Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 13)

Anazadi by Noor ul Huda

میں روز اُس کو سمجھاتا ہوں عشق فانی ہے

وہ پھر سے خواب محبت کے بونے لگتی ہے

ایسی لڑکی سے کون بحث کا خطرہ مول لے

جو لاجواب ہو جائے__ ” تو رونے لگتی ہے!!

آزاد واش روم سے باہر نکلا تو اسے دبی دبی سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ کمبل میں لپٹا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔ وہ ٹاول پھینک کر فورا اس کی جانب لپکا تھا۔

“تم رو رہی ہو؟ “

آزاد نے کمبل چہرے سے ہٹاتے ہی جیسے ہی پوچھا تھا اس نے فورا اپنے آنسو صاف کیے تھے۔

“میرے سر میں درد ہے مجھے سونا ہے۔ “

بھاری ہوتی آواز کے ساتھ وہ چڑ کر بولی تھی۔تو آزاد ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا بخار چیک کرنے لگا۔ اسے بخار نہیں تھا۔آزاد کی تشویش تھوڑی کم ہوئی۔

“مجھے بتاؤ کیا بات پریشان کر رہی ہے؟”

آزاد نے نرمی سے پوچھا تھا۔

“مجھے جانا ہے یہاں سے۔ “

اس نے روتے روتے جیسے ہی کہا آزاد کے سارے الفاظ ہی گم ہوگئے تھے۔ وہ بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“تم بھی نہیں جانے دو گے ناں؟ میں نے کہا تھا مجھے نہیں کرنی شادی۔ چلے جاؤ یہاں سے۔ “

اس نے ہاتھ سے آزاد کو پیچھے دھکیلا تھا۔آزاد اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھ پکڑے تو وہ چھڑوانے لگی۔ آزاد نے پکڑ سخت کی تو تنگ آتی رونے لگی۔ آزاد نے اس کے ہاتھوں پر سر ٹکایا۔

“بہت محبت ہے تم سے، تم جانے کی بات کرتی ہو تو دھڑکن رکنے لگتی ہے۔ “

آزاد نے بولنا شروع کیا تو وہ رونا بھول کر اس کی بات سننے لگی۔

“تم میری دسترس میں ہو، میری ہو، مجھ سے یہ حق نہ چھینو کہ تمہیں اپنا نہ کہہ سکوں؟اپنی زندگی کی آخری سانس تک تمہارا رہنا چاہتا ہوں۔”

آزاد کے آنسو جیسے ہی اس کے ہاتھ پر محسوس ہوئے اس نے گھبرا کر ہاتھ پیچھے کھینچے تھے۔ وہ اس کے لیے رو رہا تھا یہ دیکھ کر اس کا دل گھبرا گیا تھا۔ آنسو صاف کرتا وہ مسکرایا۔

“میرے ساتھ چلو،جہاں کہو گی لے کر جاؤں گا لیکن واپس میرے پاس ہی آنا ہوگا۔ “

نرمی سے بات کرتے اس نے آخری میں جیسے اسے یاد دلایا تھا۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا تو آزاد آگے جھکا۔

“شش ش شرٹ! “

اس کے ہکلا کر کہنے پر آزاد اپنا سر کھجاتا کھڑا ہوگیا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھ کر واش روم کی سمت بھاگی تھی۔ آزاد مسکرا تھا ،دروازہ بند ہوتے ہی اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔

“تم آزمائش بنتی جارہی ہو اور میں ہارنے لگا ہوں۔ تمہارے بعد تو یہ موت کا ڈر بھی نہیں رہے گا۔”

دل میں سوچتا وہ اس سے مخاطب تھا۔

عکس عکس، گماں گماں، خیال سارے مسترد..

تو نہیں تو کچھ نہیں، سوال سارے مسترد.

*******

“ریحان!”

اس نے بیگ پیک کرتے ریحان کو پکارا۔

“ہمم!!”

مصروف انداز میں ہمم کرتا وہ ارمینہ کو چڑا گیا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے کپڑے چھینے۔

“میری بات کو جواب دو پہلے۔”

ضدی لہجے میں کہہ کر اس نے شرٹ بیڈ پر رکھی۔

“دادی کہتی تھیں اللہ کے گھر پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگو قبول ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔تو تم کیا مانگو گے؟ “

اس نے ہلکا سا ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

“ابو کی مغفرت اور اپنے گناہوں کی معافی اور۔۔۔۔۔”

“اور کیا؟ “

وہ چپ ہوا تو ارمینہ نے بے چینی سے پوچھا۔

“تمہاری خوشی۔ “

ارمینہ کی جانب دیکھ کر اس نے جیسے ہی کہا تھا ارمینہ گنگ رہی تھی۔ ریحان شرٹ بیگ میں رکھ کر بیگ بند کر کر اپنی باقی چیزیں سمیٹ رہا تھا جبکہ وہ ویسے ہی کھڑی تھی۔

******

شمیم بیگم کی عدت مکمل چکی تھی یہ قسمت ہی تھی یا اللہ کا بلاوا کہ انہیں ایک ہفتے بعد عمرے کے لیے نکلا تھا۔ کچھ ضروری چیزیں اور سب سے ملنے ملانے کے بعد وہ لوگ آج جارہے تھے۔ ارمینہ سب سے مل رہی تھی ریحان سامان کار میں رکھوا رہا تھا۔

“اللہ کے گھر جا رہی ہو بیٹا! اللہ سے اچھی اولاد کا سکھ مانگنا۔ “

رفعت بیگم نے کہا تو ارمینہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔

“ایسا کیا دیکھ رہی ہو، اپنے بچے نہیں کھلانے؟ “

رفعت بیگم کی بات سمجھتی وہ ہلکا سا شرمائی تھی۔

“بھابھی! خیر سے جانا اور خیر سے آنا۔ ہم سب خود آئیں گے آپ سب کو لینے۔ “

رفعت بیگم نے کہا تو شمیم بیگم مسکرائی تھی۔ رامین شمشیراور اجیہ بھی وہیں موجود تھے۔ سب نے بہت سی دعاؤں کے ساتھ انہیں رخصت کیا تھا۔ارمینہ نے چپ سادھ لی تھی۔ اس کے ذہن میں ہورہی کشمکش اسے الجھا رہی تھی۔ ائیرپورٹ تک کا سفر اس نے غائب دماغی سے طے کیا تھا۔ ریحان نے اس کے لیے دروازہ کھولا تو اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔اس نے ریحان کی جانب ہاتھ بڑھایا تو ریحان نے ہاتھ بڑھا اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ارمینہ نے اپنے سفید ہاتھ میں ریحان کا سانولہ ہاتھ دیکھا ،پہلی بار تھا جو اس نے رنگ کو نہیں ریحان کی دی اہمیت کو دیکھا تھا۔ کار کو پارکنگ میں چھوڑ کر وہ اگلے سفر کے لیے روانہ گئے تھے۔ ریحان نوٹ کر رہا تھا اس کی خاموشی کو مگر پوچھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

********

“یہ دیکھو! “

آزاد نے اپنی مٹھی اس کے سامنے کی۔

“کیا ہے اس میں؟ “

آزاد کے اظہار محبت کے بعد وہ اس سے سخت لہجے میں بات کرنا چھوڑ چکی تھی۔ آزاد نے پراسرار سا مسکرا کر مٹھی کھولی تھی۔ اس کے ہتھیلی پر رکھی نفیس اور باریک نوز پن دیکھ کر اس نے آئی برو اچکائے۔

“تمہارے لیے لایا ہوں۔ پہن لو پلیز؟ “

آزاد نے ریکویسٹ کرنے پر اس نے نوز پن اٹھا لی تھی۔ آئینے میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی پرانی نوز پن اتار کر آزاد کی لائی نوز پن ڈال لی۔ دھیرے سے چلتا آزاد اس کے قریب آیا۔ دونوں کندھوں سے تھام کر اس نے اسے اسٹول پر بیٹھایا۔وہ سمجھ نہیں پارہی تھی آزاد کے بی ہیور کو۔ جیسے ہی آزاد نے اس کا پاؤں اٹھا کر اپنے گٹنے پر رکھا اس نے مزاحمت کی۔

“پلیز! ؟؟؟”

آزاد کے لہجے میں نجانے ایسا کیا تھا کہ وہ کچھ بول ہی نہ پائی۔ آزاد نے پاکٹ سے پائل نکال کر اس کے پاؤں میں باندھی تو پائل دیکھ کراس کے آنسو خود بخود نکلے تھے۔

“مجھے لگا تھا یہ کھو گئی ہے۔ “

اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، لہجے میں خوشی ہی خوشی تھی۔

“یہ میرے پاس آگئی تھی جیسے تم۔۔۔۔۔۔۔”

آزاد آگے بول نہیں سکا تھا اس کی خوشی دیکھ کر وہ بار بار چھو کر پائل کو دیکھ رہی تھی۔

ہر بار وہ اپنی محبت کو آزماتا اور پھر تکلیف برداشت کرتا تھا۔ اس کی بیوی کو نوز پن سے زیادہ پائل عزیز تھی۔ وہ تلخ سا مسکراتا اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *