Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Last Episode)Part 3
Rate this Novel
Anazadi (Last Episode)Part 3
Anazadi by Noor ul Huda
زنِ حسین تھی اور پھول چُن کے لاتی تھی !
میں شعر کہتا تھا وہ داستان سناتی تھی !
اسے پتہ تھا میں دنیا نہیں محبت ہوں !
وہ میرے سامنے کچھ بھی نہیں چھپاتی تھی !
اسے کسی سے محبت تھی اور وہ میں نہیں تھا !
یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی !
یہ پھول دیکھ رہے ہو یہ اس کا لہجہ تھا !
یہ جھیل دیکھ رہے ہو یہاں وہ آتی تھی !
میں کچھ بتا نہیں سکتا وہ میری کیا تھی !
کہ اس کو دیکھ کے بس اپنی یاد آتی تھی !
ہر ایک روپ انوکھا تھا اُس کی حیرت کا !
مِرے لئے وہ زمانے بدل کے آتی تھی !
میں اُس کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا !
وہ مجھ کو خواب نہیں، نیند سے جگاتی تھی۔
اس پر سے کمبل کھینچ کر وہ جا چکی تھی۔آزاد نے آنکھیں کھول کر اسے ڈھونڈنا چاہا مگر ہر بار کی طرح ناکام ٹہرا۔دھیرے سے مسکرا کر اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔پھر اٹھ کر فریش ہونے کر چلا گیا۔نہا کر باہر نکلا تو اس کے کپڑے بیڈ پر موجود تھے۔باقی چیزیں ٹیبل پر موجود تھیں۔
“تمہارا بدل جانا بھی اذیت دیتا ہے مینا!”
اپنے کپڑے لیکر وہ چینج کرنے چلا گیا۔تیار ہوکر باہر نکلا تو کچن میں گم ہوتے آنچل کودیکھ کر وہیں چلا آیا۔
“مینا!”
پراٹھا بیلتے اس کے ہاتھ آزاد کی پکار پر تھمے تھے۔
“جی!”
بنا مڑے اس نے پوچھا تو آزاد نے آگے بڑھ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا۔
“کیا میری یہ خواہش کبھی پوری نہیںں ہوگی کہ آنکھ کھلنے پر تم میرے سامنے ہو؟”
آزاد کے لہجے میں ایک حسرت تھی۔ارمینہ نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا،جہاں محبت کا ایک جہان آباد تھا وہ نظریں چراتی مڑنے ہی لگی تھی جب بے اختیار ہی اس کا ہاتھ آزاد کے دل کی جانب بڑھا تھا۔ دل کی دھڑکن محسوس کرتی وہ مسکرائی تھی۔سب بھولتی وہ آگے ہوتی اس کے سینے پر سر رکھ گئی تھی۔
“یہ میرا نام لیتی ہیں۔”
دھیرے سے اس کے لب ہلے تھے۔آزاد کا وجود تو سماعت بن جاتا جب وہ قریب آتی تھی۔
“یہ تمہارے نام سے دھڑکتی ہیں مینا!”
اس کی دھڑکن محسوس کرتی ویسے ہی کھڑی تھی۔قدموں کی چاپ سن کر وہ اس سے الگ ہوئی تھی۔آزاد کی کالی شرٹ پر دل کے مقام پر بنا آٹے سے ہاتھ دیکھ کر وہ ہنسی تھی۔
“صاف کر دیتی ہوں۔”
اپنے ڈوپٹہ سے وہ صاف کرنے کے لیے آگے بڑھی تو آزاد پیچھے ہوگیا۔
“رہنے دو!تمہارا لمس میرے ساتھ رہے گا۔”
“آزاد سب ہنسیں گے۔”
اسے باہر جاتا دیکھ کر وہ پیچھے آئی تھی ۔ملازمہ اس کے پاس سے گزرتی کچن میں چلی گئی تھی۔
“ہنسنے دو۔مجھے فرق نہیں پڑتا۔”
آزاد نے لاپرواہی سے کہا۔
“پلیز صاف کر لیں اسے۔”
ارمینہ کے معصومیت سے کہنے پر آزاد الٹے قدم لیتا واپس اس تک آیا تھا۔
“تمہارے نقش تم بھی نہیں مٹا سکتی اس دل سے۔”
آزاد نے اس کی ہتھیلی تھام کر شرٹ پر مزید نشان بنا لیے تھے۔
“آپ پاگل ہیں۔”
وہ ہار مانتی سر جھکا گئی تھی۔
“عاشق ہوں۔”
اس کی تصیح کرتا وہ آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر لب رکھتا پیچھے ہوا تھا۔
“ڈیڈ کو بلا کر لاتا ہوں مل کر ناشتہ کریں گے۔”
اس کے گال تھپتھپا کر وہ جہانگیر صاحب کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔ارمینہ اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔
آزاد دو دن پہلے ہی ہاسپٹل سے گھر آیا تھا۔ہوش میں آنے پر اس نے ارمینہ کو اپنے ساتھ پایا تھا۔اس کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔وہ سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ اس کے کھو دینے کے ڈر سے روئی تھی یا پھر اس کو پاکر روئی تھی مگر وہ آخری بار تھا جب وہ اس طرح روئی تھی۔
*********
ابھی وہ درد باقی ہے
اگرچہ وقت مرہم ہے
مگر کچھ وقت لگتا ہے
کسی کو بھول جانے میں
دوبارہ دل بسانے میں
ابھی کچھ وقت لگنا ہے
ابھی وہ درد باقی ہے!
میں کیسے نئی الفت میں
اپنی ذات کو گُم کر دوں
کہ میرے جسم و وجداں میں
ابھی وہ فرد باقی ہے
ابھی اُس شخص کی مجھ پر
نگاہِ سرد ۔۔۔۔۔۔۔ باقی ہے
ابھی وہ عشق کے رستوں کی
مجھ پر گرد باقی ہے
ابھی وہ درد باقی ہے
رات کا آخری پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی تھی۔ ایک نظر سکون سے سوتے آزاد پر ڈال کر وہ بیڈ سے اتر کر بالکنی میں آگئی تھی۔ آسمان پر پوری آب و تاب سے چمکتے ستارے چاند کی غیر موجودگی میں اپنی کشش کھو رہے تھے۔ وہ وہیں ریلنگ کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی۔ خود میں سمٹ کر نظریں چاند کو تلاش کر رہی تھیں جو آج شاید آنا ہی نہیں چاہتا تھا۔قدموں کی مخصوص چاپ سن کر اس نے گھٹنوں سے سر اٹھایا۔ آزاد اسے خفگی سے دیکھ رہا تھا۔
“تم میری اتنی پرواہ کیوں کرتے ہو؟ “
کھوئے کھوئے لہجے میں پوچھتی وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔ آزاد اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
“میرا دل کہتا ہےایسا کرنے کو۔ “
اس کے جواب پر ارمینہ نے پھر سے چاند کو تلاشنا چاہا۔
“اس کا مطلب تم اس دل کے کہنے پر کرتے ہو؟”
ارمینہ کا اس پر زور دینا آزاد کو اس کی کشمکش سمجھا گیا تھا۔ وہ مسکرا کر وہیں اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا تھا۔
“میں تمہیں اپنے دل سے نکالنا نہیں چاہتا تھا ارمینہ! میں سب کھو کر زندہ نہیں رہنا چاہتا تھا لیکن ریحان کے دل نے میری محبت کو کئی گنا بڑھا دیا۔ شاید میں تم سے مایوس ہوجاتا لیکن میرا دل کہتا تھا تم صرف میری مینا ہو۔ “
آزاد بول رہا تھا جبکہ ارمینہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔اس کے چہرے میں ریحان کی شبیہ ڈھونڈتی وہ تھک کر آنکھیں موند گئیں۔ آزاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھا تو ارمینہ نے اسے دیکھا۔
“میں یہ سوچ کر اپنی پوری زندگی گزار سکتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے چاہے وہ محبت اس دل سے ہی کیوں نا ہو کیونکہ یہ دل میرا ہے مینااور میں تمہارا۔ “
آزاد کی باتوں کے اس کے پاس جواب نہیں ہوتے تھے۔ وہ دکھ سے مسکرائی تھی کیونکہ وہ اس کے ساتھ آگے تو بڑھ گئی تھی لیکن وجہ آزاد نہیں تھا۔
“میں کوشش کر رہی ہوں آزاد! لیکن۔۔۔۔۔”
“شششش!”
اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر آزاد نے اسے بولنے سے روکا۔
“میں خوش ہوں ارمینہ! “
وہ آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ ہنسی تھی۔
“وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے میرا پورا نام لیتا تھا۔”
وہ ہنس کر بتا رہی تھی آزاد اسے دیکھ رہا محو ہوکر۔
“شاید میری طرح وہ بھی چاہتا تھا تم اس کا جھوٹ پکڑ لو۔ “
ان کی گفتگو میں ریحان کا ذکر ہمیشہ ہوتا تھا لیکن وہ کبھی بری یاد نہیں بن پایا تھا۔آزاد کے لیے وہ اس کا محسن تھا،جس نے اس کی محبت کا راستہ اس کے لیے آسان کر دیا تھا۔وہ ارمینہ سے بلاجھجھکے ریحان کے بارے میں بات کرتا تھا۔ریحان جو نہ ہوکر بھی ان کے درمیان تھا۔آزاد نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی تھیں اور اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا تھا۔ارمینہ نے خود کے گرد لپٹی چادر کو آزاد پر پھیلا دیا تھا۔دل کی دھڑکن محسوس کرتی وہ اب بھی چاند کی ممتظر تھی۔
اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں
اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے…….کہ تم ہو
میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے………. کہ تم ہو۔
*********
“اجیہ یار پکڑو اسے۔”
واسع کی جھنجھلاہٹ بھری آواز پر وہ ہنسی دباتی کمرے میں داخل ہوئی۔
“اپنی ہی اولاد سے کوئی چڑتا ہے بھلا؟”
اجیہ نے مصنوعی غصے سے کہا تو واسع نے آنکھیں سکیڑیں۔
“جب اپنی ہی اولاد محنت برباد کر کر تالیاں بجانے والی ہو تو چڑنا بنتا ہے۔”
اپنی آفس فائل کے سارے کاغذ سمیٹتا وہ جل کر بولا تھا۔
“بابا!”
شجرت کا پیار سے پکارنا اس کا سارا چڑچڑا پن دور گیا تھا۔
“میرا بچہ! بابا کی جان!”
اس نے تیزی سے شجرت کو اس سے لیا تھا۔اجیہ نے منہ کھولے حیرت سے باپ بیٹی کو دیکھا تھا جو کچھ دیر پہلے تک دشمن بنے ہوئے تھے۔
“اسے مجھے دیں اور چینج کر لیں جا کر۔ہمیں امی کی طرف جانا ہے۔”
شجرت کو اس سے لیکر اجیہ نے کہا تو فائل اٹھا کر دراز میں ڈال کر تیار ہونے چلا گیا۔
“مما!”
پانچ سالہ راحب بھاگ کر اندر آیا تھا۔
“دادو بلا رہی ہیں۔”
جتنی۔تیزی سے وہ اندر آیا تھا۔اتنی ہی تیزی سے پیغام پہنچا کر وہ جا چکا تھا۔اجیہ کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔
پانچ سال کے عرصے میں زندگی نے خوشگوار موڑ لیا تھا۔جہاں اجیہ اور واسع ماں باپ کے درجے پر فائز ہوچکے تھے۔وہیں واسع کی محبت اور سمجھداری نے اجیہ کو اس کا گرویدہ کر دیا تھا۔واسع اس کے لیے انعام جیسا تھا جس نے اسے اسی کی نظروں میں سرخرو کیا تھا۔
************
“یہ گر جائے گا؟”
“تو تم بھی چلو ساتھ۔”
آزاد نے فورا ہی خدمات پیش کی تھیں۔ارمینہ نے اسے گھور کر برھان کے پاؤں سے اسکیٹنگ شوز اتارنا چاہے تو آزاد نے اسے روکا۔
“وہ نہیں گرے گا مینا! “
آزاد نے نرمی سے کہا تو ارمینہ نے ہاتھ پیچھے کر لیے۔ صاف اشارہ تھا کہ کرو جو کرنا ہے۔
“ہم مل کر سیکھائیں اسے؟ “
آزاد نے اس کے پاؤں کے پاس اسکیٹنگ شوز رکھے تھے۔
“میرے بیٹے کو چوٹ لگی تو آزاد!بات نہیں کروں گی میں۔”
ارمینہ کی دھمکی پر وہ مسکرایا تھا۔
“نہیں لگے گی اسے چوٹ! “
اسے شوز پہنا کر وہ اس کاہاتھ پکڑکر اپنے ساتھ ہال میں لے آیا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے برھان کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
وہ دھیرے دھیرے سکیٹ کر رہا تھا۔ ارمینہ نے آگے بڑھ کر برھان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ برھان دونوں کو دیکھ کر خوش ہورہا تھا۔ کچھ دیر اسکیٹنگ کے بعد وہ واپس آگئے تھے۔ ارمینہ کے بنا کہے ہی آزاد اسے قبرستان لے آیا تھا۔ جہاں وہ خاموشی سے کھڑی تھی۔
“دیکھو ریحان! میں آگے بڑھ گئی ۔آگے بڑھنا آسان تھا لیکن تمہیں بھولنا نہیں۔ تم جانتے ہو تمہاری ہر چیز بہت سنبھال کر رکھی ہے میں نے ،تمہارا دل بھی۔ مجھے آزاد سے محبت نہیں ہوئی ریحان! کیسے ہو سکتی ہے، محبت تو ایک بار ہوتی ہے ناں؟ لیکن میں نے اس کی محبت کو قبول کر لیا ہے۔ پتا ہے وہ تمہاری طرح گونگا نہیں ہے۔مجھے تمہیں سننے کی خواہش تھی اور اسے مجھے سننے کی خواہش ہے۔ انازادی جیت گئی ریحان! یہ تمہاری چاہ کرتی تھی ،کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ “
وہ دل ہی دل میں ریحان سے مخاطب تھی۔ آزاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جانتے ہو مجھے اس کی محبت کی عادت ہو رہی ہے۔ “
آخری جملہ بول کر وہ آزاد کے ساتھ واپس مڑ گئی تھی۔
بن کے احساس محبت کے حسین جزبوں کا
وہ میرے دل میں دھڑکتا ہے غضب کرتا ہے
******
ختم شد
