88.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 5

روحان گاڑی چلاتے ہوئے اپنے شہر کی لوٹ رہا تھا۔۔ وکی اسکا دوست تھا اب وہ۔اسکی طرف سے قدرے سکون میں تھا۔۔ وہ ماریہ کے ساتھ خوش تھا شاید”.. ماریہ کی اسکے لیے بے چینی رونا ” سب اسکی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔۔
وہ تین سال تک ماریہ کے ساتھ ریلیشن میں رہا تھا اس دوران وہ کافی کلوز بھی آ گئے تھے ۔۔” ماریہ کو دیکھتے ناجانے کیوں اسے وہ پل یاد آئے تھے ۔۔ماریہ اسکا ماضی ہے ۔۔ جو وہ بھول جانا چاہتا ہے۔۔ شکر ہے اسکی زندگی میں زویا آ گئی ۔۔ جس سے وہ اپنی انا کی آڑ میں دور رہا تھا۔۔ شکر کہ اسے وقت پہ عقل آئی ورنہ وہ ماریہ کے ہاتھوں برباد ہوجاتا ۔۔ خیر جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اب وہ اسکے دوست کی بیوی ہے۔۔ اسے بھی عقل آ چکی ہے ۔۔
°°°°
دوپہر ایک بجے قریب وہ گھر پہنچا تھا ۔۔
سب ہی اس وقت حال۔میں بیٹھے تھے ۔۔ عالم صاحب اسکی ماں سیما اور سفینہ ۔۔زویا یوسف کو لیے بیٹھی تھی۔۔
اسلام علیکم ” آتے ہی سلام کیا تو سب اسکی۔طرف متوجہ ہوِے۔۔ یوسف اپنی ماں گود سے اتر روحان کی طرف بھاگا۔۔ بابا ۔۔بابا۔۔
روحان نے بھی اسے گود میں ااٹھاتے پیار کیا۔۔
وعلیکم السلام کہاں تھے رات سے بندہ کسی کو جاتے ہوئے اطلاع ہی کردیتا ہے۔۔” عالم صاحب نے اسکی کلاس لی۔۔
” ڈیڈ ایمرجنسی ہوگئی تھی اٹس ارجنٹ ” بہت ضروری تھا جانا اگر بتاتا تو سوال جواب میں کتنا ٹائم ضائع ہوجاتا ” اور وہ وقت میں نے بچانا ضروری سمجھا۔۔’
بتا سکتے ہو آخر ایسی کونسی ایمرجنسی ہوگئی تھی ۔۔” سیما بولی۔۔
دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا وہ رات سے لاپتہ تھا اس لیے اتنا ٹائم لگا مجھے “
اوہ اچھا اب کیسا ہے تمہارا دوست ” سفینہ نے کہا..
شکر ہے اب خیریت سے ہے.. ” اچھا اب مجھے آفس بھی جانا ہے ” کہتا وہ اٹھا,
آج اوف لے لو آفس سے ساری رات خواری کی اب آدھا دن بھی گزر چکا ہے, سیما بولی
نہیں مام بہت ضروری ہے کام بھی ” کہتا یوسف کو سیما کی گود میں ڈالتے’ وہ سیڑھیاں چڑھ گیا
اور زویا بھی اسکے پیچھے چل دی.. کمرے میں آتے ہی زویا کے سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا,
“کیا بتانا پسند کریں گے کو نسےدوست تھے آپکے جو اتنا ایمرجنسی میں آپکو آدھی رات کو نکلنا پڑا”
اتنے سوال تو میرے اماں ابا نے نہیں کئے جتنے تم نے کر دیے”
ہاں تو میرے جواب تو دینے پڑیں گے”
زویا اسکے قریب آتے بولی..
کچھ زیادہ ہی شک نہیں کرنے لگ گئی تم ہر بات کا جواب چاہیے “
زویا کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے ساتھ لگا گیا..
ہاں تو مجھے حق ہے آپ سے سوال کرنے کا چھوڑیں مجھے” غصہ ناک پھیلاتے بولی..
روحان نے اسکی چھوٹی سی ناک دبائی تھی. ٹائم نہیں ہے ورنہ اچھے سے بتا دیتا.. اسے آزاد کرتا واش روم میں بند ہوا..
اور زویا پیر پٹختی کمرے سے باہر چلی گئی اسکے لئے کھانے کا انتظام کرنے..


روحان تین بجے اپنے آفس پہنچا تھا .. سب اسٹاف کو سلام کہتا اپنے آفس میں انٹر ہوا جہاں پہلے سے آئرہ موجود تھی
“اسلا علیکم ” وہ اسے دیکھتے کھڑی ہوئی..
وعلیکم اسلام !ہیو آ سیٹ ‘ آپ کب آئیں .
وہ اسے بیٹھنے کا بولتے خود بھی اپنی کرسی سنبھالتے بولا تھا..
میں آدھا گھنٹا پہلے کچھ امپورٹنٹ پوائنٹس ڈسکس کرنے تھے پروجیکٹ کے حوالے سے.. مگر آپ آفس اب آئیں ہیں خیریت”
ہاں خیریت ہے مجھے کچھ کام تھا اسلیے نہیں آ سکا” آپ نے امپلاوئے کو بھیج دیا ہوتا .. خود کیوں زحمت کی آنے کی”
میں اپنا کام خود ہی کرتی ہوں ” امپلائیز پہ۔سارا کام نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔”
گڈ ” ویری سمارٹ ” روحان نے مسکراتے کہا۔۔
آئرہ تو ہنسی میں۔ایک کے کھو سی گئی۔۔ اگلے ہی لمحے ہوش کی دنیا میں آتے ۔۔ بزنس کے متعلق بات چیت شروع کردی۔۔
ا
اوکے تھینکس۔۔ مسٹر روحان عالم ملک ۔۔ “
مینشن ناٹ” روحان نے کہا
آاہ مجھے آپکا پرسنل نمبر بھی چاہیے ہوگا میں گھر میں بھی فارغ وقت میں اپنا کام کرتی ہوں ۔۔ آا اف یو ڈونٹ مائینڈ ” اگر آپ۔۔ آئرہ نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
ںو اٹس اوکے ۔۔اچانک کام بھی پڑ سکتا ہے آپ۔مجھے ڈاریکٹ کانٹیکٹ کر سکتی ہیں ۔۔ روحان نے اسے اپنا نمبر دے دیا۔۔
یوں بہانے سے آئرہ۔نے اسکا نمبر لے لیا۔۔اور وہ۔اپنا کام ہوتے چلتی بنی۔۔
°°°
بیٹے بہت شکریہ تمہارا جو تم ملنے چلے آئے ” میں جانتی ہوں تم مجھ سے ناراض ہو گے۔۔ “
ہوگے بھی کیسے نہیں بھلا جو نہیں کیا تمہارا ” وہ بے بیمار ہسپتال کے بستر سے لگے پڑی تھیں۔۔ اور وہ اسکے قریب بیٹھا اپنی پھپھو کی عیادت کے لیے آیا تھا۔۔
“ایسی بات نہیں ہے پھپھو پاکستان آیا تو سوچا آپ سے بھی مل لوں ۔۔ مگر پتا چلا کے آپ یہاں ہیں۔۔ اور آپ یہاں اکیلی ہی ہے کوئی ساتھ نہیں آپکے۔۔ ” وہ ہمدردی جتاتے بولا۔۔
نہیں سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہے ایک بیٹا جو چکر لگا جاتا ہے بس” وہ بےبسی سے آنسوں بہاتی بولی۔۔
آپ فکر نا کریں میں آپ کے لیے نرس کا۔ بندوبست کردیتا ہوں۔۔
بہت شکریہ ارحم بیٹا” وہ بھیگے لہجہ میں بولی۔۔
زرتاج تم یہاں رکو میرا ویٹ کرو میں رپورٹس لے آؤں
جلدی آنا زرتاج بنچ پہ بیٹھی بولی۔۔ آج وہ دونوں ہاسٹپل آئے تھے اپنے روٹین چیک اپ کے لیے ۔۔ ڈاکٹرز نے کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیے تھے .جو انہوں نے کروا لیے تھے اب رپورٹس لینے کے لیے زارون خود ہی چلا گیا عروش کو وہ گھر چھوڑ آئے تھے۔۔
زارون کے جانے کے بعد زرتاج اپنا بھاری وجود سنبھالتی اٹھی اور کوریڈور میں ویسے ہی چکر کاٹنے لگی۔۔
تب ہی اسپتال کے کمرے سے وہ پھپھو سے ملتا باہر نکلا تھا۔۔
اب وہ۔سیدھا چلتا آ رہا تھا سامنے ہی زرتاج منہ دوسری طرف کیے چکر کاٹ کر اسکی طرف مڑی دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔۔ دونوں ہی اپنے قدموں پہ ساکت ہوئے۔۔
زرتاج کی آنکھیں پھیلی اسے دیکھ ۔۔ وہ اسے اگنور کرتی مڑی تھی کے وہ۔بول پڑا۔
واہ کیا حسیں اتفاق ہے ۔۔ قسم سے ٹھنڈ پڑ گئی اس دل میں جو کب سے جل رہا تھا۔۔ مکرو ہنسی ہنسا تھا ۔۔ جب اسکا چہرے کی زرد پڑی تھی۔۔ مگر بولی کچھ نہیں۔۔
پھر اسکے بھاری ہوتے وجود پہ نگاہ ڈالی۔۔
آج یہ بچہ تم میرے پیدا کررہی ہوتی کاش کہ میں وہ غلطی نا کرتا۔۔ افسوس سے سر ہلاتے بولا پھر دو قدم چل کر اس کے تھوڑا قریب آیا۔۔
اپنی بکواس بند رکھو اور ہٹو میرے راستہ سے ۔۔ زرتاج کا پارہ ہائی ہوا تھا۔۔
آاہ اتنا غصہ کر کے اپنے شوہر کا نقصان کرواؤ گی ۔۔ اسکے وجود پہ نخوت سے نظر ڈالتا بولا۔۔
زرتاج کا دل کیا اس گھٹیا شخص کا منہ نوچ لے مگر۔۔ کہیں زارون نا آجائے اور حالات بگڑ جائیں اس لیے اس نے راستہ بدلنا ہی بہتر سمجھا۔۔ اسکے سائیڈ سے تیزی سے نکلتی سامنے کی طرف تیز چلتے سامنے زارون پہ نظر جا ٹھہری جہاں زارون آ رہا تھا رپورٹس لے کر۔۔
زرتاج ۔۔ زارون اسے دیکھتا بولا ۔۔ زرتاج ایک دم۔سے اسکے سینے سے جا لگی۔۔ زارون نے بھی اسکے گرد بازو پھیلائے اور فکر مندی سے گویا ہوا ۔۔ کیا ہوا زری ۔۔
ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ اسکے تن بدن میں تو جیسے آگ سی لگ گئی ۔۔ بہت جلد تم دنوں کو الگ کردوں گا ایسے دیوار کھڑی کردوں گا کبھی مل نہیں پائو گے نخوت سے کہتا وہاں سے نکل گیا۔۔
کچھ نہیں۔۔ اتنی دیر لگا دی تم نے وہ اس سے الگ ہوتی بولی۔۔
تو اس نے میں گھبرانے والی کیا بات ہے بتا کر تو گیا تھا تمہیں” اسکے چہرے پہ گھبراہٹ کے آثار دیکھ اسکا ہاتھ پکڑے آگے بڑھ رہا تھا۔۔


وہ دونوں گھر پہنچے تھے اس وقت شام ہو رہی تھی.. جب گھر انٹر ہوئے تو روحا اور عمار آئے ہوئے تھے..
روحا تو زرتاج کو دیکھتے ہی بھاگ کر اس کے گلے سے لگی..
زرتاج جو اس وقت سے ٹینشن میں تھی .. روحا سے مل کر اس ٹینشن کو بھول گئی تھی..
بہت جلدی نئی آگئی تم ملنے شوہر کے گھر دل لگ گیا تھا تمہارا.. زرتاج اس کے گلے ملتے ابولی ..
ایسا نہیں بہت دل چاہ رہا تھا تم سب سے ملنے کا .. روحا کہتے پھر ساتھ کھڑے زارون کے سینے سے لگی ..
زارون نے بھی اسے پیار سے سینے سے لگایا تھا..
کیسے ہیں زی بھائی..
ٹھیک ہوں تمہارے سامنے مگر تمہاری بیسٹی نے ناک میں دم کیا ہواہے.. اسے ساتھ لگائے اندر آتے بولا ..
تو آپ کونسا کم ہو” سارا قصور میری بیسٹی کا بھی نہیں” روحا نے زرتاج کے کاندھے ہاتھ پھیلاتے کہا..
ماشاللہ سے تمہارے بیسٹی تو پھیلتی جا رہی ” عمار اسکے بھاری وجود کا مذاق اڑاتے بولا..
تمہارا نہیں کھاتی میں “وہ چڑ کر بولی..
ہاں جبھی بچارے کا دیوالیہ نکل گیا ہے” دیکھو تو سہی نکا سا منہ لگ رہا ہے” عمار کہاں چپ رہنے والا..
بس کردو عمار ” وہ پہلے ہی بچاری اس کنڈیشن میں ہے اور تم اسے تنگ کیے جا رہے ہو..
زویا انکے لیے پانی لاتی بولی..
اسکی صحت پہ کیا اثر پڑنے والا ہے بلڈوزر والے بھی اسے ڈھونڈ رہے ہوں گے انکا روڈ رولر خراب ہوگیا ہے..آکے سڑک پہ دو چکر لگا جائے..” عمار نے مزید مرچ مصالحہ لگایا تو چڑ ہی گئی..
ہاں مگر تم مجھ سے بچ جانا تمہارے لیے تو میرا ایک ہاتھ ہی کافی ہے جتنی تمہاری صحت ہے نا “
بس بس” زارون پانی کا گلاس ختم کرتے بولا جو چپ چاپ انکی نوک جھوک سن رہا تھا..
زری کمرے میں جاؤ ‘ زرتاج کو کمرے کی طرف اشارہ کرتے جانے کا بولا..
اور تم ‘ زرا تمیز سے بات کرو .. میری بیوی ہے وہ ” چاہے جتنی بھی موٹی ہو جائے میرے دل میں ہی رہے گی..” لہٰذا دوبارا اسکا مذاق نا اڑاتا ہوا دیکھوں..
زارون نے عمار کو سختی سے ٹوکا تھا.. زرتاج سیڑھیوں پہ چڑھتے اسکی باتیں سن کر مسکرائی اور آگے بڑھ گئی..
سوری زارون بھائی میں تو بس ایسے ہی آفٹر آل میری کزن ہے.. پہلے سے ہی یہ سب چل رہا ہے ہمارا “
کوئی بات نہیں اسکی کنڈیشن ایسی ہے وہ برداشت نہیں کر سکتی اس لیے زرا کنٹرول کرلو .. ” اور بلڈوزر والا بزنس اسٹارٹ نا کرنا پڑ جائے ہاتھ تنگ ہے آج کل میرا..” وہ کہتا اٹھا تھا..
اب خود مذاق بنا رہے ہو اور کوئی کہتا ہے تو مائنڈ کر جاتے ہو’ زویا بولی..
سن تو نہیں رہی” زارون سیڑھیوں کی طرف دیکھتا بولا..
اتنا ڈر ” عمار اسے تنگ کرتا بولا..
ہاں یار بھاری بہت ہے ” ہاتھ ” زارون کہتا تیزی سے سیڑھیوں کی بڑھا..
تو پیچھے تینوں ہنسنے لگے..
روحا عمار اور زویا ہی تھے اس وقت وہاں .
پھرسیما باہر آئی ” زویا کھانے کا بندوبست کرو اب تم سب روحا کی پسند کا ہونا چاہیے آج..”
یہ کھاتی کیا ہے جو اسکی پسند کا بنے گا” ایک دانا ہی کافی ہے بس اس کے لیے اینوی زویا بچاری اتنی محنت کرے گی” عمار اب روحا کی صحت کو ٹارگٹ کرتے بولا..
عمار ” زویا نے اسے ٹوکا..
تو سیما ہنس دی .. بس ایسے ہی ہے اب کیا کرے اسکا ‘ سیما نے بھی عمار کی سائیڈلی ..
ماما کھاتی تو ہوں میں ‘ روحا فٹ بولی..
سب پتہ ہے جتنا کھاتی ہو تم..سیما بولی..
تو وہ منہ بسور کے رہ گئی ..


وکی کو شام میں ہوسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا تھا ..
اسکی تینوں بہنیں بھی پہنچ چکی تھی..
وکی بیڈ پہ تکیہ سے ٹیگ لگائے بیٹھا تھا ماریہ اسکے سامنے بیٹھی تھی..
آہ مجھے پہلے ہوتا تم میرے ایک ایکسیڈنٹ سے اتنی چنیج ہو جاؤ گی تو میں بہت پہلے کروا چکا ہوتا یہ سب..
وقار یہ تمہارے لیے مذاق ہے کل رات میں نے تمہارے بغیر کیسے کاٹی ہے تمہیں کچھ اندازہ ہے اس بات کا..
ماریہ خفگی سے بولی تھی..
ہاں ہو رہا اندازہ ” ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھاما جسے اس نے چھڑایا نہیں..
تمہارے دل میں میرے لیے جذبات تھے مگر تم اسے دباتی چلی آ رہی تھی.. میرے کیے کی سزا تم نے بہت طویل کردی’ ایک شکوہ سا تھا جو کر بیٹھا تو وہ چپ رہی..
بس اب جلدی سے ٹھیک ہوجاؤں کہیں گھومنے چلیں گے جہاں تم جانا چاہو.. اسکا موڈ بحال کرنے کے لیے بولا جو پھر سے اداس لگنے لگا..
وقار مجھے گرینی سے ملنا ہے ” وہ پھر سے اس ملک کا نام لے بیٹھی جس سے اب وکی کو نفرت محسوس ہوتی تھی..
اچھا ٹھیک ہے جیسے تمہارے مرضی” مگر وہ پھر بھی ہاں بول گیا اور ماریہ کا چہرہ کھل اٹھا تھا..
کیا تم سچ کہہ رہے ہو وقار ” وہ خوش ہوتی بولی..
ہاں اور تم مجھے میرے نام سے کیوں بلاتی ہو” جب کہ میں سب کے لیے وکی ہی ہوں..”
تم الگ ہو میرے لیے اس لیے .. میں پچھلے وکی کو یاد نہیں رکھنا چاہتی ” اس لیے تم میرے لیے صرف وقار ہو’ ماریہ اسے دیکھتے بول رہی .. اور اسکے ہاتھ پہ دوسرا ہاتھ رکھ.. دونوں ایک دوسرے کو دیکھ مسکرائی..
تب ہی دروازہ ناک ہوا .. اور وکی بڑی بہن ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اندر آئی..
میں تم دونوں کا کھانا کمرے میں ہی لے آئی وکی تیرے لیے سوپ بنایا ہے ابھی تونے مرچ مسالحہ والی چیز نہیں کھانی اور ماریہ پت یہ تیرے لیے سالن روٹی ہے کھالے گی نا” وہ ان دونوں سے عمر میں کافی بڑی تھی اس لیے بچوں کی طرح انہیں ٹریٹ کر رہی تھی..
تھینکس آپا مگر میں آپ لوگوں کے ساتھ کھانا کھاؤں گی..
ماریہ ان سے ٹرے لیتی بولی..
او تو رہن دے پہلے اپنے کھسم نو سنبھال ” اسکا خیال رکھ اور دعا بچی ہمارے ساتھ ہے اسکی نا فکر کریں اسے بھی کھانا کھلا دیا ہے ایک ہی ویر ہے ہمارا اسکا خیال کر شکر ہے اللہ کا جو اسنے میرے ویرے کو محفوظ رکھا .. اچھا میں چلتی ہوں..
جیتے رہو خوش رہو..’ دعائیں دیتی چلی گئیں..
یہ لو تم سوپ پیو..” ماریہ اسکے سامنے سوپ کا باؤل کرتے چمچ بھر کر اسکے منہ کے قریب کرتے بولی..
یہ میں خود کھا لوں گا تم کھانا کھاؤ..صبح سے کچھ نہیں کھایا.. باؤل اسکے ہاتھ سے تھامتے بولا..
تو ماریہ نے اپنا کھانا سامنے رکھا .. ماریہ کا کھانا بھنڈی گوشت دیکھ کر وکی کا بھی جی للچایا..
ویسے تم اپنا کھانا مجھے کھلا سکتی ہو..”
بلکل بھی نہیں ‘ سنا نہیں آپا نے کیا کہا تھا..’ ماریہ نے کہتے نوالا بنا کر اپنے منہ ڈالا وکی نے بھی منہ بناتے اپنا سوپ پیا تو برا سا منہ بنانے لگا تھا.. ماریہ کو ہنسی آئی مگر کنٹرول کر گئی..
بہت ظالم بیوی ہو تم” اسے آرام سے کھا نا کھاتا دیکھ بول اٹھا..
تم سوپ پیو چپ چاپ اپنا’ میڈیسن لینی ہے ” ماریہ نے اسے ٹوکتے کہا تو وہ بچارہ سا منہ بنا کر رہ گیا..


زرتاج کمرے میں بیٹھی آج ارحم سے ہوئے ٹکراؤ کے بارے میں سوچے جا رہی تھی..
اسکا شیطانی چہرہ اور انداز گفتگو بتا رہا تھا اسکا یہاں ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے..
اور یہ بھی سوچ رہی تھی وہ زارون کو اس کے بارے میں نہیں بتائے گی کیونکہ اسکا ری ایکشن بہت برا ہوگا .. بس اسے خاموش ہوجانا چاہیے..
زری نیچے آجاؤ کھانا لگ گیا ہے.. زارون کمرے میں آتا بولا تو وہ سوچوں کے حصار سے باہر آئی..
جی میں آ ہی رہی تھی ..عروش کہاں”
وہ نیچے ہی ہے تم آ جاؤ اسکا گَرایا سا چہرہ بغور دیکھتے بولا..
جی وہ اسکے ساتھ چل دی..
کھانے کی میز سے بہت ہی مزیدار خوشبوئیں اٹھ رہیں تھیں.. زرتاج کی تو بھوک جاگ اٹھی اسنے نے بھی اپنی جگہ سنبھالی.. اس وقت سب لوگ ہی ٹیبل پہ موجود تھے..
روحا اور عمار ایک ساتھ بیٹھے تھے.. روحا نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے چاول ڈالے تھے کھانے کے لیے..
” یہ کیا ہے اتنا سا تو مرغی کا کھانا ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ .. وہ اپنی کزن کو ہی دیکھ لو’ پورا بھینس جتنا چارا ڈالا ہوا ہے” اشارہ زرتاج کی طرف تا جس کی پلیٹ چاول سے بھری ہوئی تھی جو پورا انصاف کررہی تھی اپنی پلیٹ کے ساتھ..
عمار ” میں جتنا کھا سکتی ہوں اتنا ہی کھاؤں گی’ آپ اپنا کھانا کھائیں دوسروں کی پلیٹ میں نا نظریں لگائیں..”
روحا نے اسے ٹوکتے تھوڑا سا غصہ سے کہا
ماشاللہ سے کھانا بہت مزے کا ہے عالم صاحب نے تعریف کرتے کہا..
زویا نے بنایا ہے سب سفینہ بھی مسکراتے بولی.. روحان نے زویا کی طرف دیکھا جو اپنی تعریف پہ مسکرا رہی تھی..
واقعی زویا آج تو مزہ آ گیا کھانا کھا کے..’ تمہیں میری وجہ سے اکیلے کچن سنبھالنا پڑ رہا ہے” زرتاج شرمندگی سے بولی وہ اسکی ہیلپ نہیں کروا سکی..
کوئی بات نہیں زری روحا نے بھی ہیلپ کروائی اور ساتھ ملازمہ بھی تھی..زویا نے کہا..
ہہم میٹھا تو مجھے بہت پسند آیا تمہاری طرح” روحان نے زویا کو دیکھتے محبت بھرے لہجہ میں کہا تو زویا شرما دی..


ارحم اپنے محل نما گھر میں تھا حو بہت ہی بڑا تھا .. اس وقت اپنے کمرے می تھا جو بہت ہی بڑا اور کھلا تھا.. بے حد عالیشان طریقہ سے کمرے کی سجاوٹ کی گئی تھی..
وہ اس وقت نائٹ گاؤن میں تھا .. آج زرتاج سے سامنا اسے مزید سلگا گیا ااکے تن بدن میں آگ سی لگ گئی تھی.. یہاں آنا ایک ہی مقصد تھا وہ ان دونوں کی بربادی ..اب زرتاج کو حاصل نہیں برباد کرنا چاہتا ہے اسکا گھر اسکی زندگی سب کچھ..
جتنی محبت تھی اب اس سے کئی زیادہ نفرت ہے..