Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 15
سیزن ٹو
شام کے سات بج رہے تھے۔۔کمال حیدر گھر آچکے تھے۔۔ وہ روحان کا انتظار کررہے تھے ۔۔
انہیں لگ رہا تھا روحان ضرور آئے گا۔۔
پاپا آپ آج جلدی گھر آگئے ہیں ۔۔ آئرہ سیڑھیاں اترتی نیچے آئی سامنے کمال صاحب کو دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔۔
ہاں آج ایک امپورٹنٹ گیسٹ نے آنا ہے۔۔
کس نے”
سرپرائز ہے تمہارے لیے ۔۔” وہ مسکرا کر بولے ۔
ایسا بھی کونسا گیسٹ ہے جو سرپرائز ہے” آئرہ نے کہا۔۔
ہاں تمہاری خوشیاں مکمل کرنے آئے گا وہ” آج تمہاری خوشی کی انتہا نہیں ہوگی۔۔ وہ اسکی گال پہ ہاتھ رکھتے بولے۔۔ اور وہ مزید سوچ میں پڑ گئی۔۔
جاؤ کچن میں کھانے کا انتظام دیکھو ۔۔ سب اسپیشل کھانا بنانے کا آرڈر دیا ہے کک کو کوئی گڑ بڑ نا ہو سب اچھا ہونا چاہیے ۔۔
ڈیڈ مجھے نہیں پتا ان سب کا کرلے گا وہ پہلے بھی اچھا ہی کھانا بناتا ہے ۔۔آئرہ نے بیزاریت سے کہا ۔۔
آئرہ پلیز آج تو سب تم نے اپنی نگرانی میں کروانا ہے ۔۔انہوں پھر زور دیتے کہا ۔۔ تو وہ کچن کی طرف چل دی۔۔
آٹھ بجنے والے تھے انتظار تھا کہ طویل ہوتا جا رہا تھا ۔ وہ ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہے تھے۔۔
پاپا کھانا ریڈی ہوگیا ہے ۔۔ اور آپ کا مہمان تو ابھی تک آیا نہیں ۔۔
آئرہ نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔۔
کمال صاحب کو یہی تو ٹینشن ہو رہی تھی۔۔
اتنے میں باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔۔
آگیا وہ مسکراتے بولے۔۔
کمال صاحب کے ساتھ متجسس کھڑی تھی ۔۔
جب اندر آتی شخصیت دیکھی تو دنگ رہ گئی۔۔ اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔
کمال صاحب نے مسکراتے ہوئے آئرہ کو دیکھا جو حیران نظروں سے روحان کو دیکھ رہی تھی۔۔
کیسا لگا میرا سرپرائز ۔۔ وہ ہولے سے اسکے کان کے قریب ہوتے بولے۔۔
اسلام علیکم ۔۔ اس نے سیریس انداز میں بولا ۔۔ چہرے پہ کسی قسم کے کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔آؤ بیٹھو ۔۔مجھے یقین تھا تم ضرور آؤ گے ۔۔میں بے صبری سے تمہارا ہی انتظار کررہا تھا۔۔
روحان نے ایک نظر بھی آئرہ پہ نہیں ڈالی ۔۔
آئرہ بیٹے جاؤ روحان کے لیے پانی لاؤ۔۔ پھر ڈنر لگاؤ ٹیبل پہ میرا داماد آیا ہے ۔۔کمال صاحب نے پرجوش انداز میں کہا۔۔
آئرہ کو تو ایک جھٹکا اور لگا تھا۔۔
مگر روحان نے اس بات پہ کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔۔
آئرہ کا دل تو زورو سے دھڑک رہا تھا ۔۔وہ کچن میں آئی پانی لینے اور سوچنے لگی کہ ایسا کیا ہوگیا کہ روحان مان گیا۔۔
سر آپ مجھے پیپر دے دیں میں آپ کی بات ماننے کے لیے ریڈی ہوں مگر مجھ سے امید مت رکھئے گا کہ میں آئرہ کو خوش رکھ پاؤں گا یہ میرا دلی فیصلہ نہیں ہے”
بس تم یہاں تک آگئے ہو یہی بہت ہے میرے لیے اور آئرہ تم سے محبت کرتی ہے ہوسکتا ہے وہ تمہارا دل بھی بدل دے۔۔
میں ابھی اس بات کو اوپن نہیں کرسکتا کیونکہ میرے گھر میں پہلے ہی بہت ٹینشن چل رہی ہے۔۔وہ سنجیدگی سے بولا ۔
کوئی بات نہیں یہ تمہارا اور آئرہ کا مسئلہ ہے اب دونوں بیویوں کو کیسے مینیج کرنا ہے یہ تمہیں کرنا ہے۔۔
میری اکلوتی اولاد ہے میری تو خواہش تھی آئرہ کی شادی دھوم دھام سے کروں مگر ۔۔ کوئی بات نہیں ان سب سے زیادہ ضروری میری بیٹی اور اسکی خوشی۔۔
یہ رہی فائل ۔۔ اور ہاں ہم دونوں کے درمیان ہوئے معاہدے کی خبر آئرہ کو نا ہو بس۔۔
کھانا لگ گیا ہے ۔۔ آجائیں۔۔ آئرہ نے آتے کہا۔۔
روحان نے ایک نظر اٹھاتے آئرہ کو دیکھا اور پھر زاویہ بدل لیا۔۔
اسکی کیا ضرورت تھی۔۔ روحان نے کہا ۔۔
کیوں نہیں ضرورت ہے پہلی بار آ ئیے ہو گھر۔۔
ڈائنگ ٹیبل طرح طرح کے لوازمات سے سجا ہوا تھا۔۔
روحان اور آئرہ آ منے سامنے بیٹھے تھے کمال صاحب اپنی سربراہی کرسی پہ بیٹھے تھے۔۔
روحان تم ٹھیک سے کھا نہیں رہے ۔۔ ہمارا کک بہت اچھا کھانا بناتا ہے۔۔ اسے یوں بس پلیٹ میں چمچ ہلاتے دیکھ کمال صاحب بولے ۔
ہاں ٹھیک ہے بس” ۔۔ چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے بس اتنا ہی بولا۔۔
بس ٹھیک ہے ” ۔۔ کمال صاحب نے کہا۔۔
ہاں زویا بہت اچھا کھانا بناتی اسکے ہاتھ کے بنے کھانے کی عادت ہے ” روحان نے اپنی پلیٹ کی دیکھتے کہا۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے زویا کا ہی عکس تھا ۔
کمال صاحب اور آئرہ نے ایک دوسرے کو دیکھا اس وقت زویا کا ذکر اسے ناگوار گزرا
ہہم تو تمہاری بیوی نے تمہیں اچھی طرح قابو کیا ہوا ہے تم اسکے سوا کسی کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ۔۔کمال صاحب نے کہا
ہاں یقیناً ۔۔ میرا اسکے ساتھ نکاح بھی گھروالوں کی زبردستی سے ہوا وہ مجھے بالکل بھی پسند نہیں تھی۔۔ اسکی بے لوث محبت مخلصی اور سادگی نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا ۔۔بہت دکھ دیا تھا میں نے اسے جس کا ملال مجھے زندگی بھر رہے گا ۔۔ میں مزید اسے کبھی دکھ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔” زویا کو اپنے دھیان میں رکھے وہ مسکراتے بولا زویا کے نام سے اسکی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔۔
آئرہ نے روحان کو دیکھا ۔۔ اسکی آنکھوں میں زویا کے لیے بے پناہ محبت تھی ۔۔ اس وقت اسے زویا سے شدید جلن محسوس ہوئی تھی۔۔
اچھا بھئی گڈ نائٹ میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں تم دونوں باتیں کرو ۔۔ کمال صاحب اپنا کھانا ختم کرتے کھڑے ہوئے ۔۔
روحان بھی اپنا کھانا ختم کرچکا تھا..
مجھے گھر جانا ہے پھر ملاقات ہوگی.. روحان بھی ساتھ کھڑا ہوتا بولا..
مگر تم کچھ دیر تک رک جاتے تھوڑی دیر کے لیے تو آئے ہو.. کمال صاحب بولے..
سر پلیز میں آپ کی بات مان چکا ہوں بہتر ہوگا آپ مجھے کچھ وقت دیں دے”
اچھا میرے ساتھ آؤ.. کمال صاحب کا اسکا یوں جانا اچھا نہیں لگا..
کمال صاحب نے اسے فائل پکڑائی..
اس نے ناسمجھی سے اس فائل کی طرف دیکھا..
تمہیں ان پیپرز پہ سائن کرنے ہوں گے تاکہ مجھے یقین ہو کے تم میری بیٹی کو نا چھوڑ سکو..
اگر تم نے آئرہ کو چھوڑا تو تمہاری ساری کمپنی میری بیٹی کے نام کرنی ہوگی..
سر آپ کو مجھ پہ زرا سا بھی بھروسہ نہیں.. ” وہ انہیں دیکھتے بولا..
تم دو کشتیوں کے مسافر ہو اور تم پر تو بلکل بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا.. وہ دو ٹوک انداز میں بولے..
روحان نے اس فائل پہ فوری طور پر سائن کردیے.. اور اپنے ڈاکومنٹ والی اٹھا کر وہاں سے چلتا بنا.. روحان کو شدید غصہ آیا تھا اس وقت
پاپا یہ سب کیا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے.. آئرہ نے وہاں آتے کمال صاحب سے پوچھا..
تمہیں ابھی بھی سمجھ نہیں آئی.. وہ مسکرا کر آئرہ دیکھتے بولے..
میں نے روحان کو تمہارے لئے راضی کرلیا ہے.. وہ تمہیں اپنانے کے لیے اب راضی ہے” مگر اب تمہارا کام ہے کہ اسکا دل کیسے جیتنا ہے کیونکہ اسکی پہلی بیوی نے اسکے دل پہ بہت مضبوطی سے پنجے گاڑے ہیں.. ” وہ اسے سمجھاتے بولے..
مگر وہ راضی ہوا کیسے ..آپ نے کہیں اسکی کسی کمزوری کا فائدہ تو نہیں اٹھایا.. وہ اپنے تئیں اندازہ لگاتی بولی..
یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے تمہیں بس روحان چاہئے تھا باقی کے معاملات تم ہمارے درمیان ہی رہنے دو بس اب اپنے شوہر پہ دھیان کرو ” وہ کہتے وہاں سے چلے گئے..
وہ بس حیران ہی رہ گئی.. آخر ایسا بھی کیا ہوگیا
@@@
روحان گھر آیا تو سب اپنے کمروں میں چلے گئے تھے..
اسے کافی دیر ہوگئی تھی.. وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا..
زویا اسی کے انتظار میں بیٹھی..
وہ کمرے میں داخل ہوا تو زویا فوراً کھڑی ہوئی اسے دیکھ..
آپ آگئے.. کہاں تھے اتنی دیر کافی دیر کردی آنے میں آپ نے..
روحان کی نظریں بس زویا پہ ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔ وہ آہستہ آہستہ اسکے قریب آتا ۔۔اسے گلے سے لگا گیا اور اسے خود میں زور سے بھینچ لیا تھا ۔۔
زویا تو حیران ہوئی اسکے ایسا کرنے پہ۔۔
روحان۔۔”
زویا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ” ۔۔ وہ اسے خود میں بھینچے ہوئے بولا۔۔
اگر مجھے اس دنیا میں مام ڈیڈ کے علاوہ کوئی عزیز ہے وہ تم ہو۔۔ تم تو میری دنیا ہو۔۔ میرا سکون ہو ۔۔ میں صرف تمہارے ساتھ ہی جینا چاہتا ہوں۔۔ ” پیار کے معنی تو میں نے صرف تم سے سیکھے ہیں ۔۔ پلیز میرا اعتبار کرنا ۔۔
وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالہ میں بھر کر بولا۔۔
روحان ” آپ آج ایسی باتیں کیوں کررہے ” اسکے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھے زویا نے کہا۔۔
روحان کا دل کیا اسے سب بتا دے مگر کہیں وہ اسے ہی غلط نا سمجھے۔۔” کاش میں تمہیں بتا سکتا ” اس نے دل میں کہا۔۔
ویسے ہی ” وہ اسکا چہرہ دیوانہ وار چومنے لگا۔۔
روحان پلیز ۔۔ زویا نے اسے الگ ہونا چاہا۔۔ تو روحان نے اسے پھر خود بھینچ لیا۔۔
پلیز مجھے خود سے الگ مت کرنا ” میں مجبور ہوں” آخری بات اس نے دل میں کہی۔۔
نہیں کررہی پہلے فریش تو ہوجائیں۔۔ کھانا لگاؤں آپ کے لیے۔۔ وہ الگ ہوتی بولی ۔
تم نے کھایا کھانا۔۔”
نہیں آپ کے بغیر کیسے کھاتی ۔۔”
اچھا پھر کھانا گرم کرو میں فریش ہوکر آتا۔۔کہتے وہ واش روم میں بند ۔۔
پتہ نہیں آج کیا ہوگیا ایسی باتیں کررہے ہیں ۔۔” وہ خود سے بڑبڑاتے کچن میں گئی۔۔
زویا کھانا کمرے میں لے آئی۔۔روحان فریش ہوکر صوفہ پہ بیٹھا تھا۔۔
زویا کے ساتھ کھانا شروع کیا تو جیسے بھوک جاگ اٹھی تھی ۔۔آئرہ کے گھر تو کچھ بھی اچھا نہیں لگا طرح طرح کے کھانوں سے ٹیبل سجا ہوا تھا ۔۔ زویا جیسی تو ان میں کوئی بات ہی نہیں تھی۔۔ اسے خیالوں میں گم دیکھ زویا نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔
روحان ” کہاں کھو گئے۔۔
کہیں نہیں ۔۔ کھانا تم نے بنایا”
ہاں ” میں نے ہی بنایا ہے کیا ہوا اچھا نہیں لگا۔۔” زویا نے مسکراتے کہا ۔۔
نہیں” روحان نے اسے دیکھتے کہا۔۔
ہاں ” زویا نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
کھانا بہت اچھا بنا ہے ” اسکی گال کو چھوتے کہا۔۔
مجھے پتا ہے” وہ برتن سمیٹتی بولی۔۔”
جلدی آنا ” وہ دروازے کی طرف بڑھی برتن اٹھائے ” روحان نے پیچھے سے آواز دی۔۔
زویا نے پلٹ کر اسے مسکرا کر دیکھا اور چلی گئی ۔۔
روحان نے سر پیچھے کی طرف گرا لیا ۔۔” پلیز زویا مجھے غلط مت سمجھنا میں نے تمہارے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔۔” تمہیں بہت دکھ ہوگا اس لیے میں تمہیں نہیں بتا سکتا ۔۔
یہ سب میں نے ڈیڈ کے لیے کیا ہے ” زارون کے لیے ..
وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب زویا نے اسے آواز دی۔۔
روحان” اس نے سر اٹھا کر زویا کی طرف دیکھا۔۔
کافی” اس کافی کا مگ پکڑا تے اس کے ساتھ بیٹھی۔۔
کیا ہوا کن خیالوں میں گم ہیں”
کچھ نہیں بس تھک سا گیا ہوں” مگر تمہیں دیکھ لیا ہے تھکن اتر گئی ” وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے بولا۔۔
مجھے نیند آ رہی ہے ” وہ منمنائی۔۔
میں سلاتا ہوں تمہیں ابھی ” اپنی گرفت اور مضبوط کرگیا اس پہ۔۔
@@@
صبح ناشتہ سے پہلے روحان عالم صاحب کے کمرے میں گیا ۔۔ سیما اس وقت کمرے میں نہیں تھی ۔۔
کیا بات ہے تم اتنی صبح ” کوئی کام تھا ۔۔ عالم صاحب بولے ۔۔
جی بہت ضروری تھا اور گڈ نیوز ہے میرے پاس آپ کے لیے۔۔
اتنے میں زارون بھی آگیا وہاں۔۔ اسے روحان نے ہی بلایا تھا ۔۔
کیا نیوز ہے” زارون بولا۔۔
روحان نے کمپنی کے ڈاکومنٹ پیپرز عالم صاحب کو دیتے کہا۔۔
یہ ہماری کمپنی کا سسٹی پرسنٹ شیئرز کے ڈاکومنٹ جو ارحم کے پاس تھے ۔۔
کیا ” یہ پیپرز ۔۔ عالم صاحب بولنے کی کوشش کررہے تھے مگر خوشی کے مارے بولا نہیں جا رہا تھا ۔
جی یہ اب آپ کے نام دوبارہ ہوگئے ہیں۔۔روحان مسکرا کر بولا۔۔
روحان کیسے کیا تم نے یہ سب ” زارون بھی خوش ہوتا بولا۔۔
مگر اس بات سے روحان کی مسکراہٹ پل میں تھمی تھی ” وہ کیسے بتاتا کیسے کیا ہے اس نے یہ سب” بس کردیا تمہارے لیے۔۔ پھر مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
پھر بھی بتاؤ تو سہی۔۔ عالم صاحب نے کہا۔۔
وہ کمال حیدر جن کے ساتھ میں مل کر جس پروجیکٹ پہ کام کررہے ہیں ۔۔انکی مدد سے ۔۔کمال حیدر ہیں انہوں نے ہیلپ کی ہے ارحم سے اس نے یہ شیئرز خرید لیے ہیں ” اور وہ ہمارے نام کردیے۔۔ روحان نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے کہا۔۔
یہ تو بہت بڑا کام کیا ہے انہوں نے ہمارے لیے۔۔ منہ مانگی دام سے خریدے ہوں گے ” عالم صاحب نے کہا۔۔
مجھے لگ رہا ہے وہ ایک آدمی کئی دونوں سے ارحم کے آفس میں آ جا رہا تھا وہی ہوگا شاید ۔۔ زارون نے کہا۔۔
ہاں وہی ہے ” روحان نے مسکراتے ہوئے کہا مگر اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی جو زارون نے نوٹ کیا۔۔
چلیں پھر آج ہم آفس ارحم کو نکالنے اپنے آفس سے کیونکہ اسے ابھی تک پتہ نہیں کہ یہ شیئرز ہمارے پاس واپس آچکے ہیں۔۔ روحان نے کہا۔۔
میں بھی تم دونوں کے ساتھ چلوں گا ۔۔ عالم صاحب نے کہا۔۔
تینوں نے بخوشی ناشتہ کیا اور ایک ساتھ چل دیے”
یہ لوگ بارات لے کر کہاں چلے گئے” زرتاج نے تینوں کو ایک ساتھ جاتے ہوئے دیکھ زویا سے کہا۔۔
آفس گئے ہیں ۔۔ بارات کس کی لے جانی ہے ” زویا نے اسے ٹوکتے کہا۔۔
مذاق کررہی تھی تم تو سیریس ہی ہوگئی ۔۔”
زارون اب تمہیں ٹائم زیادہ دینے لگ گیا ہے شوخی ہی ہوتی جا رہی ہو”
روحان بھائی سے تو پھر بھی کم ہی ہے” زرتاج نے کہا
اچھا آبادی تو پھر بھی تم لوگوں کی زیادہ ہے” زویا نے اسکی بچیوں کی طرف اشارہ کرتے شرارتی انداز میں کہا۔۔
زویا تم میرے بچوں کو آبادی کہہ رہی ہو” زرتاج نے مصنوعی غصہ سے کہا۔۔
مذاق کررہی تھی تم تو سیریس ہی ہوگئی۔۔” زویا نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔
ہہم اب باری روحا کی ہے سسرال کی ہی ہوکر رہ گئی ہے۔۔ ایک بارآئی ہے دوبارا چکر ہی نہیں لگایا۔۔ زرتاج نے کہا ۔۔
ہاں یہ تو ہے جب بھی پوچھ لو ایک ہی بہانہ ہے عمار کے پاس ٹائم نہیں ہے ۔۔
@@@
ارحم آفس میں داخل ہوا تو آفس کی سیٹ پہ عالم یوسف ملک کو بیٹھا ہوا پایا۔۔
ایک پل کے لیے ٹھٹکا پھر قہقہ لگایا۔۔
ہاہا ۔ عالم انکل آپکو شاید پتہ نہیں ہے یہ سیٹ اب میری ہے آپ کے بیٹے زارون سے بتایا نہیں اس نے آپ کو”.. تمسخر اڑاتے کہا ارحم نے۔۔
یہ سیٹ میرے ڈیڈ کی تھی اور میرے ڈیڈ کی ہی رہے گی” روحان آفس میں داخل ہوتا بولا۔۔
ارحم اسکی جانب مڑا ۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو سچ ہی بول رہا ہوں۔۔ روحان نے کہا
پھر کمال حیدر آفس میں انٹر ہوا ۔۔ اور ساتھ ہی زارون بھی۔۔
ارحم کی تو آنکھیں پھٹی رہ گئی۔۔
تمہارے ساتھ پرینک ہوگیا مسٹر ارحم” کمال حیدر اسکے سامنے آتے بولے ۔۔جو بھاری رقم تمہیں دی ہے ۔۔اسے تم اپنا فائدہ مت سمجھنا وہ میں کیس کرکے تم سے واپس لے لوں گا”
جس طرح جھوٹ اور دھوکہ سے تم نے ہم سے کمپنی ہتھیائی تھی اسی طرح ہم نے تم سے لے لی۔۔
اب نکلو یہاں سے۔۔”
زارون نے اسکے سامنے آتے کہا۔۔
میں دیکھ لوں گا تم سب کو” ارحم نے ڈھٹائی دکھاتے کہا۔۔
زارون نے اسکی منہ پہ مکا دے مارا۔۔
وہ لڑکھڑا کر دوسری طرف ہوا۔۔ دوسری جانب روحان کھڑا تھا ۔۔اس نے اس کے مکا جڑ دیا تو وہ دروازے کی جانب گرا۔۔
سہا را لیتے وہ کھڑا ہوا۔۔
تم سب کو اس تذلیل کا حساب دینا ہوگا ۔۔ ہونٹ کا کنارہ پھٹا تھا جہاں سے خون کی بوند نمودار ہوئی تھی انگھوٹے سے صاف کرتا بولا اور نکل گیا آفس سے۔۔
تھینک یو سو مچ کمال صاحب آپ نے ہماری بہت ہیلپ کی۔۔ زارون نے انکی طرف ہاتھ بڑھاتے کہا۔۔
جو انہوں خوش ہوتے ملا لیا۔۔
مینشن ناٹ” روحان کے لیے اتنا تو کرنا ہی تھا ۔۔انہوں نے روحان کو دیکھتے کہا۔۔
عالم ملک آپ کے بیٹے آپ کو بہت پیار کرتے ہیں اور عزت بھی آپ کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔ کمال حیدر نے پہلے عالم صاحب کو دیکھتے کہا اور آخری جملہ روحان کو دیکھتے کہا جس پہ وہ سر جھکا گیا۔۔
زارون روحان کا یہ انداز دیکھ رہا تھا جو کچھ عجیب سا لگا۔۔
بے شک ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔۔” روحان نے واقعی ہی کر دکھایا ۔۔” مجھے یقین ہے نہیں ہو رہا ۔۔” اس کے لیے آ پکا بھی شکریہ۔۔ عالم صاحب نے کہا۔۔
ہر کوئی اپنی اولاد کی خوشی ہی چاہتا ہے ” شکریہ کی کوئی بات نہیں اس میں ” کمال صاحب نے زومعنی بات کہی ۔۔
روحان بجائے انکو دیکھنے کے منہ کا رخ دوسری جانب پھیر لیا۔۔
زارون کو انکی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔۔اسے کوئی گڑبڑ سی محسوس ہوئی تھی ” ۔۔
ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں۔۔
کمال حیدر چکے گئے وہاں سے۔۔
@@@
ارحم نے آفس سے باہر نکلتے آصف کو پکڑا جو کچھ دوری پہ کھڑا ہوا تھا باہر۔۔
کمینے دھوکہ باز انسان ” چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں تم نے جھوٹ بولا مجھ سے۔۔
سر ۔۔سر یہ کیا کررہے ہیں جب میں اپنے مالک کا وفا دار نا رہ سکا تو آ پکا کیسے رہوں گا” اپنا گریبان چھڑاتے آصف نے کہا۔۔
سب کو دیکھ لوں گا ” وہ غصہ سے کہتا نکلا تھا وہاں سے۔۔
