88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 7

کہاں تھے آپ یہ کوئی ٹائم ہے گھر آنے کا ” جب دل چاہتا ہے آدھی رات کو اٹھ کر چلے جاتے ہیں ,زویا تو نان سٹاپ بولے جا رہی تھی.. روحان نے اسکی بریک لگوائی..
بس بس.. یار کیا ہوگیا ” کیوں اتنا اشو بنا رہی ہو ایسے کررہی ہو جیسے ڈیٹ پہ گیا تھا کسی لڑکی کے ساتھ بتایا تو ہے کلائنٹ کے ساتھ ڈنر تھا.. روحان تھوڑا غصہ سے کہا وہ آئرہ کے بارے میں سچ ہی بتانا چاہتا تھا مگر اسکا شکی مزاج دیکھ کر وہ بات گول کرگیا..
تو زویا خاموش رہی غصہ ویسے ہی ناک پہ دھرا تھا.. اچھا اب کپڑے تو نکال دو فریش ہوکر کرتا ہوں تمہارا موڈ بحال کرتا ہوں” شوخ سے لہجہ میں کہتے کف لنکس کھولنے لگا..
زویا نے اسکے کپڑے نکال کر بیڈ پہ رکھے.. اور یوسف جو کہ سو رہا تھا اسے آرام سے گود میں اٹھاتے دروازے کی جانب بڑھی..
اب تم کدھر ” اسکے سامنے آتے بولا..
کہیں بھی جاؤں ہٹیں میرے راستہ سے”
کیا یار اب اتنی سی بات کمرہ چھوڑ کر جانے کی کیا تک ہے.. “
کمرہ چھوڑ کر نہیں جا رہی روحی کے پاس جا رہی ہوں آج اسکے کمرے میں سونا ہے” اسکی سائیڈ سے نکلتی دروازے کھولا..
یہ کیا بات ہوئی بھلا” پیچھے سے روحان بیچارہ سا منہ بناتے بولا..
گڈ نائٹ” وہ ہاتھ ہلاتی نکل گئی.. “ہہم گڈ نائٹ” پیچھے سے روحان بھی اسکی نکل اتارتے ہوئے بولا..


عروش کہاں ہے.. زرتاج جو ابھی واش روم سے باہر نکلی تھی زارون اسے دیکھ بولا..وہ کب سے نوٹس کررہا تھا عروش نہیں ہے کمرے میں ..
وہ روحی کے پاس ہے اسے دیکھتے زرتاج نے کہا..
جاؤ لے کر آؤ اسے تنگ کررہی ہو گی ..” زارون نے کہا..
ہاں جا رہی رہی تھی روحی کے پاس ..گڈ نائٹ دروازے کی جانب قدم بڑھاتی بولی..
گڈ نائٹ کا کیا مطلب تم کہاں چلی..” پیچھے سے زارون بولا..زرتاج اسکی طرف مڑی..
کیونکہ میں روحی کے ساتھ سوؤں گی ..زرتاج نے اطمینان سے کہا..
تم بچی نہیں ہو ” عمار ساتھ ہوگا اسکے “زارون نے تیوری چڑھاتے کہا..
جی نہیں ” عمار نہیں ہوگا بلکہ ہم تینوں زویا اور میں اور روحی ہیں بس”
عمار کو اچھا نہیں لگے گا تم دونوں اب کباب میں ہڈی بنو گی تو.. چپ چاپ عروش کو لے آؤ” آرڈر دیتے کہا..
نو” I’m going ” کہتے ہی چلی گئی..
کیا بنے گا ان لڑکیوں کا” وہ پیچھے سے بڑبڑاتا رہ گیا..
**
کمرے میں آئی تو زویا پہلے سے موجود تھی روحی کے کمرے میں.. بیڈ پہ روحا کے ساتھ عروش اور یوسف بھی تھے روحا انکے ساتھ کھیل رہی تھی پاس ہی زویا بیٹھی تھی..
ہائے گرلز.. زرتاج آتی بولی..
بڑی دیر کردی آنے میں ” روحا بولی..
ہاں وہ زارون منع کر رہے تھے ” آنے کے لئے.. مگر میں آگئی..
پہلے تم نے اسکی کب مانی ہے جو اب مانو گی” روحا بولی..
ہاں تو تمہیں پتا ہی ہے” وہ ڈھٹائی سے بولی..
او ہیلو” کیا ہے یہ سب میرا کمرہ کو کیا مچھی مارکیٹ بنایا ہوا ہے” عمار کی انٹری ہوئی ہوئی تھی.
مسٹر عمار ” آپ آج گیسٹ روم میں رہو گے ” زرتاج چڑانے والے انداز میں بولی..
اچھاااا” عمار نے اچھا کو کھینچ کر کہا..
جییی ” زرتاج نے بھی کہا..
چلو نکلو ابھی کے ابھی کمرہ خالی کرو پانچ منٹ میں ” عمار نے چٹکی بجاتے انہیں باہر کو راستہ دکھایا..
دیکھو عمار روحا ہمارے ساتھ سونا چاہتی اور ہم بھی یہی چاہتے آفٹر ہم کزنز کافی ٹائم بعد اکھٹی ہوئی ہیں” زویا نے تحمل سے بات سنبھالنا چاہی..
اپنے نمونے اٹھاؤ اور کھسکو ابھی سارا دن تو کٹر پٹر کرتی رہتی ہو اب اور کونسی باتیں رہ گئی جو رات کو بھی کرنی ہیں.. ” عمار نے ایک نا سنی..
کتنے ڈھیٹ انسان ہو تم تمہیں سمجھ نہیں آ رہا تم نکلو یہاں سے” اور خبردار تم نے نمونے کہا بچوں کو” وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ سونا چاہتی ہیں..
ہاں تو تم لوگ نے نہیں ماسی, مامی بننا” اب پروڈکشن روک دو گے تو ہماری ترقی کیسے ہوگی ” عمار بھی بے باک انداز میں بولا تو تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا روحا تو سر جھکا گئی مارے شرم کے”
شرم کرو کچھ ہم نہیں جا رہے یہاں سے ” زرتاج آرام سے بیڈ پہ بیٹھ گئی..
اوکے اب بات شرم پہ آئی گئی ہے تو پھر شرمانا کیسا..
عمار کہتے ہی روحا کی جانب آیا اور اسکا بازو پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا.. وہ نازک جان اسکی جانب کھینچی چلی آئی..
گڈ نائٹ میں اسے ہی لے جا رہا ہوں.. ” کہتے ہی روحا کو کاندھے پر ڈال لیا ..زرتاج اور زویا منہ کھولے اسکی حرکت ملاحظہ کی..
عمار چھوڑے ” روحا دبی سی آواز میں بولی.. عمار اسے لئے کمرے سے نکل گیا..
کتنا بے شرم نکلا یہ عمار” زویا اسکے جاتے بولی جو روحا کو کاندھے پہ اٹھائے نکل چکا تھا..
یہ تو زارون سے بھی چار ہاتھ آگے نکلا.. ” زرتاج کھڑی ہوتی بولی..
چلو اب اپنے ٹھکانے لگو جس کے لئے آئے تھے وہ تو گئی” زویا نے یوسف کو اٹھاتے کہا..


عمار روحا کو اٹھائے گیسٹ روم میں آیا تھا اور اسے بیڈ پہ پٹخا سب اپنے کمروں میں ہی تھے اس لئے انہیں کسی نے دیکھا نہیں..
عمار یہ کیا بدتمیزی تھی ” وہ غصہ سے ناک چڑھاتی بولی..
یہ سب تمہاری پلاننگ تھی نا دروازہ لاک کرتے وہ اسکے پاس آیا..
نو یہ.. یہ.. روحا کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے..
سوچو ” سوچو کیا جھوٹ بولنا ہے”
نن.. نہیں تو.. جھ. جھوٹ تو نہیں بول رہی ” پکڑے جانے پر روحا بیچاری بوکھلا گئی.. اور ساتھ ہی عمار کی بےباک ہوتی حرکتوں پہ بھی..
شش.. اسے جھٹکے سے خود پہ گراتے اسکی ہکلاتی زبان کو خاموش کروا گیا.. “


ڈیڈ ہمارا پراجیکٹ بہت اچھا جا رہا ہے ایک مہینہ ہوگیا ہے ساتھ میں کام کرتے اور روحان بھی بہت honest ہے..
مجھے پسند ہے بہت .. اسکا کام” زبان پھسلتے فوراً بات کو سنبھالا..
ہہم.. ” بس اسکا کام ہی پسند ہونا چاہئے ” وارن والے انداز میں اسکے باپ نے کہا تھا..
جی ڈیڈ ” جسکا جواب آئرہ نے مسکرا کر دیا تھا تاکہ انہیں شبہ نا ہو”..
اور وہ اپنے کمرے میں چلی آئی آج روحان کے ساتھ ڈنر کر کے بہت خوش تھی اسکے بارے میں جاننے کا موقع ملا.. روحان کو لیکر اسکے جذبات سیریس ہوتے جا رہے تھے یہ پہلی بار تھا جو اسے کوئی بے حد پسند آیا..
روحان تو جیسے اسکے سر پہ سوار ہوچکا تھا..


ڈیڈ آپ سے ضروری بات کرنی تھی” زارون عالم صاحب کے پاس آکر بیٹھا تھا..
ہاں بولو” کیا بات ہے بیٹے” وہ بھی شفقت سے بولے..
ڈیڈ پچھلے دو مہینہ سے کمپنی کو.. زارون کہتا رک گیا”
ہاں بولو بیٹے ” عالم صاحب اسے چپ ہوتا دیکھ دوبارہ بولے..
آپ کے بعد اب میں اکیلا ہوں کمپنی سنبھالنا زرا مشکل لگ رہا ہے اس لئے مارکیٹ ویلیو تھوڑی گر رہی ہے”ڈھکے چھپے انداز میں بولا..
کوئی بات نہیں بیٹا کاروباری معاملات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے میں روحان سے بات کروں گا اس بارے وہ زرا تھوڑا تمہارے ساتھ کاروباری معاملات سنبھال لے گا.. ماشاءاللہ سے اپنا بزنس وہ بہت کامیابی سے چلا رہا ہے ” عالم صاحب اسکی بات کو سمجھے بنا اسے تسلی دیتے بولے..
اٹس اوکے ڈیڈ روحان کی ضرورت نہیں میں سنبھال لوں گا بس آپ کو آگاہ کرنا چاہتا تھا..
روحان کی مداخلت سے اسے کمپنی کے خسارے کا پتہ چل جائے گا اور وہ ڈیڈ کو بتا دے گا اس لئے اس نے ایسا کرنے سے روک دیا ” اور چلا آیا وہاں سے..
**
روحا اور عمار بھی جا چکے تھے اب گھر پھر سے سنسان سا لگنے لگا جیسے وہ اپنی رونق ساتھ لائے اور واپس لے گئے..
یار کچھ دن اور رہ لیتے وہ دونوں بس ایک ہفتہ ہی رہ کر گئے ہیں ” روحی کے بغیر تو دل ہی نہیں لگ رہا میرا.. زرتاج اور زویا شام کو اکٹھے بیٹھے باتیں کررہی تھی..
تم نے ہی تو عمار کی ناک میں دم کیا ہوا تھا.. زویا بولی..
تو وہ کونسا کم تھا پہلے شروعات وہ کرتا تھا.. زرتاج بھی کہاں ماننے والی..
بس تم اپنی اکڑ میں ہی رہنا” زویا اسنے ٹوکتے بولی..
بس آ جا کر سب کو میں ہی غلط نظر آتی ہوں.. غصہ ناک پھلاتی اٹھی تھی..کمرے میں جانے کے سیڑیوں کی جانب بڑھی..
” اب کہاں جارہی ہو.. “زویا نے پیچھے سے آواز لگائی..
بھاڑ میں. جا نا ہے” سیڑھی پہ پہلا قدم رکھتے کہا زرتاج نے..
شکریہ” تم اکیلی جاؤ .. زویا نے مصنوعی مسکراہٹ سجائے کہا اور دھیان بچوں کی طرف کردیا..
زرتاج ابھی چار پانچ سیڑھیاں ہی پھلانگی تھی کہ اسکا پیر سہی سے اگلی سیڑھی پہ آیا نہیں اور پاؤں مڑگیا اور اپنا توازن برقرار نا رکھ سکی..
اور وہ سیدھا زمین پہ جا گری ایک دلدوز چیخ سے پورا گھر گونج اٹھا..
زری.. زویا بھی چلانے والے انداز بولتی زرتاج کے پاس بھاگ کر گئی..
زرتاج درد سے کراہ رہی رہی تھی…
اور اب لوگ بھاگ کر آئے تھے زرتاج کے پاس..
یااللہ خیر میری بچی ” سفینہ کا دل دہل گیا زرتاج کی حالت دیکھ..
عالم صاحب نے فوراً ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کی ہدایت..
اور سب اسے لئے ہاسپٹل کے لئے نکلے”..


سر آپکو مسٹر اے کے کی شرط کو قبول کر لینا چاہیے تھا.. جیسے ہماری کمپنی سنبھلے گے ہم اپنے شیئرز واپس سے خرید لے گے” ..مسٹر آصف نے بڑی چالاکی سے اسے کنوینس کرنے کی کوشش کی..
زارون سر پکڑے بیٹھا تھا اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا..
جب اسکا دھیان شور مچاتے موبائل کی طرف گیا.. کال اٹھاتےہی جیسے اسکے سر پہ کسی نے آسمان گرا دیا یو..
واٹ, یہ کب ہوا.. اوکے میں آ رہا ہوں ” گھبراتے ہوئے وہ اٹھا تھا..
کیا ہوا سر اینی پرابلم ” مسٹر آصف اسکے چہرے کی ہوائیاں اڑتی ہوئی دیکھ بولے..
میری وائف سیڑھیوں سے گر گئی بہت سیریس کنڈیشن میں ہے. زارون ایک منٹ کے لئے بھی نہیں رکا تھا وہاں..
زارون کے جاتے ہی مسٹر آصف نے کال لگائی تھی ایک دو رنگ کے بعد کال اٹھا لی گئی..
ییس سر ” بس زارون سرجلد ہی مان جائیں گے اس ڈیل کے لئے میں آج بھی بات کر رہا تھا کے ان کے گھر سے کال آگئی ایمرجنسی ہوگئی تھی اور انہیں جانا پڑا” کال اٹھاتے ہی وہ اس نے بات کا آغاز کیا..
کیسی ایمرجنسی ؟ مقابل نے فٹ سے پوچھا..
وہ انکی وائف سیڑھیوں سے گر گئی ہے بہت سیریس کنڈیشن ہوگئی ہے بہت گھبرا گئے تھے” اوکے سر میں آفس میں زیادہ بات نہیں کرسکتا کہتے ہی کال کاٹ دی”
اور ارحم کو دھچکا لگا تھا..
کیا زرتاج ” وہ جب کچھ دن پہلے اسے ملا تھا.. وہ تو پریگننٹ لگی تھی.. “سیڑھیوں سے گرنا اس کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے.. اگر اسے کچھ ہوگیا تو..
نہیں.. یہ جنگ اس کے لئے ہی تو شروع کی تھی میں نے”


ریش ڈرائیونگ کرتا وہ ہسپتال پہنچا تھا.. بھاگتا ہوا وہ اندر گیا تھا..
زرتاج اس وقت آپریشن تھیٹر میں موجود تھی..
اور پریشانی میں عالم صاحب. زویا اور سفینہ موجود تھی.. سیما گھر بچوں کے پاس موجود تھی..
ڈیڈ کیا ہوا سب”
بیٹا پتا نہیں کیسے ہوا اچھی بھلی تھی سیڑھیاں چڑھتی پیر مڑ گیا.. ڈاکٹرز نے فوراً آپریشن کا کہا ہے اب تک کوئی باہر نہیں آیا بس تم دعا کرو اللہ سے” عالم صاحب نے اسے تسلی دیتے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا..
زویا کے آنکھوں سے بھی آنسوں جاری تھے سفینہ بھی بینچ پہ بیٹھی تسبیح کررہی تھیں اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے دعا کررہی تھیں..
زارون کا دل بھی مٹھی میں آگیا ..
دیوار کے ساتھ ٹیگ لگا کر کھڑا ہوگیا.. بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا لالی اسکی آنکھوں میں بھی آگئی..
پھر کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر باہر آئی سب اسکی طرف لپکے..
ڈاکٹر.. زرتاج کیسی ہے.. زارون فٹ سے بولا..
دیکھیں ہم نے آپریشن کردیا ہے.. بیٹی ہوئی ہے..
بےبی کی حالت خطرے سے باہر مگر وہ کافی ویک ہے پری میچور ڈلیوری ہوئی ہے.. مگر پیشنٹ کا ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ابھی انہیں ہوش نہیں آیا ہے بلیڈنگ کافی زیادہ ہوئی ہے.. ہم کوشش کررہے ہیں آپ دعا کریں.. کہتے ہی ڈاکٹر نکل گئی..
مبارک ہو بیٹے زارون بس اب زرتاج کی زندگی کے لیے دعا کرو.. سفینہ نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے بھرائی سی آواز میں کہا.. جہاں سب کو ایک نئی زندگی کے آنے کی خوشی تھی وہاں زرتاج کی زندگی کی بھی فکر کھائے جا رہی تھی.. زارون بس سر ہلا سکا..
زارون زری ٹھیک ہوجائے گی ..زویا نے اسے تسلی دیتے کہا جبکہ خود کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا..
زارون کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں.. زرتاج کو وہ کھونا نہیں چاہتا تھا وہ دل سے زرتاج کی سلامتی کے لئے دعا گو تھا..
روحان کو جب زویا نے اطلاع دی زرتاج کی تو وہ بھی دوڑا چلا آیا تھا..
بےبی کو نرسنگ روم میں رکھا ہوا تھا ..زویا اورسفینہ اسے دیکھ کر آرہی تھیں.. زارون آئی سی یو کے باہر سے ہلا بھی نہیں تھا اسے بس زرتاج کی ہی فکر تھی..
زرتاج کو آپریشن تھیٹر سے اب آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا..
روحان زری ٹھیک ہوجائے گی زارون سے کہو وہ اپنی بیٹی کو دیکھ لے.. زویا روحان کے پاس آتی بولی تھی جو زارون کے پاس کھڑا تھا..
کہا ہے میں نے اسے مگر اسے زرتاج کی فکر زیادہ ہے” جب تک اسکی زندگی کی امید نہیں مل جاتی وہ نہیں ہلے گا یہاں سے” روحان زویا کو دیکھتے بولا..
زارون آئی سی سے باہر شیشہ کے ہول سے زرتاج کو ہی دیکھ رہا تھا.. اسکے ساتھ گزارے حسین لمحہ یاد آ رہے تھے.. وہ ساری زندگی کا ساتھ چاہتا ہے اسکے ساتھ ..
زارون حوصلہ رکھو انشاءاللہ زری جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی.. روحان نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے اسکا سکتہ توڑا تھا..
روحان مجھے زرتاج چاہئے اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں بھی زندہ نہیں رہ پاؤں گا وہ میری سانسوں کی طرح مجھ میں بسی اسے تکلیف میں دیکھ کر میں کس قدر تکلیف میں ہوں.. زارون کی آواز بھرا گئی تھی کہتے ہوئے..
زارون” پلیز حوصلہ رکھو یار.. تمہیں اپنے بچوں کی بھی فکر کرنی چاہئے انہیں تم دونوں کی ضرورت ہے اور ابھی تک تم نے اپنی بچی کو نہیں دیکھا ” زارون کی باتیں سن کر روحان کے دل کو کچھ ہوا تھا..
روحان پلیز ” اس وقت مجھے سب سے زیادہ فکر زرتاج کی ہے مجھے اپنی بچی کی طرف سے حوصلہ ہوا ہے وہ ٹھیک ہے بس ایک بار زرتاج ٹھیک ہوجائے.. زویا سے کہو گھر چلی جائے بچے اکیلے ہیں گھر مام سے عروش نہیں سنبھلے گی.. زارون نے دھیمے لہجہ میں فکر مندی سے کہا..