Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Anazadi (Last Episode)Part 2
Anazadi by Noor ul Huda
“آپی!”
رامین شمشیر کے ساتھ وہاں آئی تھی۔آزاد نے ہی انہیں بلایا تھا تاکہ وہ ارمینہ سے مل سکیں۔
“رامین!”
روتے روتے اس نے رامین کی آواز پر سر اٹھایا تھا۔
“کیا ہوا ہے آپی!آپ رو کیوں رہی ہیں؟”
وہ پریشان ہوتی اس کے پاس آئی تھی۔ارمینہ اس کے گلے لگ گئی تھی۔
“مجھے اپنے گھر جانا ہے،اس کے ساتھ نہیں رہنا۔”
وہ مسلسل رورہی تھی۔
“کس کی بات کر رہی ہیں آپ؟ کس کے ساتھ نہیں رہنا؟”
رامین نے پیچھے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“آز۔۔۔آزاد۔۔اس کے ساتھ نہیں رہنا۔”
“آپی!آپ کیوں کہہ رہی ہیں ایسے؟وہ محبت کرتے ہیں آپ سے۔”
“تم سمجھ نہیں کیوں نہیں رہی میری بات؟؟ مجھے جانا ہے یہاں سے۔”
وہ یک دم غصے سے بولی تھی۔اندر آتے جہانگیر صاحب ٹھٹک کر رکے تھے۔ارمینہ بھی انہیں دیکھ کر سر جھکا گئی تھی۔
“آزاد کہاں ہے؟”
ان کے پوچھنے پر بھی ارمینہ نے سر نہیں اٹھایا تھا۔جہانگیر صاحب کا فون رنگ ہوا تو آزاد کا نمبر دیکھ کر انہوں نے کال پک کی۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتے دوسری جانب سے ملنے والی خبر سے ان کے قدم لڑکھڑائے تھے۔
“انکل!”
خاموش کھڑا شمیشر ان کو لڑکھڑاتے دیکھ کر ان کی جانب لپکا تھا۔ارمینہ نے بھی سر اٹھایا تھا۔
“میرا آزاد!”
وہ ہولے سے بولتے الٹے قدم لیتے روم سے نکلے تھے۔
“ان کےساتھ جاؤ شمشیر دیکھو کیا ہوا ہے۔”
رامین نے تیز آواز سے کہا تو شمیشیر جہانگیر صاحب کے پیچھے بھاگا۔
“اللہ خیر کرے۔ “
رامین نے کہا تو ارمینہ نے اس کی جانب دیکھا۔
“آپی! وہ آزاد بھائی!!”
شمشیر ہانپتا ہوا روم میں داخل ہوا تھا۔ارمینہ کی گرفت چادر پر مضبوط ہوئی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟ وہ ٹھیک ہیں ناں؟ “
رامین بیڈ سے اتری تھی۔ شمشیر نے نفی میں سر ہلایا۔
“ایمرجنسی میں لے کر گئے ہیں انہیں۔”
شمشیر کی آنکھ میں آنسو آئے تھے۔ ارمینہ کے دماغ میں آزاد کی رپورٹس گھوم گئیں تھی۔ پھر اپنے کہے جملے یاد آئے تو آزاد کا چہرہ نظروں کے سامنے آگیا۔ اس کے چہرے کا دکھ،بے بسی جسے اس وقت اہمیت نہیں دی تھی اب گلٹ میں مبتلا کر رہی تھی۔ اس بار اس کی آنکھ سے نکلنے والا آنسو آزاد کے لیے تھا۔
تجھے ﯾﻘﯿﻦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ہے ﻣﮕﺮ ﯾﮩﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻋﻤﺮﯾﮟ ﮔﺰﺍﺭ سکتا ﮨﻮﮞ
ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﯿﺘﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺭ سکتا ﮨﻮﮞ
**********
“آپ نے کہا تھا وہ ٹھیک ہوگیا ہے تو اب پھر۔۔۔۔”
وہ رامین اور شمشیر کے ساتھ جہانگیر صاحب کے پاس آئی تھی جب ان کی بات سن کر اس کے قدم رکے تھے۔
“دیکھیئے جہانگیر سر! سرجری کامیاب تھی اس وقت لیکن اب ہارٹ صحیح سے باڈی کو سپورٹ نہیں کر رہا۔ انہیں شاید کوئی پریشانی ہے یا پھر جینے کی خواہش نہیں ہے۔ “
ڈاکٹر کی سخت بات پر جہانگیر صاحب اور ارمینہ دونوں کے دل دہل گئے تھے۔
“انکل!”
رامین نے جہانگیر صاحب کو سہارا دیا تھا۔انہوں نے ارمینہ کی جانب دیکھا تو اس کے پاس آئے۔
“تم جاؤ اس کے پاس بیٹا!وہ خود کو قصور وار سمجھتا ہے۔ اسے سمجھاؤ اس کی غلطی نہیں تھی،ریحان کا فیصلہ تھا وہ۔ “
ارمینہ کے سامنے بے بسی سے بولتے وہ اسے حیرانی میں مبتلا کر گئے تھے۔
“کونسا فیصلہ؟ “
اس نے بامشکل الفاظ منہ سے نکالے تھے۔
“آزاد بھائی کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا،ریحان بھائی نے سرجری سے پہلے وصیت کی تھی اگر انہیں کچھ ہوجائے تو ان کا ہارٹ آزاد بھائی کو دیا جائے۔ “
رامین کے انکشاف پر اس نے قدم پیچھے لیے تھے۔ نفی میں سر ہلاتی وہ مزید قدم پیچھے لے رہی تھی۔
“ریحان جان گیا تھا کہ آزاد جس لڑکی سے محبت کرتا ہے وہ تم ہو۔ “
جہانگیر صاحب کے منہ سے اگلا انکشاف سن کر اس کے قدم رکے تھے۔
***********
(ماضی)
دوا کے زیر اثر وہ سوجاتا تھا۔ اس نے ارمینہ کو بھی نہیں بتایا تھا کہ اس کی تکلیف بڑھ گئی تھی۔ جب تک وہ سوتا تھا تب تک ہی تکلیف سے بچا رہتا تھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے بڑھ گئے تھے۔ وہ امید باندھتا اور پھر ہارنے لگتا تھا۔ ارمینہ کی باتیں سنتے ہوئے وہ مسکراتا تھا لیکن اسے تکلیف ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا نہیں تھا زندگی اچانک سے اتنی مختصر ہوجائے گی۔ نیند میں کروٹ لیتے ارمینہ کےاس کے دل پر ہاتھ رکھا تو اس کی سوچ کا تسلسل ٹوٹا۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔ اس مسکراہٹ کا کرب وہ ہی جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا ارمینہ ڈرتی ہے تبھی اس کے ساتھ رہتی تھی۔ بیڈ دونوں کے لیے چھوٹا تھا لیکن وہ اسے اکیلا چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔ ریحان نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
“مجھے نہیں معلوم مینا!مجھے تم سے کتنی محبت ہے؟مانپنا شاید ممکن نہیں ہے۔میں اظہار کرنے سے ڈرتا ہوں مینا!اظہار کر دیا تو تمہارا دل میرا ہوجائے گا اور میں چلا گیا تو تم آگے بڑھ نہیں پاؤ گی۔”
ریحان کی آواز بہت آہستہ تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر ریحان نے فورا ارمینہ پر چادر ڈالی تھی۔ جہانگیر صاحب کو دیکھ کر ریحان حیران ہوا تھا۔جو صدیوں کے بیمار لگ رہے تھے۔ ریحان نے اٹھنے کی کوشش کی تو جہانگیر صاحب نے اسے روکا۔
“آپ تو لندن جانے والے تھے؟”
ریحان نے پوچھا۔
“نہیں جاسکے۔آزاد کی طبیعت بگڑ گئی اچانک سے۔”
جہانگیر صاحب بہت زیادہ پریشان تھے۔
“وہ ٹھیک ہے اب؟”
ریحان کے پوچھنے پر ارمینہ نیند میں ہی بڑبڑائی تو جہانگیر صاحب کا دھیان بھی اس کی جانب گیا۔لیکن انہوں نے زیادہ دھیان نہ دیا۔
“ریحان اسے سمجھاؤ۔وہ میری بات نہیں مان رہا۔اس کی حالت بہت خراب ہے۔اس کا دل بہت کمزور ہوچکا ہے۔ہارٹ ٹرانسپلانٹ ہی واحد حل ہے اور وہ منع کر رہا ہے۔”
“کیوں منع کر رہا ہے؟”
ریحان نے بیڈ سے اترتے ہوئے پوچھا۔
“یہی تو سمجھ نہیں آرہا وہ کیوں منع کر رہا ہے۔”
جہانگیر صاحب نے اسے سہارا دیتے ہوئے کہا۔
“وہ یہیں ہے؟ “
ریحان نے پوچھا تو انہوں نے ہاں میں سر ہلایا۔
“مجھے اس کے پاس لے چلیں۔ “
ریحان نے سوئی ہوئی ارمینہ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ جہانگیر صاحب اسے سہارا دیتے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
آئی سی یو کی وحشت ناک خاموشی اور بیڈ پر لیٹا آزاد ،ریحان کو آنے والے وقت نہیں ڈرایا تھا۔وہ آہستگی سے چلتے ہوئے آزاد کے پاس آیا تھا۔اندر آنے کی اجازت صرف ایک شخص کو تھی اس لیے جہانگیر صاحب باہر ہی رک گئے تھے۔
“آزاد!!”
ریحان نے اسے پکارا تو آزاد نے آنکھیں کھولیں۔چہرے پر تکلیف کے آثار ابھرے تھے۔
“تم اپنے ڈیڈ کی بات کیوں نہیں مان رہے؟”
دونوں ہی تکلیف میں تھے اور ایک دوسرے کو تکلیف سے نکالنا چاہتے تھے۔
“میں۔۔۔۔اسے کیسے نکال دوں۔۔۔ریحان!۔۔۔وہ اس دل میں۔۔۔۔۔۔بستی ہے۔اگر یہ۔۔۔۔دل ۔۔۔۔۔چلا گیا تو۔۔۔۔۔”
آزاد کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا۔
“محبت کرتے ہو کسی سے؟”
ریحان نے پوچھا تو آزاد ہلکے سے سر ہلایا۔
“اس کے لیے ہی کر لو یہ۔”
ریحان نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“اسے اس دل میں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔”
آزاد کے لہجے میں ضد تھی۔
مجھے تمہاری جدائی کا ، کوئی رنج نہیں
میرے خیال کی دُنیا میں ، میرے پاس ھو تم
یہ تم نے ٹھیک کہا ھے ، تمہیں مِلا نہ کروں
مگر مجھے یہ بتا دو ، کہ کیوں اُداس ھو تم
خفا نہ ھونا ، میری جرأتِ تخاطب پر
تمہیں خبر ھے ، میری زندگی کی آس ھو تم ؟؟
“ساحر لدھیانوی”
“اسے بلا لو یہاں۔”
ریحان نے کہا۔
“نہیں جانتا کون ہے۔”
آزاد نے مسکراتے ہوئے کہا تو ریحان کو حیرت ہوئی۔
“اگر وہ آکر کہے تو مان لو گے اس کی بات؟”
“ریحان!”
آزاد بولنا چاہتا تھا مگر تکلیف برداشت کرتا چپ ہوا تھا۔
نرس اندر آتی ریحان کو جانے کا اشارہ کر چکی تھی۔ریحان دھیرے سے اٹھتا وہاں سے باہر آگیا تھا۔
“آپ جانتے ہیں اس لڑکی کے بارے میں؟”
ریحان کے سوال پر جہانگیر صاحب کے لب سلے تھے۔
“اسے بلا لیں۔”
ریحان سمجھ گیا تھا وہ جانتے ہیں سب۔
“وہ نہیں آئے گی۔”
جہانگیر صاحب کی بات پر اس کے بڑھتے قدم رکے۔
“کیوں؟”
اس نے پوچھا تو جہانگیر صاحب نے آزاد کے فون کی اسکرین اس کی سامنے کی جہاں ارمینہ کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ریحان نے بے یقینی سے انہیں دیکھا تھا۔
دھند چھٹتی ہوئی منظر سے نکلتے ہوئے تم
نقش ابھرتے ہوئے پتھر سے نکلتے ہوئے تم
اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھتا ہوا میں
اور پھر میرے مقدر سے نکلتے ہوئے تم
آیتِ عشق اترتی ہوئی دل پر میرے
اور ہر لفظِ منور سے نکلتے ہوئے تم
اپنے گمنام اندھیروں میں سمٹتا ہوا میں
چاہنے والوں کے لشکر سے نکلتے ہوئے تم
********
“کہاں چلے گئے تھے تم؟ “
اس کے روم میں داخل ہوتے ہی وہ پریشان ہوتی اس کے پاس آئی تھی۔
“باہر ٹہلنے گیا تھا۔ “
چہرے پر مسکراہٹ سجائے ریحان نے اس کے بازو کا سہارا لیتے ہوئے بتایا۔ ارمینہ کے چہرے پر خفگی آئی تھی۔
“لاپرواہی مت کیا کرو ریحان! “
اس کے بازو پر گرفت مضبوط کرتی بولی تو ریحان اس کے لہجے میں چھپا خوف محسوس کر کراسے ساتھ لگائے تسلی دینے لگا۔
“میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا مینا! اسے محسوس کرو۔ “
اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ وہ اسے اپنی دھڑکن کا گواہ بنا رہا تھا۔
“یہ میرا نام لیتی ہیں۔ “
اترا کر کہتی وہ اسے ساتھ لیے بیڈ تک آئی تھی۔ ریحان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“تم مجھے ایسے کیوں دیکھتے ہو جیسے۔۔۔”
وہ جملہ مکمل کرنے سے ڈری تھی۔
“تمہیں پوری طرح اپنی نظروں میں بسا لینا چاہتا ہوں۔”
ریحان کا جواب بے ساختہ تھا۔ ارمینہ اس کے پاس بیٹھ گئی تھی۔
“تم چپ رہا کرو ریحان! تمہاری باتیں ڈراتی ہیں مجھے۔ “
ارمینہ نے اس کے کندھے سےسر ٹکاتے ہوئے کہا۔
“مجھے ہر گزرتا لمحہ ڈراتا ہے مینا! “
وہ دل ہی دل میں بولا تھا۔
“تمہیں ہمیشہ میرے پاس رہو گے ناں ریحان؟”
کچھ دیر بعد اس کی سرجری تھی۔وہ جانتی تھی ریحان ٹھیک نہیں ہے اس لیے ڈر رہی تھی۔بار بار پوچھ کر اپنی امید کو مضبوط کر رہی تھی۔
“میں ہمیشہ تمہارے ساتھ اور پاس رہوں گا۔”
ارمینہ کا ہاتھ اب بھی اس کے دل پر تھا۔
“تم جانتے ہو سب مجھے انازادی کہتے ہیں،لیکن میری محبت انازادی ہے ریحان!اس نے تمہیں چنا ہے اور تمہارے علاوہ یہ کسی کو نہیں چنے گی۔مجھے چھوڑ کر کبھی نہ جانا ریحان!”
وہ بول نہیں رہی تھی لیکن ریحان اس کی سوچ پڑھ چکا تھا۔اس نے ارمینہ ہر گرفت مضبوط کی تھی۔
********
“ریلیکس ریحان!یو ہیو ٹو بی اسٹرانگ۔یو ول بی فائن۔”
آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اسے تسلی دی تھی۔اسے بے ہوش کرنے کے لیے جیسے ہی انجیکشن لے کر ڈاکٹر اس کے قریب آیا ریحان نے ان کا ہاتھ پکڑا۔
“کتنے پرسنٹ چانسسز ہیں ڈاکٹر؟”
وہ حقیقت نہیں جھٹلانا چاہتا تھا۔
“اللہ پر بھروسہ رکھو ریحان!”
ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“اگر مجھے کچھ ہوجائے تو۔۔۔۔۔”
اچانک ہی تکلیف برداشت سے باہر ہوئی تھی۔
“آزاد۔۔کو۔۔۔۔۔میرا دل۔۔۔”
“ریحان ریلیکس!!”
ڈاکٹر اسے ہائپر نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔
“اسے کہیے گا۔۔۔۔۔۔ اس کی محبت ۔۔۔۔اس کے دل سے کہیں۔۔۔۔۔ نہیں جائے گی۔”
انجیکشن لگتے ہی اس کی آنکھیں بند ہونا شروع ہوئی تھیں۔وہ نہیں جانتا تھا کہ اس بار وہ آنکھیں کھول نہیں پائے گا۔ڈاکٹر اس کی ہارٹ بیٹ نارمل ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ آپریشن شروع کیا جاسکے۔کچھ وقت گزرا جیسے ہی انہیں سب نارمل ہونے کا سگنل ملا وہ آپریشن شروع کر چکے تھے۔آپریشن رسکی تھا لیکن ابھی کرنا ضروری تھا۔
“بھولنا مت ریحان!صرف مینا تمہاری دوست ہے۔”
باپ کی بات اس کے دماغ میں گونجی تھی۔
“یہ شادی بہت مہنگی پڑے گی تمہیں۔”
ارمینہ کا چہرہ ابھرا تھا۔
“اب تو مجھے معلوم ہوگیا ہے تم گونگے نہیں ہو تو بول ہی دو کچھ۔اور ویسے اب ہماری دوستی ہوگئی ہے تو اس لیے تمہارے لیے بھی بنا دی چائے۔اب پکڑو اسے۔”
“چپ کرو تم!تم گونگے ہی اچھے لگتے ہو۔تمہارے الفاظ دل تو نہیں توڑتے۔”
ارمینہ کی ابھرتی آوازیں ریحان کے جسم کو جھٹکے لگنا شروع ہوئے تو ڈاکٹر اور عملہ پریشان ہوگیا تھا۔
“تمہیں ہمیشہ میرے پاس رہو گے ناں ریحان؟”
آخری جملہ تھا اور آخری سانس تھی۔سب ساکت ہوگیا تھا۔ایک آخری آنسو تھا جوریحان کی بند آنکھ سے نکلا تھا۔
ہر طرح سے تصدیق کے بعد اب ڈاکٹر کو اس کی وصیت پر عمل کرنا تھا۔انہوں نے باہر آکر یہ بات جاوید صاحب کو بتائی تھی۔ارمینہ کی بے ہوشی کے بعد وہ سوچتے رہے کہ کیا کریں پھر ریحان کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر کو اجازت دے دی تھی۔
آزاد کی بگڑی حالت کے زیر اثر ہی اسکا آپریٹ کیا گیا تھا۔جب اسے ہوش آیا تو اس نے ریحان کا پوچھا تھا۔ریحان کےبارے میں سن کر وہ کئی دن افسردہ رہا تھا۔ریحان نے اسے دل دیا تھا یہ بات اسے اس کے گھر والوں کے سامنے شرمندہ کرتی تھی۔جاوید صاحب آتے تھے اس سے ملنے۔ریحان کے دل کی وجہ وہ اسے ریحان کی طرح ہی عزیز ہوگیا تھا۔ڈاکٹر نے آزاد کو ریحان کی آخری وصیت بتائی تھی جو وہ اس وقت سمجھا جب اس نے ارمینہ کو اس کی بیوہ کے روپ میں دیکھا۔وہ گلٹ میں رہنے لگا تھا۔ارمینہ سے شادی کرنے بعد وہ گلٹ مزید بڑھ گیا تھا۔
********
(حال)
“آپ چاہتی تھیں ناں ریحان بھائی آپ کے ساتھ رہیں؟وہ آپ کے پاس ہی ہیں آپی!انہیں روک لیں۔ورنہ ایک بار پھر آپ انہیں کھو دیں گی۔”
رامین کے جھنجوڑنے پر ارمینہ نفی میں سر ہلاتی ایمرجنسی کی طرف بھاگی تھی۔مختلف مشینوں میں جکڑے آزاد کو دیکھ کر وہ آگے بڑھی تھی۔
تمھارے واسطے کچھ بھی نہیں بچھڑ جانا
کہ جانتے نہیں تم سانس کا اکھڑ جانا
درختوں کا ہے الگ درد اور میرا الگ
ہمارے درمیاں بس مشترک ہے جھڑ جانا
“نہیں جاؤپلیز! “
اس کے پاس بیٹھی وہ التجا کر رہی تھی۔ سامنے مشینوں میں جکڑا وجود شاید اس کی التجائیں سن نہیں پا رہا تھا۔ اسے اس طرح روتے دیکھ کر نرس کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں۔
“کبھی جانے کا نہیں کہوں گی۔نفرت نہیں کروں گی۔”
اس کے دل پر ہاتھ رکھتی وہ مسلسل رو رہی تھی۔
“مت جاؤ!مجھے اکیلا مت کرو۔ میں کبھی منہ نہیں موڑوں گی۔ “
وہ جیسے آج خود سے ہار گئی تھی۔اس کا کانپتا ہاتھ اور ٹوٹا ہوا لہجہ بھی آزاد کے وجود میں جنبش پیدا نہ کر سکا۔
“تم بھی جھوٹ بولتے تھے،مجھے چھوڑ کر جانا چاہتے ہو؟”
وہ ہلکے سے غصے سے بولی تو نرس آگے بڑھی۔
“میم! آپ باہر چلیں۔”
نرس اسے زبردستی اپنے ساتھ باہرلے جا رہی تھی۔
“نرس! میرا بیٹا ٹھیک ہے؟ “
جہانگیر صاحب آگے بڑھے تھے۔
“ان کا دل آہستہ آہستہ ریسپانڈ کرنا بند کر رہا ہے۔”
نرس کی بات پر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
ملنے لگتا ہے جب کسی کی رفاقت میں سکون!!
پھر یوں ہوتا ھے! کہ وہ شخص بچھڑ جاتا ھے۔
اندر مانیٹر پر ہونے والی بیپ پر نرس اندر بھاگی تھی پھر فورا ڈاکٹر کو بلانے باہر آئی تھی۔
“کیا ہو رہا ہے؟”
جہانگیر صاحب پریشان ہوئے تھے۔رامین نے ارمینہ کو فرش سے اٹھایا تھا۔
آپ رکیں پلیز!”
ڈاکٹر کہہ کر اندر چلا گیا تھا۔باہر وہ مسلسل دعا کر رہے تھے آزاد کے لیے اور اکیلے نہیں جو اس کی زندگی مانگ رہے تھے۔
ڈاکٹر کے باہر آنے پر ان کی سانس اٹکی تھی۔
“ہی از فائن مسٹر جہانگیر!آئی تھنک ہی از فائٹر!”
وہ مسکراتے ہوئے بول رہے تھے جہانگیر صاحب نے فورا اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔
