Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 10)

Anazadi by Noor ul Huda

دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے وہ ساتھ چل رہے تھے۔کالی پینٹ اور ہائی نیک پر کالا لمبا کوٹ پہنے وہ نظریں اپنی ساتھ چلتی بیوی پر جمائے ہوئے تھا۔جبکہ آف وائٹ فراک پر آف وائٹ ہی جرسی پہنے وہ بے نیاز سی اس کے ساتھ چل رہی تھی۔

“تمہیں یہ موسم پسند ہے؟”

آزاد کو اس کی خاموشی پریشان کر گئی تھی اس لیے اس کا دھیان بٹانے کے لیے پوچھنے لگا۔

“بے رحم موسم کسے پسند ہوسکتا ہے؟”

اس کا لہجہ تلخ نہ تھا مگر بات تلخ تھی۔

“موسم بے رحم کہاں ہوتا ہے؟”

آزاد نے سامنے لگے درخت کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا جس کی ایک مضبوط شاخ سے جھولا بندھا ہوا تھا۔ایک خیال اس کے دماغ میں کوندا تھا۔

“ان بے جان پتوں کو دیکھ رہے ہو،اپنے مسکن سے بچھڑ کر کیسے روندے جارہے ہیں اور ان کا مسکن ان کے بنا ویران ہوگیا ہے۔”

آزاد نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔اور اسے لیے جھولے کے پاس آیا۔اس بیٹھانے کے بعد وہ پیچھے آیا تھا۔

“موسم بے رحم نہیں ہوتا۔زندگی میں خوشی اور غم آتے رہتے ہیں۔ان کا دورانیہ تب بڑھتا ہے جب برداشت کی سکت بڑھتی ہے۔”

اس کو جھولا جھلاتا وہ بول رہا تھا۔

“جسے جانا ہو چلا جاتا ہے۔لیکن جانتی ہو اپنے پیچھے نئے لوگوں کی امید چھوڑ جاتا ہے۔”

جھولا یک دم رکا تھا۔آزاد نے اس کا سوالیہ چہرہ دیکھا تو دھیرے سے مسکرایا۔

“اس درخت کو دیکھ رہی ہو ناں؟کیا اسے نیچے گرے بےجان پتوں کا سوگ منانا چاہیئے یا پھر خود میں پنپنتے ان نئے پتوں کا استقبال کرنا چاہیئے؟دکھ,تکلیف کسے اچھی لگتی ہے۔وقت گزرے گا یہ درخت پھر سے بھر جائے گا،لہلائے گا،مہکے گا ،جھومے گا۔۔۔”

آزاد پرجوش سا بول رہا تھا جبکہ وہ اسے دیکھ رہی تھی۔

“اور پھر سے بکھر جائے گا۔”

اس کے الفاظ نے آزاد کو گویا ساکت کردیا تھا۔اس کےالفاظ الفاظ کہاں تھے،ایک سچائی تھی جس کا سامنا نہ وہ خود کرنا چاہتا تھا نہ ہی اسے کرنے دینا چاہتا تھا۔

“شاید قسمت اسی کو کہتے ہیں۔”

وہ دل ہی دل میں بولا تھا۔

‏تُو تو خود سے ہی نہیں ھے آشنا

تیری ذات تجھ پہ ہی راز ھے

تیرے قلب میں ھے چھپا ھوا

تیری روح کو جس کی تلاش ھے۔

********

“میں سب کو بتاؤں گی،اس افراہیم کو بھی بہت بول رہا تھا ناں۔ “

شمیم بیگم کے پاس بیٹھی وہ خوشی ہوتی بول رہی تھی۔ شمیم بیگم نے اسے خوش دیکھ کر دل میں اس کے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا کی تھی۔

“ریحان کے ساتھ خوش ہو؟ “

ان کے سوال پر ارمینہ کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔

“چچی! میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی اور سچ میں خود نہیں جانتی۔ “

ارمینہ نے ان کے گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔

“کوئی بات نہیں مینا بیٹا!اس نے وقت مانگا ہے تو تمہارا بھی حق ہے وقت مانگنا۔ لیکن اتنا کہوں گی میرا بیٹا بہت فرمابردار ہے اور سمجھدار بھی۔اچھا شوہر ثابت ہوگا۔ “

آخر میں وہ شرارت سے بولیں تو ارمینہ بھی ہنس دی تھی۔

“آپ کو پتا ہے وہ بولتا ہی نہیں تھا مجھے تو اتنے دن یہی لگا تھا کہ وہ گونگا ہے۔ “

وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی تو شمیم بیگم نے اس کے بال سہلائے تھے۔

“وہ بچپن سے خاموش طبیعت کا مالک ہے۔اس کے بابا کو کئی سال تک یہی لگتا رہا تھا کہ

وہ گونگاتو نہیں ہے۔”

شمیم بیگم اسے ریحان کے بارے میں بتا رہی تھیں وہ ہنستی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی۔ اسے آج ہی موقع ملا تھا شمیم بیگم کے ساتھ وقت گزارنے کا۔

“بھابھی!!!!!کھانا کھالیں۔ “

رفعت بیگم کی آواز پر ارمینہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔

“میں نے کہا ہے تو بھابھی میں خود لےلیا کروں گی کھانا آپ تکلف مت کیا کریں۔ “

شمیم بیگم نے احسان مند ہوتے کہا تو رفعت بیگم نے ارمینہ کو گھورا۔

“بھابھی! آپ بجائے اسے سیکھانے کہ خود ہی کام کریں گی؟ “

ارمینہ نے منہ بسورا تھا۔

“اسے نا ڈانٹا کریں بھابھی! سب سیکھ لے گی آہستہ آہستہ۔ “

انہوں نےمحبت سے اسے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔

“بھابھی! یہ پہلے ہی لاڈ پیار میں بگڑی ہوئی ہے اور اب ریحان اور آپ بھی اس کو شہہ دے رہے ہیں۔ “

رفعت بیگم کے شکایتی انداز پر ارمینہ نے منہ بگاڑ کر شمیم بیگم کی گود میں سر رکھ لیا تھا۔

“بگڑی ہوئی نہیں بس زیادہ محبت کی عادی ہے جو ہم اسے ضرور دیں گے۔ “

“بھابھی!!!”

“امی!آپ کو شکایات ہیں مجھ سے ،میں جا رہی ہوں ناں اللہ کےگھر دعا کروں گی آپ کی ساری شکایات دور ہوجائیں۔”

ارمینہ کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر ان کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ جیسے ہی اس کی جانب بڑھی وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔

“بھابھی! بچی ہے وہ ابھی۔”

شمیم بیگم انہیں سمجھا رہی تھی۔جبکہ باہر کھڑی ارمینہ نے اپنے مصنوعی آنسو صاف کیے تھے۔

**********

“کیا بنا رہی ہو؟”

دس بج رہے تھے،ارمینہ کچن میں کھڑی پاپ کارن بنا رہی تھی۔اس نے ریحان کو کمرے میں جاتے دیکھ کر ہی کچن کا رخ کیا تھا۔شمشیر خوشبو سونگتا کچن میں آیا تھا۔

“تم تو اپنی شکل گم کر لو جیسے کل سے گم کی ہوئی ہے ورنہ بگاڑ دینی ہے میں نے۔”

ارمینہ کی دھمکی پر اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ آج اس نے کوئی بدتمیزی تو نہیں کی اس سے مگر جب یاد نہ آیا تو پھر سے بولا۔

“اب میں نے کیا کیا ہے؟”

اس کے پوچھنے کی دیر تھی ارمینہ نے مڑ کر اس کے کندھے پرتھپڑ مارا تھا۔

“کل صبح کیا بکواس کر کر گئے تھے تم،طلاق کے کاغذات؟”

شمیشیر کو یاد آیا تو وہ کھیسیانہ سا ہنسا۔

“مذاق تھا وہ تو۔”

“دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ “

باؤل میں پاپ کارن ڈال کر اسے جلاتی ہوئی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔ پیچھے وہ دانت پیستا رہ گیا تھا۔

اس نے کمرے میں قدم رکھا تو ریحان کو اپنی مخصوص جگہ پر پایا۔ پھر مسکراتی ہوئی دروازہ بند کر آگے بڑھی تھی۔

“اس طرح پھیل کر کیوں بیٹھے ہو؟جگہ دو مجھے بھی۔”

پاپ کورن کا باؤل ہاتھ میں لیے وہ ریحان کے پاس بیٹھ کر زبردستی جگہ بناتے ہوئے بولی۔ریحان نے آگے سرکتے ہوئے جگہ بنائی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے۔

“مجھے مووی دیکھنی ہے۔ اچھی سی لگانا۔”

ٹانگیں پھیلا کر بیٹھی وہ کمبل ٹانگوں پر ڈالتے ہوئے بولی۔

“بار بار گونگے مت بن جایا کرو۔ مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو مجھے ایٹیٹوڈ دیکھاتے ہیں۔ “

ارمینہ نے چڑ کر کہا۔

“اس میں مووی نہیں ہے۔ “

ریحان نے اس سے فاصلے بناتے ہوئے کہا۔

“تو نیٹ کس بلا کا نام ہے۔ آن لائن دیکھ لیتے ہیں۔ “

ارمینہ نے مشورے سے نوازتے ہوئے پاپ کارن منہ ڈالے تھے۔ریحان کے تاثرات دیکھ کر اس نے منہ بگاڑا تھا۔

“یہ میرا کمرہ ہے میں کہیں بھی بیٹھ سکتی ہوں؟”

ریحان کچھ بولنے لگا تو ارمینہ نے پھر اسے ٹوکا۔

“خبردار جو کہا کہ لیپ ٹاپ تمہارا ہے۔ میں طنز برداشت نہیں کرتی۔ “

اس نے اتراتے ہوئے کہا۔

“تم۔۔۔۔۔”

کتنا بولتے ہو تم مووی لگاؤ۔”

ارمینہ نے کہا تو ریحان نے لیپ ٹاپ اس کی گودمیں رکھ دیا۔

“کیا مطلب ؟”

ارمینہ نے پوچھا تو ریحان کچھ نہ بولا۔

“پھر سے بولنا بند۔”

“تم بولنے کہاں دیتی ہو؟جو مووی دیکھنی ہےدیکھ لولیکن اپنی جگہ پر جا کر۔ “

ریحان کے جواب پر ارمینہ نے اسے گھورتے ہوئے پاپ کارن منہ میں ڈالے۔

“بہت زیادہ بولنے لگے ہو تم۔ “

ارمینہ نے طنزیہ کہا تو ریحان نے خود آگے جھک کر مووی سرچ کرنا شروع کی تھی۔ ارمینہ رک سی گئی تھی۔ نظریں سامنے جھکے ریحان پر تھی جو سنجیدگی سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا۔ لسٹ کھلتے ہی اس نے چہرہ ارمینہ کی جانب موڑا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وقت جیسے رک گیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ یک دم ہی ارمینہ کو ہچکی آئی تو ان کا تسسل ٹوٹا تھا۔ ریحان جلدی سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔

نا جانے کیسا شخص ہے میری زندگی میں وہ

محبت بھی کرتا ہے اور اعتراف بھی نہیں کرتا

“یہ دوسرے ٹائپ کی مووی تو نہیں ہیں؟ “

ارمینہ کے سوال پر ریحان نے جانچتی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا تھا،وہ سمجھ نہیں پایا کہ وہ اتنی معصوم تھی یا بن رہی تھی۔

“نہیں بتانا نہ بتاؤ میں تو آنکھیں بند کر لوں گی تمہیں ہی گناہ ملے گا ایک معصوم کو یہ سب دیکھانے کا۔ “

ارمینہ کی بات پر وہ مسکرایا تھا۔

“ان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔”

اس نے ایک مووی پر کلک کرتے ہوئے کہا۔ جیسے ہی مووی اسٹارٹ ہوئی ریحان اٹھ کر جانے لگا تو ارمینہ نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔

“وہ میری جگہ ہے تم یہیں بیٹھو۔ “

وہ زبردستی اسے روک چکی تھی۔ ریحان بے دلی سے بیٹھا تھا۔ پھر اپنا موبائل اٹھا کر اس میں کام کرنے لگا۔ وہ اپنے کام میں مگن تھا جب اچانک اسے اپنے کندھے پر وزن محسوس ہوا۔ اس نے بائیں جانب دیکھا تو ارمینہ سو چکی تھی اور اس کا سر ڈھلک کر ریحان کے کندھے پر آچکا تھا۔ ریحان موبائل گود میں رکھتے ارمینہ کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ کتنی ہی دیر وہ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ارمینہ نے کروٹ لینا چاہی تو ریحان نے ہاتھ بڑھا کر اسے گرنے سے روکا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جو شاید ارمینہ دیکھ لیتی تو اسے اچھی خاصی سنا دیتی۔ موبائل پر ہونے والی مخصوص بیل نے ریحان کوجیسے سب یاد دلا دیا تھا۔ اس نے احتیاط سے ارمینہ سے فاصلہ بنایا تھا۔ارمینہ کو صحیح سے لٹا کر لیپ ٹاپ بند کر کر رکھنے کے بعدوہ موبائل اٹھا کر کمرے سے نکل آیا۔

کس قدر کار اذیت ھے ذرا سوچو تو!!!!

جس نے ملنا ہی نہیں اس کی تمنا کرنا۔

************

کمر میں درد کی لہر اٹھی تو ارمینہ کی آنکھ کھلی۔ خود کو ریحان کے بستر میں دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں۔

“میں یہاں کیسے آئی؟ “

اس نے حیران ہوتے خود سے سوال کیا۔ پھر جیسے ہی سب یاد آیا تو نظر بے ساختہ ریحان کی تلاش کی میں دوڑائی۔

“ارمینہ!تم اچھا نہیں کررہی اس کے ساتھ،اگر اسے چھوڑنا ہی ہے تو اس کو خود کی جانب مائل بھی نہ کرو۔ “

ضمیر نے ملامت کی تو ارمینہ کو ایک پل کو شرمندگی ہوئی۔

“لیکن اس نے بھی تو میری انسلٹ کی ہے، وہ کیسے کہہ سکتا ہے اس کو مجھ میں انٹرسٹ نہیں۔ اب جب وہ اپنے منہ سے میرا ساتھ مانگے ناں تب مزہ آئے گا۔ “

ایک پل کی شرمندگی ہوا ہو چکی تھی خودغرضی اورضد غالب آگئی تھی۔

خود غرضی اور ضد کا انجام کہاں اچھا ہوتا ہے، ہار شاید اس بار ارمینہ کا مقدر تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *