Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Last Episode Last Part
زارون کمرے میں داخل ہوا تو زرتاج سامنے ہی کھڑی تھی ۔۔ زارون کو دیکھتے ہی منہ موڑ کر کھڑی ہوگئی ۔۔ پیچ کلر کا خوبصورت ہلکے کام والا سوٹ پہنے وہ کافی پیاری لگ رہی تھی ۔۔ سیاہ بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا۔۔
زارون آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے اس تک پہنچا۔۔ اور پیچھے سے اسے اپنے سینے لگا لیا۔۔
زرتاج کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے تھے ۔
کیوں کیا ایسا آپ نے زرا خیال نا میرے اور ہماری بچیوں کے بارے میں کتنی مشکل سے یہ مہینہ کاٹے ہیں” بھیگے لہجہ میں شکوہ کیا تھا۔۔
کمال ہے تمہارے لیے یہ سب کیا اور تم ہی گلہ کررہی ہو” اسکے بالوں میں منہ چھپاتے مدھوش لہجہ میں کہا۔۔
مجھے نہیں کرنی بات آپ سے۔۔ ” وہ اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
زارون نے اسے پلٹتے اسکا رخ اپنی طرف کیا ۔۔
کیوں نہیں کرنی بات” کیا کچھ اور کرنا ہے ” بے باک انداز سے کہا تو وہ شرمسار ہوئی ۔۔ اور خود کو اسکی گرفت سے چھڑانے لگی جو ابھی اسے چھوڑنے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں تھا ۔۔
آپ فریش ہو جائیں ” پھر بات کریں گے۔۔
فریش ہی تو ہونا ہے ” اسکا خوبصورت مکھڑا تکتا بولا جو حیا سے لال ہوچکا تھا ۔۔
@@@
کھانا لگا دیں زویا بھابھی ۔۔ ” سب تیار تھا اور ٹائم بھی کافی ہو رہا تھا روحا نے زویا سے کہا۔۔
ان دونوں کو تو آجانے دو پھر لگاتے ہیں” زویا نے کہا۔۔
آجائیں گے ” اتنے مہینوں سے بچھڑے ملے ہیں ٹائم تو لگائیں گے باہر آنے میں ۔۔ ہم کھانا لگاتے ” روحا پلیٹس اٹھاتے ڈائینگ ٹیبل کی طرف چل دی
روحی کچھ زیادہ تیز نہیں ہوگی تم عمار کے ساتھ رہتے ” زویا نے اسے ٹوکتے کہا۔۔
یہ کسی نے ہمارا تذکرہ کیا ہے” عمار نے اوپر آتے کہا۔۔
ایک تو تم ہر جگہ ٹپک پڑتے ہو” زویا نے کھانے کی ڈش رکھتے کہا۔۔
حد ہے میں اس گھر کا اکلوتا داماد ہوں ” سب کو چاہیے کے وہ میرے آگے پیچھے آگے پیچھے چلیں مگر یہاں تو سین ہی الٹا ہے ۔۔ کرسی پہ بیٹھتے سالاد میں سے کھیرا اٹھا کر منہ میں ڈالتے کہا۔۔
بس اسی کی کسر رہ گئی تھی” زویا نے پلیٹس سیدھی رکھتے کہا۔۔
کھانا لگتے ہی سب اپنی کرسی پہ آکر بیٹھ چکے تھے” عمار بھی خاموش ہوگیا ۔۔
زارون اور زرتاج بھی سیڑھیاں اترتے آرہے تھے زرتاج کے چہرے پہ شرمیلی سی مسکان تھی ۔۔
آگئی طوطا مینہ کی جوڑی دونوں ہی فریش فریش سے لگ رہے ہیں ۔۔ روحا نے زویا کے کان قریب ہوتے کہا۔۔
چپ کرو” زویا نے اسے ٹوکا۔۔
نہیں میں تو نہیں کروں گی پہلے تو اس نے پیچ کلر کا سوٹ پہنا تھا اب میرون کلر پہنا ہوا ہے ” کچھ تو گڑ بڑ کی ہے اس نے ” روحا نے پھر سرگوشی کرتے ۔۔ مذاق اڑاتے کہا۔۔ زویا بھی ہلکا سا مسکائی۔۔
تم واقعی عمار کے ساتھ رہتی بگڑ چکی ہو” زویا نے اسکے کاندھے ہلکی سی چت رسید کرتی روحان کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔
زارون اور زرتاج بھی اپنی کرسی پہ آکر بیٹھ گئے ۔۔
کافی عرصہ بعد آج سب لوگ اکٹھے کھانا کھا رہے تھے وہ بھی اتنے خوشگوار ماحول میں ۔۔
روحان کی کھانا کھاتے ہوئے بچوں پہ نظر پڑی سائیڈ پہ بیٹھے کھیل رہے تھے۔۔
زارا اور عروش ایک ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ان کے آگے کھلونے پڑے ہوئے تھے زارا ابھی صرف بیٹھ سکتی تھی ۔۔ زارا نے عروش کے ہاتھ سے اسکی گڑیا چھین لی ۔۔ عروش نے غصہ ہوتے اسکے ہاتھ سے اپنی گڑیا چھین لی ۔۔ اور زارا موٹے موٹے آنسوں بہاتی رونے لگی۔۔ یوسف پاس بیٹھا اپنی کار سے کھیل رہا تھا ۔۔ اسے زارا بہت پسند وہ سے روتا ہوا برداشت نہیں کرسکتا تھا ۔۔
” زارا پلیج تم رو نہیں تم میری کار لے لو ” یوسف نے اسکے آگے اپنی کار رکھ دی تو وہ خوش ہوتی کار پہ ہاتھ مارنے لگی ۔۔تین سالہ یوسف نے اپنے ننھے سے ہاتھوں سے زارا کے آنسوں صاف کیے ۔ تین سالہ عروش بلکل اپنی ماں پہ تھی لڑاکا ۔۔ اور یوسف روحان جیسا نرم مزاج خیال رکھنے والا اور زارا زویا جیسےکی معصوم سی۔۔
روحان انہیں دیکھ مسکرایا اور زویا کی طرف متوجہ ہوا اسکے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔
” تمہیں نہیں لگتا کے یوسف اکیلا ہے اسکے ساتھ کھیلنے کے لیے ایک چھوٹا بھائی یا بہن بھی ہونی چاہیے” اس وقت اسکی بات سنتی مسکرائی ۔۔
سہی کہا ویسے” یوسف کا بھائی یا بہن آنے والا ہے ” زویا نے مسکراتے کہا۔۔اور روحان کو پھر سے حیران کرگئی۔۔
کھانا کھانے کے بعد زرتاج کچن میں تھی وہ اب زارون کے لیے کافی بنا رہی تھی
روحا بھی اسے تنگ کرنے کے لیے آگئی۔۔
ویسے پیچ کلر بھی بہت اچھا لگ رہا تھا تم پہ ۔۔ یہ میرون بھی ٹھیک ہے “
زرتاج جو پہلے ہی بلش کررہی تھی اسکی بات سنتی چونک کر اسکی طرف دیکھا
“تم اپنے کام سے کام رکھو “زرتاج نے کہا
اب میں نے ایسا بھی کیا کہہ دیا جو تمہیں برا لگ گیا” تعریف ہی تو کی ہے ایک” روحا نے معصوم بنتے کہا ۔
اسے نا ہوا لگ گئی ہے عمار کی ” تم اپنا کام کرو بس ” زویا کچن میں آتے بولی۔۔
ہاں مجھے بھی پتہ چل رہا ہے” زرتاج نے روحا جو دیکھتے کہا ۔
بس تم دونوں کو نا میرا معصوم شوہر ہی نظر آتا ہے اسکے ہی پیچھے پڑی رہتی ہو ۔۔ روحا تنک کر بولی۔۔
او ہو بیچاری کا بیچاری شوہر ” زرتاج کہتی اسکے پاس سے گزر گئی۔۔
۔۔۔
@@@
روحا کمرے میں تھی جب عمار کمرے میں آیا..
چلو اب تم اپنا سامان باندھو ہم آج ہی نکلیں گے ابھی کے ابھی۔۔ بس بہت برداشت کرلیا اب اور نہیں” عمار نے آتے ساتھ ہی کہا ۔
کہاں جانا ہے ” اور ابھی تو رات ہونے والی ہے ۔۔ ” روحا اسکے سامنے آتی بولی۔۔
یوگانڈا چلیں گے ” عمار نے جیب میں ہاتھ ڈالتے کہا۔۔
ہیں ” وہ کیا ہے ” روحا کو اسکی ککھ سمجھ نا آ ئی۔۔
ارے پگلی کنٹری ہے ” ہنی مون پہ چلیں گے ” ہاتھوں سے جہاز بناتے ہوا میں اڑایا ۔
کیا” لوگ تو لنڈن پیرس مالدیپ جیسے ملکوں کی باتیں کرتے ہیں گھومنے کے لیے اور تمہیں یہ ” یو۔ یو گا ڈا ملا ہے ۔۔ روحا بامشکل نام لیا۔۔
ارے پگلی میرے پاس پرائیویٹ جیٹ نہیں ہے جو تمہیں اتنے بڑے بڑے ملکوں میں گھوماتا پھروں سیدھا گھر چلیں گے ” وہاں کم از کم پرائیویسی تو ہوگی یہاں تو لنڈا بازار لگا ہوا ہے۔۔”
کیا کہا آپ نے میرے گھر کو ” روحا نے غصہ ہوتے کہا۔۔
کچھ نہیں کہا بس ریڈی ہوجاؤ گھر چلنا ہے”۔۔
کل چلیں گے اب ایسے کیسے ابھی ہی نکل پڑے سب کیا سوچیں گے ” روحا بیٹھتے منہ پھلاتی بولی ۔
بس سب کا سوچتی رہنا میرا نا سوچتا کبھی” وہ بڑبڑاتے واش روم میں بند ہوا۔۔
@@@
زویا اپنے سارے کام کاج ختم کرتی کمرے میں روحان کے لیے کافی لے کر آئی روحان کمرے میں نہیں نظر نہیں آیا۔۔ وہ اسے ڈھونڈتی بلکونی تک آئی۔۔
روحان آپ یہاں ہیں ” کافی کا مگ اسکی طرف بڑھاتی بولی۔۔
روحان نے سیریس موڈ کے ساتھ چپ چاپ مگ تھام لیا تھا سامنے دیکھتا سیپ لینے لگا۔۔
کیا ہوا ہے ” اسکا چہرہ دیکھتی بولی ۔
کچھ نہیں جو ہونا تھا ہوگیا ” تم نے کونسا بتانا ضروری سمجھا مجھے” طنزیہ کہا گیا مگر وہ سمجھ گئی۔۔
اوہ تو اس بات پہ موڈ اوف ہے ” وہ تو میں آپکو بتانے والی تھی مصروفیت ہی اتنی تھی آپ بھی کافی بزی تھے تو اس لیے مگر آپ تو برا ہی مان گئے مگر ابھی گھر میں تو میں نے کسی کو نہیں بتایا اپنی پریگنینسی کے بارے میں ” بس ابھی آپ سے ہی ذکر کیا ہے ۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے سر جھکائے بولی۔۔
روحان مسکرایا اور اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔ تو میری جان پریشان کیوں ہو رہی ہو میں بہت خوش ہوں یہ نیوز سن کر میں تو بس مذاق کررہا تھا ۔۔ اسے خود میں بھینچے کہا۔۔
ہاں تو آپکے مذاق نے میری جان ہی نکال دی تھی ۔۔
وہ سینے پہ سر رکھے ایک ہاتھ کا مکا بناتی اسکے سینے پہ مارتی بولی ۔۔
تو روحان نے اسے مزید خود میں بھینچا تھا ۔
@@@
کچھ ماہ بعد زویا کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی سب بہت ہی خوش تھے ۔۔
روحا بھی آئی تھی ملنے کے لیے اور اپنے بھتیجے کو دیکھنے اسکا روحا نے رکھا تھا۔۔
زیحان ” اسے یہ نام بہت پسند تھا اور اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اب روحان کے بچہ کا نام وہ ہی رکھے گا ۔۔
چھو ٹے سے زیحان کو روحا اپنی گود میں لیے بیٹھی تھی ۔۔ سیما بھی اسکے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔
ماما کتنا پیارا ہے نا ” اور یہ مجھے شرارتی بھی بہت لگ رہا ہے۔۔ روحا نے پاس بیٹھی اپنی ماں سے کہا ۔۔
ہاں بہت زیادہ پیارا تمہاری طرح ۔۔ اللہ تمہیں ایسی ہی پیاری اولاد سے نوازے “
آمین” روحا نے دل سے کہا تھا کیونکہ ابھی تک اولاد جیسی نعمت سے محروم تھی شادی کو ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا۔۔
اور زارون کو بھی ” زارون کا نام لیتے کہا سیما نے۔۔
زارون بھائی کو ” انکے ہاں ماشاءاللہ سے دو بیٹیاں ہیں پیاری سی” روحا نے انکی بات نا سمجھتے ہوئے کہا۔۔
میں بیٹے کی بات کررہی ہوں اللہ زارون کی یہ کمی بھی پوری کردے ” سیما نے اسے اپنی بات سمجھاتے کہا۔۔
مگر ماما ابھی زارا بہت چھوٹی ہے اور عروش بھی ” اور ہوجائے گا بیٹا بھی” زارون بھائی تو ان پہ اپنی جان چھڑکتے ہیں مت سوچا کریں ایسی باتیں اولاد نا ہونے سے تو بہتر ہے” روحا نے اپنی ماں کو ٹوکتے کہا۔۔
پیچھے زرتاج نے انکی باتیں سن لی تھی وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔۔ اسے واقعی اپنی ساس کی باتوں سے دکھ ہو رہا تھا۔۔
زارون نے کبھی اسے اس بات کا احساس نہیں ہونےنہیں دیا کہ انکی صرف بیٹیاں ہیں بیٹا نہیں وہ جان چکی تھی کہ اب وہ دوبارا ماں نہیں بن سکے گی اور زارون نے اس سے چھپایا تھا مگر اس نے ایک دن اپنی میڈیکل رپورٹس پڑھ لی تھی ۔۔ زارون کا مقام اسکی نظروں میں مزید بلند ہوچکا تھا اب لوگ چاہے کچھ بھی کہیں اسے پرواہ نہیں کسی اب ” ۔۔
@@@
عروش اور یوسف سکول جانے لگے تھے زارا دو سال کی تھی ۔۔
یوسف سکول سے آتے ہی زارا سے کھیلنے لگ جاتا تھا اسے وہ چھوٹی سی گڑیا بے حد پسند تھی ۔۔
عروش ابھی ڈول لیکر نیچے بیٹھی ہی تھی کہ نو ماہ کا زیحان کرولنگ کرتا اسکے پیچھے آیا اور اسکے بال پکڑ لیے ۔۔ عروش نے تو شور ڈالنا ہی شروع کردیا ۔۔ مگر وہ اسکے بال چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا عروش کی آنکھوں سے تو آنسوں جاری تھے اسکے بال زیحان کی سخت گرفت میں تھے۔۔
یوسف نے بہت کوشش کی وہ اسے چھوڑ دے مگر وہ مزید اپنی میٹھی زور سے بھینچ لیتا ۔۔اتنے میں زویا اور زرتاج بھاگی چلی آئی زویا نے بامشکل اسکے ہا تھوں سے عروش کے بال چھڑوائے۔۔ اور وہ ہنس رہا تھا۔۔ اور عروش کا رورو کر برا حال تھا۔۔
زویا کیا کھا کر پیدا کیا ہے اسے اتنا سا ہے اور عروش کی چیخیں نکلوا دیتا ہے”
پتا نہیں میں خود اسکی شرارتوں سے پریشان ہوں اپنے چاچو پہ گیا ہے” شرارتوں میں” زویا نے زیحان کو اٹھاتے کہا ۔۔
ماما اسکو دور رکھا کریں میرے سے میرے سارے ٹوئز توڑ دیتا ہے اور میری ڈولز کے بال بھی خراب کردیتا ہے ” عروش نے چلاتے کہا تھا۔۔
زارا نے تو کبھی تنگ نہیں کیا کھیلتی رہتی ہے میرے ساتھ ہم تو بیسٹ فرینڈز ہیں عروش زارا کے ساتھ بیٹھا ہوا بولا۔۔
جبکہ زارا نے اسکی گاڑی کا ٹائر نکال کر ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔۔
اور یوں ہی انکی چھوٹی موٹی لڑائیاں اور محبتیں انکے ساتھ بھی پروان چڑھی۔۔
ختم شد ۔۔۔
