Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Last Episode)

Anazadi by Noor ul Huda

“ریحان!تم بار بار سو کیوں جاتے ہو؟ “

ریحان کے آنکھیں بند کرتے ہی ارمینہ نے شکوہ کیا تھا۔

“نیند آرہی ہے مینا! “

آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے کہا۔

“ریحان!طبیعت ٹھیک ہے ناں؟ “

اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرتی وہ پریشان ہوچکی تھی۔

“تم ساتھ ہو تو طبیعت بھی ٹھیک ہے۔ “

اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھتا وہ بولا تو ارمینہ مسکرائی تھی۔

“چلو سوجاؤ۔لیکن یاد رکھنا آج اظہار محبت کا دن ہے۔”

اذان شروع ہوتے ہی ارمینہ نے ریحان کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑانا چاہا توریحان نے مضبوطی سے ہاتھ پکڑ لیا۔

“تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں مینا! “

وہ ہولے سے بولا تھا۔ ارمینہ کا ہاتھ کانپا تھا۔ دل کچھ برا ہونے کی گواہی دینے لگا تھا۔

“ہم ساتھ رہیں گے ہمیشہ!”

وہ خود کو یقین دلاتی بولی تھی۔ تبھی ریحان کی گرفت ہاتھ پر ڈھیلی ہوئی تھی۔

“ریحان!!”

ریحان کو پکارتی وہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔ خود کو ہاسپٹل بیڈ پر دیکھ کر اس نے اردگرد ریحان کی تلاش میں نظریں دوڑائی تھیں۔

“ریحان کہاں ہے؟”

نرس اس کا بی پی چیک کر رہی تھی۔ اس نے نرس سے ہاتھ چھڑوا کر پوچھا۔

“آپ کے گھروالے باہر ہیں۔ ریلیکس رہیں۔ “

نرس نے نرمی سے کہا۔

“ریحان کہاں ہے؟ “

اس کی بات کو نظر انداز کرتی وہ چلائی تھی۔

“مینا بچے!”

جاوید صاحب اس کی آواز سن کر اندر آئے تھے۔

“ابو! ریحان ٹھیک ہے ناں؟ “جاوید صاحب کا ہاتھ پکڑ کر اس نے امید بھری نظروں سے پوچھا۔

“مینا بچے!”

وہ بے بس ہوئے تھے۔ دو دن بعد اسے ہوش آیا تھا۔ وہ کیسے بتاتے اسے کہ ریحان چلا گیا ہے اس کی زندگی سے۔

“مجھے جانا ہے اس کے پاس ابو! “

ارمینہ نے ضد کی تو جاوید صاحب نے اس کے سرپر ہاتھ رکھا۔

“تم ٹھیک ہو جاؤ پھر چلتے ہیں۔”

جھوٹی تسلی سے وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

“مجھے ابھی جانا ہے۔ اس کا آپریشن ہے مجھے پاس رہنا ہے اس کے۔ “

ارمینہ نے بیڈ سے اترنے کی کوشش کی تو جاوید نے اسے روکا۔

“ارمینہ! وہ چلا گیا ہے کبھی نہ لوٹنے کے لیے۔ آپریشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔”

اسے کندھوں سے پکڑ کروہ جیسے ہی بولے تھے ارمینہ ساکت ہوگئی تھی۔ جاوید صاحب کا دل گھبرایا تھا۔

“ارمینہ! “

انہوں نے اسے خود سے لگایا تھا۔ وہ رو نہیں رہی تھی۔ بالکل چپ تھی۔ اسے ڈسچارج کرواکر گھر لانے کے بعد بھی وہ خاموش تھی۔ دودن ارمینہ کی بےہوشی کے دوران ہی وہ لوگ ریحان کو آخری آرام گاہ تک پہنچا چکے تھے۔ ارمینہ کی چپ سب کو پریشان کر رہی تھی۔ سب نے ہی اس کو بلوانے کی کوشش کی تھی مگر اس کی چپ نہ ٹوٹی۔ ریحان کی چیزیں لیکر وہ بیٹھی رہتی تھی۔ اجیہ اور رامین آکر زبردستی اسے کھانا کھلا دیتی تھیں۔

“بیٹا! وہ چلا گیا ہے کب تک ایسے رہو گی۔ اس کی روح کو تکلیف ہوگی۔”

رفعت بیگم اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔

“مجھے اس کے پاس جانا ہے۔ “

ایک مہینے بعد اس کے منہ سے پہلا جملہ نکلا تھا۔

“ایسی باتیں نہیں کرتے بچے! “

انہوں نے دہل کر اسے خود سے لگایا تھا۔پھر ارمینہ کی تمام باتیں یہیں تک محدود ہوگئی تھیں کہ اسے ریحان کے پاس جانا تھا۔پریشانی کا حل ایک ہی تھا ارمینہ کی شادی۔جس کے لیے اجیہ نے اپنے دیور کا رشتہ سامنے رکھا تھا، فلحال یہ گھر والوں کی سوچ تھی جس سے ارمینہ بے خبر تھی لیکن کب تک؟

*********

شمیشر کے ساتھ وہ ایک بار زبردستی قبرستان جا چکی تھی۔اب ارمینہ کا معمول بن گیا تھاوہ اکثر بنا بتائے گھر سے نکل جاتی تھی۔

“یہ کیا کر رہی ہو؟”

اسے سامان پیک کرتا دیکھ کر رفعت بیگم نے پوچھا۔

“اپنے گھر جا رہی ہوں۔ “

اس کا انداز سپاٹ تھا۔

“یہ تمہارا گھر ہے۔”

“انہوں نے جتایا۔

“میرا گھر وہ ہے جو ریحان نے بنایا تھا میرے لیے۔”

زپ بند کرتی وہ ہاتھوں میں ریحان کی دی چوڑیاں پہن رہی تھی۔

“ارمینہ کیا کر رہی ہو یہ؟”

انہوں نے ہاتھ پکڑ کر روکا تو ہاتھ چھڑا کر وہ پیچھے ہوئی۔

“آپ لوگوں کے کہنے پر چار مہینے سے نہیں پہنا میں نے انہیں۔اب مزید نہیں۔ ریحان نے دی تھیں مجھے۔”

وہ ضدی پن سے بولی تھی۔ پھر رفعت بیگم کے روکنے کے باوجود بھی سامان سمیٹ کر گھر سے نکل گئی تھی۔

*******

“یہ ہمارا گھر ہے ریحان! “

دیوار پر لگی اپنی اور ریحان کی فوٹو دیکھ کر وہ آنسو صاف کرتی بولی تھی۔

اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں

اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے…….کہ تم ہو

میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں

تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے………. کہ تم ہو۔

کارٹن میں سے ریحان کا کمبل نکال کر وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔

“ارمینہ! یہ کیا بچپنا ہے بچے! گھر چلو۔ “

جاوید صاحب شمشیر کے ساتھ وہاں آئے تھے۔

“مجھے نہیں جانا وہاں۔ “

مٹھیوں میں کمبل کو جکڑے وہ اٹل لہجے میں بولی تھی۔

“وہ تمہارا گھر ہے بچے!”

“نہیں ہے وہ میرا گھر!میرا گھر یہ ہے جہاں ریحان میرے ساتھ ہے۔”

وہ چلائی تھی۔جاوید صاحب کو حیرت ہوئی تھی۔

“مجھے اسے آخری بار دیکھنے تک نہیں دیا۔اس سے ملنے تک چپ کر جانا پڑتا ہے۔اس کی یادیں ہیں میرے پاس وہ بھی چھیننا چاہتے ہیں آپ سب۔مجھ سے ریحان کو چھیننا چاہتے ہیں آپ سب۔میں یہیں رہوں گی،کہیں نہیں جاؤں گی۔ “

وہ ضدی پن سے بولتی اٹھ کر کمرے میں بند ہوگئی تھی۔

“اس نے چاچی اور امی کی باتیں سن لی تھیں،ارسم کے رشتے کے متعلق سب کچھ۔ “

شمشیر نے سر جھکائے بتایا تو جاوید صاحب نے سر پکڑ لیا۔ انہوں نے بہت کوشش کی ارمینہ کو ساتھ لے جانے کی مگر وہ نہ مانی۔ شمشیر اور رامین اس کے پاس رہنے لگے۔ وہ پارک جاتی تھی۔ اکیلے وقت گزارتی تھی۔ آزاد سے سرسری ملاقات کے بعد اس کی پائل گم ہونا، وہ روتی رہی تھی ایک پائل پکڑ کر۔ جاوید صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تو گھر واپس آگئی تھی۔ جہاں انہوں نے اپنے سر کی قسم دے کر اسے شادی کے لیے راضی کیا تھا۔آزاد سے ہوئی سرسری سی ملاقات بھی وہ بھول چکی تھی۔ آزاد کا اس کو دوستی کی آفر کرنا اس کا خیال رکھنا بھی اس کا دل بدل نہیں پا رہا تھا۔ پہلی بار اس نے آزاد کے دکھ کو محسوس کیا تھا جب وہ اسے ریحان کی قبر پر لے گیا تھا اس کے بعد ریحان کے گھر۔ وہ اسے دکھ نہیں دینا چاہتی تھی مگر آگے بڑھنا بھی آسان نہیں تھا اس کے لیے۔ آزاد کی رپورٹس دیکھ کر اسے ریحان کی رپورٹس ،اس کا جانا یاد آیا تھا۔ وہ پھر سے آزاد کو بھول کر ریحان کی مینا بن گئی تھی جس کا ریحان اس سے دور جانے والا تھا۔

ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

ﺳﺎﺗﮫ ﮨُﻮﮞ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﺎﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ نہیں .

*********

(حال)

آنکھیں کھول کر اس نے بائیں جانب اپنے قریب ہی کرسی پر سوئے آزاد کو دیکھا تھا۔ وہ اٹھنے لگی تو ہاتھ میں لگے برنولا سےہونے والی تکلیف سے وہ سسکی تھی۔ آزاد کی آنکھ فورا کھلی تھی۔

“مینا! تم ٹھیک ہو؟”

اس نے آگے ہوتے فورا پوچھا تھا۔ ارمینہ نے ہاتھ چھپایا تھا جس میں سے خون رسنے لگا تھا۔ آزاد نے اس کا ہاتھ پیچھے لے جانا دیکھا تھا۔

“دیکھاؤ مجھے۔”

آزاد کھڑا ہوا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں۔ “

بنا اس کی جانب دیکھے ارمینہ نے جواب دیا تھا

“ہاتھ دیکھاؤ مینا! “

اس نے خود ہی آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ خون دیکھ کر اس نے خفگی بھری نظر ارمینہ پر ڈالی تھی۔

“اپنے ساتھ تم مجھے تکلیف دیتی ہو مینا! “

کاٹن سے خون صاف کرتا وہ شکوہ کر رہا تھا۔

“مجھے مینا مت بلایا کرو۔ مجھے میرے خالی ہاتھ ،خالی زندگی یاد آتی ہے۔ “

ارمینہ نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔

“تمہارے ہاتھ خالی کہاں ہیں مینا! یہ دیکھو میں ہوں ہمیشہ تمہارے ساتھ۔خالی زندگی میں مل کر رنگ بھریں گے۔ “

آزاد نے مسکراتے ہوئے کہا تو ارمینہ نے اس کی جانب دیکھا۔

“جانتی جب پہلی بار تمہیں دیکھا تو موت کو قریب سے جان لینا تھا۔”

آزاد کو وہ دن یاد آیا تھا جب اس نے ارمینہ کو رکشے میں بیٹھے دیکھا اور دھیان بھٹکنے پر وہ سکیٹنگ کرتا کار سے ٹکرایا تھا۔

“اس دن خواہش کی تھی تمہیں پانے کی۔ پھر تمہارا تصور میرے پاس سے نہیں گیا۔ اللہ کے گھر جا کر تمہیں مانگا تھا میں نے۔تم صرف محبت نہیں ہو مینا بلکہ۔۔۔۔۔۔۔”

ارمینہ نے یک دم ہی اس سے ہاتھ چھڑوایا تھا۔ آزاد نے حیرانی سے ارمینہ کو دیکھا جو نفرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“تم نے۔۔۔۔کیا سب؟ ریحان کومجھ سے چھین لیا۔”

آزاد نے بولنا چاہا مگر ارمینہ آگے ہوتی اسے پیچھے دھکیل گئی تھی۔

“تمہاری وجہ سے میری دعا رائیگاں چلی گئی۔ تم مجھے نہ مانگتے تو میرا ریحان میرے ساتھ ہوتا۔”

اپنے ہاتھوں میں سر پکڑے وہ شدت سے روئی تھی۔

“مینا! میری بات سنو۔۔۔۔۔”

آزاد نے آگےبڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑنا چاہے تو ایک بار پھر ارمینہ نے اس کے ہاتھ جھٹک دیئے۔

“چلے جاؤ یہاں سے۔ تمہاری وجہ سے میرا ریحان چلا گیا۔ چلے جاؤ۔تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی مجھے۔”

وہ چلا رہی تھی۔ آزاد قدم پیچھے لیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔

سپردِ خاک مرا ، ایک ایک خط نہ کرے

وہ بدگمانیوں میں فیصلے غلط نہ کرے

سلجھ بھی سکتا ہے جھگڑا اسے کہو کہ ابھی

جدائی کے کسی کاغذ پہ دستخط نہ کرے

*************

مسلسل گونجتی ارمینہ کی نفرت بھری دھتکار سے تنگ آکر اس نے کار روکی تھی۔ الفاظ سے زیادہ لہجے کی نفرت نے آزاد کو توڑ دیا تھا۔ اس نے اسٹرینگ پر سر گرایا تھا۔

“چلے جاؤ یہاں سے۔ تمہاری وجہ سے میرا ریحان چلا گیا۔ “

اسٹرینگ پر گرفت مضبوط کیے وہ پھر سےارمینہ کے الفاظ یاد کر رہا تھا۔

“تمہاری وجہ سے میری دعا رائیگاں چلی گئی۔ تم مجھے نہ مانگتے تو میرا ریحان میرے ساتھ ہوتا۔”

ارمینہ کے لفظوں کی گونج اس کے دل کی دھڑکن بڑھا رہی تھی۔

“اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا مینا!تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔تمہاری نفرت مجھے مارڈالے گی۔”

دل پر ہاتھ رکھتا وہ تکلیف برداشت کرتا بولا تھا۔ فون کی بجتی مسلسل بیل ،گاڑیوں شور، دھندلی آنکھوں سے اردگرد دیکھتا وہ ہوش خرد سے بےگانہ ہوا تھا۔ آس پاس کے لوگ اس کی جانب بڑھے تھے۔

‏تجھ سے بچھڑے ہیں مگر عشق کہاں ختم ہوا،

یہ وہ جیتی ہوئی بازی ہے جو ہاری نہ گئی

تو ہے وہ خواب جو آنکھوں سے اتارا نہ گیا،

تو وہ خواہش ہے جو ہم سے کبھی ماری نہ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *