88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Last Episode Part 1

یہ تمہارا بہت ہی اچھا فیصلہ ہے میں بہت خوش ہوں گر تمہیں احساس ہوگیا ہے کہ روحان تمہارا نہیں ہو سکتا ۔۔
اب میری مانو تو جلد ہی شادی کرلو اب ۔۔
کمال حیدر کو جب آئرہ نے بتایا کے اس کی اور روحان کی ڈیوورس ہوگئی ہے تو وہ بہت خوش ہوئے آئرہ کے اس فیصلہ سے ۔۔
نہیں پاپا ابھی تو میں اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی فلحال تو میں یہ ملک ہی چھوڑ کر جا رہی ہوں واپس امریکہ خالہ جان کے پاس ” اس نے کمال صاحب کو صاف انکار کردیا۔۔
مگر بیٹا میں یہاں اکیلے کیسے رہوں گا تمہارے بغیر اور یہ اتنا بڑا بزنس بس تمہارا ہی تو ہے ” وہ اسکے فیصلہ سے کچھ پریشان سے ہوئے۔
پلیز پاپا مجھے کچھ سپیس چاہیے ابھی کسی بھی موڈ میں نہیں ہوں ایک ویک بعد میری فلائٹ کنفرم ہوگئی ہے۔۔ وہ کہتی رکی نہیں اور اپنے کمرے میں چلی آئی ۔
یہ تمہاری وقتی پریشانی ہے دکھ نہیں جلد ہی تم اس ٹراما سے نکل آؤ گی ۔۔ کمال صاحب پرسوچ انداز میں خود سے بولے۔
@@@
روحا کو آئے ہوئے کافی دن ہو گئے تھے آج انہوں باہر گھومنے کا پلان بنایا تھا ۔۔ شام کا وقت تھا ۔۔
وہ لوگ سی سائیڈ پہ تھے ۔۔ زارون زرتاج ،روحان زویا اور روحا باقی بڑے سب ہی گھر تھے ۔۔
ساحل کے ایک سائیڈ پہ چادر بچھا کر اس پہ کچھ کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا تھا ۔۔ روحا بچوں کو ساتھ لیے بیٹھی ان کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔۔بچے کافی اٹیچ ہو ہوگئے تھے اس سے ۔۔
گھوم پھر کر سب ایک جگہ اکٹھے ہو کر بیٹھ گئے ۔۔ زرتاج نے زارا کو اٹھا لیا وہ رو رہی تھی ۔۔ اسکا فیڈر کہاں ہے زرتاج نے روحا سے پوچھا۔۔
یہی تو میں تم سے پوچھنے والی تھی یہاں تو نہیں ہے ” روحا نے جواباً کہا۔۔
اچھا میں گاڑی میں دیکھتی ہوں وہیں ہوگا ” زرتاج نے عروش کو روحان کے حوالے کیا اور کھڑی ہوگئی ۔۔
تم کہاں جا رہی ہو” زرتاج کو جاتا ہوا دیکھ زارون نے پوچھا ۔۔
میں گاڑی سے عروش کا فیڈر لینے جا رہی ہوں ” اتنا کہتی وہ چل پڑی ۔۔ زرتاج روڈ پہ کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ رہی ابھی وہ سڑک پہ چڑھی تھی کہ کچھ لوگ وین میں اسکی تاک لگائے بیٹھے تھے ۔۔ زرتاج کو سڑک پہ اکیلے آتا ہوا دیکھ انہیں موقع ہاتھ آگیا ۔۔انہوں نے وین اسٹارٹ کی۔۔
ایک دم سے ایک وین زرتاج کے پاس آرکی ۔۔ زرتاج کی چیخ نکلی تھی اپنے اتنے قریب گاڑی آتا ہوا دیکھ۔۔
سب زرتاج کی متوجہ ہوئے ۔۔اتنے میں کچھ لڑکے وین سے نکلے اور زرتاج کو زبردستی وین میں میں دھکیلا ۔۔
زارون اور روحان فوراً سے دوڑ لگا دی انکے پیچھے ۔۔جب تک وہ سڑک پہ پہنچے وین زرتاج کو لیے نکل چکی تھی۔۔
شٹ ۔۔ زارون نے سر پہ ہاتھ مارا ۔۔ جلدی گاڑی میں بیٹھو پیچھا کرو انکا ۔۔ روحان فٹ سے گاڑی میں بیٹھا زارون بھی اسکے ساتھ بیٹھا ۔۔ روحان نے گاڑی وین کے پیچھے لگادی ۔۔
زرتاج ۔۔ زرتاج کو کون لے گیا ۔۔ روحا نے روتے ہوئے پریشانی سے کہا زویا سے ۔۔ زویا بھی زرتاج کو یوں جاتا دیکھ رونے لگ گئی تھی ۔۔ تب ہی اسکے ذہن میں روحان کی بات آئی تھی کہ ارحم اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔
ارحم ” یہ سب ارحم کا کیا دھرا ہے”زویا نے اپنے آنسوؤں صاف کرتے کہا۔۔
ارحم مگر کیوں ” روحا نے روتی ہوئی زارا کو سینے سے لگاتے کہا۔۔
روحان گاڑی تیز چلاؤ یہی سے گئے تھے وہ لوگ ۔۔ زارون نے پریشانی سے باہر دیکھتے کہا وین انکی آنکھوں سے اوجھل ہو چکی اب وہ ٹریفک میں آچکی تھے اور اسی رش کا فائدہ اٹھاتے وین انکی آنکھوں سے دور نکل گئی ۔
مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا زارون ” ہر طرف گاڑیوں میں پھنسے روحان نے کہا۔۔
زارون پیچھے بچے زویا اور روحا کو ہم اکیلے چھوڑ آئے ہیں ” روحان کو اب زویا اور روحا کی بھی فکر ہونے لگی۔۔
تم جاؤ انکے پاس گاڑی مجھے دو میں دیکھتا ہوں ” زارون نے فٹ سے کہا۔۔
زارون ہمیں پولیس کی مدد لینی چاہیے خود ہم ٹائم برباد کررہے ہیں ” روحان نے اسے آرام سے سمجھاتے کہا۔۔
مگر روحان یہ میری عزت کا معاملہ ہے” میں پولیس کے رحم و کرم پہ نہیں رہ سکتا وہ کبھی جلدی ہماری مدد نہیں کریں گے”
میں سمجھ سکتا ہوں زارون مگر اس وقت ہوش سے کام لینا بہت ضروری ہے ۔۔ میں نے اس وین کا نمبر نوٹ کرلیا تھا ۔۔ تمہارا دوست ایس پی بھی تو ہے اور ہم جانتے بھی ہیں یہ کام اس کمینے ارحم کا ہے ہم جلد ہی اسکا تعاقب کر کے اسے پکڑ لیں گے رات ہونے سے پہلے ہی ہم زرتاج کو ڈھونڈ نکالے گے ۔۔ روحان نے بڑے تحمل سے زارون کو سمجھاتے گاڑی کو بیک کی طرف لیا تاکہ وہ زویا اور بچوں کو اٹھا سکے اور انہیں گھر چھوڑنے کے بعد ایکشن لیں۔۔
گاڑی کو واپس آتا دیکھ دونوں بچوں کو اٹھائے سڑک پہ آئیں ۔۔
زرتاج کہاں ہے گاڑی خالی دیکھ زویا نے چلا کر کہا۔۔
زویا پلیز گاڑی میں بیٹھو روحا تم بھی آؤ بیٹھو ٹائم نہیں ہے سوال جواب کا ” روحان نے کھڑکی سے سر نکال کر انہیں گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔
وہ بیٹھ گئیں ۔۔
روحان پلیز زری کو جلدی ڈھونڈو ” زویا نے پچھلی سیٹ پہ بیٹھتے کہا۔۔
زویا پلیز ایسے تم حوصلہ ہار جاؤ گی تو باقیوں کو کون سنبھالے گا ۔۔ روحان نے کہا۔۔ زارون خاموش ہی بیٹھا تھا روحان کیساتھ فرنٹ سیٹ پہ اسکا دھیان صرف زرتاج کی طرف تھا ۔۔ غصہ سے اسکی رگیں تنی ہوئی تھی وہ ارحم کو آج بخشنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا۔۔
@@@
ہاہا۔۔ گڈ جاب منہ مانگی قیمت ملے گی آج تم لوگوں کو ۔۔ میں آ رہا ہوں دھیان رکھنا تھا کسی کو پتہ لگ پائے کے ” ارحم نے قہقہہ لگاتے کہا اور کال کاٹ دی۔۔
آہ کتنا تڑپو گے آج تم زارون تمہاری عزت تو میرے قبضہ میں ہے ” آج رات خوب گزرے گی میری کبھی اس رات کا خواب سجایا تھا زرتاج کیساتھ ایسے نہیں تو ایسے ہی سہی ۔۔ سارے بدلے لوں گا آج میں اپنے تم سے زرتاج سہہ نہیں پاؤ گی” آئی ایم کمنگ” ۔۔ ہاہا ” اپنے گھٹیا عزائم کو سوچتےقہقہ لگایا۔۔
ابھی وہ گھر سے نکلنے کے لیے مڑا کے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ دنگ رہ گیا ” تم “
ہاں میں حیران ہو گئے یا پریشان ” مجھے دیکھ کر لگتا ہے خوشی نہیں ہوئی “..
نن۔۔ نہیں تو ۔۔ میں حیران تو ہوں اور خوش بھی مگر میں آرہا تھا ایک دو دن میں تمہارے پاس بہت یاد آ رہی تھی تمہاری” آئی مس یو سو مچ ۔۔ اپنی بیوی کو اچانک سے سامنے کھڑا دیکھ اس نے بہانا گھڑا ۔۔
کہیں جا رہے تھے” وہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے بولی۔۔
ہاں۔۔ہاں وہ ایک کلائنٹ کے ساتھ ڈنر تھا ” میرا مگر اب تم آ گئی ہو سب کینسل کردیتا ہوں ۔۔میرے لیے تو تم بس امپورٹنٹ ہو۔۔
بڑی مہارت سے جھوٹ بولتا اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔
نہیں تم جاؤ ” ضروری ہوگا نا ۔۔ اٹس اوکے میں یہیں ہوں۔۔ ” وہ اس سے الگ ہوتی بولی۔۔
ضروری تو بہت ہے مگر تم سے زیادہ نہیں” اسکا ہاتھ تھامتے لہجہ میں پیار سموئے کہا۔۔
تو پھر ٹھیک ہے تم پہلے اپنے کام نمٹا لو ” میں تھکی ہوئی ہوں ریسٹ کروں گی”
اوکے تم ریاست کرلو” مسکرا کہا اسکے چہرے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
کب تک آؤ گے “
ہو سکتا ہے تھوڑا وقت زیادہ لگ جائے بزنس میٹنگ بھی
ہے” اوکے بائے ۔۔ آکر بات کرتا ہوں” کہتے وہ نکل گیا وہاں سے ۔۔
ارحم کے وہاں سے نکلنے کے تھوڑی دیر بعد ارحم کی بیوی بھی اسکے پیچھے نکلی ارحم گاڑی لیکر نکلا باہر وہ بھی دروازے سے باہر نکل آئی دروازے کے کچھ فاصلے پہ ٹیکسی کھڑی تھی جس میں کوئی شخص پہلے سے موجود تھا وہ بھی اس ٹیکسی میں بیٹھ گئی ڈرائیور اس کالی گاڑی کا پہ پیچھا کرو ۔۔
وہ ائیر پورٹ سے ٹیکسی سے آئی تھی کسی کے ساتھ۔۔ ارحم کو بنا بتاۓ آئی تھی ۔۔اور ٹیکسی اس نے گھر کے باہر ہی روکی ہوئی تھی ۔۔ وہ شخص اسے ارحم کے ارادوں سے باخبر کرچکا تھا اب اسے رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتی تھی۔۔
@@@
گھر میں کہرام مچ گیا تھا اچانک سے یاللہ میری بچی کو اپنی امان میں رکھنا سفینہ ہاتھ دعا کے لیے اٹھاتے کہا۔۔
ماما آپ فکر نا کریں بس دعا کریں زری کے لیے زارون اور روحان گئے ہیں انشاللہ وہ زرتاج کو لیکر ہی آئیں گے۔۔زویا نے اپنی ماں کو گلے سے لگاتے تسلی دی
اب کوئی نئی بدنامی کا داغ یہ لڑکی اپنے سر لیکر آئے گی۔۔ سیما نے عادت سے مجبور ہوتے طنز کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔۔
سیما اگر بچی کے لیے دعا نہیں کرسکتی تو بدعا بھی مت کرو تم ” انشاللہ ہماری عزت محفوظ ہی رہی گی ” عالم صاحب نے سختی سے اپنی بیگم کو ٹوکتے کہا۔۔
ماما پلیز آپ زرتاج کے لیے دعا کریں اسکی چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں اسے کچھ نا ہو” روحا نے بھی روتے ہوئے کہا اسے زرتاج کی بہت فکر ہو رہی تھی ناجانے کس حال میں ہوگی ۔
@@@
روحان اور زارون اس وقت پولیس اسٹیشن بیٹھے تھے۔۔
اگر ایسا خطرہ تھا تو آپ لوگوں کو پہلے بتانا چاہیے تھا ہم اس پہ نظر رکھتے اور اسکی کاروائی کو بہت پہلے ہی روک چکے ہوتے ۔۔ زارون تم فکر نا کرو ہم اس گھٹیا انسان کو بہت جلد ڈھونڈ نکالے گے لگتا ہے پچھلی مار بھول گیا مگر تم فکر نا کرو اب ایسی مار ماروں گا ساری زندگی نہیں بھولے اور بھول کر کبھی تمہارے آس پاس بھی نہیں بھٹکے گا”
ایس پی جو کہ زارون کا دوست بھی تھا اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔
زندگی رہے گی تو بھٹکے گا نا ایک بار میرے ہاتھ لگ جائے سیدھے قبر میں اتاروں گا ۔۔ زارون نے طیش میں آتے چلاتے کہا۔۔
زارون ہوش میں آؤ سزا دینے کا کام قانون کا ہے اور وہ بچ نہیں پائے گا قانون کے ہاتھوں سے” وہ کوئی پروفیشنل کڈنیپر نہیں ہے اسکی لوکیشن ابھی ٹریس ہوجائے گی جہاں اسکی لوکیشن ٹریس ہوگی وہیں زرتاج ہوگی ” اسکا نمبر حاصل کرلیا ہے ابھی اسکی لوکیشن بھی ٹریس ہورہی تم زرا اپنے غصہ کو قابو میں رکھو” ایس پی نے پرسکوں کرتے کہا ۔
سر لوکیشن ٹریس ہوگئی ہے ” حوالدار فوراً بھاگا چلا آیا”
دیکھا چلو میرے ساتھ اور زارون تم کنٹرول میں رکھنا خود کو ” ایس پی نے اپنی پسٹل اٹھاتے پاکٹ میں رکھتے کہا زارون کی نظر اسکی پسٹل پہ ہی تھی ۔
حوالدار گاڑیاں تیار ہیں سب اکٹھے ہیں”
ییس سر ” سب ریڈی ہے اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے” حوالدار نے اپنے پروفیشنل انداز میں کہا۔۔
گڈ لیٹس گو” چلو زارون اور روحان ہمارے ساتھ ۔۔
وہ لوگ بھی پولیس وین میں بیٹھ گئے۔۔
راستہ سے اتنی ساری پولیس کی گاڑیاں گزر رہی تھی آئرہ اپنی گاڑی میں بیٹھی ساری گاڑیاں گزرتا دیکھ رہی تھی اچانک اسکی ایک وین پہ نظر پڑی جہاں روحان فرنٹ سیٹ پہ انسپیکٹر کے ساتھ بیٹھا ہوا اسے نظر آیا۔۔
اوہ روحان ” کوئی پروبلم نا ہوگئی ہو اسکے ساتھ ” آئرہ نے پریشانی سے سوچا ۔
@@@
وہ ایک ویران سے علاقے میں داخل ہوا ۔۔ جہاں ایک بلڈنگ زیر تعمیر تھی ۔۔ رات ہونے کے باعث کنسٹرکشن کا کام بند تھا ۔
اسکے ہی پیچھے ارحم کی بیوی ٹیکسی کے ساتھ آ ئی اس نے ٹیکسی پیچھے ہی روک دی ۔۔ تاکہ وہ اسکی نظر میں نا آجائے ۔۔
انہوں نے ٹیکسی والے کو پیسے دیتے اسے روانہ کیا ۔۔
اور پیدل چلنے لگے ۔۔ ارحم اپنی گاڑی سے اتر کر بلڈنگ میں گھس گیا ۔۔ وہ بھی دبے پاؤں اسکے پیچھے تھے۔۔
زرتاج کو ایک کرسی پہ باندھا گیا ۔۔ حال میں پیلے بلب کی روشنی جل رہی تھی۔۔وہ اس وقت نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔۔ چہرے پہ مار کے نشان تھے ۔۔
زرتاج کو اس حالت میں دیکھ ارحم اسکے پاس آیا۔۔
چچ چچ چچ۔۔ کیا حالت ہوگئی بیچاری کی “اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑتے اونچا کیا۔۔ بند آنکھوں کو ہلکا سا کھولا تھا۔۔
” میں تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا پھولوں سے سجی سیج پہ اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ مگر اب نہیں اس زارون کی چھاپ لگی ہے تم پہ ” نخوت سے کہتے اسکا چہرہ جھٹک دیا۔۔
پھر زمین پہ اسکے مقابل بیٹھا ۔۔
مگر ” آج تم میری بنو گی” ایسے نا تو پھر اس طرح ہی سہی ” شیطانی ارادے ظاہر کرتے شیطانیت سے مسکرایا ۔۔
زرتاج نے پوری آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا منہ پہ پٹی لگی ہونے کے باعث وہ بول نہیں رہی تھی مگر اپنے آپ کو رسیوں کی جکڑ سے چھڑوانے کی بھرپور کوشش کررہی تھی تاکہ اسکا منہ نوچ لے۔۔
اسکے پاس تین چار بدمعاش بھی کھڑے تھے”..جو بولے ۔
اور ہمارا حصہ”
پہلے میں اپنا حصہ وصول کرلوں پھر تم لوگوں کی” ارحم نے کھڑے ہوتے کہا۔۔ پیچھے اسکی بیوی شزا نے سب سن رہی تھی اسکی شیطانی چہرہ دیکھ لال پیلی ہوگئی تھی اب اس سے رہا نا گیا ۔۔ اور تالیاں بجاتی اسکے سامنے آئی۔۔
واہ ۔۔ واہ ۔۔
مسٹر ارحم خان ” بہت ہی نیک انسان تھے تم میری نظروں میں اصل میں تم تو انتہائی گھٹیا انسان نکلے ۔۔
تم یہاں کیا کررہی ہو” لال انگارہ آنکھوں سے اسے گھورتے بجائے شرمندہ ہونے کے اکڑتے کہا۔۔
تمہارا مکرو اور فریبی چہرہ دیکھنے کے لیے یہاں آئی ہوں” تم کیا سمجھتے ہو میں تم سے انجان ہوں ” چھوڑ دو اس لڑکی کو ورنہ میں پولیس کو بلا لوں گی” اسے دھمکاتے کہا
اچھا تم اس قابل رہو گی تب نا ” تمہارا قصہ بھی یہیں تمام کردیتا کسی کو کیا پتا تم کہاں ہو” اور تمہاری ساری جائیداد بھی میری تمہارے نام کا کوئی چھوٹا سا ٹرسٹ بنوا دوں گا”.. ہاہاہا”..
اچھا یہ تمہاری خام خیالی ہے ” میں اسکا بھی بندوبست کر چکی ہوں ” اگر مجھے کچھ ہوا تو میری ساری پراپرٹی ٹرسٹ کو چلی جائے گی دبئی والی تو ساری میں ٹرسٹ کو دے آئی ہوں اور یہاں کی بھی چلی جائے گی “
ارحم کے تو جیسے پلان پہ پانی پھیر دیا اسے غصہ تو بہت آیا اس پہ۔۔
کوئی بات نہیں مجھے بھی بس اپنا مقصد پو را کرنا تھا سو وہ میں آج پورا کرنے جا رہا ہوں ” مگر زندہ تو تم بھی نہیں رہو گی کیونکہ تمہاری زندگی میرے لیے خطرہ ہے اب ” ارحم نے کہتے ہی پسٹل اس پہ تان لی دوسرے ہی لمحہ ایک فائر گونجا”
آصف جو ارحم کی بیوی کو یہاں تک لایا تھا مگر وہ سامنے نہیں آیا چھپا ہوا تھا اس نے موبائل کے ذریعے ویڈیو ریکارڈ کرلی مگر اسے یہ امید نہیں تھی کہ ارحم اسے جان سے مار ڈالے گا”..
ارحم کی بیوی کی لاش زمین پہ پڑی تھی۔۔ زرتاج کی آنکھیں ابل کر باہر آئی تھی زمیں پہ گری ہوئی خون سے لت پت اس عورت کی لاش دیکھ اور اسکے ساتھ کھڑے دوسرے لڑکوں کے بھی ہوش اڑے تھے۔۔
باس یہ کیا کردیا مار دیا اسے ” ایک نے کپکپاتے لہجہ میں کہا۔۔
بدمعاش ہو کر ڈر رہے ہو حد ہے” کھولو اس لڑکی کو ” اب اسکی باری ہے ۔۔
ارحم نے زرتاج کی طرف اشارہ کرتے کہا۔۔
ابھی لڑکا زرتاج کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ہر طرف پولیس کا سائرن گونجنے لگا ۔۔
پولیس ۔۔” وہ سب ادھر اُدھر بھاگے تھے سوائے ارحم کے پریشان تو وہ بھی ہوا مگر زرتاج کو دیکھتے مکرو ہنسی ہنسا ” وہ اسی کے ذریعے سے نکلے گا یہاں سے ..
زرتاج کی جیسی جان میں جان آئی تھی”..اس نے شکر کیا تھا کہ بچنے کی امید نکلی مگر زمین پہ پڑے اس بےجان وجود پہ ترس آیا جو اسکی وجہ سے جان سے گئی۔۔
ارحم نے زرتاج کے سر پہ پسٹل تان اسکے ہاتھ کھول دیے اگر تم اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہلی تو اسکی طرح تمہیں بھی نہیں بخشوں گا ” وہ اس وقت ایک حیوان کا روپ دھار چکا تھا جسے انسانیت کی کوئی قدر نہیں رہی۔۔
ارحم گیم از اوور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردو ” سارے پولیس اہلکار کے ساتھ اس کے سر پہ آتے ایس پی نے کہا ۔۔
نہیں انسپیکٹر ” اگر کسی نے پاس آنے کی کوشش کی تو میں اسے جان سے مار دوں زرتاج پہ پستول تانے کھڑا بولا۔۔
سر وہ دیکھیں زمین پہ ” ایسے میں سپاہی نے زمین کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔۔
اوہ مائے گاڈ ” چیک اٹ ۔۔ شی از آ لائو ۔۔ ایس پی نے افسوس سے کہا۔۔
سر شی از ڈیڈ ” ایک حوالدار نے نبض چیک کرتے کہا۔۔
ارحم ” یو باسٹرڈ تم قانون سے نہیں بچ سکتے اب ” تمہیں تو ڈبل کیس میں اندر کروں گا ایک قتل اور دوسرا اغوا کا” تختہ دار پہ لٹکاؤں گا تمہیں میں۔۔
ہاہا” پکڑ سکو گے تب نا مجھے یہاں سے جانے دیا جائے ورنہ اسکا گیم ختم کردوں زرتاج کے سر پہ پستول رکھتے اسے کرسی سے کھینچ کھڑا کرلیا ۔۔ “
ہئے اسٹاپ لڑکی کو چھوڑو”
نو لیو می” پیچھے ہٹو سب وہ زرتاج کو اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ رہا تھا”
رک جاؤ ارحم ورنہ ” ابھی وہ بول رہا تھا ایک فائر کی آواز گونجی اور زوردار چیخ برآمد ہوئی تھی سب ہی ہکا بکا کھڑے تھے۔۔