Beparwah Season 2 By Ayesha Noor Readelle50284 (Beparwah) Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 6
ارحم اپنے محل نما گھر میں تھا حو بہت ہی بڑا تھا .. اس وقت اپنے کمرے میں تھا جو بہت ہی بڑا اور کھلا تھا.. بے حد عالیشان طریقہ سے کمرے کی سجاوٹ کی گئی تھی..
وہ اس وقت نائٹ گاؤن میں تھا .. آج زرتاج سے سامنا اسے مزید سلگا گیا اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئی تھی.. یہاں آنا ایک ہی مقصد تھا وہ ان دونوں کی بربادی ..اب زرتاج حاصل نہیں برباد کرنا چاہتا ہے اسکا گھر اسکی زندگی سب کچھ..
جتنی محبت تھی اب اس سے کئی زیادہ نفرت ہے..
ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اسکا موبائل بج اٹھا..نمبر دیکھتے کال ریسیو کی..
ہیلو ڈارلنگ .. ڈو یو مس می..
ہہم تمہیں کونسا میں یاد آجاتی ہوں جب سے گئے ہو بیوی کو تو بھول گئے ہو” مقابل نے بھی میٹھا سا شکوہ کیا..
بہت بزی ہوں بزنس میں ابھی فری ہوا تھا اپنی جان کو ہی یاد کررہا تھا..”شیریں لہجہ کہتے مقابل کو پگھلا گیا..
سچ کہہ رہے ہو” ..معصومیت سے کہا گیا..
تمہاری قسم سچی ..میری جان .. بہت مس کررہا ہوں میں تمہیں اس وقت ” ..
پھر ہبی جی کب آئیں گے یا میں آجاؤں..” شزا نے خوش ہوتے کہا..
تم کیوں تکلیف کرو گی میں ہوں نا تمہارا غلام حاضر ہے جب چاہو کل ہی سب کام چھوڑ چھاڑ کر تمہارے پاس آتا ہوں ” مقابل کو اپنی باتوں سے پورا زیر کردیا..
نہیں ” آپ اپنا کام نمٹا کر آنا پلیز میری وجہ سے آپکا کوئی نقصان نا ہوجائے.. شزا نے اسے روک دیا اور وہ بھرپور مسکرایا.. وہ اس سے باتوں میں ہی پورا اتر لیتا تھا..
**
رات کے کھانے کے بعد بڑے کچھ دیر بیٹھے اور اپنے کمروں کو ہولیے ..
بس اب ینگ پارٹی ہی ٹیوی لاؤنج میں بیٹھی تھی.. کافی ٹائم بعد سب کزن اکٹھے بیٹھے تھے روحا اور عمار کی وجہ سے ورنہ کھانا کھاتے ہی سب اپنے کمروں کی طرف روانہ ہوجاتے..
زویا سب کے لیے چائے اور کافی لائی..
زارون عمار اور روحان ایک ساتھ بیٹھے تھے زویا نے ان تینوں کو کافی دی اور روحا زرتاج اور خود کے لئے چائے لائی کیونکہ وہ تینوں ٹی لور تھیں..
زارون عمار اور روحان اپنی کاروباری باتوں کو لئے بیٹھے تھے..
تھینکس بھابھی.. آپکی چائے کو بہت مس کیا.. ” روحا چائے کا سیپ لیتے بولی..
زویا مسکرائی اور پھر بولی.. اچھا اب عمار کا رویہ ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ.. زویا نے آہستگی سے پوچھا..
جی بھابھی اب تو صحیح ہیں ” روحا بول رہی تھی زرتاج کو انکی باتیں کچھ پلے نا پڑی اور بولی..
کیوں ” کیا کہا ہے اس بندر نے تمہیں ” زرتاج کی آواز قدرے اونچی تھی.. ان تینوں نے اسے چونک کر دیکھا.. عمار زارون اور روحان نے..
جبکہ روحا اور زویا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا..
زویا کا دل کیا زرتاج کا گلہ دبا دے..
کیا کہا تم نے ” عمار نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا..
جو تم نے سنا” بندر.. زرتاج بھی چپ رہ جائے..
اب دیکھ لیں زارون بھائی ” اب میں نے اسے بھینس کہا تو آپ کو اچھا نہیں لگے گا اس لئے چپ ہوں ورنہ”
تم بول کر تو دکھاؤ” زارون کچھ بولتا کہ زرتاج پھر بولی..
زرتاج ” اب کے روحان نے اسے مزید بولنے سے ٹوکا..
عمار اب ہمارا دماد ہے روحا کا شوہر ہے لہٰذا اب تم اپنی زبان کنٹرول میں رکھو.. روحان نے زرا سختی سے کہا..
مگر روحان بھائی میں تو ایسے ہی.. زرتاج بیچارگی سے بولی..
روحان بھائی آئی تھنک ہمیں نئے رشتہ بننے کے بعد پورانے رشتہ کو نہیں دبانا چاہئے.. عمار بول پڑا..
ہم ایسے ہی خوش ہیں آپ دونوں نا ٹوکا کریں ہمیں مجھے پہلے بھی زرتاج کے ساتھ لڑنا برا نہیں لگتا تھا اور اب بھی نہیں”
ٹھیک جیسے تم لوگوں کی مرضی مگر میں پھر دونوں کے منہ سے کوئی شکایت نا سنوں.. ” روحان کھڑے ہوتے بولا..
چلو پھر گڈ نائٹ میری صبح امپورٹنٹ میٹنگ ہے میں چلا سونے” روحان نے کہا تو زارون بھی اٹھ گیا..
چلیں بھائی جان ہماری بھی کل ضروری میٹنگ ہے انکو ان کے حال پہ ہی چھوڑ دیتے ہیں.. چلو محترمہ سونے” عروش نا اٹھ جائے ” زارون زرتاج کو دیکھتے بولا جسکا اٹھنے کا موڈ نہیں تھا..
میں آ رہی ہوں آپ چلیں ” زرتاج بولی..
ٹھیک ہے” زارون بھی روحان کے پیچھے آگے بڑھا..
میرا روم بتا دیں ” عمار بھی کھڑا ہوا..
تمہارا کمرہ میں نے سیٹ کردیا ہے روحا کا کمرہ ہے جاؤ تم” زویا نے مسکراتے کہا.. تو وہ روحا کو آنکھ مارے چل دیا.. روحا کا پورا منہ کھلا تھا اسکی اس حرکت پہ.. زرتاج اور زویا کے سامنے..
زویا بھابھی یہ کیا کیا آپ” وہ زویا کو دیکھتی رونی صورت بناتی بولی..
میں نے کیا کیا” وہ ناسمجھی سے بولی..
عمار کو گیسٹ روم دینا تھا میرا کمرا کیوں” وہ برا سا منہ بناتی بولی..
اب میں تم دونوں کو گیسٹ روم میں ٹھہراتے اچھا لگتا کیا” زویا نے کہا..
مجھے نہیں صرف عمار کو ” کم از کم میکے میں آکر تو اس چپکو سے جان چھوٹتی.. ” اسکی بات سمجھتے زویا اور زرتاج کی ہنسی نکلی تھی..
اوہ تو یہ بات ہے روحی.. یاد کرو تم نے مجھے اپنے روم میں رہنے نہیں دیا تھا اور ہاتھ پکڑ کر زارون کے کمرے میں چھوڑ آئی تھی ” زرتاج نے بھی پرانا بدلہ نکالا..
اب تم مجھ سے بدلہ لو گی ” روحی نے اسے دیکھتے تھوڑا غصہ سے کہا..
اچھا بس ” ان دونوں کو آپس میں الجھتا دیکھ زویا بولی..
” آج کی رات گزارا کرلو کل کرتے ہیں ” زویا بات ختم کرتے بولی
اور زری تم بجائے بات ختم کرنے کے بات کو بڑھاوا دینے لگ جاتی ہو” زویا نے زرتاج کو لتاڑا وہ تینوں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اپنے کمروں میں جانے کے لیے..
میں مذاق کررہی تھی تم تو میرے پیچھے ہی پڑ جاتی ہو” زرتاج بولی..
بلکل ٹھیک کہا زوئی بھابھی نے عمار کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتے ہی ” روحا فٹ سے بولی..
او ہیلو عمار کی کچھ لگتی پہلے اپنی شوہر کی زبان کو سنبھالو” ایسے لگتا ہے جیسے غبارے سے ہوا نکلی ہو
” زرتاج کہاں باز آنے والی..
زرتاج ” زویا نے اسے ٹوکا..
دیکھا بھابھی پہلے اسے کہو اپنی زبان کنٹرول کرے روحا کو تپ چڑھی تھی زرتاج پہ..
زری سہی کہا روحا نے اب میں تمہارے منہ سے ایسے لفظ نا سنو جاؤ اپنے کمرے میں ” اور روحا تم بھی جاؤ اسکی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ” زویا نے دونوں کو انکے ٹھکانے لگایا اور خود اپنے کمرے میں چلی گئی..
روحا اپنے کمرے میں آئی تو عمار بیڈ پہ شرٹ لیس لیٹا ہوا تھا اسے دیکھتے ہی ہاتھ پھیلائے.. کم بے بی” کمرے میں دو سنگل بیڈ پڑے تھے جس میں ایک پہ عمار تھا..
” نو ” میں اپنے میکے آئی ہوں آج چھٹی” بڑے آرام سے کہتی وہ دوسرے بیڈ پہ چلی گئی..
عمار نے آنکھیں چھوٹی کرتے اس چھوئی موئی کو دیکھا جو بڑے آرام سے دوسرے بیڈ پہ کمبل تان کر لیٹ گئی..
ابھی کچھ دیر گزری ہی تھی روحا پہ نیند حاوی ہونے لگی تھی.. جب اسے احساس ہوا کہ عمار اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے چکا ہے..
عمار میں نے کیا کہا تھا آپ کو سمجھ نہیں آتی” وہ غصہ سے دانت پیستے آہستہ آواز میں بولی تھی..
نہیں آتی سمجھ کیا کروں.. اسکی کان لو چومتے سرگوشی میں کہا تھا..
اب روحا سمجھ گئی کہ اسکی نہیں چلنے والی اسلیے چپ چاپ خود کو اسکے سپرد کر گئی..
سر آج مسٹر اے کے آنے والے ہیں آپ سے میٹنگ کرنے..
زارون کے مینجر نے اسے آگاہ کیا..
” آئی ریمیمبر مسٹر آصف آج انہیں کنوینس کرنا ہے وہ ہمارے ساتھ ڈیل کرلیں.. ” زارون نے کہا..
“ییس سر یہی بہتر رہے گا ” کمپنی کے لئے بھی.. ” مگر آپ کے لئے نہیں ” آخری بات دل میں کہتے مکرو ہنسی ہنسا تھا.. جس سے زارون بے خبر تھا.
بارا بجے میٹنگ کا آغاز ہوا.. زارون میٹنگ حال میں داخل ہوا سب لوگ اسے دیکھتے کھڑے ہوئے..
گڈ آفٹر نون ہیو آ سیٹ.. وہ سب لوگ بیٹھ گئے میٹنگ کا آغاز ہوا..
آپ میں سے کمپنی کے باس کون ہیں.. زارون کمپنی کے مالک کو پہچاننے کی کوشش کررہا تھا جو وہاں نہیں تھا..
وہاں سب اسکے امپلائے ہی آئے تھے..
سوری سر وہ نہیں آ سکے انہیں کہیں اور میٹنگ کے لئے جانا تھا.. ہماری یہ ڈیمانڈ ہیں اگر آپ ان پہ سائن کریں گے تو ڈیل ڈن ہے ہم ساتھ مل کر کام کریں گے ..ان میں سے ایک نے فائل اسکے جانب بڑھاتے ہوئے کہا..
زارون نے فائل پکڑ لی اور ریڈ کرنے لگا مگر جیسے جیسے پڑھتا جا رہا تھا اسکا پارا چڑھتا جا رہا..
یہ سب کیا فائل بند کرتے غصہ سے انکی طرف پٹختے کہا..
یہ ڈیل کے رولز ہیں جو باس نے لکھ کر دیے ہیں.. سامنے بیٹھا شخص بولا..
مگر یہاں ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی جا رہی نا کہ کمپنی کے 50 پرسنٹ شیرز کی..
سر آپکی کمپنی ڈیفالٹ ہونے جا رہی ہے بینک سے لیا گیا بھاری لان آپ نہیں چکا پائے.. اگر اپنے 50 پرسنٹ شئیرز ہمیں دے دیں گے.. تو آپ ڈیفالٹ ہونے سے بچ سکتے ہیں.. ورنہ کمپنی ریپوٹیشن خراب دیکھتے ہی بینک آپکی پوری کمپنی ضبط کرلے گا ..
دیکھ لیں ہماری کمپنی ٹاپ پہ جا رہی ہے اس وقت اور مارکیٹ ویلیو بھی ہماری کمپنی کی ہی سب سے زیادہ ہے اگر آپ یہ ڈیل کرلیتے ہیں تو ہم مل کر کام کریں گے پرافٹ بھی آدھا آدھا ہوگا ورنہ ہم تو فائدے میں ہی جا رہے ہیں..
سامنے والے فائل اٹھاتے ہی بڑی ذہانت سے زارون کو کنوینس کرنے کی کوشش کی.. زارون چپ رہا..
میں اپنی کمپنی کا سودا نہیں کر نے والا یو مے گو ناؤ.. “
زارون کو ٹھیک نا لگا یہ سودا وہ اپنے ڈیڈ کمپنی کو کسی صورت نہیں بیچے گا..
وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے..
سر یہ کیا کردیا آپ نے ” آپ ایک بار سوچ تو لیتے ” پلان ناکام ہونے پہ اسکا مینیجر مسٹر آصف سے چپ نا رہا گیا..
مسٹر آصف.. یہ میرے ڈیڈ کی کمپنی ہے جو میری وجہ سے خسارے میں ہے مگر میں اسکے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا.. ففٹی پرسنٹ حصہ مانگ رہے ہیں وہ لوگ.. آج نہیں تو کل دوبارہ میں اس کمپنی کو اپنے پیروں پر کھڑا کردوں گا.. غصہ سے کہتا وہ میٹنگ روم سے چلا گیا
..
سر انہوں نے تو انکار کردیا آپ نے تو تیس پرسنٹ شیرز کی ڈیمانڈ کرنی تھی تو یوں اچانک ففٹی کیوں.. وہ تینوں امپلائے جو اس نے بھیجے تھے وہ واپس آتے اپنی رائے دینے لگے..
ارحم بڑے آرام سے سن رہا تھا..
ریلیکس .. مجھے پتا ہے وہ ٹیڑھی کھیر ہے اتنی آسانی سے نہیں مانے گا.. ایک مہینہ گزرنے دو ابھی وہ گھٹنوں کے بل گرا ہے جب قدموں پہ گرے گا تو خود ہی مان جائے گا.. اوکے ناؤ لیو”
انکے جاتے ہی کال لگائی.. دوسری بیل پہ ہی کال اٹھا لی گئی..
ہیلو سر.. سوری سر ڈیل کامیاب نہیں ہوسکی.. مگر سر آپ نے بھی تو ڈیمانڈ زیادہ رکھ دی” مسٹر آصف کال اٹھاتے ہی بول پڑا..
تم نے اسکا صحیح سے برین واش نہیں کیا لگتا ہے” اسے احساس دلاؤ اس بات کا یہ ڈیل ٹھکرا کر اس نے کتنی بڑی غلطی کردی ہے.. “
سر میں اپنی طرف سے پوری کوشش کررہا ہوں مگر ابھی تو زرا غصہ ہیں میری کوئی نہیں سن رہے.. ” مگر کچھ ٹائم دیں میں منا لوں گا انہیں.. ” مسٹر آصف کے تو پسینہ چھوٹے ہوئے تھے ایک تو زارون نے انکار کردیا اور دوسرا ارحم کے سخت ردعمل کا..
اوکے مسٹر آصف کچھ ٹائم دے رہا ہوں ابھی تو میں تمہیں.. “
اوکے سر تھینک یو” فون رکھتے ہی مسٹر آصف نے اپنا پسینہ صاف کیا اور ادھر ادھر دیکھا کہیں کوئی آس پاس تو نہیں.. پھر پرسکون ہو کر بیٹھ گیا..
کہیں میں خود ہی نا پھنس جاؤ اس سازش میں ایک ڈر بھی جو اسکے سر پہ تلوار کی طرح لٹک رہا تھا..
**
زارون پریشان حال اپنے آفس میں بیٹھا تھا آج کی میٹنگ کے حوالے سے اسے یہ توقع نہیں تھی وہ جانتا تھا وہ لوگ ڈیمانڈ کریں گے مگر ایسی ڈیمانڈ کی اسے توقع ہی نہیں تھی..
مجھے ڈیڈ کو بتا دینا چاہیے کمپنی کے حالات کے بارے میں وہ ضرور سنبھال لیں گے آخر اس کمپنی کو پورے تیس سال دیے ہیں انہوں نے..
اور میں دو سال بھی سنبھال نا پایا.. ” شٹ ” زور سے اپنا ہاتھ میز پہ مارا تھا.. جس سے اسکے ہی ہاتھ کو تکلیف پہنچی تھی..
پھر سر کرسی کے ساتھ ٹکا کر آنکھیں موند کر خود کو پرسکون کرنے لگا..
زرتاج اپنے کمرے میں تھی وہ پریشان سی کرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی..
اسے ارحم کا خیال آ رہا تھا..
وہ یقیناً کسی ارادے سے ہی واپس آیا ہے.. وہ کچھ غلط نا کردے پھر سے “
میں خامخواہ میں ہی پریشان ہوئی جا رہی ہوں ” پچھلی بار جو درگت بنی تھی اسکی بھولا نہیں ہوگا’ اس بار تو جان سے جائے گا اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو.. اپنی تمام سوچوں پہ ملامت کرتی کمرے سے باہر آئی..
نیچے حال میں عمار ,روحا اور زویا بیٹھے تھے عروش اور یوسف کھلونوں سے بیٹھے کھیل رہے تھے..
آجاؤ میڈم تم بھی تشریف لے آؤ.. آرام سے آؤ.. فرش بچارے پہ رحم کرو.. عمار باز نا آیا اسے تنگ کرنے سے
دیکھ لو روحا اپنے شوہر کو پھر اگر میں نے کچھ کہا نا تو تمہیں ہی برا لگے گا.. ” غصہ سے عروش کو لیے چلی گئی وہاں سے..
عمار پلیز نا تنگ کیا کریں زری کو” اسکا ناراض ہو کر جانا روحا کو بھی اچھا نا لگا..
زویا نے بھی نوٹ کیا زرتاج پریشان ہے ورنہ وہ جواب دیے بغیر رہ جائے..
یار اب ایسا بھی کیا کردیا میں نے “تنگ تو کیا ہی نہیں ابھی میں نے” عمار بولا..
بس اب تم دونوں تو مت الجھو ایک دوسرے سے ” اور عمار سدھر جاؤ زری کو بلاوجہ تنگ مت کرو” زویا انکے درمیان آتی بولی اور زرتاج کے پیچھے گئی..
روحا بھی عمار کو آنکھیں دکھاتی زویا کے پیچھے گئی..
واہ میکے آتے ہی شیر ہوگئی.. تم گھر چلو بس تمہیں اچھے سے بتاؤں گا” اسکے پیچھے سے عمار نے آواز لگائی..
روحا نے جاتے ہوئے سر موڑ کر اسے گھورا.. اور چلی گئی.. اور عمار بھی سر ہلاتے چل دیا..
روحان اپنے آفس میں بیٹھا کچھ ضروری فائل کا مطالعہ کررہا تھا.. جب اسکا انٹرکام بجا..
ییس’
سر مس آئرہ ہیں.. “
اوکے آپ بھیج دیں ” آئرہ اس وقت گھڑی میں ٹائم دیکھا جو شام کے سات بجا رہی تھی.. اور چھٹی کا وقت ہونے والا تھا..
ہیلو ” آئرہ بلیک کلر قمیض شلوار پہنے گلے میں وائٹ موتیوں کی مالا پہنے سلکی گولڈن بالوں کو کھلا چوڑے سوفٹ سا میک اپ کئے آج آفس لک سے ہٹ کے کچھ الگ رہی تھی..
آپ اس وقت ” خیریت, روحان نے ایک تنقیدی نگاہ اسکے حلیہ پہ ڈالتے پوچھے..
امم.. ییس مسٹر روحان ایوری تھنگ از فائن ” میں ڈنر کرنے کے ارادے سے گھر سے باہر نکلی تھی.. مگر میرے سب فرینڈز آج بزی ہیں سب نے ریفیوزڈ(منع) کردیا..
تو میں گھر جا رہی تھی بٹ راستہ میں آپکا آفس آگیا.. ” سوچا آپ سے مشورہ کر لیا جائے” وہ مسکراتے بولے جا رہی تھی..
مس آئرہ اگر آپ پہلے بتا دیتی تو اچھا تھا ابھی میں گھر جا رہا تھا گھر بھی مہمان آئے ہیں “آپ پلیز مائنڈ مت کیجئے گا” روحان نے منع کرنا چاہا..
اوہ اٹس اوکے ” لگتا ہے آج کا دن ہی بے کار ہے میرے لئے تو کسی کے پاس ٹائم نہیں.. ” وہ مایوس ہوتے بڑبڑاتے آفس سے نکلنے لگی.. روحان کو لگا اس نے اچھا نہیں کیا شاید انکار کر کے..
لِسن .. مس آئرہ ” روحان نے پیچھے سے آواز دے کر اسے روکا..
جی ” وہ معصوم بنتے مڑی جبکہ دل ہی دل میں خوش بھی ہوئی..
اوکے چلیں پھر ڈنر پہ” روحان نے مسکراتے کہا تو وہ خوشی سے کھل اٹھی!
اٹس اوکے روحان آپ رہنے دیں پھر کبھی آپ فیملی کو ٹائم دیں ” مہمان آئیں ہیں آپ کے گھر ” اس نے جان بوجھ کر انکار کیا..
اب آپ نخرے دکھا رہی ہیں.. ” روحان مذاق کے طور پہ کہا تو..
تو دونوں ہنس دیے..
چلیں باہر میں آ رہا ہوں روحان نے کہتے لیپ ٹاپ بند کیا.. اور میز سے گاڑی کی چابیاں اور موبائل اٹھاتے آئرہ کے پیچھے ہی باہر نکل آیا..
آئرہ کی خوشی کا آج کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا..
انہوں نے شہر کے بڑے سے ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا.. آئرہ نے اسے باتوں میں لگائے رکھا ..
آپ نے بتایا نہیں آپ کے گھر میں اور کون کون ہیں میرا تو پتا ہی ہے آپکو میں اور بس میرے پاپا “.. آئرہ نے کہا..
میری پوری فیملی ہے مام ڈیڈ ایک چھوٹا بھائی اور سب سے چھوٹی سسٹر ہے سب.. ابھی وہ بول رہا تھا کا اسکا موبائل بج اٹھا..
ایکس کیوز می..
ہیلو””
روحان آپ کہاں ہیں ٹائم دیکھا ہے آپ نے دس بج رہے ہیں گھر آنے کا ارادہ ہے یا نہیں.. زویا غصہ ہوتی بولی..
روحان نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جو واقعی دس بجا رہی تھی..” بس میں آ ہی رہا تھا .. ” کہتے ہی کال کاٹ دی..
چلیں آئرہ میں آپکو گھر ڈراپ کردیتا ہوں.. “
نو اٹس اوکے میرے پاس گاڑی ہے “.آئرہ مسکراتے ہوئے منع کیا..
رات ہو رہی اس وقت مناسب نہیں آپکی یوں باہر رہنا” روحان نے کہا..
میرے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے میں چلی جاؤں گی آپ میری وجہ سے لیٹ ہو رہے ہیں گھر سے بھی کال آ گئی ” آپ جائیں.. “
اوکے فائن ” گڈ نائٹ.. روحان کہتے اٹھ گیا ..اور چلا گیا..
آئرہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ” ہاؤ سویٹ کتنی فکر ہے میری ” مسکراتے ہوئے بولی
🥀🥀🥀
