Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Episode 07)
Rate this Novel
Anazadi (Episode 07)
Anazadi by Noor ul Huda
“میں فون کردوں گی مجھے لینے آجانا۔ “
کھڑکی میں جھک کر اس نے ریحان کی جانب دیکھتے ہوئے اور پھر اندر بڑھ گئی۔ ریحان نے پچھلی سیٹ پر رکھے شاپنگ بیگ کو دیکھا۔ یقینا اس میں ارمینہ کے کپڑے تھے کیونکہ گفٹ تو وہ اس میں سے نکال کر لے جا چکی تھی۔ اس نے کار اسٹارٹ کر لی تھی۔ فون رنگ ہونے پر اس نےفون اٹھایا۔
“جی میری بات ہوئی تھی ریاض صاحب سے۔میں نے ایک اور سیٹ کا کہا تھا انہیں۔ “
“ہاں جی سر! بےشک اللہ کی مرضی سےہوتا ہے سب لیکن ہم کوشش تو کرسکتے ہیں۔ “
“میں کچھ دنوں میں ساری فارمیلٹیز پوری کرتا ہوں آکر۔ “
فون بند کر کر اس نے گہری سانس لی تھی۔
**********
“ارمینہ یار! بھائی کو نہیں لائی تم؟ “
اس کی دوست نے پوچھا تو ارمینہ کو سمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دے۔
“کیا سوچنے لگ گئی ہو؟ “
اس کے جھنجھوڑنے پرارمینہ نے اسے ہلکی سی گھوری سےنوازا۔
“اسے کام تھا کچھ تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ “
بے نیازی سے کہتی وہ اپنے لیے کھانا نکالنے لگی۔
“تم جانتی ہو ،تمہیں ایک سمجھدار لائف پارٹنر ملا ہے۔سب کی قسمت ایسی نہیں ہوتی۔ اب تم وہاں ہی دیکھ لو۔ اتنے نخرے ہیں اس کے منگیتر کہ ہر چیز اپنی پسند کی رکھوائی ہے اس نے۔ غصہ تو ناک پر رہتا ہے۔ میرے سامنے ہی ایک مرتبہ وہ بنا لحاظ کیے ارسلہ کو ڈانٹ چکا ہے۔”
انعم نے اسے رازداری سے بتایا تو ارمینہ نے بے ساختہ سامنے اسٹیج کی طرف دیکھا جہاں ارسلہ کے ساتھ کھڑا اس کا منگیتر جتنا خوبرو تھا، اتنا ہی مزاج کا الٹ تھا۔
“تو وہ کیوں کر رہی ہے منگنی؟ “
ارمینہ نے پوچھا۔
“تمہاری طرح کانشیئس ہے کہ لڑکا شکل و صورت کا اچھا ہو مگر۔۔۔۔۔”
انعم اور بھی کچھ کہہ کر رہی تھی مگر وہ تو وہاں کھڑی ریحان اور سامنے کھڑے لڑکے کا موازنہ کر رہی تھی، ارسلہ کی آنکھوں کی نمی اور اس لڑکے کا ڈانٹنا اس نے بھی دیکھا تھا۔ اس کے بعد وہ نارمل نہیں رہ سکی تھی۔ ریحان کو میسج کر کر آنے کا کہہ دیا تھا۔
“تم خوش ہو ارسلہ؟ “
وہ اسے خداحافظ بولنے آئی تھی لیکن جانے کیسے یہ سوال کر بیٹھی۔ ارسلہ نے اس کے سوال پر مسکرانے کی کوشش کی۔وہ سمجھ گئی تھی کہ ذیشان کا رویہ اس نے بھی نوٹ کر لیا تھا۔
“تھوڑے سے غصے والے ہیں لیکن دل کے اچھے ہیں۔ “
ارسلہ نے جیسے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔ارمینہ اس کے گلے لگ گئی۔ الفاظ اس کے پاس بھی نہیں تھے۔جو دل میں چل رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ ریحان کا میسج آیا تو مسکرا کر اس سے الگ ہوتی اسٹیج سے اتر گئی۔وہ خاموشی سے کار میں بیٹھ گئی تھی۔ ریحان نے اس کی غائب دماغی نوٹ کی تھی مگر کچھ بولنے سے گریز کیا تھا۔
**********
آج اس کا ارادہ اتفاق سے ہٹ کر خود جا کر ملنے کا تھا۔ کتنی ہی دفعہ وہ کپڑے بدل چکا تھا مگر مطمئن نہیں ہو پارہا تھا۔ آخر کار وہ ایک بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ پر مطمئن ہو گیا تھا۔ باہر کا موسم سرد تھا لیکن وہ اس وقت اتنا پرجوش تھا کہ سب کچھ بھلا چکا تھا۔ سیٹی کی دھن بجاتا وہ مسکراتا ہوا سیڑھیاں اتررہا تھا۔ جہانگیر صاحب اسے اتنا خوش دیکھ کر حیران ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ اس کی دائمی خوشی کی دعا کی تھی۔لیکن وقت شاید قبولیت کا نہیں تھا۔
آزاد اسی پارک میں آیا تھا جہاں وہ اسے ہمیشہ دیکھائی دیتی تھی۔ نظریں اس کی متلاشی تھیں۔تبھی وہ اسے نظر آگئی تھی۔ کالی شلوار قمیض اور گلے میں کالاہی ڈوپٹہ ڈالےوہ زمین پر کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ چہرے پر پریشانی تھی آنکھوں میں آنسو چھلکنے کو بے تاب۔ آزاد کا ہاتھ بے ساختہ اپنی جیب پر گیا تھا جس میں اس کی پائل تھی۔ وہ آگے بڑھا تھا اور وہ لڑکی واپس مڑ گئی تھی۔ وہ اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ وہ لڑکی ایک گھر کے سامنے رکی تھی۔ باہر لگی سنہری تختی پر ایک نام کنندہ تھا۔ وہ لڑکی اس نام پر ہاتھ پھیر رہی تھی پھر آنسو صاف کرتی اندر چلی گئی۔ پیچھے کھڑے آزاد پر آج ایک پہاڑ ٹوٹا تھا۔ وہ الٹے قدم لیتاوہاں سے بھاگا تھا۔
**********
صبح صبح ہی پورے گھر کی بجلی بند ہوگئی تھی۔ارمینہ گھر والوں کی آوازیں سن کر کمرے سے نکلی تھی۔ باہر کےحالات دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں۔ شمشیر پانی کی بالٹی بھر کر کچن میں لے جا رہا تھا،رامین منہ بسورے صحن کی جھاڑو لگا رہی تھی۔رفعت بیگم کچن میں سے ہی آوازیں لگا رہی تھیں۔جبکہ رضوان اور اس کے چھوٹے چچا مین سوئچ چیک کر رہے تھے۔
“ارمینہ!ادھر آ۔”
رفعت بیگم کی نظر اس پر پڑی تو وہ جو رامین کو بلانے والی تھیں اسے ہی پکار لیا۔وہ منہ کے نقشے بگاڑتی ان کے پاس آئی تھی۔
“یہ ناشتہ لے کر جا تیری چچی اور ریحان کو دے۔کمرے میں ہیں دونوں۔”
ریحان کا نام سن کر وہ حیران ہوئی تھی۔
“وہ آفس نہیں گیا ابھی تک؟”
“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا ارمینہ؟شوہر ہے تمہارا عزت سے بات کیا کرو۔”
وہ الٹا اسے ہی سمجھانے لگی تو ارمینہ نے جانے میں ہی عافیت جانی۔
“بیٹا!وہ تھوڑی ضدی ہے ،تمہارے ابو بتاتے تھے ناں پیار محبت سے مان جاتی ہے۔”
شمیم بیگم کی آواز سن کر اس نے دروازے کے پاس رک کر اندر جھانکا تھا۔ریحان ان کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔
“زبردستی کے رشتوں میں محبت کہاں ہوتی ہے امی!خاص کر وہاں جہاں ناپسندیدگی بھی ہو۔”
ریحان بولا تو ارمینہ کا حیرت سے منہ کھل گیا۔
“تم پہل توکرو،دیکھنا ناپسندیدگی محبت میں بھی بدل جائے گی۔”
شمیم بیگم نے کہا تو اٹھ کر بیٹھا۔
“امی!کچھ وقت تو مجھے دیں ۔میں کیسے سب اتنی جلدی قبول کر سکتا ہوں؟”
ریحان کے بولنے پر وہ آنکھیں بڑی کیے مڑی تھی۔
“یہ گونگا نہیں ہے۔تو بولتا کیوں نہیں ہے؟”
وہ بڑبڑائی تھی۔
“مجھے لگتا ہے ڈرامہ کر رہا میرے ساتھ۔کیسے مظلوم بن کر چچی سے باتیں کر رہا ہے۔”
چڑ چڑے پن سے کہتی وہ باتیں سننے کے لیے جیسے ہی مڑی تھی باہر آتے ریحان سے ٹکرائی۔ٹرے وہ سنبھال چکی تھی۔
“تم۔۔۔۔۔تم دیکھ کر نہیں چل سکتے؟”
وہ بد تمیزی سے بولی تھی مگر اگلے ہی پل اس کی نظر خود کو تکتی شمیم بیگم پر پڑی تو اس نے چہرے پر معصومیت سجا لی۔
“سوری مجھے نہیں پتا تھا آپ ہیں۔”
اس کے اتنے تمیز سے بولنے پر شمشیر کے ہاتھ سے بالٹی چھوٹ کر فرش پر گری تھی جبکہ رامین تو بے ہوش ہونے کے درپے تھی۔
“ناشتہ کرلیں۔”
ٹرے سامنے کرتی وہ بولی تو شمشیر اس بار بالٹی گرادینا ہی بہتر سمجھا۔جبکہ صحن میں پانی گرتا دیکھ کر رامین غصے سے چلائی تھی۔
*********
جاری ہے
