88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 13

سیزن ٹو
آئرہ نے کمرے میں آتے ہی اپنا بیگ اور فون بیڈ پہ پھینکا اسے بے حد غصہ آ رہا تھا روحان پہ ۔۔”پتا نہیں سمجھتا کیا ہے خود کو ” میں بھی آئرہ کمال ہوں ۔۔ تمہیں اپنے قدموں پہ گرا کر رہوں گی” اور زویا کو بھی تمہاری زندگی سے نکال باہر پھینکوں گی۔۔بس صحیح موقع ہاتھ آجائے” اپنے آنسوں پونچھتے خود کو تسلی دیتے سوچا۔۔
@@@
ارحم آفس میں اپنی ریوالونگ چئیر پہ بیٹھا تھا زارون کے بزنس کے ساتھ دو ہاتھ کرچکا تھا۔۔
عین اس وقت اسکے آفس میں مسٹر آصف زارون کا مینیجر داخل ہوا ۔۔ ارحم اپنے ہی خیالوں میں گم کرسی دوسری طرف گھمائے اپنے عزائم کو دہرا رہا تھا۔۔
“زارون کی اکڑ تو نکل ہی گئی اسکی یہ کمپنی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے اب اپنے اصل مقصد کی طرف بڑھنا ہے ۔۔ زرتاج کی طرف اب اسکی باری ہے ۔۔ یہ جھٹکا تو زارون سہہ ہی نہیں پائے گا ۔۔ اسکی یہ کاروبار برباد ہی زرتاج کی وجہ سے کیا ہے ۔۔ مجھ سے میری محبت چھین کر مجھے ہی ذلیل کیا۔۔ اب میں تمہیں سارے زمانے کے آگے رسوا کروں گا ۔” اپنے مکرو چال کو دہراتے وہ ہنسا تھا ۔۔ پھر دوسری طرف گھوما۔۔
تم” آصف کو سامنے دیکھ تیوری چڑھائی ۔۔
سر آپ نے ہی بلایا تھا۔۔ اپنے آپ کو نارمل رکھتے مسکراتے کہا تاکہ اسے شک نا ہو اس نے اسکی باتیں سنی ہیں۔۔
ہاں ۔۔ہاں ۔۔ بھول گیا ۔۔” کام ہی اتنے سارے ہیں کہ کیا کیا یاد رکھوں ۔۔” زارون کو تم پہ شک تو نہیں ہوا نا ۔”
نہیں سر ابھی تک تو نہیں۔۔”
اس کے ساتھ رہو اسکے ہمدرد بن کر اسکے ارادہ کیا ہے آگے کا مجھے جاننا ہے ” ۔۔
جج۔۔جی سر ” ابھی تو انہوں ایسا کچھ نہیں بتایا جیسے ہی پتہ چلے گا میں آپکو فوراً انفارم کردوں گا” کہتے وہ آفس سے نکل گیا۔۔
باہر آتے وہ اپنے کیبن میں بیٹھا ۔۔
” اوہ تو یہ سارا چکر عورت کا ہے ” اب سمجھ آیا آخر ان دونوں کی دشمنی کیا ہے ” زارون سر کی وائف ہے زرتاج مگر اسکی شادی تو کسی اور سے ہونے والی تھی اور انکی بارات واپس چلی گئی تو انکی شادی زارون سر سے ہوگئی ۔۔ اوہ اب سمجھ آیا ارحم وہی شخص ہے زرتاج میڈم کے پہلے منگیتر۔۔ ہاں ” یہ تو وہی ہے مگر ” اپنے تانے بانے بنتے وہ پہیلی بوجھ گیا۔۔
اوہ خدایا اب یہ زرتاج میڈم کو نقصان پہنچائے گا مطلب کے اب زارون سر کے کاروبار سے کھیلنے کے بعد اب زارون سر کی عزت سے کھیلے گا” نہیں یہ نہیں ہونے دوں گا میں “
میں کمینہ ضرور ہوں مگر بیغیرت نہیں میں تو خود دو بچیوں کا باپ ہوں ‘ یہ مجھ سے کیا ہوگیا” پیسوں کی لالچ میں کسی کا گھر برباد کرگیا ” کسی کو نقصان پہنچا کر میں کیسے سکون میں رہوں گا ۔” آصف کو سخت پچھتاوے نے آن گھیرا اس لیے اس نے اپنے اعتراف جرم کا فیصلہ کیا” زارون کے سامنے ہمت نہیں تھی وہ تو اسے مار ڈالے گا ” اسے سیدھا عالم صا حب کے پاس جانا ہوگا۔۔
@@@
صاحب آ پ سے کوئی ملنے آیا ہے کمپنی سے بتاتا ہے” آصف نام بتایا ہے” عالم صاحب جو ملازم نے آکر اطلاع دی ۔
اس وقت ” گھڑی پہ ٹائم دیکھا شام کے چھہ بج رہے تھے..
ٹھیک ہے بھیج دو اسے اندر ..
اسلام علیکم عالم سر کیسے ہیں آپ وہ اندر آتے سر جھکاتے مؤدب انداز میں بولا..
وعلیکم السلام آصف کیسے آنا ہوا”
سر مجھے آپکو آپکی کمپنی کے بارے میں کچھ اہم معلومات دینی تھی کیا آپکو پتا ہے اس وقت کمپنی کن حالات سے دوچار ہے ” وہ آہستگی سے شرمسار سا بولا..
کیا بات ہے کیسے حالات ” وہ ناسمجھی سے بولے..
میں جانتا تھا آپ بے خبر ہوں گے اسلیے تو آپ یا روحان سر کمپنی کے وزٹ کرنے نہیں آئے.. “
سر کمپنی کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے یہاں تک زارون سر کے ہاتھ سے کمپنی کے ساٹھ فیصد کنٹرول نکل چکا ہے “
کیا کہہ رہے آصف کھل کر بیان کرو” عالم صاحب سخت لہجہ میں بولے..
اور آصف نے ساری حالات کمپنی کے بیان کردیئے..
کیا” اتنا سب کچھ ہوگیا اور زارون نے بے خبر رکھا ہمیں اور اس ارحم کی یہ مجال وہ ہماری کمپنی میں گھس گیا”
آصف یہ خبر تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں دی ” جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا” وہ تیز لہجہ میں بولے غصہ میں انکا خون کھول رہا تھا..
وہ اس لئے سر کیونکہ اس سب میں میں بھی قصوروار ہوں لالچ میں آکر میں نے کمپنی کے سیکرٹ انہیں دے دیے اس کمپنی کو نقصان پہنچانے میں میرا ہاتھ بھی شامل ہے” اپنی غلطی پہ نادم ہوتے آہستگی سے کہا..
آصف تم” تم نے نمک حرامی کی ہے ” دس سال سے تم ہمارا نمک کھاتے رہے اور ہماری ہی پیٹھ پہ چھورا گھونپ دیا” وہ جلالی انداز میں بولے..
میں شرمندہ ہوں سر اس لئے اپنی غلطی سدھارنے آیا ہوں وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا..
سر اب اس شخص کا اگلا ٹارگٹ زرتاج میڈم ہیں ” اب وہ آپکی عزت پہ حملہ کرنے والا ہے مجھے اس کے اس ارادے کے بارے علم ہوا تو میری غیرت جاگ اٹھی سر میں نے آپکو مالی نقصان پہنچایا مگر آپ کی عزت پہ بات برداشت نا کر سکا مجھے معاف کردیں میں شر مندہ ہوں”
دفع ہوجاؤ میری نظروں کے سامنے سے دیکھ لوں گا میں سب کو” عالم صاحب غصہ سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولے..
اور وہ چلا گیا..
سیما ڈرائنگ روم میں آئی وہ غصہ سے لال ہوئے بیٹھے تھے..
کیا ہوا عالم ” کون تھا یہ اور آپ اتنے غصہ میں کیوں ہیں “
تمہارے صاحب زادے کے کارنامہ ہی ایسے ہیں ” اپنی جوانی کی کمائی اسکے حوالے کی تھی اور اس نے ساری کمپنی ڈبو دی ” چار دن نہیں وہ کاروبار سنبھال پایا.. “
زارون کی بات کررہے ہیں” کیا کیا اس نے
اسے آنے دو گھر ” ہمیشہ کے لئے گھر بٹھا دوں گا ” غصہ سے کہتے وہ چلے گئے..
اور وہ سر ہلاتی رہ گئی پہیلیاں بجھا کر چلے گئے..
رات کے کھانے کا وقت تھا.. روحان بھی آ چکا سب لوگ کھانے کی میز پہ موجود تھے سوائے زارون کے ایک مہینہ سے وہ ایسے ہی غائب تھا..
زرتاج زارون جب آئے تو اسے میرے پاس بھیجنا اسٹڈی روم میں اور روحان تم آؤ زرا میرے ساتھ ” کھانے ختم کرنے کے بعد وہ اٹھتے ہوئے بولے..
کھانے کے بعد برتن اٹھاتے ہوئے زویا زرتاج سے بولی.. آج تایا ابو غصہ میں ہیں کافی اور زارون کو بھی بلایا اور روحان بھی کب سے ان کے ساتھ ہیں سٹڈی روم میں..
مجھے تو خود نہیں پتا کیا بات ہوئی ہے” زرتاج بولی..
سیما بھی پریشان سی بیٹھی تھی.. سفینہ بھی انکے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی..
زارون نے کاروبار میں کوئی بہت بڑا نقصان کردیا ہے آج ایک ملازم آیا تھا کمپنی سے .. سیما ان دونوں کی باتیں سنتے بولی..
ہاں وہ کمپنی کو لیکر ہی کافی دنوں سے پریشان ہیں زرتاج بولی..
مگر زارون تو کافی محنت کررہا ہے رات کو دیر سے آتا ہے صبح بھی جلدی چلا جاتا ہے ” سفینہ بولی..
ہاں میں بھی تو یہی سوچ رہی ہوں اگر اس سے اکیلے معاملات نہیں سنبھل رہے تھے تو ایک بار گھر بات تو کرتا” بہت غصہ میں ہیں عالم” سیما پریشانی سے بولی..
@@@
ڈیڈ کیا بات ہے آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں انکے پیچھے سٹڈی روم میں آتے روحان بولا..
بہت زیادہ پریشان ہوں دروازہ بند کرو بتاتا ہوں سب..
پھر عالم صاحب نے ساری
بات تفصیل سے بتائی اسے روحان کا میٹر ہی گھوم گیا تھا” ساری باتیں سن کر.. واٹ ڈیڈ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ اور زارون اس نے بتایا کیوں نہیں ” میں اس ارحم کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دوں اسکی ہمت کیسے ہوئی.. ” میں چھوڑوں گا نہیں اسے”
حوصلہ رکھو اب ہمیں ہوش سے کام لینا ہوگا وہ بہت چالاک ہے اور بہت پلاننگ سے اس نے یہ کام کیا ہے ایسا نا ہو کہ سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے..
تو پھر کیا کریں ڈیڈ ہم اب “
زارون کو آنے دو پہلے اسکی خبر لے لیں پھر سوچیں گے کرنا کیا ہے”
@@@
تقریباً ساڑھے دس بجے زارون تھکا ہارا سا گھر آیا..
کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی زرتاج کھڑی تھی.. اسے نظرانداز کرتے اپنا بیگ صوفہ پہ رکھا اور اپنے کپڑے اٹھائے واش روم میں بند ہوا..
جب واپس آیا چینج کرکے تو زرتاج جوں کی توں ہی کھڑی تھی اسکی نظریں اسی پہ جمی ہوئی تھیں..
کیا بات ہے ” زارون نے اسے کہا..
آپ کو تایا ابو نے بلایا ہے اسٹڈی روم میں “
اس وقت وہ سوئے نہیں “
نہیں کافی غصہ میں ” انہوں کہا ہے کہ آپ جب بھی آئیں گے تب ہی انکے پاس بھیج دوں..
غصہ میں کیوں ہیں “
اب یہ تو مجھے نہیں معلوم روحان بھائی بھی انکی ساتھ ہیں “
زارون کو گڑ بڑ محسوس ہوئی.. اچھا دیکھتا ہوں..
سٹڈی روم داخل ہوا تو وہاں روحان اور عالم صاحب بیٹھے تھے.. زارون کو دیکھتے دونوں کے تاثرات سخت سنجیدہ ہوئے..
ڈیڈ کیا بات ہے آپ نے اس وقت بلایا خیریت” وہ انکے سامنے آتے بولا.. عالم صاحب اپنی مخصوص کرسی پہ بیٹھے تھے
روحان اسے بتاؤ خیریت اب بھی باقی ہے” عالم صاحب نے زارون کو غصہ سے گھورتے ہوئے روحان سے کہا
روحان اٹھ کر زارون کے پاس آیا اور ایک کھینچ کر دھموکہ اسکے منہ پہ جڑ دیا.. اس افتاد کے لئے وہ تیار نا تھا اس لئے لڑکھڑا کر پیچھے کی طرف خود کو گرنے سے بچایا..
“کیا بات ہےبھائی کیوں مجھ پہ ظلم کیا جا رہا ہے کوئی وجہ بتائے گا ” منہ پہ ہاتھ رکھتے زارون نے بیچارگی سے کہا..
روحان نے ایک اور مکا جڑا تھا اسے.. وہ دوسری طرف لڑکھڑا کر کرسی کا سہارا لیتے خود کو گرنے سے بچایا..
آخر میں نے ایسا بھی کیا کردیا ہے ” کیوں مجھ غریب کو یوں بے رحمی سے مارا جا رہا ہے ” پہلے ہی حالات کا ستایا ہوا ہوں.. زارون عالم صاحب کو دیکھتے دہائی دیتا بولا..
میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں ہے ورنہ میں ابھی تمہاری ہڈیاں توڑ دیتا سمجھتے کیا ہو تم خود کو” عالم صاحب طیش میں آکر بولے..
زارون نے روحان کی طرف دیکھا جو پھر سے اس پہ حملہ کرنے پہ تیار تھا..
اگر یہ” روحان تیوری چڑھاتے اس کے پاس آیا اور زارون ڈر کر ایک قدم اور پیچھے ہوگیا.. کہیں پھر نا حملہ آور ہوجائے..
اگر یہ سلوک تم نے ارحم کیساتھ کیا ہوتا تو آج مجھ سے یوں مار نا کھا رہے ہوتے” روحان نے انگلی دکھاتے اسے کہا.. زارون سمجھ گیا کہ اس پہ نوازشیں کیوں کی جا رہی ہیں..
تو وہ سر جھکائے سیدھا کھڑا ہوگیا..
بتاؤ مجھے کیا ہم مر گئے تھے جو سارے فیصلہ اکیلے کرنے چلے تھے.. ایک بار تو ذکر کرتے ہم سے کاروبار کے حوالے سے ہمارے دشمن کے ہاتھوں ہماری کمپنی برباد نا ہوتی” عالم صاحب غصہ سے بولے تھے..
اب چپی کیوں لگ گئی ہے تمہیں ” روحان بولا..
وہ کمپنی بہت خسارے میں جانے لگ گئی.. ایک دم سے ہماری مارکیٹ ویلیو گرتی ہی چلی گئی.. اور میں نے کنٹریکٹ پہ اپنا چالیس فیصد حصہ دوسری کمپنی کے حوالے کیا تاکہ کمپنی کی ویلیو اسٹیبل ہو سکے مگر.. وہ ارحم کی کمپنی نکلی اور اس نے دھوکہ سے کمپنی ساٹھ فیصد شیئرز ہتھیا لئے.. وہ بس سر جھکائے اتنا ہی بول سکا..
اگر تم نے مجھے یا ڈیڈ کو کنٹریکٹ کرنے سے پہلے ہی بتا دیتے تو یہ نوبت نا آتی بہت تیس مار خان سمجھتے ہو تم خود کو ” روحان سخت لہجہ میں یہ ادا کئے تھے..
یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے.. چالیس سال کاروبار میں عمر لگائی ہے اپنی.. دھوکہ تمہیں ارحم نے نہیں بلکہ خود تمہاری کمپنی کے اندر کے لوگوں نے دیا ہے جو ارحم کے ساتھ ملے ہوئے تھے..
ی
پہلے کمپنی کے اندر تو جانچ پڑتال کرواتے آخر نقصان ہو کیسے رہا ہے” عالم صاحب نے دانت پیستے اسے کہا..
واٹ کون ہے وہ جس نے غداری کی میں اسے چھوڑوں گا نہیں ” زارون نے غصہ میں آتے کہا..
اب کیا کر لو گے جان کر” میری ساری عمر کی کمائی تو لٹا دی تم نے ” غلطی کر دی جو تم پہ بھروسہ کر کے سارا کاروبار تمہارے حوالے کردیا.. اب جو کرنا ہے ہم خود کریں گے تم دور رہو اب اس معاملے سے” عالم اسے غصہ سے ڈپٹتے بولے تھے..
ڈیڈ پلیز آپ مجھے سنبھالنے دیں سب ” میں کوشش کررہا ہوں کہ” زارون بول رہا تھا جب عالم صاحب نے اسے چپ کروا دیا..
چپ کرو تم اب کچھ نہیں کرو ورنہ رہا سہا حصہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا..
ڈیڈ اگر ہم کمپنی میں جائیں گے اس کو پتہ چل جائے گا اور وہ بہت پلاننگ سے بیٹھا ہوا ہے ہمیں کوئی اور راستہ ہی نکالنا ہوگا ” اسے پتہ لگے بغیر” روحان نے انہیں سمجھتے کہا..
آپ زیادہ ٹینشن نا لیں سو جائیں جا کر میں سنبھال لوں گا سب ” زارون تم آؤ میرے ساتھ.. روحان نے ماحول زرا ٹھنڈا کرنا چاہا.. عالم صاحب زارون کو گھورتے اپنے کمرے میں چلے گئے..
زارون تم اگر پہلے مجھے اپنی پریشانی بتا دیتے تو آج یہ نوبت نا آتی ” روحان زارون کے کاندھے پہ ہاتھ رکھے سٹڈی سے باہر آیا..
مارا بہت زور سے ہے ” زارون نے گال پہ ہاتھ رکھتے کہا..
تمہارے کارنامہ کی وجہ سے مارا ہے تمہیں ” اچھا نہیں لگا مجھے مگر سوری بھی نہیں بولوں گا ” تم اب اتنے بھی بڑے نہیں ہوئے کہ سارے فیصلہ خود سے کرنے لگ جاؤ “
پہلے ہمیں ارحم کی ساری ڈیٹیلز جاننی ہوگی کے وہ اتنا بڑا بزنس مین بنا کیسے.. روحان اسکے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پہ آکر بیٹھا جہاں زرتاج زارون کے لئے کھانا لگا چکی تھی..
زری تم کمرے میں جاؤ ہمیں ضروری بات کرنی ہے.. روحان نے زرتاج کو پاس آتے ہوئے دیکھ کہا..
وہ ان دونوں کو بغور دیکھتی چلی گئی..
ڈنڈی ماری ہے اس نے ایک امیر ڈیورس عورت سے شادی کر کے.. ” اسکا باپ بزنس کا بڑا ٹائکون تھا دبئی میں.. اس سے شادی کرتے وہ مرگیا اور سارا کا سارا کاروبار ارحم کے ہاتھ آگیا جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتا پھر رہا ہے” زارون نے کھانا کھاتے اسے بتایا..
او تو تم ساری معلومات لے لی ہیں.. روحان نے کہا
تو آپ کا کیا خیال ہے میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہوا ہوں.. وہ منہ بھاڑتے بولا ۔۔
روحان مسکرایا۔۔ اچھا تم کھانا کھاؤ کل بات کریں گے اس موضوع پر اور پریشان مت ہونا ریلیکس ہوجاؤ۔۔ اسے تسلی دیتے وہ چلا گیا۔۔
زارون واقعی میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔۔ اسے تسلی ہوگئی تھی اب وہ اکیلا نہیں ہے “..
کھانا کھانے کے بعد زارون کمرے میں آیا ۔۔
کیا بات ہے روحان بھائی کیا کہہ رہے تھے ۔۔ بزنس میں کوئی حرج ہوا ہے” زرتاج نے آتے ہی کئی سوال پوچھ ڈالے۔۔
پہلے تم اپنی خوبصورت ہاتھوں سے اچھی سی کافی تو پلا دو پھر تسلی تمہارے سارے سوال کے جواب دوں گا۔۔
زارون نے مسکراتے اچھے موڈ میں کہا۔۔
میرے لیے وقت ہی کہاں ہے آپ کے پاس” وہ شکوہ کرتے بولی۔۔
آج سارے ہی شکوہ ختم کردوں گا ۔۔اس کی انکھوں میں جھانکتے لہجہ میں پیار سموئے کہا۔۔
میں کافی لائی ۔۔ شرماتے وہ باہر بھاگ گئی۔۔ دو بچوں کی اماں بن گئی مگر یہ شرم نا گئی۔۔ خود ہی بات کرتا ہی خود ہنس دیا۔۔
وہ صوفہ پہ بیٹھا ہوا دونوں ٹانگیں میز پہ رکھے موبائل یوزر کررہا ہے تھا ۔
کافی ” زرتاج نے مگ اسکی طرف بڑھاتے کہا۔۔
تم کہاں ” وہ مگ پکڑا کر جانے لگی تو اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
سونے” بس اتنا ہی کہا۔۔
کیوں ؟ بیٹھو میرے ساتھ اسے اپنے ساتھ صوفہ پہ بٹھاتے اسکے کاندھے پہ ہاتھ ڈالتے کافی کی سیپ لینے لگا ۔۔
آپ کونسا بات کرتے ہیں۔۔” پھر سے شکوہ لبوں پہ آیا۔۔
ہہم ” کہا تو ہے آج سارے شکوے ختم کردوں گا بس کاروباری مسائل میں الجھا ہوا ہوں۔۔” اس لیے تمہیں اور اپنی بچیوں کو ٹائم نہیں دے پارہا ہوں ۔۔سب کچھ تم لوگوں کے لیے کررہا ہوں آخر ۔۔
ہہم ” مجھے کیا پتا” وہ منہ بناتے بولی۔۔
کیا یار اتنی ناراضگی “
میں تو سمجھ رہا تھا بس اب نہیں بچنے والی شاید مر کھپ ہی جاؤ مگر یہ بیٹھی میرے سر پر میرا سر کھانے” زارون نے اسے تنگ کرتے کہا۔۔
زارون” وہ غصہ ہوتی کھڑی ہوگئی
ہاں تم تو بس یہی چاہتے تھے میں مر جاؤں ” وہ ناک پھلاتی بولی۔۔ زارون نے خالی مگ ٹیبل پہ رکھا اور اس مقابل کھڑا ہوا۔۔
ہاں تو مر جاتی دوسری شادی کرلیتا” کتنا مزے میں ہوتا” وہ مزید اسکا پا را چڑھا گیا۔۔
ہاں تو کیوں بچایا پھر مرجانے دیتے ” زرتاج سسکتے بولی اپنے آنسوؤں پہ قابو نا رکھ پائی۔۔
کیسے مرنے دیتا تمہیں” تم سے پہلے اس دنیا سے میں چلا جاؤں گا مگر تمہیں نہیں کچھ ہونے دوں گا” اسے اپنی بانہوں میں اٹھاتے بولا تھا۔۔
اب ایسے تو مت کہو” دونوں ہاتھ اسکی گردن میں ڈالتی بولی۔۔
ویسے ایک فائدہ تو ہوگیا ” زارون نے شرارتی انداز میں کہا۔۔
کیا؟
تمہارا وزن کم ہوگیا ہے” اٹھانے میں ہلکی لگ رہی ہو” اسے بیڈ پہ لٹاتے کہا۔۔
تمہاری وجہ سے ہوا ہے” بہت تنگ کرتے ہو” معصومت سے کہا۔۔
ہنستا اسے اپنی بانہوں میں بھر گیا ۔۔” بہت عرصہ بعد اس نے یہ سکون محسوس کیا تھا جو وہ اتنے عرصہ سے کہیں کھو چکا تھا۔۔
اپنوں کے ساتھ سے ہی سکون میسر ہوتا ہے پریشانیاں چھپا لینے سے کم نہیں ہوتی بلکہ اسے خود میں الجھا کر رکھ دیتی ہیں ۔۔