Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 15)

Anazadi by Noor ul Huda

حواس باختہ چلاتی وہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔اردگرد نظر دوڑانے پر ریحان نظر نہ آیا تو بیڈ سے اتر کر کمرے سے نکل گئی۔بنا ڈوپٹے اور چپل کے وہ خود سے بےگانہ ہوتی ریحان کو ڈھونڈ رہی تھی۔چھت کی طرف جاتی سڑھیوں پر اسے ہیولہ دیکھائی دیا۔

“ریحان!!”

وہ بھاگ کر اس کےپاس پہنچی تھی۔پسینے سے تر چہرہ،آنکھوں میں آنسو۔وہ ریحان کے پلٹتے ہی اس کے سینے سے لگی تھی۔ریحان بوکھلاگیا تھا۔

“مینا!کیا ہوا ہے؟”

ریحان نے اسے ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا مگر ارمینہ الگ ہونے کوتیار ہی نہ تھی۔مسلسل رو رہی تھی۔

“اچھا کمرے میں چلو۔”

ریحان کی نظر نیچے کمرے کے دروازے کے پاس منہ کھولے کھڑی رامین پر پڑی تو اس نے زبردستی ارمینہ کو خود سے الگ کیا۔وہ اسے ساتھ لے کر کمرے میں گیا تو رامین کا منہ بھی بند ہوا۔

“یہ میں نے کیا دیکھا ابھی؟”

خود سے سوال کرتی وہ واپس کمرے میں چلی گئی تھی۔

“اب بتاؤ کیا ہوا ہے کیوں رو رہی تھی؟ “

ریحان نے اسے بیڈ پر بیٹھا کر پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ہچکیاں لیتی وہ آنسو صاف کر رہی تھی۔

“پانی پیو مینا! “

ریحان نے پھرسے اسے پکارا تھا۔ارمینہ نے گلاس لیکر کر دو گھونٹ لے کر گلاس واپس پکڑا دیا تھا۔

“میں نے بہت برا خواب دیکھا۔ تم جا رہے تھےمجھے چھوڑ کر۔ “

چہرہ جھکائے اس نے بتایا تو ریحان کے ہاتھ میں پانی کا گلاس لرزا۔

“میں ضروری کال کرنے گیا تھا چھت پر۔”

ریحان نے نظریں بچاتے اپنے تاثرات چھپائے تھے۔

“برا خواب تھا بس۔ تم سوجاؤ۔”

گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ اسے کہہ کر اپنی جگہ پر جانے لگا تو ارمینہ نے اس کا ہاتھ پکڑا۔

“تم یہیں سوجاؤ پلیز۔”

ارمینہ ابھی تک ڈری ہوئی تھی۔ ریحان کو بھی اس طرح اسے اکیلا چھوڑنا صحیح نہ لگا تو ہاں میں سر ہلا کر اسے لیٹنے کا اشارہ کرکر اپنی چادر بھی اٹھا کر بیڈ پر لے آیا۔ اس سے کچھ فاصلے پر لیٹ کر اس نے ارمینہ کی جانب دیکھا تو ارمینہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“سو جاؤ ارمینہ! “

ریحان نے آنکھیں موندتے ہوئے کہا۔ اسے کچھ پل ہی ہوئے تھے آنکھیں موندے جب اسے اپنے بازو پر ارمینہ کا سر محسوس ہوا۔ اس نے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ارمینہ اس کی بازو پر سر رکھے سونے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ ریحان آنکھیں موندے اپنی دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ارمینہ تو سو گئی تھی مگر نہ سو سکا تھا۔ فجر کی اذان سے پہلے اس کی آنکھ لگی تھی۔

**********

اب کسی طور سے قابو میں نہیں آئے گا

خلق دیکھے گی تماشہ تیرے دیوانے کا۔

آج وہ اسے اس کے ماضی سے ملا کر لایا تھا۔ وہ ماضی جو وہ بھولنے کو تیار نہ تھی اور نہ آگے بڑھنے کو۔ اپنے آپ کو اندر سے خالی محسوس کرتا وہ ریوالونگ چیئر پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔

“آزاد! “

جہانگیر صاحب کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں۔

“تم اسے وہاں لے کر کیوں گئے تھے؟ “

وہ سختی سے پوچھ رہے تھے۔آزاد تلخی سے ہنسا۔

“خود کو آزما رہا تھا ڈیڈ! دیکھیں اپنا دل زخمی کر بیٹھا ہوں۔”

آنسو جیسے ہی بند توڑ کر نکلا تھا آزاد نے اسے بے دردی سے صاف کیا تھا جیسے اسے گستاخی کی سزا دی ہو۔

“میں بات کرتا ہوں اس سے بیٹا!وہ سمجھے گی میری بات۔ “

جہانگیر صاحب کے بیٹے کی حالت پر تڑپے تھے۔

“نہیں ڈیڈ! اب مجھے ہی محبت کو ثابت کرنا ہے۔ وہ ایک دن خود مجھے بلائے گی ڈیڈ! مجھے یقین ہے۔ “

آزاد یک دم ہی نارمل ہوا تھا۔

“چلیں اتنی دکھی شکل نہ بنائیں، میں زندہ ہوں ابھی۔ “

“آزاد!!”

جہانگیر صاحب نے دہل کر اسے پکارا تھا۔

“سوری ڈیڈ! مذاق کر رہا تھا۔ “

ان کے گلے لگتا وہ بولا تھا جہانگیر صاحب نے ضبط سے آنکھیں بند کی تھیں۔

“اچھا ابھی مینا کماری نہ بنیں۔ مجھے پارک جانا تھا۔ “

سر پر ہاتھ مارتا وہ باہر کی جانب لپکا تھا۔ جہانگیر صاحب اسے جاتے دیکھ رہے تھے۔

“چلو چلو چلو! آج بہت خاص دن ہے۔ “

کمرے میں آتے ہی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جارہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ کہاں لے جارہا تھا اسے۔

“آنکھیں بند کرو۔ “

پارک میں لاکر آزاد نے اسے آنکھیں بند کرنے کا کہا تو وہ چونکی۔ وہ کافی وقت بعد وہاں آئی تھی۔

“کرو بھی۔ “

آزاد نے جلدی مچائی تو اس نے آنکھیں بند کیں۔ آزاد اسے ساتھ لیے آگے بڑھا۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ رکا۔

“آنکھیں کھولو۔”

اجازت ملتے ہی آنکھیں کھولیں تو اس کی نظر سامنے ہی بڑے سے درخت پر پڑی۔ جس پر نئی کونپلیں پھوٹ پڑی تھی۔ نئے پتے بہار کی آمد کی اطلاع دے رہے تھے۔ اس نے درخت سے نظریں ہٹائیں تو نظر سامنے کھڑے مسکراتے آزاد پر ٹہریں۔

“خوشیاں منتظر ہیں۔آگے بڑھو تھام لو انہیں۔ “

آزاد نے اسے پھر سے جھولے پر بیٹھایا تھا۔ وہ خاموش تھی یا آج رہنا چاہتی تھی۔ آزاد نے چند پھول اس کی جانب بڑھائے تو اس نے خاموشی سے تھام لیے۔

یہ کیسی دُھند میں ھم تُم آغاز سفر کر بیٹھے!

تُمہیں آنکھیں نہیں مِلتیں مجھے چہرہ نہیں مِلتا!!!

“اس درخت نے دکھ کے بعد جینا سیکھ لیا ہے۔ اگر روگ پال لیے جائیں تو ہستی تباہ ہوجاتی ہے۔ اگر یہ درخت بھی بچھڑے پتوں کا سوگ مناتا رہتا کبھی خود پر آنے والی بہار نہ دیکھ پاتا۔صبر،برداشت ہی تو غم کو کم کرتا ہے۔ “

ہلکے سے جھولا جھلاتا وہ بول رہا تھا اور وہ سن رہی تھی۔

“اگر کوئی کوشش کے بعد بھی نہ بھولے تو؟ “

اس نےسوال کیا تو آزاد مسکرا کر سامنے آیا۔

“تو پھر یہ کہ انہیں دیکھو۔ “

پھولوں کو اس کے سامنے کرکر اس نے کچھ توقف کیا تھا۔

“تو پھر یہ بھی اداس ہو کر ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ “

بات تلخ تھی لیکن حقیقت تھی۔

“اللہ سے صبر مانگو! وہ دےگا اور نیا راستہ بھی دیکھائے گا۔ “

ایک بار پھر نئی امید اور کوشش کے ساتھ وہ اس کے سامنے تھا۔ اس بار اس کے دل نے کہا تھا کہ بہار آنے والی ہے۔

*********

ارمینہ کی آنکھ کھلی تو ریحان کو سامنے پاکر،رات کا خواب پھر سے تازہ ہوگیا تھا۔ اس نے ریحان کو پرسکون سوتے دیکھ کر اپنے آپ کو منایا تھا آج ہی بات کرنے پر۔ وہ ریحان کی جانب بڑھناچاہتی تھی اور اب دیر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ دروازہ پر ہونے والی دستک اتنی تیز تھی کہ ریحان بھی ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔

“میں دیکھتی ہوں۔ “

دل میں انجانا سا ڈر لیے وہ دروازے کی سمت بڑھی تھی۔ دروازے کھولتے ہی اس کی نظر روتی ہوئی رامین پر پڑی۔

“رامین!۔۔۔۔”

“ریحان بھائی!وہ تائی امی اٹھ نہیں رہیں۔ “

رامین نے روتے روتے کہا تو ریحان تیزی سے نیچے کی طرف بھاگا تھا۔

“آپی! تائی امی!”

رامین ارمینہ کے ساتھ لگی رونے لگی تو ارمینہ بھی رونے لگی۔ شمیم بیگم رات کے پہر ہی خاموشی سے دنیا چلی گئی تھی۔ باپ کے بعد ماں کا جانا ریحان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔

گھر میں صفِ ماتم بچھی تھی۔ ریحان ایک جانب کھڑا تھا ،نظریں ماں کے مسکراتے چہرے پرتھیں۔ سب اردگرد پڑھ رہے تھے، کچھ باتیں کر رہے تھے، کچھ دلاسے دے رہے تھے۔تبھی شمیم بیگم کو ان کی۔ آخری آرام گاہ لے جانے کےلیے سب مرد اندر آگئے تھے۔ ریحان ضبط کرتا چارپائی کو کندھا دیتا اپنی ماں کو خود سے دور کرنے چلا گیا تھا۔

***********

کمرے میں بیٹھی وہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔اس نے کبھی کسی مرد کو روتے نہیں دیکھا تھا۔اسے لگتا تھا مرد نہیں روتا بڑی سے بڑی تکلیف پر بھی آنسو نہیں بہاتا لیکن ریحان کی آنکھ سے نکلتا آنسو اس بات کا گواہ تھا ماں کے جانے کی تکلیف ہر تکلیف سے بڑی ہوتی ہے۔ریحان آنسو چھپا گیا تھا مگر وہ دیکھ چکی تھی۔ریحان کو اس وقت سہارا چاہیئے تھا اور وہ تیار تھی اس کا سہارا بننے کے لیے۔وقت گزر رہا تھا وہ واپس نہیں آیا تھا۔بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ ریحان کی راہ تکتے تکتے نیند کی وادی کی اتر گئی تھی۔ اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو ارمینہ کی آنکھ کھلی۔ کمرہ خالی تھا۔ وہ بستر سے اتری تھی تبھی دروازہ کھلا تھا۔ ریحان بنا اس کی جانب دیکھے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ ریحان کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑ رہا تھا۔ آنکھیں اس کے رونے کی چغلی کھا رہی تھی مگر وہ خود پر مضبوطی کا خول چڑھائے اپنے بیگ کی جانب بڑھا تھا۔ ارمینہ فورا اس کے پاس آئی تھی۔ اس نے ریحان کا ہاتھ پکڑا تو ریحان نے بے تاثر نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ ارمینہ نے جیسے ہی اس کے گرد حصار باندھا تھا، ریحان نے جھٹکے سے اسے دور کیا تھا۔

“سوجاؤ ارمینہ! مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ “

ریحان کا لہجہ تلخ نہ تھا مگر ارمینہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے سے نہ روک سکا تھا۔ ریحان اسے ویسے ہی چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا تھا۔

خود کو میں تجھ سے کئی بار الگ کرتا ہوں

سانس رکتی ہے تو! گھبرا کے پلٹ آتا ہوں۔

وہ ویسے ہی کھڑی رو رہی تھی جب وہ واپس کمرے میں داخل ہوا تھا۔ دونوں آمنے سامنےکھڑے تھے۔ ایک بار پھر ارمینہ نے پہل کی تھی مگر اس بار ریحان کو خود بھی سہارا چاہیئے تھا۔ وہ جھٹک ہی نہیں پایا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *