Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 11)

Anazadi by Noor ul Huda

کچن سے آتی گنگنانے کی آواز پر اس نے کچن کا رخ کیا تھا۔دروازہ کے بیچ و بیچ کھڑے ہوتے ہی اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔سارا کچن بکھرا پڑا تھا۔پیاز اور آلو چھلکے فرش کی دھول چاٹ رہے تھے۔سنک کےآس پاس برتنوں کا ڈھیر لگ چکا تھا۔برنر پر جا بجا گرے تیل ،سرکہ اور مصالحوں کے دھبے۔اس نے نفی میں سر ہلایا اور آگے بڑھی۔

“آپ کیا کر رہے ہیں؟”

اس نےآزاد کےکندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو وہ مڑا تھا۔

“ڈیڈ نے چیلنج دیا ہے مجھے،خاص ڈنر تیار کرنا ہے۔”

آزاد کا انداز جوشیلہ تھا۔

“آپ نے کچھ بنایا بھی ہے یا صرف پھیلایا ہی ہے؟”

اس نے کچن پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا تو آزاد کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ آئی۔

“سچ بتاؤں یا جھوٹ؟ “

“اپنی پلاننگ بتا دیں۔”

اس کے درست اندازے پر آزاد کامنہ کھل گیا تھا۔پھر اس نے سچ بتانا ہی ضروری سمجھا۔

“کھانا آرڈر کر دیا ہے، بہت زیادہ محنت کر کر کچن کا حال بھی درست کر دیا ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا یہاں کچھ نہیں بنا۔ “

اس نے بتا کرخود کو داد دی تھی جبکہ مقابل ہنستی چلی گئی تھی۔ آزاد اسے دیکھ رہا تھا جو شاید آج پہلی بار ہنسی تھی۔ ہنستے ہنستے وہ اچانک رونے لگی توآزاد کو اس کی فکر ہوئی۔اس نے۔اس نے آگے بڑھ کر پورے حق سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔

“آئی ایم سوری! “

کچھ پل بعد جیسے ہی وہ سنبھلی تھی، اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تھا۔ اس نے آزاد سے الگ ہوتے ہوئے کہا۔

“میں ہوں ہمیشہ تمہارے لیے۔ “

آزاد نے اسے یقین دلانا چاہا تھا جبکہ اس کا اپنا دل تیزی سے دھڑکا تھا اپنے اس وعدے پر۔ آیا وہ وعدے پر پورا اتر سکے گا یا نہیں۔

کہاں سے آئی تھی آخر, تیری طلب مجھ میں

خدا نے مجھ کو بنایا تو میں اکیلا تھا۔

***********

“ہمیں ابھی نہیں جا سکتے؟ “

وہ اس کے پاس بیٹھی ریکویسٹ کر رہی تھی۔ اس کا روز کا معمول بن گیا تھا، وہ کسی نہ بہانے ریحان کے قریب رہتی تھی۔ ریحان کم گو تھا اس کا فائدہ ارمینہ کو یہ تھا کہ وہ بنا کوئی بحث کیے اس کی بات مان لیتا تھا۔

“بیمار ہو جاؤ گی۔ “

ریحان نے سنجیدگی سے کہامگر ساتھ ساتھ وہ لیپ ٹاپ میں کھلی اپنی فائلز بند کر رہا تھا۔

“تم خدمت کر لینا میری۔ “

ارمینہ نے جیسے ہی کہا تھا ریحان نے اسے دیکھا تھا۔

“اب ایسے مت دیکھو،نیچے جا کر میرا نام نہیں لینا، میرا موڈ اچھا ہے، امی کے طعنے سن کر خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ “

اسے سب سمجھاتی وہ اٹھ کر الماری سے چادر نکال لائی تھی۔

“ایسے جاؤ گے؟سردی لگ جائے گی۔ یہ پہنو پہلے۔”

ریحان کو بنا جیکٹ کے باہر جاتے دیکھ کر اس نے ٹوکا تھا ،اور نہ صرف ٹوکا تھا بلکہ اس کے تکیے کے پاس رکھی جیکٹ لا کر اسے زبردستی پہنا بھی رہی تھی۔

“سیدھے ہو جاؤ ذرا؟ “

اس کا رخ اپنی جانب کرتی وہ جیکٹ صحیح کر رہی تھی۔

“نیچے آجاؤ۔”

پیچھے ہوتا ریحان کمرے سے نکل گیا تھا۔ ارمینہ مسکرائی تھی۔ ارمینہ نے نوٹ کیا تھا وہ رات میں دیر سے سوتا تھا، اور فجر سے پہلے ہی کمرے سے نکل جاتا تھا۔ سونے سے پہلے اس کا روز کا معمول تھا شمیم بیگم سے ملنا اور ارمینہ کو چند پل کے لیے دیکھنا۔ ارمینہ نہیں جانتی تھی،کہ اس کا یہ ڈرامہ مقابل کو کس دکھ سے دوچار کر سکتا ہے، فلحال وہ سب بھلائے صرف ریحان کو جھکانا چاہتی تھی۔

***********

“اچھا ریحان! تم صرف مجھے اور چچی کو کیوں لے جا رہے ہو؟ “

آئس کریم سے انصاف کرتی وہ بولی تھی۔

“امی اور بابا کے لیے سر پرائیز پلان کیا تھا، ان کی خواہش تھی یہ۔ لیکن۔ ۔۔۔۔۔”

یک دم وہ چپ ہوا تو ارمینہ نے اس کا چہرہ دیکھا۔ باپ کی یاد نے ریحان کے چہرے پر دکھ کی جھلک دیکھائی تھی جسے پر وہ جلد ہی قابو پا گیا تھا۔

“کچھ ردو بدل کرنے کے بعد تمہارے لیے بھی اپلائے کر دیا تھا، کیونکہ تم بھی میری ذمہ داری ہو۔”

ریحان کے جواب پر ارمینہ نے بے ساختہ اس کی جانب دیکھا تھا۔

“تم ذمہ داری پوری کر رہے ہو؟”

ارمینہ کو اس سے کسی اور جواب کی توقع تھی۔

“ذمہ داریاں نبھا کر شاید دلوں کا میل چھٹ جائے۔ “

ریحان نے بہت سوچ کر جواب دیا تھا۔ ارمینہ نے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر ہاتھ صاف کیا تھا جس پر آئس کریم پگھل کر بہہ گئی تھی۔

“تم صبح اتنی جلدی کیوں اٹھ جاتے ہو؟اور جاتے کہاں ہو؟ “

اس کے سوال پر ریحان کی گرفت اسٹیرنگ پر ڈھیلی ہوئی تھی۔ اس کے جواب دینے سے پہلے ہی اس کا فون رنگ ہوا۔

“خیریت؟ “

فون اٹھاتے ہی ریحان نے پوچھا تھا۔ میں کل آتا ہوں۔ “

اس نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔

“کہاں جانا ہے ؟کس کا فون تھا؟ “

ارمینہ نے اس کو پریشان دیکھ کر پوچھا۔

“اسلام آباد جانا ہے ،خالہ کا آپریشن ہے۔ “

ارمینہ کو سمجھ نہ آیا کہ آگے کیا کہے تو اس نے ہمم کہہ کر رخ سیدھا کر لیا تھا۔

**********

“تم بہت زیادہ خوددار ہو ریحان!”

وہ جہانگیر صاحب سے ملنے آیا تھا تاکہ ان سے دو دن مزید غیر حاضر کی بات کر سکے۔جہانگیر صاحب میٹنگ میں تھے جبکہ آزاد ان کے کیبن میں موجود تھا۔اس نے خود ہی بات شروع کی۔تھی۔

“یہ کوئی برائی تو نہیں ہے۔”

ریحان نے میگزین رکھتے ہوئے کہا۔

“برائی تو نہیں ہے لیکن تمہیں نہیں لگتا کبھی کبھی فیور لے لینا چاہیئے؟”

آزاد نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔

“احسان کا بدلہ چکانا پڑتا ہے۔شاید میں نہ چکا سکوں۔میں کسی پیشمانی کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکتا۔”

ریحان کے جواب پر آزاد نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔

“بالکل ڈیڈ کی طرح باتیں کرتے ہو تم ،وہ الگ بات ہے وہ صرف باتیں کرتے ہیں اور تم عمل بھی کرتے ہو۔”

آزاد کے رازداری سے بتانے پر ریحان مسکرایا تھا۔

“ریحان!ڈیڈ کا خیال رکھنا۔”

وہ یک دم سنجیدہ ہوتا بولا تو ریحان کی مسکراہٹ سمٹی۔

“ناامیدی گناہ ہے آزاد!”

“ناامید نہیں ہوں میں ریحان!لیکن ہوسکتا ہے میری زندگی اتنی ہی ہو؟”

آزاد نے سنجیدگی سے کہا۔

“اگر امید اور ناامیدی کی کشمکش میں پھنس رہے ہو تو دعا کا راستہ چن لو۔”

ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“کیا اپنی زندگی مانگنا صحیح ہے؟”

آزاد کا لہجہ عجیب تھا۔

“کیا جس نے زندگی دی ہے اس سے صرف موت مانگی جا سکتی ہے زندگی نہیں؟”

ریحان نے سوال کے بدلے سوال کیا تو آزاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔اسے سوال کا جواب مل گیا تھا۔

********

“تم اتنا سامان کیوں لے جارہے ہو؟”

ریحان نے ارمینہ کے سوال پر اپنے کپڑوں کو دیکھا۔تین سوٹ تھے جنہیں اتنا سامان کہا جارہا تھا۔

“دو تین دن لگ سکتے ہیں اس لیے۔”

“دو تین دن؟”

اس نے تینوں الفاظ پر زور ڈالتے ہوئے کہا۔

“شاید زیادہ بھی لگ جائیں۔”

ریحان نے عام سے انداز میں کہا۔

“آپریشن اتنے دن چلنے والا ہے؟”

اس نے طنزیہ پوچھا تو ریحان نے اچنبے سے اسےدیکھا۔

“امی نے گھر بیچنے کا کہا تھا۔وہ کام بھی ختم کرنا ہے،اس لیے زیادہ دن لگ سکتے ہیں؟”

بیگ بند کرتا وہ پوری وضاحت اسے دے چکا تھا۔

“یہ رکھ لو۔”

ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں تھما کر وہ آگے بڑھ گیا تھا۔چند قدم چل کر وہ رکا تھا۔

“مینا!”

ریحان نے اسے پکارا تو ارمینہ نے فورا اس کی جانب دیکھا تھا۔پہلی بار جو پکارا تھا۔

“امی کا خیال رکھنا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنا بھی۔”

وہ کہہ کر آگے بڑھا تو ارمینہ نے اسے پکارا۔

“جلدی واپس آنا۔”

ریحان ہاں میں سرہلاکر آگے بڑھ گیا تھا۔ارمینہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اپنی فیلنگز کو۔ریحان کے جاتے ہی اسے خالی کمرہ عجیب لگ رہا تھا۔وہ ریحان کے پیچھے باہر نکلی تھی۔جب تک وہ گھر کے دروازے سے باہر نہیں نکل گیا ارمینہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *