88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 4

زرتاج تم نے یہ کیا تماشا لگایا ہوا ہے میرا بیٹا بغیر ناشتہ کے کام پہ گیا ہے۔۔” رات بھی تم اپنی ماں کے کمرے میں تھی” سیما نے آج زرتاج کی کلاس لی۔۔
ایسی بات نہیں ہے تائی امی وہ ویسے ہی تھی میں رات کو امی کے پاس ۔۔ زارون ہی خوامخواہ میں غصہ کرتے ہیں آج کل ۔۔ میں نے تو اسے کچھ نہیں کہا۔۔” زرتاج نے معصوم بنتے کہا۔۔
مجھے مت بتاؤ ۔۔ ہو سکتا ہے اسے کوئی پریشانی ہو اور تم ۔۔ اسکی سب سے بڑی پریشانی تو تم ہو جسے اس نے سر پہ سوار رکھا ہے” سیما لفظوں کے تیز برساتی یہ جو وہ جا
اسکے ساتھ بیٹھی اسکی ماں سفینہ اور اور بہن زویا خاموش تھیں۔۔
وہ تو رونے والی ہوئی بیٹھی تھی اپنی ہوئی حوصلہ افزائی پہ۔۔
ماما یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے ” اب کیا ہم باتیں پرسنل بھی نہیں رکھ سکتے’ وہ آنسو بہاتے اپنی ماں سے بولی۔۔
اپنے پرسنل معاملات تم اپنے کمرے کی چار دیواری میں رکھتی تو بہتر تھا ۔۔ سفینہ نے بھی الٹا اسے ہی لتاڑا۔۔
بس ماما کو تو میری ہی غلطی نظر آتی ہے اس زارون سے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔۔”
زری پلیز بات کو تم بڑھاتی ہو اگر وہ کچھ بول دیتا ہے تو تھوڑا برداشت بھی کر لیا کرو ” تم خود نہیں اسے سناتی رہتی باتیں ۔۔ وہ تمہاری کتنی کیئر کرتا یہ سب جانتے ہیں تھوڑا تم خود بھی حوصلہ رکھ لیا کرو” زویا نے اسے سمجھانا چاہا تھا ۔۔مگر وہ کہاں سمجھنے والی۔۔
” ہاں ہر بات میں ہی سمجھا کروں ” اسے کوئی سمجھانے والا نہیں ۔۔” وہ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئی۔۔
” اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں وہ تم سے زیادہ سمجھدار ہے ” اور بات کو طول دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ چپ چاپ آج کمرے میں چلی جانا” سفینہ اسے سمجھاتے چل دی وہاں سے۔۔
” حد ہے ویسے میری کوئی ویلیو ہی نہیں” وہ بڑبڑاتے چلی گئی ۔۔پیچھے زویا سر ہلاتی رہ گئی ” یہ نہیں سدھر سکتی “
°°°°
سر دبئی کے کمپنی مسٹر اے کے آ چکے ہیں اور وہ ہمارا انویٹیشن ایکسیپٹ کر لیا ہے ۔۔ منڈے کو وہ ہم سے ملیں گے۔۔
گڈ ” زارون کے مینیجر نے اسے تفصیالات دیں۔تو اسے تھوڑا حوصلہ ہوا۔۔
پتا نہیں کیسے ہماری پوزیشن اتنی ویک ہو رہی ہے کہ ہمیں باہر سے کسی اور کمپنی کا آسرا لینا پڑ رہا ہے” ایسا پہلی بار ہو رہا ہے اتنے سالوں سے۔۔” وہ پریشان حال بولا
اٹس اوکے سر ہو جاتا ہے ایسا کبھی سدا حالات ایک سے نہیں رہتے” آئی ہوپ ہماری پوزیشن بہتر ہوجائے گی۔۔” وہ شیطانی مسکراہٹ سجاتے بولا۔۔ اس سب کے پیچھے اسی کا ہاتھ جو تھا۔۔
°°°
آج بھی انکی ایک ساتھ میٹنگ تھی جس میں آئرہ نے بھرپور حصہ لیا تھا۔۔ آج وہ خود پرزینٹیشن دے رہی تھی۔۔ گرے کورٹ کے ساتھ سکن شرٹ پہنے ہوئے وہ آفس لک میں تھی ۔۔ریشمی سلکی بالوں کی پونی ٹیل بنائی ہوئے سرخ و سفید رنگت کے ساتھ وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ اس نے سپیچ ختم کی اور روحان کے ساتھ جا بیٹھی۔۔
ریئلی امپرسو مس آئرہ حیدر میں سمجھ رہا تھا آپ جسٹ ویسے ہی اپنے فادر کے ساتھ ہوتی ہیں مگر آپکی سکلز کافی اچھی ہیں ۔۔” روحان نے مسکراتے ہوئے اسکی تعریف کی۔۔
تھیکنس آپ بھی کم نہیں ہیں مسٹر روحان” آئرہ نے بھی جواباً مسکراتے اسکی تعریف کی تو دونوں ہنسنے لگے۔۔
اور پھر سب کام کو لیکر ڈسکس کرنے لگے۔۔
°°°
شام ہو رہی تھی ماریہ سوچ میں بیٹھی تھی ۔۔ وکی شام کو ڈنر باہر کرنے کا کہہ کر گیا تھا ۔۔
وہ کوششوں کے بعد بھی آگے نہیں۔بڑھ پا رہی تھی۔۔
وہ شاید اپنی بیٹی کی وجہ۔سے کمپرومائز کر رہی تھی
۔جو مہرومیاں بغیر ماں باپ کے اس نے دیکھی وہ محرومی وہ اپنی بیٹی کو دکھانا نہیں چاہتی تھی۔۔
وکی اپن بیٹی دعا سے بہت پیار کرتا تھا اور وہ۔انکا یہ حق چھیننا نہیں چاہتی تھی۔۔
بہت سوچ بچار کے بعد بل آخر اس نے تیار ہونے کا فیصلہ کیا۔۔
°°°
رات کے کھانے کے بعد عروش زارون کے پاس تھی ۔۔ اور وہ اسے کمرے میں لے جا چکا تھا ۔۔ سب اب کمروں کو ہولیے تھے اور چار وناچار زرتاج کو بھی اپنے کمرے جانا پڑا ۔۔
کمرے میں آئی تو زارون عروش کو سلا چکا تھا۔۔
اسے اگنور کرتی واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔
کافی دیر بعد وہ باہر نکلی تو کمرے میں نیم اندھیرا تھا نائٹ بلب کی ملگجی سی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی اپنی جگہ پہ آ کر لیٹ گئی ۔۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ زارون اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔
کل کیوں نہیں آئی تم کمرے میں نیند نہیں آئی تھی ساری رات تم دونوں کے بغیر مجھے ۔۔ ” گھمبیر لہجہ میں اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تھی۔۔
تم تو تنگ آ گئے ہو نا ہم سے ” نارض سے لہجہ میں بولی
ایسا نہیں کہا تھا بس تم زیادہ جذباتی ہو جاتی ہو۔۔” وہ اسکا رخ اپنی طرف موڑتے بولا۔۔
ہاں تو تم بھی تو کمرے سے چلے گئے تھے رات بھر نہیں آئے۔۔” بہت آزماتے ہو تم صبر میرا۔۔ ” وہ کسی بچے کی طرح منمناتی بولی۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا ۔۔ اسکے چہرے پہ آتے بال کان کے پیچھے اڑیسے۔۔
” اگر دنیا چھوڑ گیا تو ۔۔ تو کیا کرو گی ” وہ اسے چھیڑتے بولا مگر زرتاج کی روح فنا ہوئی فوراً سے اسکے منہ پہ۔ہاتھ رکھا اسے مزید بولنے کے لیے روکا۔۔
اور اسکے سینے سے جا لگی ” پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا مرے تمہارے دشمن “
“خبردار اگر دوبارہ ایسا گھٹیا لفظ منہ۔سے نکالا تو منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔” غصہ سے بھری۔آواز میں کہا تو کھل کر ہنسا تھا۔۔
” یار مذاق تھا ۔۔ تم سیریس لے رہی ہو” اور کہتے اسے خود میں سمو لیا تھا۔۔
°°°
ماریہ تیار ہوکر وکی کا انتظار کرنے لگی مگر وہ آنے سے رہا ۔۔
رات کے نو بج گئے تھے ۔۔ اس نے کھانا بھی نہیں بنایا اور غصہ سے اسے کال بھی نہیں کی ۔۔ اپنے لیے نوڈلز بنائے کھاکر دعا کو ساتھ سلاائے سوتی بنی ۔۔ رات کے ایک بجے اسکی دعا کے رونے سے آنکھ کھلی ۔۔ تب ہی اسے خیال آیا کے وکی گھر ہی نہیں آیا تھا۔۔ اسے فکر ہونے لگی وہ کیسے سکون سے سو گئی جبکہ اسکا شوہر ابھی تک گھر نہیں آایا۔۔
فوراً ہی وکی کا نمبر لگایا جو بند جا رہا تھا گھبراہٹ مزید بڑھنے لگی ڈر لگنے لگا عجیب عجیب سے وسوسے سے آنے لگے ۔۔
اپنے آپ کو اکیلا اور بے بس محسوس کرنے لگی تھی ۔۔ اسکے پاس وکی کے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں اور کوئی کوئی رشتہ۔اس دنیا میں بچا ہی نہیں۔تھا۔۔
پھر وکی کی پرسنل ڈائری نکالی شاید اس میں سے کوئی اسکے قریبی دوست کا نمبر مل سکے۔۔
ڈائری نکال نمبر دیکھنے لگی تو جو نمبر سرفہرست تھا وہ روحان کا تھا۔۔
اس وقت روحان ہی تھا جو اسکی مدد کرسکتا تھا۔۔
ہمت کرتے کال لگائی ۔۔
روحان کی آنکھ فون بجنے سے کھلی تھی اس وقت وہ گہری نیند سویا ہوا تھا۔۔ رات کے دو بج رہے تھے
“اس وقت کون ہو سکتا ہے” نمبر بھی لینڈ لائن کا تھا۔
ہیلو” نیند سے بھری آواز میں کہا مگر کی مقابل کی آواز سنتے ہی فوراً نیند سے بیدار ہوا۔۔ماریہ کو وہ فٹ سے پہچان چکا تھا۔۔
دوسری طرف زویا اور بیچ میں ننھا یوسف سو رہا تھا۔۔
“ہیلو روحان ” پلیز مجھے تم۔سے بات کرنی ہے”
مگر مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی” اسکی بات کا اور مطلب لیتے وہ سرد سے لہجہ۔میں گویا ہوا۔۔
” روحان پلیز ” وہ ملتجی لہجہ میں بولی۔۔
شٹ اپ” وہ آہستگی بولا تھا کہیں زویا نا اٹھ جائے۔۔ اس سے پہلے کے وہ فون کاٹتا ماریہ رروانی سے بولتی چلی گئی۔۔
پتا نہیں وقار کہاں چلے گئے ہیں انکا نمبر بھی اوف جا رہ ہے خدا نا کرے وہ کسی مصیبت میں ہو” پلیز روحان اسے ڈھونڈو ۔۔ مجھے اس سے ملنا ہے وہ مجھے صحیح سلامت چاہیے پلیز روحان ۔۔ وہ گڑ گڑا رہی تھی۔۔
روحان اٹھ کر بالکونی میں آگیا ۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے میری بیٹی کی قسم ہے” منت بھرے لہجہ میں گویا ہوئی۔۔
اچھا رکو میں کرتا ہوں کچھ ” اب تو روحان بھی پریشان ہوا تھا ۔۔ آخر کو وہ اسکا دوست زندگی کے پانچ سال اسکے ساتھ گزارے ہیں ہر مشکل وقت میں اسکے ساتھ تھا۔۔ جب اسکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور وہ زندگی اور موت کے درمیان تھا اس وقت وہ وکی ہی اسکے ساتھ تھا جب کسی اپنے کو پاس ہونا چاہیے۔۔ کال کٹ چکی تھی۔۔
الماری سے کپڑے نکال کر چینج کیے اور بنا زویا کو بنا بتائے ہی نکل پڑا تھا ۔۔ وکی کے شہر ۔۔
°°°
قریب صبح ہوچکی تھی جب روحان وکی کے گھر پہنچا تھا۔۔
دروازہ بجانے کے کچھ دیر بعد ماریہ نے دروازہ۔کھولا روحان اندر آیا تھا۔۔
روحان نے ایک ماریہ کو دیکھا ۔۔ جو پنک قمیض شلوار پہنے گولڈن بالوں کو باندھے سر پہ ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے وہی سفید رنگت ۔۔ ہاتھ میں اٹھائے اپنی بیٹی جو ہو بہو ماریہ کی ہی کاربن کاپی تھی ۔۔ گولڈن بال سفید رنگ نیلی آنکھوں والی گڑیا۔۔ جس پہ روحان کو بے حد پیار آیا تھا مسکراتے اس گڑیا کو اٹھایا تھا۔۔
” وکی کا پتہ چلا ” ماریہ کی طرف متوجہ ہوتے پوچھا۔۔
ماریہ نے نفی میں سر ہلایا آنکھوں میں آنسوں بھر لائی۔۔
بیٹھو گاڑی میں پولیس اسٹیشن چلتے ہیں” وہ باہر کی جانب نکلا مگر ماریہ گھر کے اندر چلی گئی ۔۔ جب مڑ کر گھر کی طرف دیکھا تو وہ اندر سے بڑی سی چادر اوڑھے آ رہی تھی ۔۔ روحان کو رشک ہوا تھا اس پہ کیسے جو کبھی پورے کپڑے بھی نہیں پہنتی تھی اور اب کیسے خود کو مکمل بد لیا ہے۔۔
وہ دونوں سب سے پہلے پولیس اسٹیشن پہنچے ۔۔ جہاں پولیس نے انہیں اطلاع دی تھی کے رات ایک ہوسپٹل میں کچھ ایکسیڈنٹ کیس بھی آئے تھے جن میں سے ایک کے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں۔۔ “
ماریہ اور روحان کے پیروں تلے زمین کھسکی تھی۔۔
” وہ دونوں ہوسپٹل جا رہے تھے فرنٹ سیٹ پہ روحان کے ساتھ بیٹھی ماریہ اپنی بیٹی کو گلے سے لگائے بس روئے جا رہی تھی,۔
” ماریہ پلیز ” اللہ سے دعا کرو کے وکی خیریت سے ہو ” تمہیں یوں ہمت نہیں ہارنی چاہیے” روحان اسے دلاسہ دیتے بولا۔۔
” کیسے ، کیسے کروں ہمت میرے پاس تو سوائےوکی اور کچھ بچا بھی نہیں ہے ، میری بیٹی وہ زندگی نہیں گزارے گی جو میں نے گزاری ہے” اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے وہ شدت سے بولی تھی۔۔
روحان خاموش ہوا تھا اور کچھ ہی دیر میں وہ ہاسپٹل میں تھے۔۔
رسیپشن سے پوچھتے وہ اس شخص تک پہنچے تھے۔۔
اس کمرے میں جیسے ہی داخل ہوئے تو انکے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے وہ واقعی میں وکی ہی تھا۔۔
وکی اس وقت بیڈ پہ لیٹا تھا ایک ہاتھ اور سر پہ پٹی بندھی تھی اور چہرے پہ کھروچ کے نشانات تھے۔۔
وہ۔اس وقت ہوش میں تھا اس کے قریب کچھ ڈاکٹرز اور نرس کھڑی تھی۔۔
ماریہ اسے دیکھتے وکی کی طرف لپکی تھی ۔۔ اور ہاتھ میں دعا کو اٹھائے اسکے سینے جا لگی تھی۔۔
ماریہ تم۔۔ “
وکی نے اپنا دوسرا بازو ماریہ کے کندھے کے گرد حائل کیا ماریہ تو محض روئے جا رہی تھی۔۔
وکی کی بھی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔ ایک طرف اسکی بیٹی اسکے سینے سے لگی تھی اور دوسری ماریہ تھی جو اسکا ہوسپٹل کا پہنا گاؤن بھگو جا رہی تھی ایک بوسہ اپنی بیٹی کے چہرے پہ اور دوسرا ماریہ کی پیشانی پہ ۔۔”
روحان یہ منظر دیکھ ہلکا سا مسکرایا۔۔ وکی نے بھی اسکی جانب دیکھا تھا۔۔
روحان ڈاکٹر کے پاس آتا ساری تفصیلات لینے لگا ۔۔
ڈاکٹر نے بتایا کے وکی کی گاڑی کے کوئی جانور آگیا تھا جسے بچانے کے لیے اس نے ٹرن لیا اور گاڑی سنبھل نا سکی اور۔فٹ پاتھ کے ساتھ جا ٹکرائی ۔۔ اور سر پہ سٹیئرنگ لگنے وہ بے ہوش ہگیا تھا اور کچھ ٹکرے کانچ کے ٹوٹ کر چہرے اور ہاتھ پہ لگے باقی وہ۔محفوظ ہے۔۔
کافی دیر سڑک پہ بے ہوش ہڑے رہنے کے بعد کسی نے پولیس کو اطلاع دی تھی ۔۔
ماریہ وکی کے برابر میں کھڑی تھی۔۔ اوراسے بتارہی تھی کیسے ایک بار ہی کال کرنے پہ روحان بھاگا چلا آیا۔۔
کیسا ہے” گھر تو بتا دیتا ایسی کنڈیشن بن گئی تھی۔۔ ” روحان اسکے پاس آتا بولا۔۔
“کیسا بتاتا یار کافی دیر بے ہوش رہا اور پھر کب سے ٹریٹمنٹ چل رہے تھے میرے۔۔” ابھی میں ارادہ کر ہی رہا تھا بتانے کا کہ تم لوگ آگئے۔۔” وکی بولا
اچھا میں تم لوگوں کے لیے ناشتہ لاتا ہوں۔۔ وہ وہاں سے چلا گیا۔۔
ابھی بھی سیدھے منہ بات نہیں کی اس آدمی نے ” وکی دروازے کی طرف انگلی اٹھاتے بولا جہاں سے وہ باہر چلا گیا۔۔
ماریہ نے وہیں دیکھا ناجانے کیوں اسے دیکھتے اسے بیتائے ہوئے روحان کے ساتھ وہ پل یاد آنے لگے تھے جیسے کوئی فلم آنکھوں کے پس منظر کے سامنے آ رہی ہو۔۔ اور اسے شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
کچھ دیر بعد روحان ناشتہ لے آیا۔۔
یہ تم لوگوں کا ناشتہ ” روحان ناشتہ کے شاپرز ماریہ کی طرف بڑھائے ۔۔ شاپر پکڑتے ہوئے اسکا ہاتھ ماریہ کے ہاتھ کیساتھ ٹچ ہوا تھا ماریہ نے فٹ سے ہاتھ کھینچ لیے تھے۔۔ وکی اپنی بیٹی سے باتوں میں مصروف تھا۔۔
“اچھا میں چلتا ہوں گھر بھی بغیر بتائے آیا ہوں” ۔۔ روحان فٹ سے بولا وہ چلا جانا چاہتا تھا وہاں سے۔۔
مگر یار اگر تھوڑی دیر اور رک جاتے تو” وکی بولا۔۔
یار جلدی ہے آفس پہنچنا بھی بہت ضروری ہے بہت امپورٹنٹ پروجیکٹ چل رہا ہے میرا میں مس نہیں کر سکتا” اس نے بہانا گھڑا ۔۔
چل ٹھیک ہے” پہلے بول کے تو نے مجھے معاف کیا” وکی ہاتھ بڑھاتے کہا۔۔
ہاں کردیا معاف ” روحان ہاتھ ملاتے بولا ۔۔ پھر ہاتھ جلد ہی اسکے ہاتھ سے نکال لیا۔۔ اور بولا ” مگر میں بھول نہیں سکتا ” پہلے وکی کو دیکھا پھر ماریہ کو دیکھتے کہا تو وہ سر جھکا گئی۔۔
اور رکا نہیں تھا فوراً نکل گیا۔۔
رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا ” اسکے جاتے ہی وکی بولا۔۔
وہ میری وجہ سے نہیں سب بھول سکتا” کیونکہ اس نے ماضی کا کچھ میرے ساتھ بتایا ہے ” اچھا ہی ہے وہ ہم سے دور ہے’ ماریہ نے اس سے کہا تو وہ خاموش ہوگیا کیونکہ یہی حقیقت بھی ہے” اسکا ان سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔۔