Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Episode 06)
Rate this Novel
Anazadi (Episode 06)
Anazadi by Noor ul Huda
“لے لینے چاہیئے تھے اس کے والٹ سے پیسے،بلاوجہ واپس کیا۔خالی کر کر دینا چاہیئے تھا۔”
کچھ دیر پہلے ہی اس کی دوست کا فون آیا تھا جس نے اپنی اچانک ہی منگنی کی خبر اسے سنا دی تھی۔اس کو گفٹ اور ڈریس چاہیئے تھا۔رفعت بیگم اسے صاف صاف شادی کا ڈریس پہننے کا مشورہ دے چکی تھیں جبکہ جاوید صاحب آج صبح ہی رضوان کے ساتھ چلے گئے تھے عباد صاحب کی قبر پر،دوسرا شہر تھا شام تک واپسی ممکن نہیں تھی اور اسے شام میں جانا تھا۔افسوس کرتی وہ الماری میں سے کوئی ڈریس نکالنے لگی تو اندر رکھے لفافے پر اس کی نظر پڑی۔
“یہ کیا ہے؟”
اس نے کھول کر دیکھا تو اندر رکھے ہزار ہزار کے کئی نوٹ دیکھ کر اس کے چہرے پر چمک آئی تھی۔کچھ دیر بعد ہی وہ مارکیٹ جانے کے لیے تیار تھی۔
“کہاں جارہی ہو؟”
رفعت بیگم نے اسے ٹوکا تھا۔
“شاپنگ۔”
ایک لفظی جواب دے کر اس نے فل ناراضگی دیکھائی تھی۔
“پیسے کہاں سے آئے ؟”
ماں تھیں،فورا طنزیہ سوال کیا تھا۔
“ریحان نے دیئے ہیں۔”
اسے عجیب تو لگا تھا لیکن جتانے کے لیے بتانا ضروری تھا۔
“اس لڑکے کا بھی دماغ خراب ہے ،کیا ضرورت ہے اس فضول خرچ کو پیسے دینے کی۔”
وہ غصے سے بولی تھیں جبکہ ارمینہ منہ بنا گھر سے نکل گئی تھی۔
“میں فضول خرچ ہوں۔خود تو دیئے نہیں پیسے اور جب میرے شوہر نے دے دیئے تو اعتراض ہورہا ہے۔”
وہ مسلسل غصے سےبڑبڑا رہی تھی،اس بات پر دھیان دیئے بنا کہ وہ ریحان کو اپنا شوہر کہہ چکی تھی۔وہ رامین کو ساتھ لےجانے والی تھی لیکن غصے کی وجہ سے اکیلی ہی نکل آئی تھی۔
**********
جہانگیر صاحب کے کیبن میں اس وقت مکمل خاموشی تھی۔جہانگیر صاحب ہاتھ میں پکڑی فائل پڑھ رہے تھے۔سامنے ہی کرسی پر ریحان بیٹھا تھا جبکہ اس کے پیچھے اشفاق کھڑا تھا۔کیبن کا دروازہ کھول کر آزاد اندر آیا تو اندر کا گرم ماحول دیکھ کر ایک جانب رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہو اشفاق؟”
جہانگیر صاحب کی کرخت آواز پر اشفاق کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔اسے تو لگا تھا وہ کبھی پکڑا نہیں جائے گا لیکن ریحان اگلے دن ہی اس کا پول کھول دیا تھا۔
“سر!۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔”
“تمہارے ماتھے کا پسینہ،لہجے میں لچک اور ڈر صاف بتا رہا ہےکہ تم نے یہ کیا ہے۔”
کھڑے ہوتے انہوں نے غصے سے فائل اس پر پھینکی تھی۔
“میرا نمک کھا کر مجھ سے غداری کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی؟”
وہ غصے سے آگے آتے اس کا گریبان پکڑ چکر تھے۔
“معاف کر دیں سر!”
اشفاق گڑگڑایا تو آزاد نے ریحان کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے بیٹھا تھا۔وہ اٹھ کر جہانگیر صاحب کے پاس آیا۔
“ڈیڈ!وہ سوری بول رہا ہے پلیز آپ ہائیپر نہ ہوں۔”
ان کے کندھےپر ہاتھ رکھتا وہ بولا تو جہانگیر صاحب نے ایک غصے بھری نگاہ اس پر ڈالی۔
“سوری بولنے سے میرا جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی ہوجائے گی؟”
جہانگیر صاحب نے اشفاق کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو آزاد نے پھر سے مداخلت کی۔
“ڈیڈ!وہ انسان ہے غلطی ہوگئی اس سے۔”
“آزاد!تم ان معاملات کو نہیں سمجھتے اس لیے ان کے بیج میں مت پڑو۔اسے نقصان کی بھرپائی کرنا ہوگی ورنہ جیل میں سڑے گا یہ۔”
انہوں نے غصے سے کہا تو آزاد کی ضدی طبیعت نے جوش مارا تھا۔
“سب سمجھتا ہوں میں ڈیڈ!چھوٹا بچہ نہیں ہوں ،آپ کیا کریں گے بھرپائی کا ڈیڈ!جب بیٹے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،معاف کر دیں اسے شاید آپ کے بیٹے کی موت آسان ہوجائے۔”
جہانگیر صاحب کی گرفت اشفاق کے گریبان پر ڈھیلی ہوئی تھی۔ریحان فورا اٹھ کر جہانگیر صاحب کے پاس آیا تھا۔
“سر!”
انہیں کرسی پر بیٹھا کر اس نے ایک سخت نظر آزاد پر ڈالی تھی۔جو اب شرمندہ ہورہا تھا۔
“سوری ڈیڈ!”
ان کےقدموں میں بیٹھ کر شرمندگی سے بولا تھا۔
” اگر اپنی ساری دولت اور جان دینے کے بعد مجھے میرے بیٹے کی زندگی مل جاتی ہے تو میں یہ بھی کرنے کو تیار ہوں۔”
ریحان اشفاق کو باہر جانے کا اشارہ کر چکا تھا۔جہانگیر صاحب کی بات پر آزاد کو افسوس نے آن گھیرا تھا۔
“موت کی بات کرنا آسان ہے لیکن یہ الفاظ کسی کو زندہ درگور کرنے کے مترادف بن جاتے ہیں۔”
ریحان اسے مزید شرمندہ کرتا باہر چلا گیا تھا ان باپ بیٹےکو اکیلا چھوڑ کر۔
“ڈیڈ!!”
آزاد نے انہیں پکارا۔
“بہت کوشش کر رہا ہوں اپنے بیٹے کو بچانے کی،لیکن۔۔۔۔۔۔”
“ڈیڈ!”
جہانگیر صاحب کا رونا اسے تڑپا گیا تھا۔وہ ان کے گلے لگ گیا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں ڈیڈ!”
ایک جھوٹی تسلی جو روز وہ خود کودیتا تھا۔وہ جانتا تھا ہر گزرتا دن اسے موت کے قریب لے جارہا تھا لیکن وہ ظاہر نہیں کرتا تھا۔آج غصے میں وہ بول گیا تھا جس کا اسے پچھتاوا ہورہا تھا۔جہانگیر صاحب اس کی تسلی سے بہل نہیں سکتے تھے لیکن اکلوتے بیٹے کو سینے سے لگے محسوس کرتے وہ اللہ سے اس کی زندگی مانگ رہے تھے۔
*********
“اپنے ریحان بھائی کا نمبر بھیجو مجھے ابھی۔”
وہ تھک چکی تھی۔ شاپنگ کے بعد وہ پارلر آگئی تھی۔اب ریڈی ہوکر اسے جانے کی فکر ہوئی تھی۔ریحان اور اس کی کار کا خیال آتے ہی اس چچی کے نمبر فون کیا تھا۔رامین سے نمبر مانگ کر وہ فون کٹ کرکر انتظار کرنے لگی۔میسج ملتے ہی اس نے فورا نمبر ڈائل کیا تھا۔فون ریسیسو ہوتے ہی وہ بول پڑی تھی۔
“مجھے ارسلہ کی منگنی میں جانا ہے ،لوکیشن بھیج رہی ہوں،مجھے وہاں سے پک کر لو۔”
آرڈر دے کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔اب پرسکوں ہوکر اسے لوکیشن بھیج رہی تھی۔ریحان فون ہاتھ میں پکڑے نفی میں سر ہلا رہا تھا۔جہانگیر صاحب کے سیکریڑی کو بتا کر آفس سے نکل آیا تھا۔اس کی بھیجی لوکیشن پر پہنچ کر اس نے ارمینہ کو میسج کیا تھا۔
“یہ میری ہر بات خاموشی سے مان لیتا ہے۔”
میسج دیکھتے ہی وہ بڑبڑائی تھی اور پارلر سے باہر آگئی۔اسے کار کے اندر بیٹھا دیکھ کر وہ چڑی تھی۔
“دروازہ تو کھول دو۔میرے ہاتھ میں سامان ہے۔”
ریحان نے اس کے ہاتھوں کو دیکھا تو ایک کلچ اور شاپنگ بیگ دیکھ کر باہر نکل کر دروازہ کھول دیا۔وہ اترا کر اندر بیٹھی تھی۔بے بی پنک فراک پہنے وہ بلاشبہ پیاری لگ رہی تھی لیکن ریحان نے اس پر دوبارہ نظر نہیں ڈالی تھی۔یہ بات سارے راستے ارمینہ نے نوٹ کی تھی۔
“یہاں سے دائیں۔”
اسے راستہ سمجھاتی وہ بار بار اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیا تم سچ میں گونگے ہو؟”
ارمینہ نے فکرمند ہوتے ہوئے پوچھا مگر جواب ندارد۔فون رنگ ہونے پر ریحان نے فون پک کیا تھا۔کچھ دیر وہ دوسری طرف کی بات سنتا رہا پھر فون کٹ کردیا۔
“سچ میں گونگا ہے۔”
ارمینہ کو شدید صدمہ پہنچا تھا۔
“لیکن اسے اتنی اچھی جاب کیسے مل گئی؟”
اس کی بڑبڑاہٹ سن کر ریحان جو اس کی غلط فہمی دور کرنے کےلیے بولنے والا تھا،ارادہ بدلتا مسکرا دیا تھا۔ارمینہ ابھی تک ریحان کی ذات میں الجھی تھی۔
پرکھنا مت، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں، دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں، ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا
محبت میں تو خوشبو ہے، ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا
