Anazadi by Noor ul Huda NovelR50549 Anazadi (Episode 04)
Rate this Novel
Anazadi (Episode 04)
Anazadi by Noor ul Huda
موسم کی بڑھتی خنکی آس پاس کے درختوں پر اثر انداز ہورہی تھی۔خزاں کا موسم شروع ہوچکا تھا۔درختوں سے پتے جھڑ رہے تھے ،وہیں ایک جانب ان پتوں کے گرنے کے منظر سے لطف اندوز ہوتا آزاد اپنی جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتا ہوا چل رہا تھا۔چہرے کی مسکراہٹ میں وہ چمک نہیں رہی تھی جو کچھ سال پہلے ہوتی تھی لیکن نہ اس نے پہلے خود کو ظاہر ہونے دیا تھا نہ ہی اب اس کا ایسا کوئی ارادہ تھا۔وہ پارک کے ایک سنسان گوشے میں بیٹھ گیا تھا،نظر سامنے درخت پر تھی۔جو اپنی لمبائی کے حساب سے وہاں موجود سب درختوں سے اونچا تھا۔جیسے ہی تیز ہوا کا جھونکا آیا اس درخت کے زرد پتے ٹہنیوں کا ساتھ چھوڑتے ہوئے نیچے گرنے لگے تھے۔آزاد کی نظروں نے ان پتوں کا پیچھا کیا تھا۔یک دم ہی وہ ساکت ہوا تھا۔پارک میں بنے راستے پر نارنجی لباس پہنے ایک لڑکی اسکیٹنگ بورڈ نیچے رکھ رہی تھی۔وہ دم بخود سا اسے دیکھ رہا تھا۔اسے اس پر کسی کا گمان ہوا تھا۔وہ سیدھی ہوئی تو اس کا چہرہ بھی واضح ہوگیا ۔وہ ٹرانس کی کیفیت میں کھڑا ہوا ۔وہ لڑکی ا ب سکیٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ناکام ہورہی تھی۔پھر اس کی چار بار کی کوشش رنگ لائی تھی،وہ کچھ دور ہی آئی تھی کہ بیلنس برقرار نہ رکھ پائی اور نیچے گری تھی۔آزاد اس کی جانب بڑھا تھا مگر اسے رکنا پڑا۔وہ لڑکی رونا شروع ہوچکی تھی۔ یہ رونا نیچے گرنے،اور چوٹ لگنے کا نہیں تھا،آزاد کو یہی بات حیران کر گئی تھی۔اپنے پتوں کو خود سے جدا ہوتے دیکھ روتا ہوا ایک درخت اور نیچے بیٹھی کسی کو یاد کرتی وہ لڑکی،آزاد کو ایک سے معلوم ہو رہے تھے۔پھر وہ لڑکی اٹھی اور وہاں سے بھاگ گئی۔آزاد اس کی چھوڑی جگہ پر آیا تھا ،اسکیٹنگ بورڈ اٹھا کراب وہ اس لڑکی کے نہ نظر آنے والے قدموں کے نشانات کو دیکھ رہا تھا۔
*********
اس کے کمرے کا دروازہ بار بار بج رہا تھا مگر ارمینہ تھی کہ اٹھ ہی نہیں رہی تھی۔باہر پوری شدت سے دروازہ کو توڑنے کی کوشش کی گئی توارمینہ کی آنکھ کھلی۔ارد گرد نظر دوڑا کر وہ اٹھ کر بیٹھی۔گھڑی میں بارہ کا ہندسہ عبور ہو چکا تھا۔دروازہ ایک بار پھر بجا تو بیڈ سے اتری۔
“کیا ہے؟”
دروازہ کھولتے ہی اس نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں پوچھا۔
“گھر کی دلہن صاحبہ ! ابو نے تمہیں یاد فرمایا ہے۔”
شمشیر کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا وہ منہ بناتی دروازہ بند کر کر مڑی تھی۔
“گھر کی دلہن!!”
شمشیر کا جملہ یاد آتے ہی اس کی آنکھیں پوری کھلی تھیں۔میری شادی ہوگئی اور وہ بھی اس—–“
سب یاد آتے ہی اس نے کھڑکی کے پاس دیکھا جہا ں کچھ بھی نہیں تھا،ریحان بھی نہیں ۔پھر اس نے باقی کمرے کو دیکھا جو صاف تھا ۔
“یہ سب اس نے کیا؟”
وہ کنفیوز ہوئی تھی۔
“گیا کہا ں ہے؟”
اس نے باتھ روم چیک کرتے ہوئے خود سے سوال کیا مگر باتھ روم خالی تھی۔
“اچھا ہوا خود ہی چلا گیا،ورنہ میرا موڈ خراب ہو جاتا اسے دیکھ کر۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی کپڑے لے کر واش روم میں چلی گئی۔آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے سے نکلی تھی۔سیدھا جاوید صاحب کے کمرے میں گئی تھی۔جہاں وہ بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
“آپ نے بلایا ابو!”
وہ ناراضگی دیکھانا چاہتی تھی انہیں،اس لئے سنجیدہ لہجےمیں پوچھا۔
“اب تمہاری شادی ہو گئی ہے ،ارمینہ اس لئے اب اپنی پرانی عادتیں چھوڑ دو ۔ریحان کس وقت آفس جاتا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیئے۔کل سے اسکا اور اپناناشتہ تم بناؤ گی سمجھی!”
جاوید صاحب کا ارادہ بھی اسے کوئی چھوٹ دینے کا نہیں تھا۔
“میں کیوں بناؤں گی ناشتہ؟”
وہ منہ بنائے بولی تھی۔
“کیونکہ وہ اب تمہارا شوہر ہے،اور جیسے تمہاری ماں میرے لئے ناشتہ بناتی ہے تم بھی اس کے لئے بناؤ گی۔اور کل سے جلدی اٹھ جانا۔”
وہ سخت لہجے میں کہہ کر کمرے سے نکل گئے تھے،جانتے تھے اگر وہا ں رکتے تو ارمینہ رو کر فورا انہیں موم کردیتی ۔لیکن فلحال اس پر سختی ضروری تھی۔
“نواب زادہ ہے وہ جو اس کا ناشتہ بھی میں بناؤں!سامنے آئے ذرا میرے چودہ طبق روشن نہ کئے تو میرا نام بھی ارمینہ نہیں ۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے لئے ناشتہ بنا رہی تھی۔
“لاؤ میں بنا دیتی ہوں ناشتہ!”
حفصہ بیگم کچن میں آئی تو ارمینہ کو چائے چڑھاتے دیکھ کر اپنی خدمات پیش کرنے لگی۔
“رہنے دیں چچی ! روز خود بنانا ہے تو آج بھی بنا لوں گی۔”
شکل پر بارہ بجائےوہ اس وقت مظلومیت کی مثال بنی ہوئی تھی۔کسی بھی طرح اسے کام سے چھٹکارا پانا تھا۔
“یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہولیکن آج میں بنا دیتی ہوں ،ولیمے کے بعد تم بنا لیا کرنا۔”
سارے پلان پر پانی پھیرتی وہ بولیں تو ارمینہ کو تاؤ آیا۔تیز قدم اٹھاتی کچن سے نکل آئی۔کمرے میں آئی تو غصے سے ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔یک دم نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے چھوٹے سے باکس پر پڑی۔اس نے کھولا تو اندر سونے کی چارچوڑیاں تھیں۔اسے یاد تھا اس کی ماں کے ہاتھ میں بھی ایسی ہی چوڑیاں تھیں،جو اس کی دادی نے اپنی تینوں بہوؤں کےلئے بنوائی تھی۔
“کنجوس انسان ! گفٹ میں اپنی اماں کی چوڑیاں دے دیں ۔”
باکس واپس بند کرتی وہ نخوت سے بولی تھی۔پھر ناشتے کا انتظار کرنے لگی۔
***********
“واسع بیٹا! میری طبیعت ٹھیک ہیں لگ رہی مجھے تو میں نہیں جا سکتی تم لوگوں کے ساتھ،ایساکرو اجیہ اور تم چلے جانا،دعوت میں۔”
وہ آفس سے لوٹا تو مبینہ بیگم نے اسے کہا ۔ان سے پیار لےکر کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔کمرے میں آیا تو اسے اجیہ کہیں دیکھائی نہ دی۔دروازہ کھلا دیکھ کر وہ اس جانب آیا تو اسے اجیہ سیڑھیوں پر بیٹھی دیکھائی دی۔بیگ بیڈ پر رکھ کر وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔اسے محسوس ہوا تھا جیسے وہ رو رہی ہو۔
“اجیہ!”
واسع نے اسے پکارا تو اس کا لرزتا وجود تھما تھا۔
“کیا ہوا ؟ رو کیوں رہی ہو؟”
اسکے پاس بیٹھ کر اس نے فکر مندی سے پوچھا تھا۔وہ کل سے چپ تھی،اس نے نوٹ تو کیا تھا مگر پوچھ نہیں پایا۔صبح میں بھی اسے آفس جلدی جانا تھا اس لئےوہ دھیان نہیں پایا تھا،مگر اب اسے افسوس ہورہا تھا۔
“کچھ نہیں!”
اجیہ نےآنسو پونچتے ہوئے کہا اور اٹھنے لگی تو واسع نے ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بیٹھایا۔
“پہلے مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟”
واسع کا انداز ابھی بھی نہ بدلا تھا۔اپنے لئے فکر دیکھ کر اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی تھی۔
“واسع! میں بہت غلط کر دیا ،اللہ کو ناراض کر دیا۔میں کیوں نہیں سمجھ پائی کہ میں کیا کر رہی ہوں۔میں نے اپنے ساتھ ساتھ سب کا مذاق بنوا دیا۔”
وہ ہچکیاں لیتی رونے لگی تھی۔واسع نے اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلا کر اسے سہارا دیا تھا۔
“یہاں میری طرف دیکھو اجیہ! “
کچھ دیر بعد واسع نے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا ۔
“اللہ تعالی تم سے ناراض نہیں ہیں۔یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔لیکن تمہارے لئے بہت آسان بنا تھا۔تمہاری فیملی تمہیں سپورٹ کر رہی تھی،میری فیملی بھی تمہیں سپورٹ کر رہی تھی ۔جب سب کچھ آسانی سے ہوجائے تو آزمایا پھر بھی جاتا ہے۔”
“میں فیل ہو گئی آزمائش میں ۔”
واسع کے سمجھانے پر وہ سر جھکاتے بولی تھی۔
“تم پاس ہوئی یا فیل یہ تو تم بتا سکتی ہو۔”
واسع کے نارمل انداز میں کہنے پر اجیہ نے چہرہ اٹھایاتھا۔ آنکھوں میں سوال تھا ۔
“ہاں تم !—–بتا ؤ،کیا پردہ چھوڑ دو گی؟ لوگ باتیں کریں گے،ہو سکتا ہے مذاق بھی بنائیں ،برداشت کر سکو گی؟”
“میں کر لوں گی برداشت لیکن ناکام نہیں ہوں گی۔”
وہ فورا بولی تو واسع نے مسکرا کر اس کے آنسو صاف کیے۔
“تویہ آنسو اب نہیں بہنے چاہیئے۔برداشت کرنے کے لئے مضبوط بھی بننا ہو گا۔”
“میں مضبوط بنوں گی ،نہیں روؤں گی اب۔”
وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔واسع بھی مسکرایا تھا۔اس نے کھڑے ہو کر اجیہ کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔اجیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
“آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں۔”
اجیہ کے معصومیت سے پوچھنے پر وہ مسکرایا تھا اور اسے ساتھ لیے اندر کمرے میں آگیا تھا۔
“مطلب آپ ناراض ہیں مجھ سے؟”
اس کے جواب نہ دینے پر اجیہ نے پوچھا تو واسع نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر بیڈ پر رکھے اپنے بیگ میں سے ایک گفٹ پیک نکالا۔
“آئی ایم سوری! میں اوور ری ایکٹ کر گیا تھا۔”
گفٹ اس کی جانب بڑھاتا وہ شرمندگی سے بولا تو اجیہ کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا۔
“پھر سے آنسو؟”
واسع نے خفگی سے اسے دیکھتے کہا تو اجیہ مسکرائی تھی۔
“اللہ ناراض نہیں ہیں ،انہوں نے مجھے آپ جیسا ساتھی دیا ہے۔”
وہ مسکراتے ہوئی بولی تو واسع نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
“گفٹ نہیں کھولو گی؟”
واسع نے اس سے پوچھا تو اس سے الگ ہوئی۔اس نے جلدی جلدی گفٹ کھولا تو اندر تین مختلف رنگ کےحجاب دیکھ کر وہ خوش ہوئی تھی۔
“میری بیوی کےلئے جتنا میں کر سکتا ہوں کروں گا ۔ اب تیار ہو جاؤ تمہاری کزن کے ولیمے میں بھی جانا ہے۔”
اچانک یاد آتے ہی وہ بولا تو اجیہ ہنسی تھی۔
“ہنسنا بند کرو اور میرےکپڑے نکالو ۔”
اس کے سر پر چپت لگاتا وہ بولا تھا اور پھر اپنا والٹ اور گھڑی نکالنے لگا۔اجیہ آسودگی سے مسکرائی تھی۔اللہ کا شکر ادا کرتی وہ الماری کی جانب بڑھ گئی تھی۔
********
یوں بظاہر تو پسِ پشت نہ ڈالو گے ہمیں
جانتے ہیں،بڑی عزت سے نکالو گے ہمیں
اتنے ظالم نہ بنو ،کچھ تو مروت سیکھو
ہم تم پہ مرتے ہیں ، تا کیامار ہی ڈالو گے ہمیں
تم نہیں ،نہیں آئے۔مگر سوچا تھا
ہم اگر روٹھ بھی جائیں تو منا لو گے ہمیں
ہم تیرے سامنے آئیں گے نگینہ بن کر
پہلے یہ وعدہ کروپھر سے چرا لو گے ہمیں
قابلِ رحم بنے پھرتے ہیں اس آس پہ ہم
اپنے سینےسے کسی روز لگا لو گے ہمیں
ہم بڑی قیمتی مٹی سے ،بنائے گئے لوگ!
خود کو بیچاچاہیں گے تو کیا لو گے ہمیں
(ادریس آزاد)
“سب کچھ جیسے پہلے سے ریڈی کرے بیٹھےتھے یہ لوگ۔”
لائٹ براؤن کلر کی میکسی پہنے وہ بے زار سی بیٹھی بڑبڑائی تھی۔ولیمے کے لئے زیادہ بڑا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔کم ہی لوگ مدعو کئے گئے تھے۔ ہال میں ہی فیملی کے لئے ایک بڑی ٹیبل لگوائی گئی تھی۔جہاں مہمان ِ خصوصی بنی بیٹھی وہ بور ہورہی تھی۔رفعت بیگم نے اس کا موبائل اس سے لے لیا تھا ۔موبائل کے بنا اس کا موڈ مزید بگڑ گیا تھا۔کھانا شروع ہوا تو باقی سب بھی اپنی نشست سنبھالنے لگے۔ اس نے ایک بے زار نظر سامنے ڈالی جہاں سے ریحان چل کر آرہا تھا۔اس کا براؤن کوٹ دیکھ کر تو اسے پتنگے لگ گئے تھے۔
“اس کی ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ میچنگ کرنی کی؟”
غصے سے کھولتی وہ دانت پیس رہی تھی۔جیسے ہی وہ اس کے پاس والی کرسی پر بیٹھا،اس نے اسے گھوری سے نوازہ مگر ریحا ن نے اس کی جانب دیکھا تک نہیں تھا۔
“ایسا لگ رہا ہے زبردستی بیٹھایا گیا تھا۔”
افراہیم کی آواز پر ارمینہ نے اس کی جانب دیکھا ۔
“زبردستی ہی بیٹھی ہوں۔”
دانت پیستی وہ بولی تھی۔
“ہم تو ریحان بھائی کی بات کر رہے ہیں۔”
شمشیر کہہ کر تالی مار کر ہنسا تو ارمینہ نے اسے گھورا۔
“دس بجے سے پہلے کمرے میں مت آنا،میرا موڈ بہت خراب ہے ،میں تماشا نہیں کرنا چاہتی۔”
ریحان کے پاس جھکتی وہ بولی تھی مگر ریحان نےکوئی ریسپانس ہیں دیاتھا۔
“کھانا کھا لو بعد میں بات کر لینا ،تمہارا ہی شوہر ہے۔”
رضوان نے ہنستے ہوئے کہا تو ارمینہ نے باقی سب کی جانب دیکھا جو دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔
“ریحان بھائی! آپ بھی ہنس لیا کریں ۔”
رامین نے کہا تو ہلکاسا مسکرایا۔
“بس میری ہی آوازان کانوں کے اندر نہیں جاتی۔”
وہ جل کر بولی تو ریحان نے اس کی جانب دیکھا مگر اب وہ اپنی پلیٹ میں بریانی ڈال رہی تھی۔رائتے کا باؤل دور رکھا تھا۔اپنے بھاری ڈوپٹے کے ساتھ وہ آگے نہیں ہو پارہی تھی جبکہ کسی کی مدد لینا اس کی شان کے خلاف تھا۔ریحان نے رائتہ اور سلاد اٹھا کر آگے رکھا تو اس نے نظر ترچھی کر کر اسے دیکھا ۔پھر اگنور کرتی کھانے لگی۔
“آپ بھی تو کھا لیں۔”
ٹیبل کے ایک جانب ساری خواتین بیٹھی تھیں ،اجیہ بھی ان کے ساتھ تھی مگر واسع اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کی کرسی کو باقی کرسیوں سے تھوڑا سا پیچھے کر چکا تھا۔وہ اپنی کزنز کی نظروں سے دور تھی۔واسع اس کے سامنے ہو کر اس کو کھانے کی چیزیں پکڑا رہا تھا۔ویٹرز کو اس نے یہاں آنے سے منع کردیا تھا ۔واسع کو نہ کھاتے دیکھ کر اجیہ نے کہا تھا۔
“تم کھا لو میں بھی کھالوں گا۔”
وہ نرمی سے بولا تھا۔حفصہ بیگم مسکرارہی تھی،اپنی بیٹی کو خوش دیکھ کر۔
“نہیں آپ بھی کھائیں۔”
اپنی ہی پلیٹ اس کے سامنےکرتی وہ بولی تو واسع اس کے ساتھ ہی کھانے لگا۔
“ماشااللہ!”
حفصہ بیگم اور رفعت بیگم نے ایک ساتھ بولا تو اجیہ جھینپ گئی۔
“تایا ابو! میں گھر جا رہا تھا ، امی اکیلی ہیں وہاں۔”
ریحان کھانے کے بعد جاوید صاحب سےاجازت مانگ رہاتھا۔
“ہم سب بھی ساتھ ہی چلتے ہیں۔”
انہوں نے کہا تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔اسے بحث کبھی بھی پسند نہیں تھی۔فون رنگ ہوا تو ایکسکیوز کرتا ایک جانب چلا گیا ۔جاوید صاحب باقی سب کو چلنے کا بولنے لگے اور ارمینہ کو برائڈل روم سے لانے کا اشارہ کیا۔ جو کھانے کے بعد واش روم کا کہہ کر اجیہ کے ساتھ برائڈ ل روم میں چلی گئی تھی۔
