Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Episode 17) Part 2
Rate this Novel
Anazadi (Episode 17) Part 2
Anazadi by Noor ul Huda
وہ فرش پر بیٹھی تھی۔آنسو خشک ہوچکے تھے،ایک چپ تھی جو اس کو لگ چکی تھی۔پچھلے چھ مہینے میں گزرا ایک ایک پل فلم کی مانند آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔رفعت بیگم دروازہ کھول کر اندر آئیں تو ارمینہ کو ایسے دیکھ کر کھانے کی ٹرے بیڈ پر رکھ کر اس کے پاس آئیں۔
“ایسے کیوں بیٹھی ارمینہ؟اٹھو بیمار ہوجاؤ گی،ریحان کہاں ہے؟ “
رفعت بیگم کو اس کا بخار تیز ہوتا محسوس ہوا تھا۔
“وہ کہتا ہے وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تھا۔”
ویران آنکھوں سے انہیں دیکھتی وہ بولی تو رفعت بیگم کا دل گھبرایا تھا۔
“ارمینہ!!!”
“وہ چلا گیا امی! مجھے چھوڑ کر چلا گیا، وہ کہتا ہے مجبور تھا وہ۔۔۔۔۔”
ارمینہ نے نیچےپڑے کاغذات کی جانب دیکھا۔
“سب قرض اتار گیا امی وہ۔۔۔۔۔”
وہ ہنسی تو رفعت بیگم اٹھ کر کمرے سے نکل گئیں۔ارمینہ کھڑی ہوکر الماری کی جانب بڑھ گئی تھی۔ کچھ لمحے بعد جاوید صاحب رفعت بیگم کے ساتھ پریشان سے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
“مینا بچے! “
انہوں نے محبت سے اسے پکارا تھا۔
“ابو!ریحان نے جو نیا گھرلیا تھا آپ کو اس کا ایڈریس معلوم ہے؟”
ارمینہ کو نارمل دیکھ کر رفعت بیگم بھی حیران ہوئی تھیں۔
“وہ مجھ سے ناراض ہو کرچلا گیا ہے ابو،آپ مجھے اس کے پاس چھوڑ آئیں گے؟ “
بیگ کی زپ بند کرتی وہ جھجکتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ جاوید صاحب کچھ حد تک مطمئن ہوگئے تھے۔ رفعت بیگم کو تسلی دے کر وہ ارمینہ کو ساتھ لیے باہر کی جانب بڑھ گئے تھے۔
ضد تیرے تبسم پہ وار دی ھم نے
جو چاہے سلوک کر! انا مار دی ھم نے۔
**********
“تم جاؤ آزاد!میں بالکل ٹھیک ہوں۔ “
ریحان نے اپنی فائل اس سے لیتے ہوئے کہا۔
“ریحان!ہم کل ہی ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں۔ اس کا علاج ہوتا ہے۔بس ایک چھوٹی سی سرجری ہوگی اور تم بالکل ٹھیک ہوجاؤ گے۔ “
آزاد جس طرح امید بھرے انداز میں بول رہا تھا ریحان مسکرایا تھا۔
“تم بھی انکل کی بات مان لو آزاد!چھوٹی سی سرجری ہوگی بس۔ “
ریحان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“تم جانتےہو ریحان! میری سرجری خطرناک ہے،ففٹی پرسنٹ چانسسز ہیں زندگی کےاور زندگی کیسی ہوگی یہ بھی نہیں جانتا۔ کم از کم ابھی تو میں وہ کر سکتا ہوں جو کرنا چاہتا ہوں۔”
آزاد نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔
“رسک تو لینا پڑے گا آزاد! “
“تم لو گے رسک؟”
آزاد نے فورا پوچھا تو ریحان نے ہاں میں سر ہلایا۔
“سچ میں؟”
آزاد خوش ہوا تھا۔ ریحان اسے بتا نہیں سکا تھا کہ اس کے پاس تو دس پرسنٹ چانسسز بھی نہیں تھے کامیابی کے مگر ایک امید کے ساتھ وہ سرجری کے لیے تیار ہوا تھا۔
“میرا ایک کام کرو گے آزاد؟ “
ریحان کےپوچھنے کا انداز آزاد کو عجیب لگا تھا۔
“اگر سرجری کامیاب نہ ہوئی تو اس گھر کے پیپرز اور میری باڈی۔۔۔۔”
“اچھا!اب چلو تم۔۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے۔”
آزاد نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔
“وصیت سمجھ لو اسے میری آزاد! “
ریحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا۔
“تم بہت سنگ دل ہو ریحان!جا کر اپنی بیوی کو لیکر آؤ۔”
“زندگی مل گئی تو اسی کی ہی ہوگی مگر اس وقت اسے تکلیف سے نہیں گزار سکتا میں۔ “
ریحان پلٹ گیا تھا۔ آزاد اس کے پیچھے جانے لگا تو اس کا فون رنگ ہوا۔ جہانگیر صاحب کی کال دیکھ کر ایک جانب چلا گیا تھا۔جب اس کے پیچھے سے گزر کر ارمینہ گھر میں داخل ہوئی تھی اور اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر دیا تھا۔ آزاد نے بند دروازے کو دیکھا تو حیران ہوا،پھر جاوید صاحب کو گیٹ سے اندر آتے دیکھا۔
“آپ۔۔۔؟”
آزاد نے فون بند کرتے ہوئے پوچھا۔
“ریحان کا تایا ہوں میں۔”
“اندر۔۔۔۔؟”
“بیوی ہے اس کی۔”
جاوید صاحب نے اس کی سوالیہ نظروں کو دیکھتے اس کی بات کاٹی تھی۔
“انکل!آپ کا تھوڑا سا وقت مل سکتا ہے؟”
آزاد نے انہیں بتانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تو جاوید صاحب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔وہ انہیں اپنے ساتھ گھر سے باہر لے آیا تھا۔
*********
دروازہ بند ہونے کی آواز پر ریحان مڑا تھا،ارمینہ کو کڑے تیوروں کے ساتھ خود کو گھورتے پاکر وہ حیران ہوا تھا۔
“تم یہاں۔۔۔۔۔”
وہ آگے بڑھا تھا جب ارمینہ نے اپنا بیگ اس کی سمت اچھالا تھا۔
“سمجھتے کیا ہو خود کوہاں! میرا حق مہر مجھے دے کر تمہیں لگتا ہے تمہاری مجھ سے جان چھوٹ گئی؟”
ریحان بیگ کیچ کر چکا تھا اور حیرانی سے غصے سے آگ بگولا ہوتی ارمینہ کو دیکھ رہا تھا۔تبھی وہ آگے بڑھی تھی۔
“میرا نام لو ریحان!!!”
بیگ اس کے ہاتھ سے نیچے پھیک کر اس نے ریحان کا گریبان پکڑا تھا۔
“میرا نام لو ریحان!!”
اس کے گریبان پر گرفت مضبوط کرتی وہ ایک بار پھر بولی تھی۔
“مینا!!!”
ریحان نے جیسے ہی اس کا نام لیا تھا ارمینہ نے اس کا گریبان چھوڑا تھا۔ پھر آگے بڑھتی اس کے گرد حصار باندھ گئی تھی۔
“کیوں جھوٹ بولا ریحان؟کیوں انکار کیا محبت سے؟مینا ،ارمینہ کی کشمکش کیوں تھی ریحان؟”
وہ رو رہی تھی۔سوال کر رہی تھی۔ریحان کی آنکھیں بھی بھر آئیں تھی۔اس نے جیسے ہی ارمینہ کے گرد حصار باندھا تھا،اس کے آنسو نکلے تھے۔
