59.6K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 12

زویا۔۔ زرتاج نے زویا کے پاس آکر بیٹھی ۔۔
ہاں بولو۔ زویا اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔
آج روحان بھائی کافی دیر سے گئے ہیں “
ہاں رات کافی دیر سے گھر آئے تھے اسلیے صبح دیر سے اٹھے تھے۔۔ تمہیں کوئی کام تھا۔۔ زویا نے کہا۔۔
ہاں وہ مجھے مال جانا ہے بچوں کے لیے کچھ شاپنگ کرنی ہے ۔۔ موسم چینج ہو رہا ہے سوچا ان کے لیے نئے کپڑے لے لوں۔۔۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو ابھی چلتے ہیں بچے انکی نانی دادی کے حوالے کرتے ہیں” زرتاج نے خوش ہوتے کہا..
اور دونوں چل دی مال
@@@
ارحم زارون کے آ فس سے نکل آیا.. گاڑی وہ آج خود ڈرائیو کررہا تھا..
” آج تو بہت خوشی کا دن ہے فائنلی آج میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہوں.. ” زارون کو اسکی اوقات میں لے آیا ہوں..
بھولا نہیں ہوں میں وہ دن جب تم نے جیل میں مارا تھا.. میری ماں میرے لئے تڑپتی رہی..
مجھ سے زرتاج کو چھین لیا.. ” ابھی ایک کام باقی ہے.. ” گاڑی مال کے آگے روکی تھی..
بلیک تھری پیس سوٹ پہنے ٹائی لگائی کوٹ کے بٹن بند کئے ہوئے آنکھوں پہ سن گلاسس لگائے دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالے وہ مغرور چال چلتے وہ مال کی ایک شاپ میں انٹر ہوا.. جہاں اسکی نظر زرتاج پہ پڑی..
واہ کیا حسین اتفاق ہے آج.. ” زرتاج کو دیکھتے خباثت کہا..
زرتاج زارون کے لئے پرفیوم لے رہی تھی کافی دن سے اسکا موڈ خراب ہے سوچا اسے خوش کرنے کے لیے لے لوں..
ہسبنڈ کے لئے گفٹ لیا جا رہا ہے.. اسکے بالکل پیچھے کھڑے ہوتے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تھی.. زرتاج ایک دم گھبرا کر پلٹی تھی..
گھٹیا انسان کیوں آجاتے ہو بار بار میرے سامنے نفرت ہےمجھے تم سے.. ” زرتاج نے آہستہ آواز میں دانت پیستے کہا ..
ہاہا.. نفرت.. اس سے کئی گناہ زیادہ تم سے محبت کی ہے” ارحم نے قہقہہ لگاتے خباثت سے کہا..
بھاڑ میں جاؤ ” وہ چڑ کھاتی کہتی وہاں سے نکل گئی..
ایک کی اکڑ تو توڑ دی ہے بس اب ایک کی توڑنی باقی رہ گئی ہے.. تمہارے ساتھ تو وہ حشرکروں گا کہ زارون بھی تم سے دور بھاگے گا.. مکرو عزائم لئے کہا.. اور خود کے لئے پرفیوم دیکھنے لگا..
زویا چلو یہاں سے.. زرتاج زویا کا ہاتھ پکڑتے بولی..
کیا ہوا.. زویا جو بچوں کے لیے کپڑے لے رہی تھی اسکا موڈ خراب دیکھ بولی..
تم چلو گاڑی میں بتاتی ہوں.. زرتاج اسے لئے مال سے باہر آگئی..
اب تو بتا دو لڑکی.. ہوا کیا ہے..
یار وہ ارحم پھر سے واپس آگیا ہے.. ابھی مال میں بھی ملا مجھے.. بہت ہی گھٹیا انسان ہے باز نہیں آیا ابھی تک..
تم اسے منہ مت لگاؤ ” دفعہ کرو ہم دوسرے مال میں چلتے ہیں ایوی اپنا موڈ مت خراب کرو.. ایسا گھٹیا لوگ کبھی نہیں سدھرتے.. زویا نے اسے تسلی دیتے کہا..
@@@
روحان اپنے آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ کوئی ضروری ہے فائل دیکھ رہا تھا جب اسکا انٹر کام بجا۔۔ییس۔۔ ریسور اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
سر مسٹر کمال آئے ہیں ۔۔
اوکے بھیج دو۔۔
اسلام علیکم بیٹھیں سر” مسٹر کمال حیدر کے آفس میں انٹر ہوتے ہی روحان نے پہلے سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام ۔۔ سلام کہہ کر وہ روحان کی سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئے۔۔
روحان میں شرمندہ ہوں تم سے اپنی بیٹی کی وجہ سے۔۔ میں جانتا ہوں اس نے جو حرکت کی ہے وہ بہت غلط ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔وہ جو بہت ہی کونفیڈنٹ اور سر اٹھا کر بات کرتے تھے آج انکے کاندھے جھکے ہوئے تھے شرمندگی سے سر بھی جھکا ہوا تھا۔۔
سر آپ یہ بات مجھ سے کرنے کے بجائے اپنی بیٹی کو سمجھا دیتے ۔۔ روحان مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا انہیں اپنے سامنے۔۔
ہاں وہ ٹھیک ہو جائے پھر اسے اچھے سے سمجھا دوں گا ۔۔ اور تم ابھی ڈیورس کی بات مت کرنا پہلے مجھے اس معاملے صحیح طریقہ سے ہینڈل کر لوں ۔۔ اسے اچھے سے سمجھا لوں ۔۔ اور یہ معاملہ سیکرٹ ہی رہے ابھی تو اچھا ہے بیٹی کی اگلی زندگی کا معاملہ ہے ۔۔
ڈیوورس ۔۔ اس میرج کو ہی نہیں مانتا یہ بس ایک کاغذ پہ سائن تھے بس ۔۔ جو میں نے بھی حماقت میں کردیے ۔۔ اس وقت اس نے جو حرکت کی مجھے کچھ سجھائی ہی نا دیا۔۔ روحان نے جیسے مذاق اڑاتے بات کہی ہو۔۔
مگر وہ قانونی پیپرز تھے جس پہ تم دونوں کے سائن ہوئے ہیں ۔۔ فلحال تو معاملہ تو نمٹانا ہوگا ۔۔ میں چلتا ہوں۔۔وہ کھڑے ہوتے بولے۔۔
روحان خاموش رہا اس نے کوئی جواب نا دیا ۔۔
وہ جاتے جاتے پھر مڑے اور بولے ۔۔
پوچھو گے نہیں آئرہ کے بارے میں کیسی ہے ۔۔ تمہارے لیے ہی وہ اپنی جان کی بازی لگا گئی۔۔
مجھے اس سے کوئی سرو کار نہیں ۔۔ اس دنیا میں اگر کوئی شخص اس کے لیے اہم ہیں تو وہ آ پ ہوں گے مگر اسے تو آپ کی بھی پرواہ نہیں ہے تو میں کیا ہوں ۔۔
اگر اسنے مجھے قانون کے ذریعے پھسانے کی کوشش کی ہے تو اسی قانون کے ذریعہ میں اس سے چھٹکارا حاصل کرلوں گا۔۔ طنزیہ انداز میں جواب دیا تھا روحان نے۔۔ اور چپ چاپ چلے گئے۔۔
@@@
ہسپتال کے بستر پہ وہ خاموش سی پڑی تھی خالی کمرے کی دیواروں کو بس تکے جا رہی تھی کتنی خالی خالی سی تھی اسکی زندگی ۔۔ جس کے لیے اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا وہ تو پھر بھی اس سے دور ہے
جس چیز کو چاہا اس کو پالیا مگر پھر بھی زندگی میں ایک ادھورا پن تھا ۔۔ روحان کو وہ شدت سے چاہنے لگی تھی مگر وہ بھی کسی اور کا نکلا ۔۔ اسے حاصل کرکے بھی نا پا سکی۔۔ بلکہ وہ تو اس سے مزید دور چلا گیا۔۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھی اسکے کمرے کا دروازا کھلا اور کمال حیدر اندر آئے۔۔
پاپا ۔۔آپ نے روحان سے بات کی
چپ رہو آئرہ ۔۔۔ اور کتنا شرمندہ کروائو گی مجھے تم ۔۔ روحان نے اس رشتہ کو ہی ماننے سے انکار کردیا ۔۔ جس قانون کے ذریعہ سے رشتہ بنا ہے اسی قانون کے ذریعہ وہ ختم بھی کردے گا اسے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے ۔۔اس نے تو تمہاری طبیعت کا بھی پوچھنا گوارا نہیں کیا۔۔ تمہیں اپنے باپ کی عزت کا زرا سا بھی خیال نہیں آیا۔۔ کمال صا حب خود پہ قابو نا رکھ سکے تھے ۔۔ انکی آنکھیں بھیک گئی تھی۔۔
مگر پاپا۔۔ میں ” آئرہ بھی اپنے جذبات قابو نا رکھ سکی بولتے ہوئے اسکے آنسو بھی نکل آئے مگر کمال صاحب اسکی مزید بات سنے باہر نکل گئے۔۔
@@@
ارحم نے زارون کی کمپنی کو مزید نقصان پہنچانا شروع کردیا۔۔
اپنی مرضی سے وہ ورکر نکال رہا تھا اور رکھ رہا تھا ۔کئی پرانے ملازمین تھے جو اس نے نکال دیے ۔۔
ارحم تمہاری دشمنی مجھ سے ہے ۔۔ ان ورکر کی روزگار کو کیوں لات مار رہے ہو۔۔کیا حق پہنچتا ہے تمہیں انکو نکالنے کا ۔۔
زارون کو پتہ چلا آج مزید لوگوں کو نکال دیا گیا ہے تو وہ غصہ سے آگ بگولا ہوتا ارحم کے آفس آیا۔۔
مت بھولو زارون تم صرف تھرٹی پرسنٹ کے مالک رہ گئے یہ سوال تم مجھ سے نہیں کر سکتے۔۔ میری مرضی کے میں جسے رکھو یا نکالو ۔۔ ایک ہفتہ میں ہی ارحم نے کمپنی کا حلیہ ہی بدل ڈالا تھا ۔۔
تم بہت غلط کر رہے ہو۔۔ زیادہ دیر تک تمہارا یہ تکبر قائم نہیں رہنے والا بہت جلد ہی تمہارا بندوبست کردوں گا میں ۔۔
جب کرو گے تب سامنے آنا ۔۔ فلحال تو میرا موڈ مت خراب کرو ۔۔ارحم انتہائی مضحکہ خیز لہجہ میں کہا ۔زارون کا دل کیا اسکا منہ توڑ دے۔۔ مگر ابھی فلحال اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا تھا چپ چاپ چلا گیا وہاں سے۔۔
زارون ابھی تو تمہیں ایک جھٹکا اور دینا ہے اسکے لیے بھی تیاری کرلو۔۔ ہاہا۔۔ اسکے ارحم نے اپنے ناپاک عزائم کو سوچتے قہقہ لگایا ۔۔
@@@
آئرہ کا ایک ہفتہ سے روحان سے کوئی رابطہ نا ہوسکا ۔۔
ہوسپٹل سے وہ اگلے دن ہی ڈسچارج ہو گئی تھی ۔۔ مگر روحان کی بے حسی پہ خون کھولتا تھا جس کی وجہ سے اس نے اپنی جان داؤ پہ لگا دی تھی ۔۔
کورٹ میرج کے پیپر اسکے ہاتھ میں تھے جو رجسٹر بھی ہوچکے تھے۔۔
روحان کا نمبر مسلسل پاورڈ آف جا رہا تھا۔۔ وہ نمبر چینج کر چکا ہے ۔۔۔ اس بات پہ اسے مزید غصہ آرہا تھا۔۔ اتنے دنوں سے وہ گھر میں بند تھی۔۔
روحان تم ابھی مجھے جانتے نہیں میں کر کیا کیا سکتی ہوں۔۔ میں بھی آئرہ کمال ۔۔ نہیں آئرہ روحان ملک ۔۔ہہم اس بات پہ وہ تمسخر اڑاتے ہنسی ۔۔
اپنے ڈریسنگ روم میں گئی وہاں سے اچھے بلیک جوڑے کا انتخاب کیا ۔۔ چینج کر باہر آئی ۔۔ لائٹ سافٹ سا میک اپ کیا۔۔شیشہ میں اپنا مکمل جائزہ لیا بلیک کلر کی لانگ فراک پہنے سافٹ سا میک اپ کیے سنہری بالوں کو کھلے چھوڑے وہ حسیں لگ رہی تھی بلیک روحان کا فیورٹ کلر تھا اس لیے اس نے بلیک کلر کا ہی انتخاب کیا۔۔ گاڑی کی چابی لیے باہر نکل پڑی۔۔
@@@
روحان اپنے آفس میں ہی تھا جب اسکا انٹر کام بجا ” ییس ۔۔
سر مس آئرہ کمال آئی ہیں ۔۔مقابل کی آواز سنتے ہی اسکے ماتھے پہ تیوری ” چڑھی اوکے بھیج دیں..
کیوں آئی ہو تم یہاں ” اسکے آفس میں انٹر ہوتے وہ بھڑک اٹھا تھا۔۔
میں تم سے ملنے آئی ہوں مائے ڈئیر ہبی۔۔ ” وہ مسکراتے ہوئے اسکے سامنے آتے بولی ۔۔
اب کیا چاہتی ہو تم” روحان نے دانت پیستے کہا۔۔
تم ” صرف تم” اسکے سامنے کورٹ میرج کے پیپر رکھتی بولی۔۔
روحان نے اٹھا کر دیکھا تو اسے مزید طیش آیا۔۔
جتنے مرضی ایسے پیپرز بنوا لو مگر میرے سامنے ان کاغذ کے ٹکروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔انتہائی گری ہوئی لڑکی کیساتھ میں کوئی تعلق رکھنا پسند نہیں کرتا ۔۔
روحان نے طنزیہ وار کیا۔۔۔
تعلق رکھو یا نا رکھو مگر میں تمہاری بیوی ہوں ۔۔ قانونی حیثیت سے ۔۔ آئرہ اسکے قریب آتے کہا۔۔
دور رہ کر بات کرو مجھ سے ۔۔ میری بیوی صرف زویا ہے” زویا کے نام سے اسے تپ چڑھی تھی ۔۔
اور تمہاری بیوی کو میں یہ کاغذ دکھا دوں تو”.. دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا اس نے۔۔
شٹ اپ تم اس طرح کی کوئی گھٹیا حرکت نہیں کروں گی۔۔ورنہ میں تمہارا گلا دبا دوں گا۔۔ روحان کو آئرہ کی اس بات پہ شدید غصہ آیا تھا۔۔
روحان میں نے جو بھی کیا ہے تمہاری محبت میں کیا ہے ” پلیز مت کرو ایسا میرے ساتھ” وہ ملتجی لہجہ میں بولی ۔۔
محبت نہیں ہے یہ آئرہ ضد ہے یہ ۔۔ جس سے میرا سکون اور گھر برباد ہو جائے گا۔۔ وہ بھی اب زرا تحمل سے بولا کے اسے سمجھا سکے۔۔
اسکا انٹر کام پھر سے بجا ۔۔ اسنے ریسور کان سے لگایا۔۔
سر آپکی وائف مس زویا آئی ہیں۔۔
واٹ ” اچھا انہیں تھوڑی دیر کے لیے روکو میں”
سر وہ آپ کے آفس کی طرف آرہی ہیں انہوں نے مجھ پوچھا نہیں ۔۔”
اوکے ۔۔ روحان نے ریسیور رکھتے آئرہ کا بازو پکڑ تے اسے آفس کے ساتھ والے روم میں بند کیا۔۔روحان یہ کیا کررہے ہو” ۔۔مگر روحان اسے روم میں دھکیلتے گیٹ لاک کر چکا تھا۔۔ اس دروازے پہ شیشہ لگا ہوا تھا جس کے اندر سے باہر کا سب منظر دیکھا جا سکتا تھا مگر باہر سے اندر نہیں نظر آتا تھا۔۔
زویا تم اچانک خیریت۔۔” پیچھے مڑا تو زویا آفس میں انٹر ہوچکی تھی۔۔
صبح ناشتہ نہیں کرکے آئے تھے اس لیے اچانک چھاپہ مارا ہے ۔۔
ہاں تو میں نے آفس میں آکر ناشتہ کرلیا تھا۔۔” اور چھاپہ تو ایسے مارا ہے جیسے میں کسی اور کے ساتھ ہوں ۔۔ اسکے ” قریب ہوتے روحان کہا ۔۔
ہاں تو اور کیا ٹائم نہیں دیتے ” پتہ نہیں کہاں رہتے ہیں ۔۔ منہ بسورے کہا۔۔وہ بھی اس وقت بلیک کلر کا سوٹ پہنے ہوئے تھی ۔۔
اچھا” اسکے ہاتھ سے لنچ باکس لیتے ٹیبل پہ رکھا ۔۔ اسکا ہاتھ پکڑا اور دوسرا ہاتھ اسکی کمر میں ڈالتے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔۔
ٹائم کا کیا ہے ابھی دے دیتے ہیں ۔۔ اسکے چہرے سے اپنا چہرہ قریب تر کرتے محبت پاش لہجہ میں کہا ۔۔
روحان پیچھے ہٹیں.. کیا کر کررہے ہیں.. یہ آفس ہے گھر نہیں.. چہرہ گلنار ہوا تھا اسکی بےباک ہوتی حرکتوں سے..
تو بیوی ہو میری” وہ کہاں باز آنے والا تھا اب..
دوسری طرف شیشہ کی اوٹ سے آئرہ نے یہ سارا منظر دیکھا.. کہاں برداشت ہو رہا تھا اس سے یہ سب جی تو چاہ رہا تھا ابھی ان کے پاس جائے اور زویا کو کھینچ کر علیحدہ کردے روحان سے مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی روحان تو اس سے پہلے ہی بہت بدزن ہے..
روحان پلیز چھوڑیں۔۔ وہ ابھی خود سے اسے چھڑانے کی تک و دو میں تھی کہ وہ اسکے عنابی ہونٹوں کو قید کرگیا۔۔
یہ منظر آئرہ کے لیے دیکھنا ناقابل برداشت تھا ۔۔وہ دوسری طرف منہ پھیر گئی۔۔ ضبط سے چہرہ لال ہوا تھا
روحان کیا ہے آپ کو” وہ اس الگ ہوتی بولی چہرہ حیا سے سرخی مائل ہوا تھا۔۔
ہاں تو میرے فیورٹ بلیک کلر میں میرے سامنے آؤ گی تو کیسے کنٹرول ہوگا مجھ سے۔۔” پھر سے اسکے قریب ہوتے بولا تو وہ ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر وہاں سے نو دو گیارا ہوگئی ..
اسکے یوں بھاگنے پہ روحان مسکرایا.. پھر دھیان اس دروازے پہ گیا جہاں اس نےآئرہ کو بند کیا اس نے یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا آئرہ کودکھانے کے لیے کہ وہ صرف زویا کو ہی چاہتا ہے ..پھر آگے بڑھ کر دروازہ کھولا جہاں وہ رخ موڑے کھڑی تھی..
باہر آؤ.. سرد سی آواز میں کہا. وہ اسکی طرف مڑی چہرہ ضبط سے سرخی مائل ہوا تھا اسکا
وہ اسکی آواز پہ ہلی تک نہیں بلکہ اسے گھور کر دیکھے جا رہی تھی صاف عیاں تھا کہ اسے پسند نہیں آیا زویا کے ساتھ اتنا کلوز ہونا..
ایسے کیا گھور رہو ..اپنی بیوی کے ساتھ تھا کیا تم چاہتی یہی سین میں تمہارے ساتھ بھی دہراؤں ..” ایک قدم بڑھ کر اسکے قریب آتے.. اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا
وہ ایک ایک قدم آگے بڑھ رہا تھا اور وہ ایک ایک قدم پیچھے لے رہی تھی یہاں تک کو دیوار کے ساتھ جا لگی .. روحان نے ایک ہاتھ دیوار کے ساتھ لگایا نظریں اسکے چہرے پہ جمائے بڑے سنجیدہ تاثرات تھے اسکے ..جبکہ آئرہ دل روحان کی قربت میں پسلیاں توڑ کے باہر آنے کو تھا..
اس نے دوسری طرف سے نکلنا چاہا تو روحان نے دوسرا ہاتھ بھی دیوار پہ رکھتے اسکا راستہ روکا..
” کیا ہوا اب بھاگ کیوں رہی ہو .. تمہاری خواہش کی تکمیل کرنے لگا ہوں ..” اب جب تم بیوی ہونے کا دعویٰ کررہی ہو تو آگے یہی خواہش بھی ہوگی..” پتھریلے تاثرات لیے انتہائی سنجیدگی سے کہا روحان نے..
روحان راستہ چھوڑو میرا مجھے جانے دو” ناجانے کیوں آئرہ کو روحان کا یہ انداز پسند نہیں آیا ..” اسکا دل گھبرانے لگا اسکی قربت میں..
کیوں ” اب ایسا کیوں کہہ رہی ہو آئی تو تم اسی ارادے سے تھی یہاں ..” روحان نے پیچھے ہوتے دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالتے کہا..
میں اس لیے آئی تھی کہ تم مجھے اپنی بیوی ایکسیپٹ کرو” آئرہ نے غصہ سے کہا تھا..
میری بیوی صرف زویا ہے” چلی جاؤ یہاں سے ” روحان نے غصہ سے پھنکارتے کہا۔۔
تو وہ چلی گئی وہاں سے ۔۔
روحان نے اسے بس دھمکانے کے لیے ایسا کیا تا کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دے۔۔