Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Episode 14)
Rate this Novel
Anazadi (Episode 14)
Anazadi by Noor ul Huda
حرم شریف میں قدم رکھتے ہی ریحان نے مضبوطی سے اپنے دونوں جانب کھڑی ماں اور ارمینہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔پکڑ اتنی مضبوط تھی جیسے کھو جانے کا ڈر ہو۔
“ریحان بیٹا!!”
شمیم بیگم نے اسے پکارا تو اس نے گرفت ڈھیلی کی مگر ہاتھ نہیں چھوڑے تھے نہ ہی چھڑوانے کی کوشش کی گئی تھی۔
“ایسا لگ رہاہے امی جیسے دوبارہ ہم ساتھ نہیں ہونگے۔”
ریحان نے دل ہی دل میں کہا بولنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
“دل کو پرسکون رکھو ریحان!”
نرمی سے اس کا گال تھپتھپا کر وہ محبت سے بولیں تو ریحان مسکرایا۔
“کچھ دیر میں نماز کا وقت ہونے والا ہے امی!چلیں میرے ساتھ۔”
ارمینہ کا ہاتھ چھوڑ کر اس نے دونوں ہاتھوں سے ماں کاہاتھ پکڑا تھا۔وہ ان کےہاتھ پر بوسہ دے کر آگے چلنے لگا۔ارمینہ ان کےساتھ ہی چل رہی تھی۔
لیکن ذہن عجیب کشمکش کا شکار ہوگیا تھا۔ریحان کے کہے الفاظ ذہن میں گونجنے لگے تھے۔تبھی اس کی نظر مسجد نبویؐ کے مینار پر پڑی۔
سامنے کے منظر میں وہ اتنا کھو گئی تھی کہ جان ہی نہ پائی کہ وہ ہجوم کا حصہ بن کر آگے نکل آئی تھی۔مسجد نبویؐ میں گونجتی عصر کی اذان کی آواز اس وقت اتنی محصور کن تھی کہ وہ اپنا آپ ہی بھلا بیٹھی تھی۔
“اندر جگہ نہیں ہے آپ آگے نہیں جا سکتیں۔”
ایک گارڈ نے اسے روکا تو اس کا تسسل ٹوٹا۔اس نے سامنے دیکھا تو پندرہ کے قریب گارڈ راستہ کو روک کر کھڑے تھے۔اس نے ریحان کو بلانا چاہا تھا تو خود کو اکیلا پاکر پریشان ہوگئی۔
“ریحان!چچی؟”
اس نے پیچھے مڑ کر انہیں پکارا تو وہ کہیں دیکھائی نہ دیئے۔
“بیٹا!نماز کا وقت ہے،نماز پڑھ لو۔یہاں ملانے والی ذات اللہ کی ہے۔”
ایک عورت نے اسے اپنے ساتھ لےجاتے ہوئے کہا۔وہ ابھی بھی ریحان کو ڈھونڈ رہی تھی۔
“وضو ہے بیٹا؟”
اس عورت نے پوچھا تو ارمینہ نے غائب دماغی سے نفی میں سر ہلایا۔
“چلو میرے ساتھ۔”
وہ وضو خانے کی جانب بڑھ گئیں۔
“بیٹا!پہلے میری بیٹی کو وضو کرنے دو۔”
انہوں نے ایک لڑکے کو کہا تو اس نے پیچھے ہٹ کر جگہ بنا دی۔
“اللہ کے بلاوے پر اسے دیر نہیں کرواتے بیٹا!وہ منتظر ہے تمہیں نوازنے کے لیے۔”
اس عورت کی بات پر ارمینہ نے وضو کرنا شروع کیا۔دل کا بوجھ آہستہ آہستہ سرکنا شروع ہوا تھا۔وہ عورت اسے لیکر اپنے سامان کے پاس آئی تھی۔جائے نماز کافی بڑی تھی۔دونوں نے ساتھ نماز ادا کی تھی۔ارمینہ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ریحان کا خیال ذہن میں آیا۔آنسو جیسے بند توڑ کر نکلے تھے۔وہ رو رہی تھی،سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا مانگے؟
“وہ سب جانتا ہے۔”
اس عورت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“وہ میری خوشی مانگنے والا ہے۔”
ارمینہ نے روتے روتے کہا۔
“تم بھی اس کی خوشی مانگ لو۔”
اس عورت نے کہا تو ارمینہ نے حیرانگی سے اس عورت کو دیکھا۔
“کیا جو اس نے مجھے دیا ہے وہ میرا ہے؟”
آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے ارمینہ نے پوچھا تو وہ عورت مسکرائی۔
“جواب تو اللہ نے دے دیا ہے۔”
اس عورت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“مینا؟؟”
ریحان کی آواز پر اس نے پیچھے دیکھا تھا۔
“ملا جواب؟”
اس عورت نے پوچھا تو ارمینہ آنسوصاف کرتی مسکرائی تھی۔اس نے دعا کے لیے دوبارہ ہاتھ اٹھا لیے تھے۔وہ ریحان کی خوشی اور اس کی مانگی دعاؤں کی قبولیت مانگ رہی تھی۔ریحان اس کے انتظار میں کھڑا تھا جب اس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے آزاد پر پڑی۔وہ ارمینہ کو ایک نظر دیکھ کر آزاد کےپاس آیا تھا۔اس نے آزاد کے کندھےپر جیسے ہی ہاتھ رکھا آزاد کے مڑ کر دیکھنے پر وہ مسکرا دیا تھا۔
“اکیلے آئے ہو؟”
ریحان نے جہانگیر صاحب کی تلاش میں نظر دوڑائی۔
“اپنی سپیشل ون کے ساتھ آیا ہوں۔اس کا ساتھ مانگنے اور اپنی زندگی اس کے ساتھ گزارنے کی دعا کرنے۔”
آزاد نے مسکراتے ہوئے کہا۔اس کی آنکھوں میں انوکھی چمک تھی جو ریحان سے مخفی نہ رہ سکی۔
“کل عمرے کےلیے ساتھ چلنا۔میں دعا کروں گا تمہارے لیے بھی،یہاں سے قبولیت کی سند لے کر لوٹیں گے۔”
ریحان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ہوٹل کا اڈریس اسے بتا کر آزاد آگے بڑھ گیا تھا۔تبھی وہ سامنے سے آتی ارمینہ سے ٹکراتا ٹکراتا بچا تھا۔
“معاف کیجئے گا۔”
وہ سر جھکائے ہی تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا۔ارمینہ ریحان کے پاس آئی تھی۔اس نے پورے حق سے ریحان کا ہاتھ پکڑا تھا۔
“تم نے مجھے کھو دیا تھا۔”
ارمینہ نے شکوہ کیا تو ریحان اس لےکر مسجد کی اندورنی جانب بڑھ گیا۔
“یہاں کوئی کھو نہیں سکتا مینا!یہاں تو بھائی چارہ قائم ہوا تھا،محبت کی مثال قائم ہوئی تھی۔یہ جگہ ہی محبت اور خلوص کا پیکر ہے۔”
ریحان اس کے ساتھ چلتا بول رہا تھا۔
“میں نے جو مانگا ہے وہ مجھے مل جائے گا ریحان؟”
ارمینہ نے پوچھا تو ریحان مسکرایا۔
“یہاں آکر بھی شک کی گنجائش ہے!کل اللہ کے گھر جا کر پوری نیت سے مانگ لینا۔دعائیں رد نہیں ہوتیں بس اپنے وقت پر پوری ہوتی ہیں۔”
ریحان کے ساتھ آگے بڑھتی وہ اسے سن رہی تھی۔
**********
میں اپنے روبرو ہوں اور کچھ حیرت زدہ ہوں میں
نہ جانے عکس ہوں چہرہ ہوں یا پھر آئینہ ہوں میں
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنی ناک میں پہنی نوز پن کو دیکھ رہی تھی۔وہ آزاد کے جانے کے بعد نوٹ کر پائی تھی اس کی آنکھوں میں بجھتی خوشی کو۔
“میں بہت بری ہوں آزاد!میرے لیے تم تک آنا بہت مشکل ہے۔”
وہ آزاد سے مخاطب تھی۔
“میری محبت بہت انازادی ہے یہ تمہاری ہر دستک کو نامراد ہی لوٹائے گی۔”
تلخی سے مسکرا کر اس نے خود کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“انا کو مارنا آسان نہیں ہوتا مگر ناممکن بھی نہیں۔محبت کی چوٹ ڈبل فورس سے استعمال کروں گا ،تمہیں اللہ سے مانگوں گا،انازادی کو جھکنا پڑے گا۔”
اس کے کندھوں کے گرد شال ڈالتا ہوا وہ بولا تو آزاد کی اچانک آمد اور اس کی لفظوں کی ثابت قدمی نے اسے ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
“آزاد میں۔۔۔۔۔”
اس نے بولا چاہا تو آزاد نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔
“ایک اجازت چاہتا ہوں تم سے،تمہیں اپنی محبت کی ہلکی سی شدت دیکھانا چاہتا ہوں۔کیا اجازت ہے مجھے؟”
آزاد کے عجیب و لہجے پر وہ ڈری تھی اور بے ساختہ قدم پیچھے لیے تھے۔آزاد مسکرایا تھا۔
“تم سے حق نہیں مانگ رہا میں صرف اجازت مانگ رہا ہوں اپنی محبت کو ثابت کرنے کی۔”
آزاد کےجملے نے اسے شرمندہ کر دیا تھا۔
“چلو۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آیا تھا۔کار میں اسے بیٹھا کر اس نے کار آگے بڑھا لی تھی۔شناسا راستوں کو دیکھ کر وہ بے ساختہ کھڑکی کے قریب ہوئی تھی۔آزاد نے لب بھینچےتھے۔اسے ثابت قدم رہنا تھا۔ایک گھر کے باہر کار روک کر اس نے گہرے سانس لیے تھے پھر مسکراہٹ کو چہرے کا حصہ بنایا تھا۔وہ تو کب سے اتر کر گھر کی جانب جا چکی تھی۔آزاد اس کے پیچھے آیا تھا۔گھر پرلگی نیم پلیٹ نے ایک پل کو اس کی آنکھوں کو نم کر دیا تھا اگلے پل وہ ضبط کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔
لکھا ھے وقت نے یہ بھی عجب اپنے مقدر میں
پلٹنا ہی نہیں جس کو اسی کے راستے دیکھو!!
وہ اک اجنبی جس سے تعلق سرسری سا تھا
ھمارے دل میں ہوتے ھیں اسی کے تذکرے دیکھو۔
*********
احرام باندھے وہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا۔ارمینہ کے چہرے پر سکون اور خوشی دیکھ کر اس نے بےساختہ اللہ سے دعا کی تھی۔شمیم بیگم اس کے ساتھ کھڑی تھیں۔ہزاروں لوگ وہاں اپنی اپنی دعاؤں کے ساتھ موجود تھے اور سننے والا سن رہا تھا یہ تو طے تھا کوئی بھی نامراد نہیں لوٹے گا۔ اللہ کی ذات کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔ ریحان نے دعا مکمل کرتے ہی قدم پیچھے لیے تھے۔ ایک فیصلہ لیا تھا اس نے، اللہ سے مدد مانگی تھی۔ اس نے ارمینہ کی جانب دیکھا جو مگن انداز میں دعا مانگ رہی تھی۔ اس نے اپنی ماں کی جانب دیکھا۔
“اسے کبھی چھوڑنا مت ریحان!”
شمیم بیگم کا جملہ یاد آتے ہی وہ آگے بڑھا تھا اور ارمینہ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ اس نے فیصلہ وقت پر چھوڑ دیا تھا۔ اسے ماں کی بات کا مان رکھنا تھا۔
کوہ انا کی برف تھی دونوں جمے رہے!
جذبوں کی تیز دھوپ میں پگھلا نہ وہ نہ میں۔
********
وہ لوگ آج واپس جارہے تھے۔ عمرے کی سعادت حاصل کر کر دل جیسے مطمئن ہوگیا تھا۔ سب سے زیادہ خوش ارمینہ تھی۔ اس کے دل کی دنیا بدل گئی تھی۔ ریحان کو لیکر سب شکایتیں دور ہوئیں تو اس کا ساتھ پہلے سے بھلا لگنے لگا۔ سفر کےدوران بھی وہ اس کے کندھے پر سر رکھ پر بیٹھی رہی تھی۔ ریحان نے اعتراض نہیں کیا تھا، جبکہ۔ شمیم بیگم دونوں کو دیکھ کر مطمئن سی ہوتیں سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھیں۔
ان کے استقبال کے لیے سب لوگ آئے تھے۔ ریحان کی کار پارکنگ میں ہی موجود تھی۔ سب ہنسی خوشی اللہ کے گھر کا ذکر کرتے واپس گھر آئے تھے۔
“بھائی! آپ نے دعا کی آپ کی بیوی سیدھی ہوجائے؟ “
رامین نے ریحان کے کان میں پوچھا تو ریحان نے ارمینہ کو دیکھا، جو سب کو آب زم زم اور وہاں سے لائے گفٹس دے رہی تھی۔وہ مسکرا دیا۔
“مطلب نہیں کی۔ “
رامین کو افسوس ہوا تھا۔
“اگر وہ بدل جائے گی تو کسی کو اچھی نہیں لگے گی۔”
ریحان کے جواب پر اس نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا تھا۔
“لیکن میں نے کی ہے دعا کہ انہیں آپ شدید والی محبت ہوجائے۔ “
شرارت سے کہہ کر وہ ارمینہ کے پاس آگئی تھی۔ ریحان ڈر گیا تھا اس کی دعا سے۔
***********
“مجھے جانا ہے تمہارے ساتھ۔ “
رات کے وقت وہ زبردستی ریحان کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔
“مجھے کام سے جاناہے۔ “
ریحان نے اسے بتایا۔
“لیکن مجھے تمہارے ساتھ ہی جانا ہے،تم کام بھی کر لینا اپنا۔ “
ادائے بے نیازی سے کہتی وہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ گئی تھی۔ ریحان نے نفی میں سر ہلاکر کار اسٹارٹ کر لی تھی۔ کار میں۔ خاموشی نے ڈیرہ جما لیا تھا۔
“تم ناراض ہو مجھ سے ہے ناں؟”
کار کی خاموشی کو ارمینہ کی آواز نے توڑا تھا۔
“نہیں!”
ریحان کا لہجہ نارمل تھا۔ارمینہ نے آگے جھک کر اس کا چہرہ دیکھا۔
“کیا کر رہی ہو سیدھی ہو کر بیٹھو۔”
ریحان نے اسے ٹوکا تھا۔
“مجھے سوری کرنا تھا ریحان!”
ارمینہ نے اپنی انگلیاں آپس میں مسلتے ہوئے کہا۔
“کس لیے؟”
“وجہ نہیں بتا سکتی تم جانتے ہو سب۔”
اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
“ہم نارمل کپل کی طرح رہ سکتے ہیں؟”
ارمینہ نے یک دم پورا جملہ کہا تو ریحان نے کار کو بریک لگایا تھا۔ارمینہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔
“مجھے وقت لگا لیکن مجھے سمجھ آگیا ہے ہم دونوں کی جوڑی پرفیکٹ ہے۔”
اس نے ریحان کا ہاتھ پکڑا۔ریحان ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“بولو ناں کچھ۔”
ارمینہ نے اس کا ہاتھ ہلایا۔تبھی سامنے سے بے قابو ہوتی کار ان کی جانب آئی تھی۔
“ریحان!!!”
ارمینہ پوری شدت سے چلائی تھی۔اس نے ریحان کو خون میں لت پت دیکھ کر چلانا شروع کر دیا تھا۔
