Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 03)

Anazadi by Noor ul Huda

وہ جلے پیر کی بلی کی مانند کمرے کا چکر کاٹ رہی تھی۔اپنی ماں اورپھوپھو کی باتوں کو سر ے سے نظرانداز کر چکی تھی مگر جب اگلےدن اسے جاوید صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا وہ غصے سے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔ریحان کی جاب لاہور میں تھی لیکن وہ کبھی ان کے گھر نہیں آیا تھا، اس کے چچا کبھی کبھار آجاتے تھے ۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے چچا اتنی بڑی خواہش اس کو لیکر دل میں پال چکے تھے۔وہ انکار کرنے کا ارادہ کرتی کمرے سے نکلی تھی۔جاوید صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ریحان پر پڑی تھی جو سر جھکائے جاوید صاحب کی کوئی بات سن رہا تھا۔ارمینہ کودیکھ کر وہ خاموش ہوئے تھے۔

“آؤ بچے! میں ریحان سے یہی کہہ رہا تھا کہ شادی کے بعد اسے الگ گھر میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے یہ گھراس کا بھی ہے۔”

“کون سی شادی ابو!میں نہیں کرنا چاہتی شادی ۔”

ارمینہ نے بے لچک انداز میں کہا۔

“کوئی بات نہیں بچے ! نکاح کر لیتے ہیں رخصتی بعد میں کر لیں گے۔”

وہ نرم لہجے میں بولے تھے۔ریحا ن اٹھ کر وہاں سے جانےلگا تو جاوید صاحب کے روکنے پر دروازہ کے پاس ہی رک گیا ۔ارمینہ آگے آئی تھی۔

“مجھے اس شخص سے شادی نہیں کرنی ابو!”

ارمینہ نے الفاظ کے ردو بدل سے اپنی بات دہرائی۔

“کیوں نہیں کرنی؟کیا برائی ہے اس میں؟ جوجو خامیاں نکال کر تم نے رضوان کو منع کیا تھاریحان میں ایک بھی نہیں ہے۔”

جاوید صاحب کو تھوڑا غصہ آیا تھا مگر وہ تحمل کا دامن چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔

“میرا اور اسکا کوئی میچ نہیں ہے ابو!میں سب دوستوں کو کیسے فیس کروں گی کہ میں نے ایک کالے رنگ والے سے شادی کی ہے۔”

ارمینہ کی بات پر جاوید صاحب نے شرمندگی سے ریحان کی جانب دیکھا،مگر ریحان نارمل تھا۔

“بدتمیزی مت کرو ارمینہ! وہ اچھا لڑکا ہے اور —-“

جاوید صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

“میں کسی صورت اس شخص سے شادی نہیں کروں گی۔”

ارمینہ نے ہٹ دھرمی سے کہتے ہوئے رخ موڑ لیا تھا۔ جاوید صاحب نے بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا۔

“بس بہت ہوگیا،بہت سمجھا لیا۔اب یا تو ریحان سے شادی کے لیے حامی بھرو یا پھر کل ہی تمہارا نکاح رضوان سے ہوگا۔”

جاوید صاحب کی دھمکی پر اس نے ایک سخت نظر پیچھے کھڑے ریحان پر ڈالی جو ایسے کھڑا تھا گویا یہاں بات کسی اور کی ہو رہی ہو۔

“آپ زبردستی نہیں کر سکتے ابو!”

ارمینہ نے ان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے رونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

“یہ میرا فیصلہ ہے ارمینہ!میرے بھائی کی خواہش ہے جس کا احترام تمہیں بھی کرنا ہوگا۔”

وہ کسی طور بھی اس کی بات ماننے کو تیار نہ تھے۔

“بہت مہنگی پڑے گی تمہیں یہ شادی!”

جاوید صاحب کے ہاتھ چھوڑ کر ایک ناراضگی بھری نظر ان پر ڈالتی وہ ریحان کے پاس آکر بولی تھی۔ریحان نے بس ایک نظر اس پر ڈالی تھی پھر رخ پھیر گیا۔وہ پیرپٹھکتی وہاں سے چلی گئی تھی۔

“تایا ابو ! آپ اس کے ساتھ زبردستی مت کریں۔”

ریحان نے کہا تو جاویدصاحب نے نفی میں سر ہلایا۔

“میرے ہی لاڈ پیارکی وجہ سے وہ اتنی خود سر اور بدتمیز ہو گئی ہے،مجھے معلو م ہے تمہارے علاوہ وہ کسی کےساتھ خوش نہیں رہ پائے گا۔کوئی بھی اس کا یہ مزاج برداشت نہیں کرسکتا۔”

جاوید صاحب کو آخر میں شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔ریحان کچھ کہہ نہیں پایا تھا۔

وہ نہیں کرنا چاہتا تھا یہ شادی ،ارمینہ کامزاج اورجاوید صاحب کا اس کے لئے پیار دیکھ کر اسے لگا تھا وہ انکار کر دیں گے مگر ان کا فورا مان جانا ریحان کو مشکل میں ڈال گیا تھا۔وہ اب چاہ کر بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتاتھا کیونکہ عباد صاحب کا خط بھی اس نے ہی جاوید صاحب کو دیا تھا،دوسرا وہ اپنی ماں کی وجہ سے بھی مجبور تھا۔شمیم بیگم نے ان کی عدت ختم ہونے تک رکنے سے منع کر دیا تھا۔وہ بس جلدازجلد عباد کی خواہش کو پورا کرنا چاہتی تھیں۔

عباد صاحب نے اپنے نکاح سے عین وقت پر انکار کر کر جہاں شمیم بیگم سے شادی کی ضد باندھی تھی وہیں نظیر صاحب نے ان کی شادی شمیم بیگم سے کروا کر انہیں گھر سے نکال دیا تھا،وہ دلہن بن کر اس گھرمیں آئی تھی مگر دس منٹ بھی نہ رہ سکی تھیں۔عباد چھپ چھپ کر سب سے ملتے تھے،پچھلے سال نظیر صاحب کی وفات کے بعد وہ بہت بے چین رہنےلگے تھے،انہیں اس گھر سے تعلق دوبارہ بناناتھا۔وہ اکثر اپنی خواہش کا اظہار کرتے تھے ،وہ اس رشتے کے ذریعے پھر سے ملنا چاہ رہے تھے۔شمیم بیگم کے لئے اس وقت ان کی خواہش ہی زیادہ ضروری تھی۔وہ بھی ارمینہ کا مزاج سمجھ چکی تھیں مگر جانتی تھیں ریحان کا تحمل مزاج ہونا سب ٹھیک کر دے گا۔

***********

جتنی خوشگوار اس وقت باہرکی فضاتھی اتنا ہی کوئی اندر سے بھی خوش تھا۔اپنی خوشی کو ظاہر کرنے کا اس کا اندازبھی الگ ہی تھا۔اب بھی وہ کانوں میں ہیڈ فونز لگائے بنا اردگرد کی پرواہ کیے سڑک کے بیچ میں اسکیٹنگ کر رہا تھا۔وہ ماہرانہ انداز میں اسکیٹنگ بورڈ استعمال کررہا تھا۔آس پاس سے گزرتی گاڑیاں بھی اسے خوفزدہ نہیں کر رہی تھیں۔تبھی اس کی نظر کار میں ٹکٹکی باندھے دیکھتی بچی پر پڑی۔اگلے ہی پل اس نے مسکراتے ہوئے اس بچی کو فلائنگ کس پاس کی تھی۔ٹریفک بلاک ہوئی تو وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔

وہ آزاد تھا،جسے اپنے نام کی طرح آزاد رہنا پسند تھا۔قید اس کو ناگوار گزرتی تھی۔اس وقت بھی وہ آزاد پنچھی کی طرح پابندیوں کو توڑتا ہوا اپنا راستہ بنا رہا تھاکہ سامنے سے اچانک آتی کار سے ٹکرایا تھا۔ہجوم اس کے گرد جمع ہورہا تھا مگر اس کے چہرے کی مسکراہٹ سب کو حیران کر رہی تھی۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک سر پھرے لڑکے کو کسی کی ایک جھلک ہی منجمد کر گئی تھی۔

شاید یہ جھلک اس کا امتحان بننے والی تھی،اس پر بھی آزمائش آچکی تھی جس میں وہ قید ہونے والا تھا۔

“آزاد!”

اسے ہوش آیا تو خود کو ہسپتال کے بستر پر دیکھ کر اس نے منہ بنایا مگر جہانگیر صاحب کی کرخت آواز پر اس نے فورا آنکھیں بند کی تھیں۔

“کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے سے تم میرے غصے سے بچ نہیں سکتے آزاد!”

وہ اس وقت سخت نالاں تھے اس سے۔آزاد نے ایک لمبی سانس لی اورآنکھیں کھولیں۔

“اچانک ہی کار آگئی تھی ورنہ میرا پورا دھیان تھا۔”

وہ آہستگی سے بولا تو جہانگیر صاحب اس کے پاس آئے۔

“تم چاہتے کیا ہو آزاد ؟ تمہارے ماں باپ مر جائیں۔”

“کیسی باتیں کر رہے ہیں ڈیڈ!”

آزاد نے دہل کر انہیں دیکھا تھا۔

“تو پھر کیوں ہماری بات نہیں سنتے؟”

اب کی بار ان کے لہجے میں بے بسی تھی۔

“آپ کی سب باتیں تو مانتا ہوں ڈیڈ!لیکن اپنی زندگی بھی جینا چاہتا ہوں۔”

وہ مسکراتے ہوئے بولا مگر اس کی لہجے میں چھپی اداسی جہانگیر صاحب محسوس کر چکے تھے۔انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر لبو ں سے لگا لیا تھا۔

“بہت جلد سب ٹھیک ہو گا۔”

وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھے۔

‏اک اذیت سی رگ و پے میں رواں رہتی ہے

ایک غم ہے جو مری جاں کو لگا رہتا ہے

رنگ اور نور سے دہکا ہوا رہتا ہے بدن

ہائے، اک دل ہے جو ہر وقت بجھا رہتا ہے

**********

“اجیہ بیٹا! نیچے واسع کا دوست اپنی فیملی کے ساتھ آیا ہے،تم تیارہو کر آجاؤ نیچے۔”

مبینہ بیگم اسے کہہ کر واپس چلی گئیں تھیں۔دو دن ہو گئے تھے،واسع ہنوز اس سے ناراض تھا۔وہ اسے مزیدناراض نہ کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے تیار ہونے چلی گئی تھی۔رائل بلو فراک پہنے جس کی بازو کے کناروں پر بھاری کام تھا جبکہ باقی کا فراک بالکل سادہ تھا۔اس نے حجاب سیٹ کرتے ہوئے نقاب کیا تھا۔ڈوپٹہ سے خود کو کورکرتی وہ نیچے آئی تھی۔جہاں واسع بیٹھا خوش اخلاقی سے اپنے دوست سے بات کر رہا تھا۔اسے کوئی عورت دیکھائی نہ دی وہ سلام کرتی واسع کے پاس بیٹھ گئی۔

“وعلیکم السلام بھابھی!”

سامنے بیٹھا واسع کا دوست خوش اخلاقی سےبولا تھا ۔

“امی کے کمرے میں جاؤ۔”

واسع نے دھیرے سے اس کے کان میں کہا تھا مگر وہ آگے بڑھ کر چائے کپوں میں ڈالنے لگی۔واسع کا دوست بھی حیرانی سے اجیہ کو دیکھ رہا تھا جو چائے کا کپ اس کی جانب بڑھارہی تھی۔واسع نے غصہ ضبط کرتے ہوئے اجیہ کو بازو سے پکڑ کر واپس کھینچا تھا۔

“میں نے کہا امی کے کمرے میں جاؤ۔”

اب کی بار وہ صحیح سے سن سکی تھی اس کی بات ۔فورا اٹھ کر مبینہ بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

“یار تو زبردستی پردہ کروا رہا ہے بھابھی سے؟”

واسع کے دوست کا جملہ سن کر اس کے قدم رکےتھے۔آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے۔جنہیں بامشکل اندر دھکیل کرمبینہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔

“لو یہ آگئی میری بہو!”

اجیہ کو دیکھ کر مبینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ان کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی تھی۔وہ اٹھ کر اس سے ملی تھی۔

“بھائی نے بتایا آپ پردہ کرتی ہیں،تو اس لئے میں نےوہاں بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔”

وہ خوشدلی سے اسے بتا رہی تھی،جبکہ اپنی حرکت پر اور واسع کے غصے کی وجہ جان کر وہ پھر سے شرمندہو گئی تھی۔

“واسع!میں—-“

“تمہاری کزن کا نکاح ہے کل ،تیار رہنا صبح چھوڑ آؤں گا وہاں۔”

بنا اس کی بات سنے وہ اسے بتا کر سونےکے لئے لیٹ گیاتھا۔

“کس کا نکاح؟”

اپنی بات بھول کر وہ حیران ہو کر پوچھنے لگی۔

“صبح وہاں جا کر ہی معلوم کر لینا ۔اب لائٹس بند کر دو ۔”

واسع کا لہجہ نارمل تھا مگر اجیہ کو عجیب لگ رہا تھا۔اس نے خاموشی سے اٹھ کر لائٹس بند کر دی تھیں۔اپنی جگہ پر لیٹ کر وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کس کانکاح ہے اتنا اچانک؟دوسری جانب واسع کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اسے اجیہ پسند تھی مگر اس نے خود کے ساتھ بہت غلط کر لیا تھا،جس کا اندازہ اسے ابھی تک نہیں ہوا تھا۔

********

“امی! ارمینہ کا نکاح اتنی جلدی کیوں ہو رہا ہے؟”

واسع اسے چھوڑ کر جاچکا تھا ،شام میں آنے کا وعدہ کر کر ۔اس نے حفصہ بیگم سے پوچھا ۔

“تمہارے تایا ابو کی خواہش تھی ،اس لئے بھائی صاحب چاہتے ہیں جلد از جلد اس فرض کو ادا کر دیں۔”

حفصہ بیگم نے مصروف انداز میں جواب دیا اور کمرے سے نکل گئیں۔

“یہ کیا کر رہی ہیں اپیا؟”

شمشیر نے اسے نقاب کی پن لگاتے دیکھ کر پوچھا۔وہ ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔

“نقاب کر رہی ہوں۔”

اس نے دوبارہ شیشے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

“گھر کافنکشن ہے اس کی کیا ضرورت آ پ کو ؟”

بیڈ سے کپڑے اٹھاتے ہوئے اس نے پوچھا۔

“میں پردہ کرتی ہوں شمشیر!”

اجیہ نے جتایا تو وہ ہنسا۔

“آپ بھی عجیب پردہ کرتی ہیں اپیا!شادی کے فنکشنز میں تو نہیں تھا آپ کا پردہ۔”

وہ تو بول کر جاچکاتھا مگر اجیہ کو لگا تھا جیسے اسے بھری محفل میں تماچہ مارا گیاہو۔واسع کا غصہ کرنا ،کل اسکی نظروں میں فکر ۔سب سے پہلے یاد آنا والا اسے آخر میں یاد آیا تھا۔

“یا اللہ!یہ میں نے کیا کردیا۔”

وہ روتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی تھی۔

*********

نکاح کب ہوا اسے کچھ نہیں خبر نہیں تھی، وہ جبرا بھی مسکرا نہیں سکا تھا۔ارمینہ کی رضامندی بھی انہیں مل چکی تھی ،یعنی وہ لڑکی اسکا نصیب بنا دی گئی تھی۔رخصتی کا فیصلہ بھی آج کے دن کا ہواتھا۔ارمینہ کے کمرے میں ہلکی پھلکی سجاوٹ رضوان اور باقی کزن کر چکے تھے۔مبارک باد کا سلسلہ چلا تھا۔وہ خاموش تھا ۔سب سے مل کر شمیم بیگم کے پاس آگیا تھا۔ واسع نے رامین سے اجیہ کا پوچھا تو اس کے بتانے پر وہ کمرے میں ہے وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔جبکہ باقی سب اب سب کام سمیٹ رہے تھے۔شمیم بیگم کے قدموں میں بیٹھا وہ الفاظ نہیں جٹا پارہا تھا۔شمیم بیگم نے بہت نصیحت کی تھی،ارمینہ کو محبت سے سمجھانے کی ،اسے وقت دینے کی۔وہ خاموش تھا،محض سر ہلا کر ان سےپیار لے کر وہ چلا گیا تھا۔ وہ پہلا دلہا تھا جو رخصت ہو کر اپنی دلہن کے کمرے میں آیا تھا۔اپنے باپ کے گھرمیں اسے کمرہ ملا بھی تو وہ اپنی بیوی کا تھا۔اس کے چہرے پر کوئی تاثرات نہ تھے۔نہ خوشی نہ غم،نہ غصہ،نہ حیرت،نہ ہی کوئی خواہش۔اپنے ہاتھ میں پکڑے لیپ ٹاپ پر نظر ڈالتا وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔جیسا اس نے سوچا تھا سامنے کا منظر ویسا ہی تھا،بس ایک چیز جو اس نے سوچی تھی وہ ویسی نہیں تھی۔کمرے کی بکھری چیزوں کے درمیان اس کی بیوی جو آج یقینا خوبصورتی میں سب کو مات دے چکی تھی،ویسے ہی دلہن بنی کھڑی تھی۔اسے لگا تھا وہ چینج کر چکی ہو گی۔پورے کمرے پر نظر دوڑا کر وہ جیسے ہی آگے بڑھا کمرے کے سکوت کو ارمینہ کی آواز نے توڑا تھا۔

“تمہیں کیا لگا تھا،میں یہاں بیٹھ کر تمہارانتظار کررہی ہوں گی؟”

استہزائیہ انداز میں پوچھتی وہ دو قدم چل کر اس کے مقابل آئی۔

“بہت زیادہ خوش فہم ہو تم۔دس لاکھ حق مہر،اور اس گھر میں اپنا حصہ میرے نام کر کر تمہیں لگتا ہے تمہاری یہ بدصورتی چھپ جائے گی اور میں تمہیں اپنا شوہر تسلیم کر لوں گی تو بہت بڑی غلط فہمی ہے تمہیں۔”

اس کے سینے پر دونوں ہاتھ مارتی وہ غصے سے پھنکاری تھی۔مگر سامنے موجود شخص تو جیسے ہر احساس سے عاری تھا۔خاموشی سے کھڑا تھا جیسے کوئی بت ہو۔

“یہ میرا کمرہ ہے۔اس کی ہر چیز میری ہے۔اپنا وجود مجھ سے اور میری چیزوں سے دور رکھنا۔”

اس کا لہجہ ایسا تھا کوئی سامنے کھڑا شخص اچھوت ہو۔تبھی دروازہ ناک ہوا۔وہ ہنہ کرتی پیچھے ہوئی تھی۔

“ریحان بھائی!یہ چاچی نے دیئے ہیں وہ کہہ رہی تھی آپ کو اپنے کمبل اور تکیے کے بنا نیند نہیں آتی۔”

رامین نے جیسے ہی کہا تھا وہ مسکرایا تھا۔اس کے سانولے نقوش پر اس کی مسکراہٹ کسی کو بھی دوسری بار دیکھنے پر مجبور کر سکتی تھی،مگر ارمینہ نے نخوت سے سر جھٹکا تھا۔دروازہ بند کرتا وہ کھڑکی کے پاس آیا تھا۔اپنا بستر فرش پر لگاتا وہ اپنا لیپ ٹاپ گود میں لے کر بیٹھ گیا۔ارمینہ کو اس کی اگنورنس کھلی تھی۔

“اچھا ہوا تم نے قبول کر لیا کہ تم میرے قابل نہ تھے نہ کبھی ہو سکتے ہو۔”

جاتے جاتے بھی طنز کرنا اس نے ضروری سمجھا تھا۔ریحان ہنوز خاموش تھا۔اس نے نظر اٹھا کر دوبارہ ارمینہ کو دیکھنا گوارہ نہ کیا تھا۔خاموش رہنا اس کا اپنا فیصلہ تھا جس پر وہ قائم رہنے والا تھا لیکن نہیں جانتا تھا جب وہ بولے گا تب شاید سامنے والا اس کے الفاظ برداشت نہ کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *