپنے دھیان میں آگے بڑھی تھی مگر آئرہ کے چلانے کی آواز سنتے پیچھے مڑی تو اسکی آنکھیں ابل کر باہر آئیں۔۔ آئرہ آئرہ۔۔ کرن آگے بڑھتی کہ اس میں سے ایک بولا۔۔ آہاں آج تو مزے ہیں ایک کے ساتھ ایک فری ۔۔ " ان میں سے ایک اوباش نے کہا تو کرن کے قدم وہیں جم گئے ۔۔ آئرہ نے اسے رکتے دیکھا تو پھر آوازیں لگائیں ۔۔کرن ہیلپ " آنسوں اسکی آنکھ سے رواں تھے اسکے بازو انکی جکڑ میں تھے۔۔خود کو چھڑواتی ہلکان ہو رہی تھی ۔ لے چلو اسے گاڑی میں۔۔ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگے تھے۔۔ پلیز چھوڑ دو مجھے تم جتنے پیسے کہو گے میں اتنے دوں گی تمہیں پلیز چھوڑ دو ۔۔وہ گڑگڑا رہی تھی انکی جکڑ میں جو اسے کھینچتے ہوئے لے جا رہے تھے پیسے سے زیادہ قیمتی ہو تم ہمارے لیے لڑکی " ایک نے خباثت سب کہا تھا ۔۔ ایک پرانی سی کھٹارا وین تک پہنچتے اسکا دروازے کھولتے زبردستی اس میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔ " نہیں چھوڑ دو مجھے اللہ کا واسطہ ہے چھوڑ دو " وہ گڑگڑا رہی تھی مگر انہوں نے زبردستی اسے وین میں پھینکا ابھی دروازہ بند ہوتا کہ کسی نے دروازے پہ ہاتھ رکھتے دروازا بند ہونے سے روکا ۔۔ روحان " آئرہ کی تو جیسے جان میں جان آگئی تھی روحان کو پکارا تھا۔۔ روحان نے کی رگیں تنی ہوئی تھی غصہ سے ایک نظر آئرہ کے حلیہ پہ ڈالی اور پھر سب کو گھور کر دیکھا۔۔ اے کون ہے تو چل جا " ورنہ جان سے جائے گا۔۔ ایک لڑکے نے روحان کا گریبان پکڑتے کہا ۔۔ تو روحان نے سختی سے اسکا بازو جکڑا اور دوسرے ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے منہ پہ دے مارا جسے وہ اوندھے منہ گر پڑا ۔۔ کرن روحان کو دیکھتی بھاگی چلی آئی اور آئرہ کو وین سے نکالتے ایک سائیڈ پہ لے گئی ۔ آئرہ تم ٹھیک ہو" ۔۔ آئرہ ابھی بس ہچکییوں سے روئے جا رہی تھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ دوسرے لڑکے نے روحان کو پیچھے سے آکر وار کیا تو روحان مڑکر اس پر بھی تا بڑتوڑ مکے اور لاتوں کی برسات کردی ۔۔ ایک بعد ایک اس نے ساروں کی درگت بنا ڈالی ۔۔ وہ سب اپنے جان بچاتے اپنی کھٹارا وین لے کر بھاگے ۔۔ روحان کا رخ اب آئرہ کی طرف تھا ۔۔ اسکو آئرہ اور اسکی دوست کے حلیہ پہ بے حد غصہ آرہا تھا۔۔ روحان " آئرہ روحان کے گلے جا لگی تھی۔۔ روحان شکر ہے تم آ گئے ورنہ پتا نہیں آج کیا ہو جاتا" آئرہ نے اسکے گلے روتے ہوئے کہا۔۔ روحان نے کاندھے سے پکڑ کر آئرہ کو خود سے الگ کیا ۔۔ چٹاخ" ایک تھپڑ آئرہ کے منہ پہ جڑ دیا۔۔ روحان تم آئرہ کو کیوں مار رہے ہو " کرن کو آئرہ کو پکڑتے کہا جو منہ پہ ہاتھ رکھے اسے صدمہ سے دیکھے جا رہی تھی آئرہ تم بہت ہی گھٹیا اور گری ہوئی لڑکی ہو تم اپنا مقصد پانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتی ہو" پہلے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور" اب اپنی عزت بھی داؤ پہ لگا دی تم نے " آخری جملہ اس نے چلا کر کہا" کرن بھی اب تو شاک ہوئی تھی۔۔ اب وہ کرن کی طرف دیکھتے بولا۔۔ اور تم کیا سمجھتی ہو میں بہت بے وقوف ہوں جو سمجھ نہیں سکتا تم لوگوں کی فیک بنائی ہوئی ویڈیو دیکھ کر میں اسی وقت سمجھ گئا تھا ۔۔ کوئی مووی کی ڈائریکٹر نہیں ہو تمہاری آواز بھی ویڈیو میں ریکارڈ ہوگئی تھی گڈ شارٹ " کہہ رہی تھی تم " اس میں تمہیں سبق سکھانے کے لیے آیا تھا مگر یہاں کا تو منظر ہی بدل چکا تھا " ان کرایہ کے موالیوں پہ اعتبار کرلیا تھا یہ رات کے گیارہ بجے تمہیں پیسے لیکر تنگ کریں گے ۔۔ اس گنڈے نے بھی اعتراف کرلیا تھا مار کھا کر کہ تم نے ان لوگوں کو بلایا تھا مگر انکی نیت بدل گئی تمہیں دیکھ کر ۔۔ روحان بول رہا تھا اور وہ دونوں سن سی کھڑی تھی۔۔ اپنی غلطی پہ نادم تھی۔۔ آئرہ سر جھکائے کھڑی آنسو بہائے جا رہی تھی ۔۔ کیا چاہتی ہو اب تم " تمہیں جو شوق اب چڑھا ہوا ہے نا وہ بھی پورا کردیتا ہوں اس ہوٹل میں بھی کمرے بنے ہوئے آجاؤ" آئرہ کا ہاتھ پکڑے روحان آگے بڑھا .. روحان چھوڑو آئرہ کو" روحان کی باتوں کا مفہوم سمجھتے کرن نے آگے بڑھتے آئرہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ آئرہ بھی شاک تھی روحان کی باتوں پہ۔۔ تم جاؤ اب تمہارا کام ختم ہوگیا " روحان نے اسے ہاتھ سے اشارہ کرتے کہا ۔۔ تم ایسا نہیں کرسکتے وہ پہلے ہی بہت ڈر گئی ہے صدمہ میں ہے " پلیز میں سوری بولتی ہوں یہ ساری پلیننگ میری تھی وہ بے قصور ہے " روحان کی مضبوط گرفت سے آئرہ کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے کہا۔۔ ہاں تو جس مقصد کے لیے پلیننگ کی تھی اب وہی مقصد سر انجام دینے لگا ہوں اب تمہاری دوست کا شوق پورا ہونے جا رہا ہے تو کیوں انٹرپٹ کررہی ہو بیچ میں " وہ بھی اب اپنی بات پہ اڑ گیا تھا۔۔ آئرہ تو مزید شاک میں تھی اسے تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیسے روکے روحان کو وہ روحان کا ساتھ چاہتی ہے اور اسکا کوئی مقصد نہیں تمہیں زویا کی قسم ہے اگر تم زویا سے مخلص ہو تو تم ایسا کچھ نہیں کرو گے" کرن کو اچانک زویا کا خیال آیا۔۔ اور اسکا واسطہ دیا تو روحان نے فوراً اسکا ہا تھ چھوڑ دیا ۔۔جس پہ آئرہ دنگ رہ گئی واقعی اس نے زویا کے نام پہ اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔ روحان نے ایک سرسری سی نگاہ آئرہ پہ ڈالی جو حیران نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔ اور وہ رکا نہیں تھا فوراً وہاں سے چلا گیا۔۔ اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہی تھی۔۔ چلو آئرہ " کرن نے اسے کاندھے سے تھامے گاڑی تک لائی۔۔ کرن گاڑی چلا رہی تھی اور آئرہ بس خاموش سی بیٹھی تھی آنسو بھی اسکے خشک ہوچکے تھے وہ تو اس منظر میں ہی کھوئی ہوئی تھی جب اس نے زویا کی قسم پہ اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔ گھر آگیا ہے آئرہ " کرن نے ہلا کر کہا جو کھوئی ہوئی بیٹھی تھی۔۔ ہہم" گاڑی سے اترتے گھر میں داخل ہوئی اور اپنے کمرے میں آئی۔۔ کرن بھی اسکے پیچھے آئی۔۔ آئرہ میں تو تمہیں یہی مشورہ دوں گی کے پلیز چھوڑ دو اب اپنی ضد " تم ایسے شخص کو کبھی اپنی طرف مائل نہیں کر سکتی جو تمہارا کبھی ہو ہی نہیں سکتا ' وہ تمہاری ادھوری محبت ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی" اسے چھوڑ دینا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے" کرن بول رہی تھی اور وہ خاموش رہی ۔۔ وہ کچھ نا بولی تو اٹھ کر چلی گئی۔۔