Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 3
روحان گرے کلر کا تھری پیس سوٹ پہنے ۔۔ نک سک سے تیار ہورہا تھا۔۔ زویا تو اسے دیکھ جل بھن کر رہ سی گئی۔۔
یہ کام پہ جایا جا رہا ہے یا شادی پہ”
ڈارلنگ بہت تگڑی آسامی ہے ” وہ اسکی دونوں گالوں پہ تھپکی دیتا بیگ اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
°°°
مسٹر آصف کمپنی کے شئیرز اچانک کیسے گرنے لگ گئے ہیں۔۔ کچھ مہینے پہلے تو اتنا اچھا سیٹ اپ چل رہا تھا کمپنی کا۔۔ میں بینک رپٹ ہو جاؤں گا کمپنی کا دیوالیہ نکل جائے گا اگر یہی حال رہا تو پروجیکٹس بھی بہت کم مل رہے ہیں اتنی ڈیمانڈ ہے مارکیٹ میں ہماری مگر پھر بھی کمپنی خسارہ میں جا رہی مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ڈیڈ کو کیا جواب دوں گا میں انکے گھر بیٹھتے ہی کمپنی کو خسارہ ملنا شروع ہوگیا۔۔ ” زارون پریشان حال بیٹھا اپنے مینیجر آصف سے ڈسکس کررہا تھا۔۔
سر سنا ہے دبئی سے ایک نئی کمپنی لانچ ہوئی ہے اس نے مارکیٹ میں آتے ہی دھوم مچا دی ہے ۔۔ اس لیے ہماری کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کم ہوتی جا رہی ہے۔۔
ہہم .. اس کمپنی کے اونر کو۔انویٹیشن بھیجیں تاکہ ان سے مل کر ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اپنی ڈوبٹی کشتی کو بچا سکیں۔۔زارون کچھ سوچتے بولا
اوکے سر میں آج ہی میل کردوں گا”
ویری گڈ یو مے گو ناؤ”
تھینکس ” مینیجر چلا گیا وہاں سے۔۔
وہ پریشان سا دونوں ہاتھ کو آپس میں ملائے کہنوں میز پہ ٹکا لی ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اتنا اچھا بزنس رن کررہا تھا آخر ایسی کیا وجہ ہوئی کے اس کی مارکیٹ ویلیو ڈاؤن ہونا شروع ہوگئی ہے۔۔ بینک سے لیا بھاری لان ۔۔ اگر وہ وقت پہ ادا نا کرپایا تو اسکی کمپنی ضبط بھی کی جا سکتی ہے اسے جلد از جلد کچھ کرنا پڑے گا ۔۔
پھر موبائیل اٹھایا زرتاج کا خیال آیا اتنی پریشانی میں بھی زرتاج کی فکر تھی ۔۔ اسے کال لگائی۔۔
ایک دو بیل کال اٹھا لی۔۔
ہیلو ۔۔”
کیسی ہو ” اسکی آواز سنتے کچھ پریشانی کم ہوئی دل میں سکون سا اترا۔۔
کیسی ہو سکتی ہوں جس حال میں بھی ہوں تمہاری وجہ سے ہوں ۔۔” وہ تڑخ کر بولی تھی۔۔ اور زاورن کو اسی جواب کی امید تھی۔۔
بس ابھی سے تھک گئی ۔۔ ابھی تو تین چار پانچ ” زارون بھی کہاں باز آنے والا مزید اسے سلگا گیا۔۔
بس بس” ہاکی ٹیم بنانی ہے کیا تم اکیلے نے ہی” زرتاج نے اسے مزید گنتی سے روکا۔۔
تمہاری یہ بلا تو سنبھالی نہیں جا رہی مجھ سے ” مزید پتا نہیں کیا ہوگا۔۔ عروش کو چینج کروا رہی تھی جو لان میں کھیلتے سارے کپڑے مٹی سے خراب کرلیے تھے ۔۔
خبردار میری شہزادی کو بلا کہا تو” زارون نے اسے وارن کرتے کہا۔۔
اچھا ڈاکٹر سے دو دن بعد کا ٹائم ملا ہے یاد سے چلی جانا یامجھے بتا دینا ۔۔ ” اتنی پریشانی میں بھی وہ اسکی کیئر کررہا تھا۔۔
ٹھیک ہے” کچھ سامان چاہیے لیتے آنا راستہ سے گھر۔۔”
یار کم خرچہ کرو میرا دیوالیہ نکالنا ہے کیا” آج پھر کھانے کی لسٹ کا سن کر زارون بول اٹھا۔۔
زارون تم میرا اتنا سا بھی خرچہ نہیں اٹھا سکتے ۔۔ ” وہ غصہ سے بولی۔۔
کھا کھا کر ڈبل ہوگئی ہو ۔۔ میرا کچومبر نکل جائے گا کسی دن تمہارے نیچے آ کر۔۔” زارون اسے تپا گیا۔۔۔
زارون” کہتے اس نے کال کاٹ دی۔۔
اسکے بنا رہا نہیں جاتا اور بات کر کے بھی پچھتاوا ہی ہوتا ہے۔۔وہ افسردگی سے بس سوچ سکا۔۔
°°°
سر بزنس میٹنگ کے لیے مسٹر حیدر کمال اور انکی بیٹی مس آئرہ حیدر کمال اس وقت میٹنگ روم میں آچکے ہیں ۔۔”
اوکے لیٹس گو” روحان فوراً اپنی سیٹس سے اٹھا اور میٹنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
اسلام علیکم ” گڈ مارننگ ایوری ون” روحان مسکراتا میٹنگ حال میں داخل ہوا۔۔
مسٹر حیدر کمال اور انکی ٹیم نے کھڑے ہوکر اسکا ویلکم کیا ۔۔
گڈ مارننگ مسٹر روحان ” حیدر کمال نے اسکی جانب ہاتھ بڑھاتے مصافحہ کیا۔۔
آئرہ کی نظریں تو روحان پہ ٹھہر سی گئی تھی۔۔
میٹ مائے ڈاٹر آئرہ۔۔” مسٹر حیدر کمال نے اپنی بیٹی کا تعرف کروایا۔۔
ہائے۔۔ ” آئرہ نے اسکی جانب مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔
تو روحان نے مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا۔۔ گرے تھری پیس سوٹ بوٹ پہنے ۔۔ گھنی منچھوں تلے مسکراتے عنابی لب وہ اسکی مسکراہٹ کی دلدادہ ہوائی۔۔
روحان نے مسکراتے ہلکا سا ہاتھ ملاتے چھوڑ دیا ۔۔
ہیو آ سیٹ ۔۔ ” انہیں بیٹھنے کا کہتے خود سامنے سکرین کی طرف آیا۔۔ لیپ ٹاپ سے اپنی پریزینٹیشن نکالے انہیں اپنے پروجیکٹ کے بارے میں سپیچ دینے لگا۔۔
آئرہ کی نظریں بس روحان پہ تھی ۔۔ بولتے وہ ادھر سے ادھر چکر بھی کاٹ رہا تھا ۔۔ اپنی تمام تر مردانہ وجاہت لیے وہ بہت ہی ہینڈسم مرد تھا ۔۔ تیکھی ناک چھوٹی آنکھیں ہلکی سی بڑھی بئیرڈ گھنی مونچھوں تلے ہلتے لب آئرہ اسکی سحر انگیز شخصیت میں کھو سی گئی تھی۔۔
سپیچ ختم ہوئی تو سب نے تالیاں بجاتے اسے داد دی مسٹر حیدر کمال کو تو بہت پسند آیا اسکا انداز۔۔
ویل ڈن روحان عالم ملک” آئی لائک اڈ۔۔
آئرہ کیا خیال ہے تمہارا ۔۔ ” اٹس ڈن ۔۔ اپنے ساتھ بیٹھی آئرہ کی طرف منہ کرتے وہ بولے۔۔
ییس پاپا آف کارس روحان از ویری جینئس مین” آئرہ نے سبز رنگ آنکھوں کو چھوٹا کرتے کہا۔۔ خوبصورتی میں وہ بھی کسی سے کم نہیں تھی سرخ سفید رنگت ۔۔ ریشمی سنہری کھلے سٹریٹ بال ۔۔ سمارٹ سی اونچا لمبا قد ۔۔ گرین شرٹ پہنے ساتھ کھلا سکن ٹراؤزر پہنے ۔۔وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔
اوکے مسٹر ملک اٹس ڈن ۔۔” حیدر کمار نے تھمنب دکھاتے مثبت رائے دی تو وہ کھل اٹھا ۔۔اور گہرا مسکرایا۔۔
افف آئرہ کمال تو اسکی مسکراہٹ میں کھو سی گئی۔۔
ڈیل سائن کرتے ہی وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ۔۔
روحان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔۔ اسے اتنا بڑا پراجیکٹ بڑا ہے ۔۔ اسکی ترقی کی راہیں ہموار ہوگئیں تھی ایک کے بعد ایک کامیاب سیڑھی چڑھا رہا تھا وہ۔۔
°°°
روحان نے گھر آتے ہی سب کو اپنی کامیابی کی خبر سنائی ۔۔ سب ہی بہت خوش تھے زارون بس اوپر سے مسکرا رہا تھا اپنے بھائی کی خوشی میں خوش ہونا چاہتا تھا مگر ہو نہیں پا رہا تھا۔۔ کیونکہ وہ اپنے کاروباری حالات سے پریشان تھا ۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھنے کے بجائے مزید ڈاؤن جارہا تھا۔۔
سب بڑوں نے روحان کی کامیابی کی دعائیں اور مبارک بادیں دیں۔۔
′°°
آج عروش بھی سونے کا نام نہیں لے رہی تھی بلکہ مزید روئے جا رہی تھی۔۔
زارون لیپ ٹاپ پہ آفس کا ضروری ورک کررہا تھا ۔۔ مگر عروش کے رونے اور اسکے رونے سے زیادہ زرتاج کی اسے چپ کروانے کی آوا ز زیادہ اونچی تھی۔۔وہ سخت ڈسٹرب ہوا۔۔
زرتاج کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ مجھے کام کرنے دو ” اسکی آواز قدرے اونچی تھی۔۔
تمہارے سامنے ہی ہے سب سو نہیں رہی۔۔” تو میں کیا کروں خود ہی سنبھالو اسے” وہ بھی تنک کر بولی۔۔
چپ کرواؤ اسے کیا مسئلہ ہے میں کام نہیں کر پارہا۔۔ زارون آج سے پہلے کبھی اس طرح سے نہیں بولا تھا ۔۔ زرتاج نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر اسے سلانے لگی تو اب کے عروش اور اونچی آواز میں روئی تو زارون غصہ سے بولتا اٹھ گیا۔۔
ایک تو سکون ہی نہیں یہاں ۔۔ زندگی برباد ہوکر رہ گئی ہے۔۔ وہ غصہ سے بڑبڑاتا کمرے سے نکل گیا اور سٹدی روم میں آ گیا۔۔
زرتاج کو اسکا یہ انداز بلکل پسند نا آیا وہ جانتا ہے کہ وہ کس کنڈیشن میں مگر اسے تو صرف اپنے آرام سکون کی پڑی ہے۔۔
°°°
روحان کی خوشی دیدنی تھی ۔۔ وہ کمرے میں اپنی فائل صوفہ پہ لیے بیٹھا تھا۔۔
زویا کمرے میں کافی لیے آئی اور اسکے سامنے آتی بولی ۔۔
بہت زیادہ نہیں خوش ہوا جا رہا ” وہ طنزیہ بولی ۔۔
تو کیا نہیں ہونی چاہیے جو مجھے چاہیے تھا وہ مل گیا ایک تو ڈیل سائن ہوگئی دوسرا باس کی بیٹی بڑی پیاری تھی۔۔
روحان نے اسے سلگاتے کافی کا کپ منہ کو لگایا۔۔
بہت پیاری ہے تو اسی کے پاس جاؤ نا ۔۔” وہ چڑ کر بولی۔۔
روحان نے اسکا ہاتھ پکڑا کافی ٹیبل پہ رکھی اور اسے کھینچ اپنی گود میں بٹھا لیا۔۔
چھوڑیں مجھے ” زویا ناک پھلاتے بولی
کوئی کتنا بھی خوبصورت ہو مگر تم سے کم ہے” وہ اسکی چھوٹی سی ناک دباتے گھمبیر لہجہ بولا۔۔ تو وہ مسکراتے اسکے گلے سے جا لگی روحان نے بھی اسکے گرد بازو حائل کردیے۔۔
°°°
صبح ہی زاون کمرے میں آیا اسے احساس ہو چکا تھا کہ وہ زیادہ ہی بول چکا ہے۔۔
عروش سو رہی تھی زرتاج شاید نیچے تھی کمرے میں اسکی ہر چیز ریڈی تھی ۔۔وہ تیار ہونے کے لیے واش روم میں بند ہوا۔۔
نیچے آیا تو سب ناشتہ کی ٹیبل پہ موجود تھے۔۔ زارون اپنی نشست سنبھالتے چائے کا کپ اٹھایا کچن سے نکلتی زرتاج۔پہ نظر پڑی جو اپنا بھاری وجود سنبھالتے اسکے سامنے ناشتہ رکھا ۔۔
زارون کو اگنور کرگئی۔۔” میں زرا عروش کو دیکھ لوں اٹھ نا گئی ہو۔۔۔”
دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیڑیاں چڑھ گئی زارون کو غصہ بہت آیا مگر کنٹرول کرگیا۔۔
°°°°
آج میں جلدی گھرآؤں گا تیار رہنا ہم باہر چلیں گے ڈنر کرنے کے لیے۔۔
وقار ناشتہ کرتے ہوئے ماریہ سے مخاطب ہوا جو اسکے لیے ناشتہ بنا کر اسکے سامنے بیٹھی تھی۔۔
کیوں ؟” ماریہ کے منہ سے اچانک نکلا۔۔ پھر احساس ہوا غلط بول گئی۔۔
وکی اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔۔
کیا مطلب۔۔ کیوں؟ ماریہ ۔۔ ” وہ اپنا جواب چاہتا تھا۔۔
سوری غلطی سے بول دیا آئی مین کے آج کوئی خاص دن ہے ” ماریہ نے کہا۔۔
ہاں ہر دن میرا خاص ہوتا ہے تمہارے ساتھ اگر سمجھو تو۔۔” وکی سیریس انداز میں کہتا اٹھ گیا۔۔
ماریہ اسکا بیگ اٹھاتے اسکے پیچھے آئی۔۔ “تمہارا بیگ”
تھینک یو ” سپاٹ انداز تھا ۔۔بیگ لیتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔ اسے شدید برا لگا ماریہ کا یہ نروکھا انداز ۔۔ وہ ماریہ کی جانب قدم بڑھاتا مگر اسکا ٹھنڈا رسپانس اسے توڑ جاتا ہے۔۔
اسکے جاتے ہی ماریہ بجھے سے انداز میں اندر آئی ۔۔ وہ نہیں بڑھ سکتی اسکی طرف ۔۔ چاہ کر بھی ۔۔ یہ دل ۔۔ یہ جذبات ۔۔ سب مر چکے ہیں ۔۔ یہ وجود بس سانسیں لے رہا ہے۔۔ اور کچھ بھی نہیں رہا ۔۔ ” دو آنسوں پھسلے تھے آنکھ سے۔۔ جسے بے دردی سے رگڑ گئی۔۔
°°°
آئرہ تو ابھی بھی روحان کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی ۔۔ آج روحان نے انکے آفس آنا تھا ۔۔ وہ کب کا انہیں کے انتظار میں بیٹھی تھی اور انتظار تھا کے طویل ہوتا جا رہا تھا۔۔
آوف وائٹ شرٹ پہنے ساتھ بلیک کوٹ اور بلیک ہی۔پینٹ پہنے ریشمی بالوں کا جوڑا بنائے ۔۔ چہرے پہ لٹکتی دو لٹیں سوفٹ سا میک اب کیے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ اپنے آفس میں بیٹھے وہ بس روحان کی شخصیت کو ہی سوچے جا رہی تھی۔۔
انٹر کام بجا اور روحان۔کی۔آمد کا سنتے ہی کھل اٹھی تھی۔۔ اور جلدی سے اپنے پاپا حیدر کمال کے آفس کی طرف بڑھی تھی۔۔
مے آئی” آفس میں انٹر ہوتی بولی۔۔
ییس مائے سن کم” مسٹر حیدر خوش ہوتے بولے ۔۔
روحان نے بھی مڑ کر اسکی جانب دیکھا ۔۔ چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔۔
آئرہ کی نظریں بھی روحان پہ ٹک سی گئی تھی ۔۔ وہ بھی آج بلیک تھری پیس میں ہی ملبوس تھا۔۔
آئرہ روحان کے ساتھ والی سیٹ پہ جا بیٹھی ۔۔ روحان کے وجود سے اٹھتی کلون کی خوشبو اسکے نتھنو سے ٹکرا رہی تھی۔۔ اپنے دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالے وہ مسٹر حیدر کی طرف متوجہ ہوئی جو اس ڈیل کے بارے میں انفارمیشن دے رہے تھے۔۔
روحان نے خوش ہوتے پیپرز سائن کیے ۔۔ ” آئی ہوپ ہماری یہ ڈیل کامیاب رہے گی۔۔”
دونوں نے ہاتھ ملایا اور روحان اپنی ٹیم لے ساتھ روانہ ہوا ۔۔
آئرہ کھوئی سی بیٹھی تھی ۔۔
” آئرہ بیٹے ” حیدر کمال کے پکارنے پہ وہ ہوش میں آئی تھی “
ییس پاپا” ادھر ادھر دیکھا روحان کہیں بھی نہیں تھا۔۔”
اسے خبر ہی نہیں ہوئی روحان کب کا چلا گیا تھا۔۔
آئرہ وٹ ہیپنڈ میں دیکھ رہا ہوں آپ دلچسپی نہیں لے رہی کام میں ۔۔” آج بھی ساری بات چیت میں نے کی ہے آپ نے کوئی حصہ ہی نہیں لیا باتوں میں ” اٹس ویری امپورٹنٹ کے آپ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں آفٹر آل یہ سارا بزنس تمہارا ہی ہے ” شو یور انٹریسٹ ” حیدر کمال اپنی اکلوتی اولاد کی طرف متوجہ تھا۔۔
سوری پاپا نیکسٹ ٹائم نہیں ہوگا ایسا۔۔” وہ بچارہ سا منہ بناتی بولی۔۔
°°°°
زارون آفس سے آیا اسے تب بھی اگنور کیا جا رہا تھا کھانے پہ بھی اور سونے کے ٹائم بھی زرتاج عروش کو لیے سفینہ بیگم کے کمرے میں آ گئی۔۔ .
زری سچ سچ بتاؤ زارون سے لڑائی ہوئی ہے۔۔ زرتاج عروش کو بیڈ پہ سلارہی تھی جب سفینہ بیگم زرا سختی سے بولیں۔۔
ماما پلیز ویسے ہی آئی ہوں آج کے لیے ” آپ تو بس میرے ہی پیچھے پڑی رہتی ہیں ۔۔” زرتاج تنک کر بولی تھی۔۔تو وہ خاموش ہوگئی۔۔
زارون کب کا انتظار کررہا تھا مگر وہ نا آئی۔
” نا آئے میری بلا۔سے جتنا نرمی سے پیش آ رہا ہوں اتنا سر پہ چڑھی جا رہی ہے” تنگ آ کر بولا اور سونے کوشش کرنے لگا اکیلے اسے بھی اچھا نہیں لگ تھا۔۔
°°°
دبئی سے کراچی فلیٹ لینڈ کر چکی تھی۔۔ آنکھوں پہ گاگلز لگائے ۔۔ تنگ ٹی شرٹ میں نظر آتی کسرتی جسامت ۔۔ پاکٹ میں ہاتھ ڈالے منہ میں چنگم رکھے وہ آگے بڑھ رہ تھا ۔۔ پیچھے اسکے ورکرر اسکا سامان گھسیٹ کر لا رہے تھے۔۔
ویلکم سر ” سامنے اسکا ایمپلائرز کھڑے تھے استقبال کے لیے ہاتھ سے مسکراتے پھول پکڑا۔۔ اور دو بلیک مرسڈیز آکر سامنے رکی تھی ۔۔ ایک گاڑی میں وہ بیٹھ گیا اور دوسری میں اسکے ورکر بیٹھ گئے ۔۔وہ سیدھا اپنی کمپنی میں گیا۔۔
اب وہ آفس میں باس کی سیٹ پہ بیٹھا تھا۔۔ جب اسکا مینیجر اور اسٹاف کمپنی کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔۔ سر ہماری کمپنی سب سے اوپر جا رہی ہے ۔۔ سب سے پہلے یوسف کمپنی کی ڈیمانڈ زیادہ تھی مگر ہماری کمپنی نے آتے ہی دھوم مچا دی ہے ۔۔ یوسف کمپنی کو ہم نے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا ہے ۔۔ انہوں ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے اور ہماری کمپنی کے اونر یعنی کے آپکو انیوائٹ کیا ہے ملاقات کے لیے۔۔ یوسف کمنپی کے اونر زارون عالم ملک آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔ اوکے انویٹیشن ایکسیپٹ کرلیں اور انہیں پیغام بھجوائے کے ہم دو دن بعد ملنے آ رہے ہیں۔۔
سب لوگ وہاں سے چلے گئے ۔۔
ہاہا۔۔ہاہا۔۔ اور وہ زور دار قہقہ لگا کر ہنسا دشمن اسکے شکنجہ میں آ گیا۔۔
بہت طلب تھی تم سے ملنے کی زارون ایسا شاک دوں گا تمہیں کے یاد رکھو گے ۔۔ سڑک پہ لے آؤں گا تمہیں میں۔۔اب تم دیکھو آگے آگے ہوتا ہے کیا ۔۔
ہاہا ہاہا۔۔ اپنے منصوبہ کو پایہ تکمیل پہ پہنچتا دیکھ وہ کھل کر ہنسا تھا۔۔
