Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 16)

Anazadi by Noor ul Huda

“مینا!”

ریحان نے آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا تھا۔

“تم ٹھیک نہیں ہو ریحان!مجھے پتا ہے تم رو رہے تھے۔”

ارمینہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

“امی کے چلے جانے کا غم ہے مینا!کاش وہ نہ جاتیں۔”

ریحان کا لہجہ دکھی اور تھکا ہوا تھا۔

“مجھے دلاسہ دینانہیں آتا ریحان!لیکن شاید ان کا وقت یہی تھا۔انہیں جانا ہی تھا۔تم نے ان کی خواہش پوری کی،انہیں اللہ کا گھر دیکھایا۔وہ خوش تھیں تم سے ریحان!وہ راضی تھیں۔”

ارمینہ اس کا ہاتھ پکڑے بول رہی تھی۔ریحان نے مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے آنسو پونچے تھے۔

“تم آرام کر لو مینا!”

ریحان نے اسے بیڈ پر جانے کا اشارہ کیا تھا۔

“تمہیں بھی آرام چاہیے ریحان!”

ارمینہ نے بھی پر زور دیتے ہوئے کہا۔

“میری ماں کو ضرورت ہے مینا میری۔آج کی رات اپنی امی کی پہلی رات کو آسان بنانے کی دعا کرنی ہے مجھے۔”

ریحان نرمی سے اس سے ہاتھ چھڑا کر واش روم کی سمت بڑھ گیا تھا۔کچھ دیر بعد وہ نم چہرے کے ساتھ باہر آیا تھا۔ارمینہ اسے دیکھتی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔ریحان نماز پڑھ رہا تھا اور وہ اسے دیکھ رہی تھی۔نماز کے بعد اس نے بہت لمبی دعا مانگی تھی۔پھر قرآن مجید لیکر وہ روم سے باہر جانے لگا تو ارمینہ نے اسے روکا۔

“مجھے بھی پڑھنا ہے تمہارے ساتھ۔”

ریحان رک گیا تھا۔ارمینہ بھی وضو کر کر اس کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔ریحان مسلسل پڑھ رہا تھا جبکہ وہ تسبیح کر رہی تھی۔اس کی آنکھ لگ گئی تھی مگر ریحان کا پڑھنا جاری تھا۔نیک اولاد اللہ کا تحفہ ہوتا ہے اور اسے بھی ماں کا حق ادا کرنا تھا۔

*********

ہم میسر ہیں سہارا کیجے

جب بھرے دل تو کنارا کیجے

آپ پہ طے ہے بہار آنی ہے

دو گھڑی ہم پہ گزارا کیجے

ہم بھی آنسو ہیں چھلک جائیں گے

بس ذرا پل کو گوارا کیجے

آئینہ ہم کو سمجھ لیجے کبھی

اور پھر خود کو سنوارا کیجے

کچھ تعلق کا گماں ہوتا ہے

یونہی بے وجہ پکاراکیجے

خواب میں کر کے گزر پھر اپنا

کچھ تو امید ابھارا کیجے

جب کوئی صبح نئی مل جائے

ہم کو بھی ڈوبا ستارا کیجے

جائیے آپ اجازت ہے میری

اب کوئی اور بے چارا کیجے

ہیں جو سامان میں یہ دو آنسو

ان پہ بس نام ہمارا کیجے

دل جو پھر چاہے کوئی توڑنا دل

ہم پہ ہی کرم دوبارہ کیجے

ایک سے ایک حسیں ملتے ہیں

منتظر ہیں کہ اشارا کیجے

جو فراموش ہوئے ہو اداس

آپ بھی عقل خدارا کیجے۔

“یہ کیا ہے ڈیڈ؟”

آزاد ایک فائل لےکر جہانگیر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔جہانگیر صاحب نے اپنی عینک اتار کر ٹیبل پر رکھی اور اسے پاس بلایا۔آزاد بگڑے موڈ کے ساتھ ان کے پاس بیٹھا تھا۔

“یہ اس گھر کے کاغذات ہیں آزاد جو تمہاری بیوی کے نام ہے۔”

جہانگیر صاحب نے بولنا شروع کیا۔

“لیکن کیوں؟آپ جانتے ہیں اسے یہ سب نہیں چاہیئے۔”

آزاد وہ فائل اٹھا لایا مگر نہیں جانتا تھا فائل تو پہلے ہی دیکھی جا چکی تھی۔

“اسے چاہ نہیں ہو گی اس کی لیکن یہ اس کا حق ہے۔وہ گھر اس کا نہیں ہے آزاد بلکہ یہ اس کا گھر ہوگا۔اسے حقیقت کو ماننا ہے۔تم اس کو ماضی سے باہر نکلنے دو آزاد!”

جہانگیر صاحب نے اسے سمجھایا۔

“وہ مجھے چھوڑ جانے کی بات کر دیتی ہے ڈیڈ!میں اتنا تو برداشت کرسکتا ہوں کہ مجھے یاد نہ کرے لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ مجھے چھوڑ جائے۔”

آزاد کے لہجے میں ڈر اور خوف تھا۔جہانگیر صاحب نے اسے گلے لگایا۔

“اگلے مہینے ہمیں چیک اپ کے لیے جانا ہے آزاد!”

جہانگیر صاحب نے اسے یاد دلایا تھا۔

“آپ اسے نہیں بتائیں گے ڈیڈ!”

“وہ ہمارے ساتھ جائے گی۔”

جہانگیر صاحب نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

“ڈیڈ!!”

آزاد بے بس ہوا تھا۔

“آزاد!!”

جہانگیر صاحب کے فیصلہ کن انداز پر وہ خاموش ہوگیا تھا۔پھر اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔جہانگیر صاحب نے ایک لمبی سانس لی تھی۔

“مجھے کل پارک لے جائیں گے؟”

وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا،اس کی خوش کن آواز سن کر پرسکون ہوا تھا۔

“ضرور!”

وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا تھا۔

“انکل سے کہیے گا مجھے گھر نہیں چاہیئے ،میرے لیے وہی گھر کافی ہے۔”

اس کا ایک نارمل جملہ آزاد کی ساری خوشی ختم کر گیا تھا۔وہ دکھی ہوتا مسکرایا تھا۔

“کیا مجھ سے منسوب کوئی چیز تمہیں کبھی عزیز نہیں ہوگی؟”

آزاد نے پوچھنا چاہا تھا مگر صرف سوچ ہی سکا۔

***********

“کہاں گیا ہے ریحان؟”

دو دن سے وہ غائب تھا۔اگلی۔صبح ہی وہ گھر سے نکل گیا تھا۔ارمینہ بھی نہیں جانتی تھی کہ۔وہ کہاں گیا ہے۔آفس والے تک لاعلم تھے۔رفعت بیگم نے جاوید صاحب سے پوچھا تھا۔

“نمبر بھی بند جا رہا ہے اس کا۔پولیس میں سوچ رہا ہوں رپورٹ کروانے کی۔”

جاوید صاحب نے پریشانی سے کہا۔

“تو آپ اب تک سوچ کیوں رہے ہیں۔کروائیں جا کر رپورٹ،اور ڈھونڈیں اسے۔رو رو کر برا حال کر لیا ہے میری بچی نے۔”

انہوں نے ارمینہ کے کمرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔جو صبح سے اندر بند تھی۔

“شمیشیر چلو میرے اور ریحان کی تصویر لے آؤ۔”

جاوید صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا۔ شمشیر ارمینہ کے کمرے کی جانب بڑھا تبھی دروازہ بجنے پر سب دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ جاوید صاحب نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ریحان کو کھڑا پایا۔

“کہاں چلے گئے تھے بنا بتائے۔ ہم لوگ کتنا پریشان ہوگئے تھے؟”

جاوید نے اسے لتاڑا تھا۔

“ریحان بچے! یہ کیا حرکت ہے؟ “

رفعت بیگم بھی اس کے سامنے آئی تھی۔

“تایا ابو! دوست کو ضرورت تھی میری۔ ایمرجنسی میں جانا پڑا۔ فون گھر پر ہی بھول گیا تھا اور وقت بھی نہیں ملا بتانے کا۔ مجھے معاف کردیں میری وجہ سے آپ پریشان ہوئے۔”

ریحان نے شرمندگی سے کہا۔ جاوید صاحب کو وہ تھکا تھکا سا لگا۔

“آرام کرو جا کر۔ “

انہوں نے بات نہ بڑھاتے ہوئے کہا۔ رفعت بیگم نے کچھ بولنا چاہا تو انہوں نے اشارے سے منع کر دیا۔ ریحان کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔

“جاوید آپ۔۔۔۔”

“وہ پریشان ہے بیگم!اس کی حالت نہیں دیکھی تم نے۔ تم کھانا بھجواؤ دونوں بچوں کے لیے کمرے میں۔ “

جاوید صاحب کہہ کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئےتھے ۔شمیشر بھی سر جھٹکتا اپنے کمرے کی۔ جانب بڑھ گیا تھا۔ رفعت بیگم نے کچن کا رخ کیا تھا۔

**********

کتنا بے وفا بے رحم مطلبی تھا وہ ایک شخص..!

دل جلانے کے لئے ۔دل لگانے پر مجبور کیا ہم کو۔

ریحان نے دروازہ کھول کر جیسے ہی قدم اندر رکھا تھا ارمینہ بکھری حالت کےساتھ اٹھ کر بیٹھی تھی۔ ریحان کو دیکھ کر جیسے اس کی جان میں جان میں آئی تھی۔ غم سے خوشی اور خوشی سے ناراضگی کا سفر کرتی وہ ایک کے بعد ایک کشن اسے مارنے لگی۔ ریحان کو لگا نہیں تھا کہ ری ایکشن اتنا شدید ہوگا۔

“مینا!”

وہ اسے روک رہا تھا اب بیڈ سے اتر خود میدان میں آگئی تھی۔

“بہت برے ہو تم۔ کہاں چلے گئے تھے۔تمہیں میرا بالکل خیال نہیں آیا؟”

وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے سینے پر مارتی سوال کر رہی تھی۔

“مینا!!!”

ریحان نے اس کے ہاتھ پکڑے۔

“چھوڑو مجھے۔ “

ارمینہ نے ہاتھ چھڑانا چاہے۔

“چھوڑ ہی رہا ہوں ارمینہ! “

ریحان کے جملے پر وہ ساکت ہوئی تھی۔

“ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہی نہیں تھے ارمینہ! فیصلہ لینے میں بہت وقت لگا دیا میں نے لیکن فیصلہ لے چکا ہوں۔”

ارمینہ جو سوچے بیٹھی تھی کہ اس کے آنے پر اپنی دل کی ہر بات اسے بتائے گی، ریحان کے جملوں کو سنتی سن پڑ گئی تھی۔

“مجھے جانا ہے ،دب انتظامات کر کر آیا ہوں۔”

ریحان نے کہہ کر اپنی جیکٹ کی پاکٹ سے کچھ کاغذ نکالے۔

“یہ ضروری ہے ارمینہ!”

ریحان کا لہجہ اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔

“ریحان! میری بات سنیں۔ “

ارمینہ نے ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ دو قدم پیچھے ہوگیا۔

“یہ حق مہر کا چیک ہے مینا! اور یہ اس گھر میں حصے کے پیپرز۔اپنا ہر فرض پورا کر کر جارہا ہوں۔ “

“ریحان نہیں!!۔۔۔”

“امی چاہتی تھیں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں لیکن میں نہیں رہ پا رہا ارمینہ! میں تھک گیا ہوں ایسی زندگی جیتے جیتے، مجھے تم نہیں چاہیئے تھیں اپنی زندگی میں لیکن مجبور ہو کر مجھے یہ کرنا پڑا۔ میں نے بہت کوشش کی مینا اس رشتے کو قبول کرنے کی لیکن یہ دل تمہیں قبول نہیں کر پارہا۔پچھلے چھ ماہ سے میں نے ہر ممکن کوشش کی تھی تم سے محبت کرنے کی،مگر میں نہیں کرسکا۔ دل پر زبردستی نہیں چلتی مینا!’

ریحان بول رہا تھا اور ارمینہ شل سی کھڑی تھی۔

“میں تمہیں ابھی طلاق دے کر نہیں جا رہا لیکن یہاں سے جا کر تمہیں آزاد کر دوں گا۔مجھے معاف کر دینا ارمینہ!”

ہر بات کا جواب رکھنے والی وہ لڑکی آج چپ تھی۔اس کے الفاظ تو جیسے ختم ہی ہوگئے تھے۔وقت بدل گیا تھا،اس کی فیلنگز بدل گئی تھیں لیکن سامنے کھڑا شخص سرتاپا وہی تھا جو چھ ماہ پہلے تھا۔وہ اس پر طنز کرتی تھی۔اس کے چپ رہنے پر گونگے ہونے کا طعنہ دیتی تھی،لیکن آج جب اپنے الفاظ سے وہ صور پھونک کر جاچکا تھا،تو اس کے الفاظ اس کو شل کر گئے تھے۔

اس نے کیسے کہہ دیاتھا کہ ان چھ ماہ میں اس کے جذبات اسے لے کر نہیں بدلے۔کیا ایک پل کے لیے بھی اس کے دل میں کوئی جذبہ نہیں ابھرا۔تو پھر وہ کیوں محبت کر بیٹھی تھی اس سے؟

پیپرز اس کے ہاتھ میں پکڑا کر وہ اپنا بیگ اٹھا کر کمرے سے نکل گیا تھا۔ پیچھے وہ خالی ہاتھ رہ گئی تھی۔

ہاتھ میں پکڑا لفافہ جیسے ہی زمین بوس ہوا تھا وہ بھی نیچے بیٹھتی چلی گئی۔

اسی کمرے میں وہ اسے زلیل کرتی تھی،اور آج یہیں وہ اس کی محبت کو سنے بنا اسے دھتکار کر چلا گیا تھا۔انازادی تھی وہ انا مار کر آج جھکنے چلی تھی مگر وہ تو اسے زمین پر پٹھک گیا تھا۔

روح تک چھائے ہوئے شخص تجھے لگتا ہے

تجھ سے دستبردار ہوئے تو جی پائیں گے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *