Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Episode 12)Part 2
Rate this Novel
Anazadi (Episode 12)Part 2
Anazadi by Noor ul Huda
“واسع!مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔”
اجیہ نے اس کی شرٹ کو پیچھے سے پکڑ کر اسے روکا تھا۔
“بیگم! یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا؟ “
واسع نے اپنی شرٹ گلے سے پکڑ کر بٹن کھولتے ہوئے پوچھا۔
“اسے زبردستی والا طریقہ کہتے ہیں۔”
اجیہ نے مزید اس کی شرٹ کھینچی تو واسع نے پیچھے مڑ کر اس سے شرٹ چھڑوائی تھی۔
“ایسی کونسی بات کرنی ہے آپ کو بیگم! جو شوہر بیچارے کا سانس تک روکا جارہا ہے؟”
اس نے شوخ لہجے میں پوچھا تو اجیہ نے اس کے کندھے پر مکا مارا۔
“آپ کو پتا ہے آپ مجھے بالکل وقت نہیں دیتے۔۔۔۔”
اجیہ نے روٹھتے ہوئے کہا۔
“مجبوری ہے،ورنہ میں کہاں ایسی گستاخی کر سکتا ہوں؟ “
واسع نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
“آپ یہ گستاخی پیچھلے دو ہفتے سے کر رہے ہیں۔”
اجیہ نےاس کے ہاتھ سے ہاتھ نکالا۔
“زوجہ!!!”
“واسع بس کریں،عجیب عجیب ناموں سے بلانا شروع ہوجاتے ہیں آپ تو۔ “
آگے بڑھ کر اس کی شرٹ کا کھلا بٹن بند کرتے ہوئے کہا۔
“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟ “
واسع نے اس کی حجاب کی پن نکالتے ہوئے پوچھا۔
“آپ کو کیا؟ آپ تو میری طرف دیکھتے بھی نہیں۔ “
پھرسے ناراضگی کی وجہ یاد آتے ہی وہ رخ پھیر گئی تھی۔
“مجھے کچھ گڑ بڑ لگ رہی زوجہ! اچانک ناراضگی وہ بھی اس وقت۔ ۔۔۔۔”
واسع کے درست اندازے پر اجیہ نے پن واپس لگاتے ہوئے دراز سے لفافہ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھا اور کمرے سے نکل گئی۔ واسع نے حیرانگی سے لفافے پرلکھے ہاسپٹل کے نام کو دیکھا تھا۔ اندر سے رپورٹ نکال کر اسے پڑھتے ہی واسع کے چہرے پر خوشی آئی تھی۔
“اب مجھے اگنور مت کیجئے گا،میری پوزیشن مضبوط ہونے والی ہے۔ “
اجیہ کی خوشگوارآواز پر وہ پلٹا تھا، اس سے پہلے وہ کچھ بولتا اجیہ چلی گئی تھی۔ اس کی زندگی میں اتنی بڑی خوشی آئی تھی۔ اس نے بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔
**********
“تم کہیں نہیں جاؤ گے۔”
دروازے میں ہاتھ رکھ کر اس نے ریحان کا راستہ روکا تھا۔
“میرا جانا ضروری ہے۔ “
ریحان نے سنجیدگی سے کہا۔
“تمہیں بخار ہے اور۔۔۔۔۔۔”
“بخار اتر چکا ہے اور۔۔۔۔”
“امی!!!!”
ریحان کی بات کاٹتی وہ اونچی آواز میں رفعت بیگم کو بلانے لگی۔
“کیا کر رہی ہو یہ اور کیوں؟ “
ریحان کا لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔
“امی کو بلا رہی ہوں اور کیوں بلا رہی ہوں؟ کیونکہ مجھے مزا آرہا ہے تمہیں تنگ کرنے میں۔”
ارمینہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جاکر بیڈ پر بیٹھا دیا تھا۔
“آج کے دن تم میرا بیڈ لے سکتے ہو۔ “
اس نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو ریحان کھڑا ہوا۔
“کچھ کہہ رہی ہوں میں تم سے۔”
اس کے سینے پر انگلی رکھتی وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تو ریحان اس کا ہاتھ نیچے کیا۔
“امی سے ملنے جا سکتا ہوں؟ “
اس نے چڑتے ہوئے اجازت مانگی تو ارمینہ فتح مندی سے مسکرائی۔ ریحان اس کے پاس سے گزر کر دروازے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
“میں ساتھ چلوں گی۔ “
اونچی میں بولتی وہ اس کے پیچھے آئی تھی۔
وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں،جہاں محبت جڑیں پھیلا رہی تھی وہیں وقت اپنی اگلی چال رہا تھا۔
*********
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بیقراری تجھے اے دِل کبھی ایسی تو نہ تھی
اب کی جو راہِ محبّت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزِل کبھی ایسی تو نہ تھی
اسکیٹنگ شوز پہن کر وہ ہال میں آیا تھا۔ بلیک جینز اور بلیک اونی پوری بازو کی شرٹ پہنے وہ اپنے مسکراتے چہرے کے ساتھ وہاں سب کو اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر گیا تھا۔
“بہت جلد تم مجھ پر بری طرح فدا ہونے والی ہو۔”
اس کے چیلنجنگ انداز پر وہاں ہوٹنگ کی گئی تھی۔
“آج میرا ارادہ ہے اپنی پیاری سی وائف کو متاثر کرنے کا۔ آپ سب میرا ساتھ دیجیئے گا۔ “
آزاد پرجوش تھا سب نے چلا کر اس کا حوصلہ بڑھایا تھا۔ وہ مسکراتا ہوا بالکل درمیان میں جا کر کھڑا ہوا تھا۔ میوزک شروع ہوتے ہی آزاد نے سکیٹ کرنا شروع کیا تھا۔ دونوں بازو پھیلائے اس نے اوپر دیکھا تھا۔ وہ بھی آگے بڑھ آئی تھی۔ سب لوگ اس کے لیے تالیاں بجا رہے تھے۔ ہال کے گول چکر لگاتے وہ جیسے ہی اچھلا تھا، اس نے بے ساختہ اسے پکارا تھا۔ آزاد نے اس کی جانب دیکھ کر آنکھ ونک کی تھی۔ وہ اتنی مہارت سے ڈانس اسٹیپ لے رہا تھا۔ وہ گھول گھومنا شروع ہوا تو ہوٹنگ شروع ہوگئی۔ آزاد کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔مسکراہٹ تکلیف میں بدلی تھی۔ اس کا ہاتھ دل پر گیا تھا۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا وہ سامنے کھڑی اپنی محبت کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنی تکلیف بھلا گیا تھا۔ سب سے داد وصول کر کر وہ اس کے پاس آیا تھا۔
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آدھا لگا۔
“مسکراہٹ۔۔۔۔۔بتا رہی۔۔۔۔۔ہے بندہ ناچیز۔۔۔۔۔کامیاب ہوگیا ہے۔ “
ہانپتے ہوئے اس نے کہا تو وہ مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔ آزاد اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔ دل گھبرا رہا تھا مگر محبوب کی چاہ بھی کر رہا تھا۔
“مجھے بھی سکیھنی ہے۔ “
اس نے جیسے ہی کہا تھا،آزاد خوش ہوتا آگے آیا تھا۔
“میں سیکھاؤں گا۔مجھ سے سیکھو گی؟”
آزاد نے اپنی خدمات پیش کی تواس نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔ آزاد کے چہرے پر خوشی آئی تھی۔ وقت سب ٹھیک کر رہا تھا لیکن ایک آزمائش بھی تیار کر رہا تھا۔
***********
وہ کب سے بیٹھا ارمینہ کی باتیں سن رہا تھا۔ ارمینہ کا بدلنا اسے عجیب لگ رہا تھا۔ وہ کبھی اسے بدتمیز لگتی تھی، کبھی معصوم تو کبھی شرارتی۔ریحان کی نظریں اس پر تھیں مگرذہن کہیں دور پہنچا ہوا تھا۔
“ریحان لایا ہے میرے لیے۔ “
اپنا نام سنا توریحان کا پورا دھیان ارمینہ کی جانب ہوا۔وہ شمیم بیگم کو پائل دیکھا رہی تھی۔ ریحان نے اس کی کلائیاں دیکھیں تو کنگن دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر تقریبا لیٹ گیا تھا۔شمیم بیگم اور ارمینہ کی باتیں سنتے سنتے اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔
“سو گیا۔ “
ارمینہ نے شمیم بیگم کا دھیان ریحان کی جانب کیا۔
” عباد کی ایک بار بہت زیادہ طبیعت خراب ہوئی تھی چھوٹا تھا میرا ریحان ،لیکن اس وقت مجھے لگا تھا میرا بیٹا بڑا ہوگیا ہے۔ وہ ہمارا سہارا بن گیا تھا۔”
شمیم بیگم نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے اس پر چادر ڈالی تھی۔
“یہ اچھا ہے۔ “
ارمینہ نے بے ساختہ کہا تو شمیم بیگم مسکرائی تھیں۔
“آپی!چچی! خوشی کی خبر ہے میں خالہ بننے والی ہوں۔ اجیہ آپی آئیں باہر۔ “
رامین کی چہکتی ہوئی آواز پر ان دونوں نے اسے چپ ہونے کا اشارہ کیا تھا۔
“دیکھائی نہیں دیتا، وہ سورہا ہے۔ “
ارمینہ نے اسے ڈانٹا تو پرواہ کیے بنا شمیم بیگم کے گلے لگ گئی۔
“تائی امی! میں خالہ بنوں گی۔ “
اب کی بار اس نے آواز آہستہ رکھی تھی۔ان دونوں کو اب اس کی بات سمجھ آئی تھی۔ دونوں کے چہرے ہر خوشی آئی تھی۔ ارمینہ اٹھ کر اجیہ سے ملنے باہر چلی گئی تھی۔ شمیم بیگم نے ایک نظر ریحان کے پرسکون چہرے پر ڈالی تھی اور مسکرا دی تھیں۔
