Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 02)

Anazadi by Noor ul Huda

وہ اکیلا چھت پر موجود تھا۔نیچے اس کے سب اپنے موجود تھے،لیکن وہ چاہ کربھی ان سے گھل مل نہیں سکتا تھا۔اس کی نیچر ان سب سے الگ تھی۔وہ جلدی فرینک نہیں ہوتا تھا،وہ باتونی بھی نہیں تھا۔اپنی زندگی کے ستائیس سال اس نے اس کے گھر کے کسی فرد کو نہیں دیکھا تھا۔اپنے والد کے منھ سے ان کا ذکر ضرور سنتا تھا۔عباد صاحب کی اچانک وفات اس کےلیے گہراجھٹکا ثابت ہوئی تھی۔وہ تواپنے ماں باپ کو اللہ کا گھر دیکھانا چاہتا تھا،لیکن قسمت نے انہیں یہ موقع نہیں دیا۔اس کے تایااور چچا نے اسے گلےلگا کر اس کا دکھ بانٹا تھا۔اس کی ماں عدت میں تھی،جن کی ضد پر وہ اسے اس گھر میں لایا تھا،وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارنا چاہتی تھی،لیکن اصل وجہ تو عباد کی خواہش تھی جو انہیں یہاں لے آئی تھی۔

“ریحان بھائی!”

شمشیر کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تھا۔

“آجائیں آپ کا بستر ہمارے کمرے میں لگا دیا ہے۔”

بیس سالہ شمشیر جو قد کاٹ میں تو اس سے کم تھا لیکن چہرے کی سفید رنگت اسے جازب نظر بناتی تھی۔اس کے بتانے کے انداز سے ریحان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کمرہ شیئر کر کر بالکل خوش نہیں تھا۔آج تو اس کی مجبوری تھی لیکن کل کے بارے میں وہ سوچ چکا تھا۔وہ شمشیر کے ساتھ نیچے آیا تو اس کا سامنا ایک بار پھر ارمینہ سے ہوا تھا جو ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے کھڑی تھی۔ارمینہ کے چہرے پر بے زارگی تھی جبکہ ریحان کا چہرہ ہر تاثر سے پاک۔وہ منہ بگاڑتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔

“چاچو کے کمرے پر اس چڑیل کا قبضہ ہے۔”

شمشیر نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا تھا اور آگے بڑھ گیا تھا۔اس نے ارمینہ کے عقب میں دیکھا تھا،اس کے باپ کا کمرہ اس گھر میں موجود تھا لیکن اس کی ماں اپنی عدت وہاں نہیں گزار سکتی تھی۔اس کے دل میں کچھ چھبا تھا شاید اس کی ماں کی توقعات زیادہ تھیں یا پھر وہ ہی غلط تھا۔

************

کچھ دیر پہلے ہی مبینہ بیگم ساری رسموں کے بعد اسے کمرے میں چھوڑ کر گئیں،ساری ہدایات اسے دینے کے بعد وہ اس کے ماتھے پر پیار کر کر چلی گئی تھیں۔اجیہ نے ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا تھا۔سرخ جوڑے میں وہ زیورات سے سجی خود کو بھی پیاری لگی تھی ۔اس نے خود ہی شرما کر سر جھکا لیا تھا۔چہرے پر گھونگٹ ڈال کر وہ واسع کا انتظار کرنے لگی۔شادی کے ہنگاموں میں وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی۔اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ایک گھنٹہ ہو گیا تھا لیکن واسع ابھی تک نہیں آیا تھا۔اس نے بیڈ کرواؤن سے ٹیک لگا لی تھی۔ نیند جیسی ہی حاوی ہوئی وہ آنکھیں موند گئی۔ خود پر کچھ پھینکے جانےپر اس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ اس نے ایک نظر سامنے غصے میں کھڑے واسع کو دیکھا اور پھر اپنی گود میں پڑے عبایا کو۔

“پہنو اسے۔ “

وہ یک دم غصے سے بولا تو اجیہ اپنی جگہ پر اچھلی تھی۔

“واسع! آپ۔۔۔۔۔۔”

“جو کہا ہے کرو۔ ۔۔”

اسے بولنے کا موقع دیے بنا وہ پھر سے بولا تو اجیہ اس کا غصہ دیکھ کر ڈر گئی۔

“آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ “

اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو وہ اس کے پاس آیا۔

“کیونکہ میرا کردار بہت ہی برا ہے ،میری نظریں پاک نہیں ہے۔ “

دانت چبا کر بولتا وہ اجیہ کو سن کر گیا تھا۔

“واسع! “

اس نے دکھ سے پکارا تو واسع ہنسا۔

“تم نے کہا شادی سے پہلے بات نہیں، ملاقات نہیں، شاپنگ تک پر تم نہیں مانی، تمہاری ان چند باتوں نے متاثر کیا تھا مجھے یہی وجہ تھی جو بنا تمہیں دیکھے اس شادی کے لیے ہاں کی۔(وہ ہلکا سا مسکرایا تھا، اجیہ کے آنسو لگاتار بہہ رہے تھے) لیکن آج نکاح کے بعد بھی وہی گریز؟ “

“واسع !میں پردہ۔۔۔۔۔”

“شٹ اپ! تمہارا یہ سوکالڈ پردہ صرف مجھ سے تھا، میرا بھائی، تمہارے کزن کیا وہ سب محرم تھے تمہارے؟”

واسع کے چلانے پر اس نے روتے روتے نفی میں سر ہلایا۔

“اس گھر میں قدم رکھتے ہی تمہارا وہ پردہ اتر گیا، باہر جتنی رسم ہوئی آس پاس میرے سب کزن موجود تھے لیکن تمہیں صرف میرے سامنے آنے پر اعتراض تھا۔یہ کونسا پردہ تھا جس کی ہر شرط مجھ پر لاگو ہوتی تھی۔ میری نکاح میں موجود لڑکی کو صرف میرے چہرے دیکھنے پر اعتراض تھا لیکن باقی سب کے سامنے۔۔۔۔۔”

وہ آگے بول نہیں پایا تھاشاید بولنا نہیں چاہتا تھا، کمرے سے منسلک دروازہ کھولتا سیڑھیاں اتر گیا تھا۔ اس کے کمرے کے پچھلی جانب بیک ڈور تھا،وہ چلا گیا تھا اجیہ رو رہی تھی۔ واسع کی باتوں نے اسے شرمندہ کر دیا تھا، اپنے عبایا کو دیکھ کر اسے نفرت ہوئی تھی خود سے۔

*********

واسع واپس نہیں آیا تھا وہ روتے روتے فرش پر ہی سو گئی تھی۔ آنکھ کھلنے پر اس نے خالی کمرہ دیکھا، رات کا منظر ،واسع کے الفاظ یاد آتے ہی اس نے شرمندگی سے چہرہ چھپا لیا تھا۔ آنسو صاف کرتی وہ فریش ہونے چلی گئی تھی۔ واسع اس کا شوہر تھا ،اسے اس کو منانا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد وہ ہلکے سےکام والے فیروزی شلوار قمیض میں ہلکے سے میک اپ میں تیار کھڑی تھی۔ واسع ابھی تک نہیں آیا تھا۔ اسے عجیب لگ رہا تھا اکیلے نیچے جانا لیکن یہ سوچ کر واسع نیچے ہوگا وہ سر پر سلیقے سے ڈوپٹہ جمائے کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔ مبینہ بیگم اسے سیڑھیوں میں ہی مل گئی تھیں۔ گھر میں خاموشی تھی، شاید ان کے مہمان رات میں ہی جا چکے تھے۔ وہ سر جھکائے مبینہ بیگم کے پاس آئی تھی۔ انہوں نے محبت سے اسے ساتھ لگایا تھا۔ باہر سے آتے ارسم نے اس منظر کو دیکھ کر سیٹی بجائی تھی۔ مبینہ بیگم نے اسے مصنوعی۔ گھوری سے نوازہ تو ہنس دیا۔

“اجیہ بیٹا! واسع نہیں اٹھا ابھی تک؟ “

مبینہ بیگم کاسوال سن کر اس سر مزید جھک گیا تھا،اس میں ہمت نہیں تھی بتانے کہ واسع گھر پر نہیں ہے۔

“امی! آپ کو پتا تو ہے بھائی کا انہیں کریز ہے جاگنگ کا۔ جاگنگ پر گئے ہیں۔ “

ارسم نے اس کی مشکل حل کر دی تھی مگر اب اسے الگ ہی فکر ہوگئی تھی کہ وہ کچھ جانتا تو نہیں تھا؟

“یہ لڑکا بھی ناں! “

وہ نفی میں سر ہلاتی اجیہ کو ساتھ لیے آگے بڑھ گئی تھیں۔

“بھابھی! آپ کی وہ نک چڑھی کزن اتنی سڑی ہوئی کیوں رہتی ہے؟ “

وہ اس سے کچھ فاصلے پر صوفےپر بیٹھ گیا تھا۔مبینہ بیگم کچن کی جانب چلی گئی تھی۔

“ارمینہ کی بات کر رہے ہو؟ “

وہ فورا ہی پہچان گئی تھی۔ ارسم نے ہاں میں سرہلایا۔

“وہ تھوڑی ریزرو رہتی ہے۔ “

اجیہ نے مسکراتے ہوئے بتایا۔

“ریزرو نہیں انا کی دکان ہے چلتی پھرتی۔ “

ارسم نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا وہ ہنسی تھی۔ ہنستے ہوئے اس کی نظر دروازے میں کھڑے واسع پر پڑی۔ اس کے آنکھوں میں غصہ دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔ وہ اسے اگنور کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔

“تمہارا یہ سوکالڈ پردہ صرف مجھ سے تھا، میرا بھائی، تمہارے کزن کیا وہ سب محرم تھے تمہارے؟”

واسع کی بات یاد آتے ہی وہ اٹھ کر اس کے پیچھے گئی تھی۔ ارسم کندھے اچکاتا صوفے پر پھیل کر لیٹ گیا تھا۔

“واسع! میری بات سنیں!”

وہ اپنے کپڑے لے کر واش روم کی جانب بڑھا تھا جب اجیہ اس کے سامنے آئی تھی۔

“میرا ارادہ آپ کو دکھ پہچانے کا نہیں تھا واسع!۔۔مجھے لگا آپ کے گھر والوں کو برا لگے گا میرا سب سے منھ۔۔۔۔۔۔”

“میرے گھر والے تمہیں تمہارے پردے کے ساتھ قبول کر کر لائے تھے۔”

وہ اسے کہہ کر راستے سے ہٹاتا واش روم میں بند ہوگیا تھا۔ اجیہ بند دروازے کو دیکھ رہی تھی۔

**********

“ریحان کہاں ہے؟”

وہ لوگ ناشتے کی تیاری کر رہے تھے۔ آج ولیمے کے بعد انہوں نے عباد کے لیے خاص دعا کا احتمام کروایا تھا۔

“وہ تو چچی سے مل کر چلے گئے۔ “

رامین نے انہیں بتایا تو سب حیران ہوئے۔

“کہاں گیا وہ نیا کزن؟ “

ارمینہ جو خلاف توقع آج جلدی اٹھ گئی تھی، پراٹھے کا نوالا توڑتے ہوئے اس نے شمشیر سے پوچھا۔

“اپنا سامان لینے گئے ہیں، تم کمرہ خالی کرنے کی تیاری پکڑو۔”

شمشیر نے اسے چڑایا۔

“میں اپنا کمرہ کسی کو نہیں دوں گی۔ “

ارمینہ نے ہتھے سے اکھڑتے ہوئے کہا تو شمشیر آگ لگا اٹھ کر چلا گیا۔

“ابو! یہ کیا کہہ رہا ہے میں اپنا کمرہ خالی نہیں کروں گی؟ “

وہ ضدی انداز میں جاوید صاحب سے مخاطب ہوئی تھی۔

“آپ سے آپ کا کمرہ نہیں چھینا جائے گا، اس بارے میں آکر بات ہو گی، پہلے اجیہ کے سسرال ناشتے لے کر جانا ہے۔ “

جاوید صاحب نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ ارمینہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی، اس کا ارادہ نہیں تھا کمرے کو خالی چھوڑنے کا مگر اپنے نام پر وہ رکی تھی۔ کمرے میں سے راشدہ پھوپھو کی آواز آرہی تھی۔

“باجی! مسئلہ تو ارمینہ کے ماننے کا ہے وہ کبھی نہیں مانے گی۔”

رفعت بیگم نے کہا تو ارمینہ مزید سننے کے لیے آگے ہوئی۔

“اچھا خاصا کماتا ہے لڑکا!اس گھر میں بھی اس کا حصہ ہے، اجیہ خوش رہے گی، وہ سب آسائشیں دے سکتا ہے اسے۔”

راشدہ بیگم کی بات پر وہ چونکی تھی۔

“یہ کس کی بات کر رہی ہیں؟ “

اس نے خود سے سوال کیا۔

“میں جانتی ہوں باجی! ریحان مجھے بھی اچھا لگا ہے مگر بات تو ارمینہ کی ضد کی ہے وہ تو رضوان کو چھوٹا قد ہونے پر ذلیل کر چکی ہےاور ریحان کا سانولا رنگ۔ ۔۔۔”

وہ پریشانی سے بول رہی تھی جبکہ باہر کھڑی ارمینہ غصے سے پیچ وتاب کھا رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *