Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 17)

Anazadi by Noor ul Huda

کافی دیر سے وہ سیکیٹنگ بورڈ کو ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔اس نے آزاد کو کہہ تو دیا تھا کہ اسے سیکھنا ہے مگر اب خود نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا کرنا چاہتی تھی۔

“کیا ہوا؟”

آزاد فریش ہوکر ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تو اسے ویسے ہی بیٹھے دیکھ کر پوچھا۔

“مجھے نہیں سیکھنا۔”

اس نے بے دلی سے بورڈ کو بیڈ پر رکھ دیا تھا۔

“کیوں نہیں سیکھنا؟ کل تو تم کہہ رہی تھی کہ سیکھنا چاہتی ہو؟”

آزاد کو اس کا انکار کرنا سمجھ نہیں آیا تھا۔

“میں۔۔۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے گرنے سے؟”

اسے سمجھ نہ آیا کیا جواب دے تو ڈر کا بہانہ بنا دیا۔آزاد مسکراہٹ چھپاتا اس کے پاس آیا تھا۔

“میرا ہاتھ پکڑ لو۔ گرنے نہیں دوں گا۔ “

آزاد نے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے ہتھیلی پھیلائی تھی۔

“آزاد!میں۔۔۔۔۔۔”

وہ بولنا چاہتی تھی کچھ۔

“بھروسہ کر لو۔”

آزاد کے لہجے میں مان اور بھروسہ تھا جیسے وہ اس کا ہاتھ نہیں جھٹکے گی۔وہ شش وپنج میں مبتلا تھی کہ ہاتھ رکھے یا نہ رکھے مگر پھر فیصلہ کرتی اس کا ہاتھ تھام گئی تھی۔ ایک ہاتھ میں اسکیٹنگ بورڈ اور دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑے وہ آگے بڑھ رہا تھا۔ جہانگیر صاحب کے کمرے سے ملازم فائلز کا ڈھیر اٹھا کر باہر لا کر رہا تھا مگر بیلنس برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے ساری فائلز نیچے گر گئی تھیں۔ وہ آزاد سے ہاتھ چھڑوا کر ملازم کی مدد کے لیے آگے آئی تھی۔ آزاد بھی وہیں آگیا تھا۔وہ ایک ایک کر کر فائل اٹھا رہی تھی۔ جب اس کی نظر فائل کے کور پر چمکتے آزاد کے نام پر پڑی۔ اس نے متجسس ہو کر فائل کھولی تھی۔ مگر اندر رکھی آزاد کی رپورٹس نے اس کو سن کر دیا تھا۔

“دھیان سے کیجیئے گا۔ چلیں۔ “

وہ پہلے ملازم اور پھر اس سے مخاطب ہوا تھا۔ جبکہ وہ بامشکل آنسو روک رہی تھی، اس کے چہرے کا اطمینان دیکھ کر۔

میں جو یونہی کچھ دِن نظر نہ آؤں تو کیا کرو گے

میں جو بے نام محبت سے مُکر جاؤں تو کیا کرو گے

یہ خلوص ، اعتبار ، مان ، یہ وعدے چھوڑو یہ سب

یہ بتاؤ میں اچانک سے جو مر جاؤں تو کیا کرو گے

آگے بڑھتے آزاد نے جیسے ہی اس کا گرنا محسوس کیا تھا فورا بورڈ پھینک کر اسے سنبھالا تھا۔

“ارمینہ!!”

وہ پریشانی سے اس کے گال تھپک رہا تھا۔جب وہ ہوش میں نہ آئی تو اسے اٹھا کر باہر بھاگا تھا۔

*********

“انہوں نے کسی بات کا سڑیس لیا ہے۔لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے،وہ اب ٹھیک ہیں۔”

ڈاکٹر نے آزاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی آمیز انداز میں کہا تھا۔

“میں دیکھ سکتا ہوں اسے؟”

آزاد نے بے چینی سے پوچھا تو ڈاکٹر ہاں میں سر ہلا کر آگے بڑھ گیا۔آزاد نے بنا دیر کیے کمرے کا رخ کیا تھا۔سکون آور انجیکشن کے زیر اثر وہ سوئی ہوئی تھی۔نرس اس کی ڈرپ صحیح کر کر باہر چلی گئی تھی۔آزاد آہستہ سے چلتا اس کے پاس آیا تھا۔

“ارمینہ!!”

اس کےہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے اس نے پکارا تھا۔وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔نظریں اس کے چہرے پر تھیں۔مرجھایا چہرہ اب آزاد کو پیشمان کرنے لگا تھا۔نجانے کتنی دیر وہ اسے دیکھتا اپنی سوچوں میں گم رہا۔ارمینہ کی آواز پر وہ چونکا تھا۔وہ کچھ بول رہی تھی۔آزاد نے آگے جھک کر سننے کی کوشش کی تھی۔شدید کرب سے ریحان کا نام لیتی وہ آزاد کو ساکت کر گئی تھی۔

“مینا!”

آزاد نے جیسے ہی اسے پکارا تھا ارمینہ واپس غنودگی میں چلی گئی تھی۔اپنی ہتھیلی پر گرتا آنسو محسوس کرتا وہ دکھ سے مسکرایا تھا۔

“میں درمیان میں آگیا تھا تم دونوں کے۔مجھے یہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا ارمینہ!یہ ریحان کی جگہ تھی۔”

وہ اس کے پاس سےاٹھ کر کمرے سے نکل گیا تھا۔گھٹن کا احساس بڑھتا ہی جارہا تھا۔ہاسپٹل کی بالکنی میں آکر اس نے جیسے سانس بحال کیا تھا۔

“تمہیں نہیں جانا چاہیئے تھا ریحان!تم نے بہت غلط کیا۔”

وہ ریحان سے شکوہ کر رہا تھا۔

**********

“ڈیڈ!ریحان شفٹ ہوگیا ہےکیا؟”

جہانگیر صاحب کے ساتھ گھر جاتے ہوئے آزاد نے ریحان کے لیے نئے گھر میں روشنی دیکھی تو پوچھنے لگا۔

“بتا رہا تھا عمرے سے واپس آکر شفٹ ہوجائے گا۔”

جہانگیر صاحب نے مصروف انداز میں جواب دیا۔

“کار روکو۔”

آزاد نے ڈرائیور سے کہہ کر کار رکوائی تو جہانگیر صاحب نے اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“میں ریحان کو ویلکم کہہ کر آتا ہوں۔اس کی مما سے بھی مل لوں گا۔”

آزاد باہر نکلتا بنا جہانگیر صاحب کی بات سنے پیچھے مڑ گیاتھا۔جہانگیر صاحب جانتے تھےشمیم بیگم کے انتقال کے بارے میں مگر آزاد نہیں جانتا تھا۔پھر ریحان کے بارے میں سوچ کر وہ پرسکون ہوگئے تھے۔آزاد کے ساتھ وہ دکھ کم کر لے گا۔

درد آنکھوں میں لیے بیٹھے ہو

دل کو ہاتھوں میں لیے بیٹھے ہو

کس کےآنے کا انتظار ہے تمہیں

کس کو سانسوں میں لیےبیٹھےہو۔

دروازہ کھلا دیکھ کر وہ اندر ہی آگیا تھا۔دروازے کے پاس ہی اسے ریحان نظر آیا تھا۔غیر مرئی نقطے کو گھورتا،آزاد کو اس کی حالت اچھی نہ لگی تھی۔

“ریحان!”

اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے ریحان کو پکارا تو ریحان نے آزاد کی جانب دیکھا۔

“کیا ہوا تم ایسے کیوں بیٹھے ہو؟”

“اس کے ساتھ بیٹھ کر آزاد نے پوچھا۔

“دل گھبرا رہا تھا اس لیے یہاں بیٹھ گیا۔”

ریحان نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔

“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ،آنٹی کہاں ہیں؟”

آزاد کو پریشانی ہوئی تھی۔شمیم بیگم کے زکر پر ریحان نے آسمان کی جانب دیکھا تھا۔

“دو دن پہلے وہ چلی گئیں مجھے چھوڑ کر۔”

ریحان نے دکھ سے کہا۔آزاد کو اس کا دکھ سمجھ آتے ہی افسوس ہوا تھا۔

“مجھے معلوم نہیں تھا ریحان!آئی ایم سوری!”

آزاد نے اس کے گلے لگتے ہوئے کہا۔

“ریحان اندر چلو۔”

اس کے جسم کو ٹھنڈا پڑتا دیکھ کر آزاد نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“اندر گھٹن ہے۔”

وہ تکلیف سے بولا تھا۔

“ریحان!تمہاری وائف کہاں ہے؟تم اکیلے کیوں ہو یہاں؟”

آزاد نے پہلے کبھی اسے اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔وہ بھی پریشان ہوچکا تھا۔

“اسے چھوڑ آیا ہوں۔”

کھوئے انداز میں کہتا وہ آزاد کو شاک لگا گیا تھا۔

“کیا مطلب چھوڑ آئے ہو؟اور کیوں؟”

آزاد نے اس کو پکڑ کر جھنجھوڑا۔

“اب نہ چھوڑتا تو وہ کبھی مجھے چھوڑ نہ پاتی۔”

ریحان کی آنکھ سے نکلتا آنسو،اس کی بے بسی آزاد کو دکھی کر گئی تھی۔

“مجھے نہیں سمجھ آرہی ریحان تمہاری۔لیکن تم جاؤ اپنی بیوی کے پاس۔”

آزاد نے اسے زبردستی اٹھانا چاہا۔

“نہیں جا سکتا۔ “

ریحان نے اس سے بازو چھڑوایا تھا۔

“ریحان! “

آزاد نے بے بسی سے اسے پکارا۔ وہ نہیں جانتا تھا اس کی بیوی کون ہے کہاں رہتی ہے ورنہ وہ اسی لمحے اسے یہاں لے آتا۔

“میں بے بہت کوشش کی اسے مجھ سے محبت نہ ہو۔ کبھی اپنی محبت ظاہر نہیں کی ،ہمیشہ بے رخی ،بےاعتنائی برتی لیکن پھر بھی اسے مجھ سے محبت ہوگئی۔اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ کر میں نے اسے دھتکار دیا۔ “

آزاد کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔

“ریحان!!تم نے کیوں کیا یہ؟ محبت مل جانا کتنی خوش قسمتی کی بات ہے۔پوری زندگی کیسے گزارو گے اس کی محبت کی توہین کر کر۔ میں تمہیں ایسا تو نہیں سمجھتا تھا۔تم تو حساس تھے بہت ۔کسی کو تکلیف میں دیکھ کر دکھی ہوجاتے تھے تو پھر اپنی محبت کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟ “

آزاد نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اسے ایک بار پھر جھنجھوڑا تھا۔ پھر تھک کر زمین پر بیٹھ گیا تھا۔ ریحان نے اپنی پاس رکھی فائل آزاد کی گود میں رکھی۔

“ریحان !یہ۔ ۔۔۔”

ہاسپٹل فائل دیکھ کر آزاد حیران ہوا تھا۔

“میرا ٹیومر بڑھ گیا ہے آزاد! ایک مہینہ، بس چند ہفتے ملے ہیں مجھے زندگی کے، اپنی چند ہفتوں کی خوشی کے لیے میں اسے ساری عمر کا روگ نہیں لگا سکتا۔ وہ تو پسندیدہ چیز ٹوٹنے پر رونے بیٹھ جاتی ہے،وہ کیسے برداشت کرے گی؟”

آزاد فائل ہاتھ میں پکڑے شل سا بیٹھا تھا۔

“یہ کیسے ہوا ریحان! اور کب؟ تم نے بتایا تک نہیں؟”

فائل چھوڑ کر اس نے ریحان کے ہاتھ پکڑے تھے۔

“ایک سال پہلے اپنی برتھ ڈے کے دن یہ انکشاف ہوا تھا مجھ پر۔ لیکن مجھ پر ذمہ داریاں اتنی تھیں کہ میں بوجھ کے ساتھ مرنا نہیں چاہتا تھا۔ میرے ماں باپ نہیں جانتے تھے کچھ لیکن پھر بھی مجھ سے پہلے چلے گئے۔ اور مینا! وہ دو دن نہیں رہ سکی تھی میرے بنا، کیسے رہے گی پوری زندگی؟”

ریحان نے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔

“ہم علاج کروائیں گے ریحان! تم نے ہمیشہ مجھے امید دلا کر رکھی ہے تو خود کیسے ہمت ہار سکتے ہو؟”

آزاد نے اسے زبردستی اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا۔ریحان نے بڑھتے سر درد کو مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔ دو دن پہلے اسے صبح میں وومٹنگ شروع ہوگئی تھی۔ وہ بنا کسی کو بتائے گھر سے نکل آیا تھا۔

اپنی زندگی جینے کا فیصلہ کر کر وہ اللہ کے گھر سے لوٹا تھا مگر زندگی اتنی کم ہوگی یہ جان کر وہ اپنی رپورٹس پکڑ کر رویا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *