Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 09)

Anazadi by Noor ul Huda

“کہاں چلا گیا واپس کیوں نہیں آیا ابھی تک؟”

ایک گھنٹہ ہوگیا تھا ریحان کو کمرے سے گئے ہوئے۔ارمینہ نے سارا کمرہ سمیٹ لیا تھا۔وہ اس کا انتظار کررہی تھی۔پھر اکتا کر کمرے سے نکل آئی۔باہر اندھیرا تھا۔سب سو چکے تھے۔جاوید صاحب نے اسے نہیں بلایا تھا مطلب ان سے بات چھپا لی گئی تھی۔

“یہ کدھر چلا گیا ہے؟”

اس نے چڑتے ہوئے کہا اور پھر سر جھٹکتی واپس کمرے کی جانب بڑھ گئی۔تبھی اسے چھت پر ہیولہ دیکھائی دیا۔

“یہ اتنی ٹھنڈ میں وہاں کیا کر رہا ہے؟”

وہ دبے قدموں سے آگے بڑھی۔اسے ریحان کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔

“نہیں!ٹھنڈ کی وجہ سے ہے۔آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب؟”

وہ فون پر بات کر رہا تھا۔ارمینہ رک کر اس کی باتیں سن رہی تھی۔

“کچھ دن بعد چکر لگاؤں گا۔کچھ ادھورے کام ہیں وہ پورے کرنے ہیں۔”

وہ بہت سنجیدگی سے جواب دے رہا تھا۔

“اس کےکونسے ادھورے کام ہیں؟ “

ارمینہ نے خود سے سوال کیا تھا۔

“میری بات ہوگئی ہے ایجنسی سے۔ایک مہینے کا وقت دیا ہے انہوں نے۔”

وہ پھر سے کھانسا تو اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی۔قدموں کی چاپ سن کر وہ ہڑبڑا کر کمرے کی جانب بھاگی تھی۔ ریحان میسج پر جواب دیتا سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ کمرے میں داخل ہوا تو پہلی نظر بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹی ارمینہ پر پڑی تھی۔صبح بات کرنے کا ارادہ کرتا وہ اپنا بستر لگا کر لیٹ گیا۔

***********

ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا هے

گویا سینے میں تجھے دل کی جگہ رکھا ھے۔

گارڈن کے وسط میں کھڑا وہ اپنی ہی سوچوں محور میں پھنسا ہوا تھا۔نیلگوں آسمان پرآہستہ آہستہ بڑھتی تاریخی اس کے دل کو بھی ویران کر رہی تھی۔وہ تو ہمیشہ خوش رہنے والا لڑکا تھا،اسے یاد تھا جب پہلی باروہ سڑک پر بے ہوش ہوا تھا۔اس کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔زندگی کی ڈور جیسے ہاتھ سے پھسل رہی تھی۔دو دن بعد اسے ہوش آیا تھا۔موت کا ڈر اس دن اس پر حاوی ہوا تھا۔وہ جان گیا تھا اس کا علاج ممکن تو ہے مگر زندگی کی ضمانت نہیں تھی۔اس نے جینا شروع کیا تھا۔مرنے سے پہلے اپنی ہر خواہش کو پورا کرنا تھا۔لیکن آج وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔کچھ دیر پہلے جسے اس نے اپنے نکاح میں قبول کیا تھا،اب اس کے سامنے جانے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔جہانگیر صاحب اس کے پیچھے کھڑے تھے۔وہ جانتے تھے اپنے بیٹے کی کیفیت کو۔محسوس کر رہے تھے اس کے دل کے درد کو۔انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“جاؤ آزاد! اس کی خوشیوں کی ضمانت دے کر آئے ہو تم۔ “

“ڈیڈ! آپ تو سچ جانتے ہیں میں۔۔۔۔۔۔۔”

وہ مزید کچھ بولتا کہ اس سے پہلے ہی اچانک بارش شروع ہوگئی تھی۔ سردیوں کا موسم اور اچانک تیز بارش کا شروع ہونا، آزاد نے حیران ہوتے ہوئے نظر اوپر اٹھائی تھی۔ اسے بالکنی میں سرخ آنچل نظر آیا تھا۔ وہ تیزی سے اندر بھاگا تھا۔ جہانگیر صاحب کو بھی حیرت میں ڈال گیا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی آزاد بے بالکنی میں آکر اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچا تھا۔

“کیا رہی ہو تم؟ بیمار ہو جاؤ گی؟”

آزاد کے لہجے میں غصے کی جھلک تھی۔ سامنے کھڑی اس کی بیوی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔دو تین منٹ کی بارش نے اس کو مکمل بھگو دیا تھا۔ تبھی وہ آنکھیں بند کرتی پیچھے کی جانب گری تھی ،آزاد نے سرعت سے اسے تھاما تھا۔

“بد نصیب لوگ آسانی سے نہ مرتے ہیں نہ ہی انہیں تکلیف ہوتی ہے۔”

اس کےالفاظ آزاد کو اپنی جگہ پر جامد کر گئے تھے۔گرفت ڈھیلی ہوئی تو وہ بیڈ پر گری تھی۔یک دم ہی وہ رونے لگی تو آزاد تیزی سے اس کی جانب لپکا تھا۔

“سوری!میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔”

اس کا ہاتھ پکڑتا وہ صفائی دینے لگا۔

“کیا مجھے وقت دے سکتے ہیں۔میں ۔۔۔۔۔”

اس سے پہلے وہ آگے بولتی آزاد نے اسے بیٹھایا تھا۔

“ہم دوست بن سکتے ہیں؟”

آزاد نے اپنی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی تھی۔جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ آزاد کے ہاتھ پر رکھا وہ مسکرایا تھا۔

***********

“یہ اٹھتا کب ہے اور نکلتا کب ہے کمرے سے؟”

ارمینہ آج چھ بجے اٹھی تھی مگر ریحان کو نہ پاکر اسےتجسس ہوا تھا۔وہ بال سمیٹ کر دوبارہ کیچر لگا کر کمرے سے نکلی تھی۔

“ارمینہ آپی!”

اس کو دیکھتی رامین پرجوش سی اس کے پاس آئی تھی۔

“صبح صبح کیا ملا گیا تمہیں؟”

ارمینہ نے حیران ہوتے اسے دیکھا تھا۔

“صبح نہیں کل رات۔”

رامین نے رازدارانہ انداز میں کہا۔

“کل رات کیا؟”

ارمینہ نے چڑتے ہوئے پوچھا۔

“افراہیم بھائی رات کو ہی چلے گئے تھے،پتا ہے کیوں؟”

رامین نے اردگرد دیکھتے ہوئے پوچھا تو ارمینہ نے منہ بگاڑا۔افراہیم کا ذکر اسے پسند نہیں آیا تھا۔

“سن تو لیں۔میں نے جب ریحان بھائی کو افراہیم بھائی کی باتیں بتائیں تو انہوں نے۔۔۔۔۔۔”

رامین نے تجسس پھیلایا تو ارمینہ کو بے چینی ہوئی۔

“کیا کیا بولو گی بھی؟”

ارمینہ نے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی تھی۔

“اف اللہ آپی!!۔۔۔۔۔۔تھپڑ مارا وہ بھی زور دار۔”

پہلے اپنا بازو مسلتی وہ درد سے بولی تھی۔باقی جملہ اس نے خوش ہوتے بولا تھا۔وہ باقی سب بھی بتا رہی تھی جبکہ ارمینہ مسکرا رہی تھی۔

“اچھا سبق سیکھایا ہے۔”

ہشاش بشاش لہجے میں بولتی وہ واپس کمرے میں چلی گئی تھی۔رامین نے سر جھٹکا تھا۔تبھی شمشیر اسے راستے سے ہٹاتا ارمینہ کے کمرے میں چلا گیا تھا۔

“یہ لو جلدی سائن کرو۔ریحان بھائی نے دیئے ہیں۔”

ایک سانس میں بولتا وہ پیپرز ارمینہ کے ہاتھ میں تھما چکا تھا۔

“یہ کیا ہے؟”

اس نے کاغذات کھول کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔

“تم سائن کر دو بس اور جلدی کرو مجھے واپس جانا ہے۔”

شمشیر نے چڑتے ہوئے کہا۔اسے ریحان کی کار میں جانے کا موقع مل رہا تھا جو وہ گنوانا نہیں چاہتا تھا۔

“کیوں سائن کروں؟اور اس نے تمہارے ہاتھ کیوں بھیجے ہیں خود کیوں نہیں آیا؟”

ارمینہ نے غصے سے پوچھا تو شمیشیر کو کار کے جانے کی آواز سنائی دی۔

“طلاق کے کاغذ ہیں۔خود اس لیے نہیں آئے کیونکہ ابو کے ساتھ کچھ دیر پہلے جا چکے ہیں۔اب سائن کر کر اپنے پاس ہی رکھ لینا۔”

شمشیر بول کر چلا تو گیا تھا مگر ارمینہ کے چہرے کا اڑا رنگ نہ دیکھ سکا تھا۔ارمینہ نے اس کے جاتے ہی کاغذات کھول کر دیکھے تھے۔پھرغصے سے شمشیر کو گالیوں سے نوازتی کاغذات الماری میں رکھنے لگی۔

**********

“موسم بہت سرد ہے،تمہیں احتیاط کرنی چاہیئے۔”

آزاد نے شال لاکر اس کے کندھوں کے گرد پھیلائی تھی۔

“مجھ سے زیادہ سرد تو نہیں ہوگا جس پر محبت اثر نہیں کرتی۔”

وہ مسکرائی تھی مگر آذاد کو اس کی مسکراہٹ کھوکھلی لگی تھی۔

“اثر تو سب کچھ کرتا ہے مگر تم اچھی اداکارہ ہو۔”

آزاد نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“اداکار کیا پھتر دل ہوتے ہیں؟”

اس نے اگلا سوال کیا تو آزاد نے نفی میں سر ہلایا۔

“جنہیں زندگی اداکار بنا دے وہ حساس دل ہوتے ہیں،اوپر سخت خول چڑھا کر خود کو پھتر ثابت کرنے میں تل جاتے ہیں یہ جانے بنا کہ کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اس خول کے پار دیکھ لیتا ہے۔”

آزاد نے اس کا سرد ہاتھ اپنے گرم ہاتھ میں دبایا تھا۔

“جو اس خول کو توڑ کر اس کے سارے غم لے لینا چاہتا ہے۔”

اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ بول رہا تھا جب وہ ہاتھ چھڑا کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔

“وہ خول زخمی بھی کر دیتا ہے۔”

وہ دھیرے سے بڑبڑایا تھا۔

**********

ریحان اپنے وقت پر پھر کمرے میں موجود تھا۔اسے ضروری فائل مکمل کرنی تھی اس لیے بنا ارمینہ سے بات کیے وہ کام میں مگن ہوگیا تھا۔تبھی دروازہ کھول کر ارمینہ اندر داخل ہوئی تھی جو ریحان کے آتے ہی باہر چلی گئی تھی۔وہ ریحان کے پاس آئی تھی۔

“یہ لو۔”

چائے کا مگ اس کی جانب بڑھاتی وہ دوستانہ لہجے میں بولی تھی۔ریحان نے ایک نظر ہی اس پر ڈالی تھی اور واپس اپنا کام کرنے لگا۔

“اب تو مجھے معلوم ہوگیا ہے تم گونگے نہیں ہو تو بول ہی دو کچھ۔اور ویسے اب ہماری دوستی ہوگئی ہے تو اس لیے تمہارے لیے بھی بنا دی چائے۔اب پکڑو اسے۔”

آگے بڑھ کر اس نے خود ہی اس کے ہاتھ میں مگ پکڑا دیا تھا۔

“مجھے نہیں پینی۔”

ریحان نے مگ واپس کرنا چاہا تو آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورنے لگی۔

“دیکھا تھا میں نے کیسے چھت پر کھانس رہے تھے تم۔۔نیچے لیٹ کر ٹھنڈ لگ گئی ہے۔۔۔۔۔”

“تھینک یو!”

اسے آگے بولنے سے روکتا وہ اس کی بات کاٹ گیا تھا۔ارمینہ ہنسی تھی۔

“ڈر کیوں گئے؟میں بیڈ پر سونے کا نہیں کہنے والی تھی۔۔”

وہ کہہ کر پھر ہنسنے لگی تھی جبکہ ریحان نے افسوس سے اسے دیکھا تھا۔

“بہت ضروری کام ہے میرا اگر تم ۔۔۔۔۔۔”

“تم دن کے کتنے گھنٹے کام کرتے ہو؟”

ارمینہ اس کی بات کاٹ کر سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔

“گیارہ گھنٹے۔”

اس نے چائے کا مگ نیچے رکھتے ہوئے کہا۔

“ارمینہ ہر کسی کے لیے چائے نہیں بناتی۔اگر تم نے نہیں پینی تو واپس سے سکتے ہو۔”

اسے غصہ آیا تھا جبکہ سر نفی میں ہلاتا ریحان مگ واپس اٹھا چکا تھا۔

“تم نے میرے لیے افراہیم کو تھپڑ مارا۔”

ارمینہ کے لہجے میں بدلاؤ تھا۔

“وہ حق دار تھا۔ “

چائے کا سپ لیتے ہوئے اس نے کہا۔

“حق دار تو وہ تھا، اس کی وجہ سے مجھے چوٹ لگی تھی۔ “

اس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا۔پھر اٹھ کر الماری سے کاغذات نکال لائی۔

“میں نے سائن کر دیئے ہیں۔ “

اس نے پیپیرز ریحان کی جانب بڑھائے تھے۔ ریحان نے ہاں میں سر ہلاتے کاغذات اس سے لیے تھے۔

“تم مجھے بھی ساتھ لے کر جانے والے ہو؟ “

ارمینہ نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا تو ریحان نے اس کے چمکتے چہرے کو دیکھا تھا۔ پھر ہلکا سا مسکرایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *