Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 14
سیزن ٹو
روحان صبح آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا ۔ زویا اس کے پاس آتی بولی۔۔
کل کیا ہوا تھا اور زارون نے کیا کیا ہے ۔۔
مت پوچھو اس نے کیا کردیا ہے” بس تم اب زرتاج کا خیال رکھو گی اسے گھر سے باہر کسی صورت بھی مت جانے دینا اور اکیلے تو اسے بلکل بھی مت نکلنے دینا اور نا ہی اسکی بچیوں کو”
مگر وہ کیوں ؟ کیا ہوگیا ہے ایسا۔۔” زویا نے تشویش سے پوچھا۔۔
وہ ارحم اس شہر میں پھر رہا ہے وہ اسے کوئی نقصان نا پہنچا دے کوئی” وہ گھر پہنتے اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
کیا؟ وہ ارحم ” زویا سوچ میں پڑ گئی۔۔
کیا؟ روحان نے کہا
کچھ دن پہلے میں اور زرتاج مال گئے تھے وہاں وہ ملا تھا زرتاج کو اور زرتاج کافی گھبرا بھی گئی تھی ۔۔زویا نے کہا ۔
کیا ۔۔ زویا تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی یہ اور زارون کو پتا ہے” روحان پہلے تو شاک ہوا تھا ۔۔
وہ میں نے بس ایسے ہی ۔۔مگر مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ
اتنے خطرناک ارادے سے پھر رہا ہے ۔۔ اور زارون کو بھی شاید نا بتایا ہو اس نے”
افف ایک تو تم لڑکیاں بھی نا پتہ کیا سمجھتی ہو خود کو ” یہ اتنی سی بات نہیں تھی تمہیں بتانا چاہیے تھا۔۔ روحان نے سخت لہجہ میں کہا۔۔
سوری مجھے بتانا چاہیے تھا ۔۔وہ سر جھکائے بولی۔۔
شکر کرو ابھی تک کوئی نقصان نہیں ہوا بس اب تم خیال کرنا اور زرتاج کو بھی بتا دینا ” وہ غصہ سے کہتے کمرے سے نکل گیا۔۔
زویا بھی اسکے پیچھے چل دی ۔۔
@@@
سب ناشتہ کی ٹیبل پہ موجود تھے زویا اور زرتاج ناشتہ لگا رہی تھی۔۔
عالم صا حب ابھی بھی کڑے موڈ کے ساتھ بیٹھے تھے ۔۔ زارون کی نظر بار بار ان پہ جا رہی تھی جنہوں نے ایک نظر تک اس پہ نہیں ڈالی تھی۔۔ روحان نے اسے آنکھوں تحمل رہنے کا اشارہ دیا۔۔
آپ ناشتہ کیوں نہیں کررہے ۔۔انہیں بس چائے ہی پیتا دیکھ سیما بولی۔۔
بس چائے پینے کی ہی نوبت آگئی اب تو کچھ بچا نہیں ہے” طنزیہ وار کیا تھا زارون پہ ۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ” سیما نے کہا وہ جان چکی تھی وہ زارون کو سنا رہے ہیں ۔
کچھ نہیں بس چائے ہی لوں گا” وہ بات ٹال گئے۔۔
زارون چپ چاپ اٹھ کر چل دیا۔۔
زارون ” روحان بھی اسکے پیچھے آیا۔۔
کیا ہے اب ڈیڈ کی طرح تم نے بھی باتیں سنانی ہیں۔۔وہ خفگی سے بولا۔۔
نہیں یار ” اتنا تو اب انکا بنتا ہے نا ” تم سے کہنا تھا ٹینشن مت لو میں کوئی ناکوئی راستہ نکال لوں گا۔۔ روحان اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا پھر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
اب زارون اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا جب زرتاج زارا کو اٹھائے اس کے سامنے آئی۔۔
زارون ” ۔۔
تمہارا موبائل وہیں ٹیبل پہ بھول آئے۔۔
تھینکس” موبائل لیتے زارا کی گال چھوئی ۔ اسے دیکھتے اس پہ بے حد پیار آیا ۔۔
اچھا شام کو جلدی آؤں گا بچوں کو بھی ریڈی رکھنا باہر چلیں گے کافی ٹائم ہو گیا اپنی بچیوں کے ساتھ اور تمہارے ساتھ ٹائم اسپینڈ نہیں کیا ۔۔
ٹھیک ہے زرتاج نے خوش ہوتے کہا۔۔اور زارون بھی مسکراتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
@@@
روحان آفس میں بیٹھا سوچ بچار کررہا تھا کہ ارحم سے کس طرح اپنے شئیرز واپس لینے ہیں ۔۔ڈائریکٹ تو کام نہیں بنے گا ان ڈائریکٹ ہی کچھ کرنا پڑے گا اسے کسی اور کی مدد لینی پڑے گی ایسے میں اسکے ذہن میں کمال حیدر کا نام گونجا ۔۔ایسے میں وہی انسان اسے مدد کرسکتا ہے۔۔اس لیے اب اس نے کمال حیدر سے ملنے کا سوچا۔۔
@@@
کمال حیدر اپنے آفس میں بیٹھے تھے جس اسے روحان کی آمد کی خبر ہوئی۔۔
آؤ روحان بیٹھو ۔۔کیسے آنا ہوا۔۔ انکے ذہن میں تھا شاید وہ آئرہ کے بارے میں بات کرے گا۔۔
سر مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔۔
بتاؤ میں کیسی مدد کر سکتا ہوں تمہاری ۔۔
سر میرے ڈیڈ کی کمپنی کو تو آپ جانتے ہوں گے ۔۔
ہاں ہاں میں بہت اچھے سے جانتا ہوں بلکہ تمہارے ڈیڈ کو بھی جانتا ہوں وہ بہت ہی اچھے بزنس مین ہیں مگر میں نے سنا ہے کہ انکی کمپنی بہت ٹربل میں ہے آج کل کافی نقصان میں جا رہی ہے ورکرز بھی نکالنے شروع کردیے ہیں ۔۔ کمال صاحب نے اسے اپنی معلومات سے آگاہ کیا۔۔
جی یہی تو ٹینشن دراصل ہماری کمپنی کو نقصان ہوا نہیں پہنچا یا گیا ہے۔۔اور روحان ساری تفصیل کمال صاحب کو بتائی۔۔
اوہ سو سیڈ یہ توبہت برا زارون کو خیال کرنا چاہیے تھا ۔۔کمال بولے۔۔
سر ہم ارحم سے اپنی کمپنی کے شیئرز واپس لینا چاہتے ہیں مگر وہ ہمیں اتنی آسانی سے نہیں دے گا اس لیے مجھے آپکی مدد کی ضرورت ہے۔۔ روحان نے کہا۔۔
پھر میں تمہاری کیا مدد کرسکتا “
سر آپ اگر وہ شیئرز خرید لیں تو پھر میں آپ سے اپنے شیئرز آسانی سے خرید سکتا ہوں ۔۔
شئیرز خریدنا کوئی آسان کام نہیں ہے ” وہ شخص تو منہ مانگے دام مانگے گا ۔۔
آئی نو ” مگر ابھی تو ضروری ہے ۔۔” اگر آپ نہیں خرید سکتے ہیں تو کوئی بات نہیں ۔۔” روحان کو تھوڑی مایوسی ہوئی ۔۔
میں منع تو نہیں کیا میں تمہیں ایک دو دن میں سوچ کر جواب دونگا” کمال صاحب نے اسے ناامید ہوتا دیکھ تسلی بخش جواب دیا ۔۔
تھینک یو سر ” اگر آپ میرا یہ کام کردیں گے تو میں بہت شکر گزار رہوں گا آپکا آپ جو بولیں گے میں کرنے لیے تیار رہوں گا ” بہت بڑا احسان ہوگا آپ کا مجھ پہ ” روحان خوش ہوتا پرجوش انداز میں بولا ۔۔اور چلا گیا آفس سے۔۔
مگر کمال حیدر کی سوئی روحان کی ایک بات پہ اڑ گئی” آپ جو بولیں گے میں کرنے کے لیے تیار رہوں گا”..
@@@
شام کو زارون اپنے وعدہ کے مطابق جلدی گھر جانا تھا ۔۔ اس لیے چھہ بجے ہی وہ آفس سے نکلنے لگا اس کا ٹکراؤ پھر سے سامنے آتے ارحم سے ہوا۔۔
خیریت ہے آج بڑی جلدی جا رہے ہو” اسے دیکھ ارحم نے کہا ۔
ہاں ” اب فیملی کو بھی ٹائم دینا ضروری ہے ” کیونکہ بزنس سے زیادہ میرے لیے ضروری میری بیوی اور بچیاں ہیں بہت پیار کرتا ہوں میں ان سے اور وہ مجھ سے۔۔ ” زارون نے بھی اسے پرسکوں ہوتے ٹکا سا جواب دیا۔۔اور چل دیا
اسکا سکون ارحم کو تو آگ لگا گیا تھا۔۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی زارون کا سکون برقرار تھا۔۔ اور وہ ابھی بھی بے سکونی کی آگ میں جھلس رہا تھا ۔۔
بس کم دن رہ گئے ہیں تمہارے اس سکون کے” ۔۔ وہ خود سے کہتا آفس کی طرف بڑھا۔۔
@@@
کمال حیدر اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھے ۔۔ وہ روحان کے بارے میں سوچ رہے ۔۔ پھر وہ آئرہ سے ملنے اسکے کمرے میں چلے گئے ۔۔وہ ڈنر کرنے کے لیے بھی نہیں آئی تھی ان کے پاس ۔۔
وہ اسکے کمرے میں گئے تو وہ بکھرے سے حلیہ میں صوفہ پہ کھوئی سی بیٹھی تھی۔۔اور نظریں کھڑکی کے پار سامنے پوری آب تاب سے جگمگاتے سفید چاند پہ تھی ۔۔
آئرہ بیٹے ۔۔ وہ اس کے سامنے آئے۔
جی ڈیڈ” وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔
آپ نے کھانا کھایا “
جی کھا لیا تھا ” وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔
کیوں کر رہی ہو ایسا اپنے ساتھ میرے ساتھ۔۔ کتنی تکلیف ہو رہی ہے مجھے تمہیں اس حالت میں دیکھ کر ۔۔ پہلی کی طرح باہر گھومو پھرو دوستوں سے چل کرو ” یوں گھر میں بند رہ کر تم سائیکو ہو جاؤ گی ۔۔ وہ اسے دیکھ پریشانی سے بولے ۔
ڈیڈ میرا دل نہیں کرتا اب ” مجھے کچھ نہیں اچھا لگتا۔۔ وہ بد دلی سے بولی ۔
بٹ وائے؟ کمال صاحب بولے
آپ جانتے ہیں سب ڈیڈ ” مجھے مجبور مت کیا کریں میرا جو دل کرے گا میں وہی کروں گی” وہ چڑکر بولی ۔۔
کمال صاحب کی پریشانی میں مزید اضافی ہوا تھا ۔۔
تو پھر کیا کروں میں تمہارے لیے اور” l
روحان” روحان چاہئے مجھے کیا آپ دے سکتے ہیں” وہ ضدی پن سے بولی۔۔
روحان کوئی کھلونا نہیں ہے جو بازار میں بکتا ہو اور میں تمہارے لیے خرید لوں اسے ” وہ اسکی ضد سے تنگ آتے بولے ۔۔
تو پھر آپ مجھے فورس مت کریں اگر میرے لیے کچھ کر نہیں سکتے تو” وہ منہ بناتی بولی۔۔
اور چپ چاپ اپنے کمرے میں چلے آئے۔۔اور روحان سے ہوئی آج کی ملاقات ذہن میں آئی اور روحان کے کہے گئے جملہ انکے دماغ میں گونجنے لگے
” اگر آپ میرا یہ کام کردیں گے تو میں بہت شکر گزار رہوں گا آپکا آپ جو بولیں گے میں کرنے لیے تیار رہوں گا ” بہت بڑا احسان ہوگا آپ کا مجھ پہ “
روحان کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر اپنی اکلوتی اولاد کی خوشی کے لیے تو کرنا تھا سب۔۔
@@@
کتنے بعد وہ دونوں آج باہر نکلے تھے ایک ساتھ وقت گزارنے..
زارون.. زرتاج نے اسے پکارا..
ہہم.. بولو..
بڑے دنوں بعد آج آپکا فریش اور اچھا موڈ دیکھا ہے”
ہاں آج میں سکون ہوں.. میرا سکون میری فیملی ہے یہ بات مجھے سمجھ آ گئی ہے ..زارون نے زارا کو گود میں اٹھائے زرتاج کو دیکھتے پیار سے کہا.. تو زرتاج مسکرادی..
@@@
ارحم اپنے آفس میں بیٹھا تھا.. جب کمال حیدر کے آنے کی اطلاع اسے ملی.. میٹنگ روم میں وہ دونوں اس وقت اکیلے بیٹھے تھے..
ارحم خان.. میں آپ سے اس کمپنی کے شیئرز خریدنا چاہتا ہوں..
مگر کیوں؟ ارحم نے کہا..
کیوں کی بہت بڑی وجہ ہے” بہت پرانی کاروباری دشمنی ہے.. اس کمپنی کے اونر مسٹر عالم ملک سے کافی پرانی ان بن ہے اگر اسے یہ پتہ چلے کہ اسکے کمپنی کے شیئرز میرے پاس
آچکے ہیں تو بیچارہ برداشت نا کرپائے دلبراشتہ ہو جائے..
وہ ارحم کا بڑی مہارت سے یقین دلا گئے کہ وہ بھی انکا دشمن ہے..
ہہم کافی دشمن پال رکھے ہیں اس کمپنی نے.. مگر میں آپ پہ یقین کیسے کروں ” ارحم نے سوچتے کہا..
آپ اس کمپنی کے کسی ورکر کو بلا کر پوچھ لیں میرے بارے میں ” کمال حیدر نے بڑے کونفیڈنس سے کہا تھا..
ارے نہیں آپ کی باتیں ہی یقین دلانے کے لئے کافی ہے.. ویسے بھی میرے پاس وقت نہیں اس کمپنی کے لئے.. ارحم کو وہ با آسانی جھانسا دے گئے..
تو پھر آپ لیگل پیپرز بنوائے جلد از جلد پھر ملتے ہیں ” وہ کہتے اٹھ کر چلے گئے..
آصف نے آفس سے باہر سے انکی ساری باتیں سنی تھی وہ جانتا تھا کمال حیدر جھوٹ بول رہا ہے ۔۔ وہ تو اسے جانتا بھی نہیں تھا اور نا ہی آج سے پہلے اس آفس میں اسکا کبھی کوئی کسی طرح کا ذکر ہوا ہے۔۔ مگر اسے ایک بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ یہ بندہ عالم صاحب کی طرف سے بھیجا ہوا لگ رہا ہے ۔۔
کمال صاحب کے جانے کے بعد ارحم نے آصف کو آفس میں بلایا ۔
یہ کمال حیدر کون ہے ۔؟ ارحم نے آصف سے پوچھا۔۔
سر یہ جو ابھی آپ کے آفس میں آئے تھے انکی بات کررہے ہیں۔۔
ہاں میں اسی شخص کی بات کررہا ہوں ۔۔
سر یہ تو عالم صاحب کے بہت پرانے حریف ہیں ۔۔ دشمن سمجھ لیں کاروباری۔۔ عالم صاحب کی وجہ سے انکی کمپنی ہمیشہ پیچھے رہی ہے وہ ہر دفعہ اچھے پروجیکٹ حاصل کرجاتے تھے۔۔ اور کمال حیدر کی کمپنی کو نقصان ہوجاتا۔۔ آصف نے بھی بات کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا
ہہم اچھا ۔۔وہ ہم سے اس کمپنی کے شیئرز خریدنے کے لیے آیا تھا۔۔ ارحم اسکی باتوں میں تقریباً آگیا ۔۔
سر کیا سچ میں یہ تو بہت بڑا دھچکا ہے عالم صاحب کے لیے بھی ۔۔وہ پہلے میرے باس ہیں سر پلیز انہیں مت ایسا دکھ دیجئے گا۔۔ آصف نے جان بوجھ کر کہا۔۔
ہہم بہت ہمدردی ہورہی ہے تمہیں ان سے ” ارحم نے اسے کڑے تیور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
نہیں سر ۔۔
کل ہی میرے ٹیبل پہ لیگل پیپرز تیار پڑے ہونے چاہئے ۔۔ارحم نے حکم صادر کرتے کہا۔۔
جی سر وہ جھکائے افسوس سے بولا مگر اندر خوش بھی تھا اب دھچکا لگنے کی باری ارحم کی ہے۔۔
@@@
ارحم کے حکم کے عین مطابق آصف نے لیگل ڈاکومنٹس تیار کروا لیے تھے۔۔
ارحم نے کمال حیدر کو اپنے فیصلے کے متعلق آگاہ کیا۔۔
کہ وہ اسے شیئرز فروخت کرنے کے لئے تیار ہے۔۔
اگلے دن کمال حیدر ارحم کے آفس موجو تھے۔۔ انہوں نے ارحم کی منہ مانگی قیمت کا چیک اسکے حوالے کیا۔۔
اور ارحم نے بھی کمپنی کے سسٹی پرسنٹ شیئرز کے ڈاکومنٹ کمال حیدر کے حوالے کردیے ۔۔
کمال حیدر نے پیپرز چیک کیے ۔۔
تھینک یو سو مچ ۔۔ ارحم خان پھر ملاقات ہو تی ہے۔۔ وہ اس سے ہاتھ ملاتے اٹھ گئے۔۔
اور ارحم یہ سمجھ رہا تھا ۔۔ اس نے مزید کوئی میدان مار لیا ۔۔آ گے اسے بہت بڑا جھٹکا لگنا تھا۔۔
@@@
کمال حیدر سیدھا روحان کے آفس چلے آئے۔۔
روحان تمہارے لیے خوش خبری ہے ۔۔ کمال حیدر بولے۔۔
وہ دونوں اس وقت روحان کے آفس میں بیٹھے تھے ۔
کیا سر ” وہ نا سمجھیں سے بولا۔۔
یہ تمہاری کمپنی سسٹی پرسنٹ شیئرز کے لیگل ڈاکومنٹس ہیں۔۔ جو میں خرید چکا ہوں ارحم سے۔۔ وہ فائل اسکے سامنے ٹیبل پر رکھتے بولے ۔۔
واٹ ۔۔ ریئلی ۔۔ کمال سر آپ نے یہ کام اتنی جلدی کر دکھایا۔۔ وہ فائل اٹھا کر دیکھتا بولا ۔۔ اسکی خوشی کی انتہا نا رہی تھی ۔۔
ہاں کرنا تو تھا اپنی اولاد کی خوشی کی خاطر۔۔ وہ مسکراتے زومعنی بولے۔۔
روحان کی مسکراہٹ پل میں تھمی ۔۔
کیا مطلب ” آپکی اس بات کا ۔۔وہ سیریس انداز میں بولا۔۔
مطلب ۔۔ یہ پیپرز ۔۔ میری بیٹی کی خوشیوں کی ضمانت ہے ۔۔ تمہیں یہ پیپرز چاہیے اور مجھے میری بیٹی کی خوشیاں جو تم سے وابستہ ہوگئی ہیں۔۔ میرے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی وہ تم سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی ۔۔ کمال صاحب نے بڑی صاف گوئی سے کہا ۔۔
یہ کیا کہہ رہے آپ ۔۔ وہ ابھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرپارہا تھا ۔۔
میں یہ کہہ رہا ہوں تم آئرہ کو اپنا لو” ایک باپ تم سے اپنی بیٹی کی خوشیوں کی بھیگ مانگ رہا ہے۔۔ یہ سب میں نے اپنی بیٹی کے لیے کیا ہے ۔۔
شام کو آجانا میرے گھر اور یہ پیپرز لے جانا ۔۔ وہ اپنی بات پوری کرتے وہاں سے چلے گئے بنا روحان کی بات سنے ۔
روحان تو پیچھے حیران و پریشان ہوکر رہ گیا ۔۔ کہ اب کیا کرے ۔۔
زویا کے علاوہ وہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔ آئرہ لاکھ خوبصورت سہی مگر اسکے دل میں کبھی نہیں اتر سکتی ۔۔زویا کی جگہ وہ اسکے ہوتے ہوئے بھی کسی کو نہیں دے سکتا ۔۔ اور زویا اسے یہ سب پتا چلا تو وہ کیا کر گزرے گی۔۔
وہ شش و پنج میں مبتلا ہو چکا تھا ۔۔
پھر کچھ دیر بعد اسکا فون بج اٹھا۔۔عالم صاحب کی کال دیکھ اس نے کال اٹھائی
ہیلو۔۔”
روحان ۔۔ بیٹے کیا بنا کپنی کا تم نے کیا کچھ ۔۔میری ساری زندگی کی محنت اتنی آسانی سے رائیگاں ہو جائے گی سوچا ہی نہیں تھا۔۔وہ افسردہ سے بولے ۔۔
ڈیڈ آپ فکر نا کریں ۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔۔ روحان نے کسی سوچ میں ڈوبے ہوئے کہا۔۔
ٹھیک ہے مجھے تم پہ بھروسا ہے ” تم اپنا کام کرو” بس پریشانی ہو رہی تھی ۔۔ کہتے انہوں نے کال کاٹ دی اور روحان سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔۔
