Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 12)

Anazadi by Noor ul Huda

نگاہ اُلفت، مزاج برہم،یہ سلسلہ بھی عجیب تر هے!!!!!!!!!

ہزار شکوے،ہزار رنجشیں،وہ شخص پھر بھی قریب تر ھے۔

ریحان ایک ہفتے بعد لوٹا تھا۔رات گئے جیسے ہی اس نے کمرے میں قدم رکھا تھا،ارمینہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔

“سوری!میری وجہ سے تمہاری نیند خراب ہوئی۔”

ریحان کو شرمندگی ہوئی تھی۔دوسری جانب ارمینہ بنا کوئی جواب دیئے واپس لیٹ گئی تھی۔اپنا بیگ الماری کے پاس رکھ کر اس نے اپنا بستر الماری سے نکالا۔ارمینہ نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں،لیکن ریحان کی ہر حرکت کو محسوس کر رہی تھی۔ریحان سونے کے لیے لیٹ گیا تو ارمینہ نے آنکھیں کھولیں۔آنکھوں پر بازو رکھے وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ارمینہ کی آنکھ سے آنسو نکلا تو اس نے غصے سے کشن اٹھا کر ریحان پر پھینکا تھا۔اچانک افتاد پر وہ اٹھ کر بیٹھا تھا،پھر ارمینہ کو روتے دیکھ کر پریشان ہوتا کھڑا ہوا تھا۔

“کچھ ہوا ہے؟رو کیوں رہی ہو؟”

کچھ فاصلے پر کھڑا ہو کر وہ پوچھ رہا،جواب میں ارمینہ نے باقی دو کشن بھی اس پر پھینکے اور گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی۔ریحان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے،ہچکچاتے ہوئے وہ بیڈ پر جیسے ہی اس کے پاس بیٹھا ارمینہ نے سر اٹھایا تھا۔ریحان کو اپنے لیے پریشان دیکھ کر اسے اپنی بے اختیاری پر غصہ آیا۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن آنسو رک ہی نہیں رہے تھے۔

“مینا!کیا ہوا ہے؟”

ارمینہ نے اب نوٹ کیا تھا وہ اسے عباد کی طرح مینا بلاتا تھا۔

“تم۔۔۔۔۔۔(وہ چپ ہوئی اور ریحان کی جانب دیکھا جو اس کے بولنے کا منتظر تھا) تم میرے لیے کچھ نہیں لائے۔ابو اور چاچو ہمیشہ لاتے تھے۔”

اس نے شکوہ کیا تھا،وہ اسے نہیں بتاناچاہتی تھی کہ وہ اسے یاد کرتی رہی ہے۔ریحان اس کا شکوہ سن کر کھڑا ہوا تھا۔

“لایا ہوں ،صبح دینے کا سوچا تھا۔”

وہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔اپنے بیگ سے باکس نکال کر وہ ارمینہ کے پاس واپس آیا تھا۔

“ابونے بتایا تھا کہ تمہیں گفٹس لینا پسند ہے۔”

ریحان نے باکس اس کی جانب بڑھایا تو ارمینہ نے آنسو صاف کیے۔اس نے جلدی سے باکس لے کر کھولا تھا۔سلور کلر کی پائل دیکھ کر اس نے ریحان کی جانب دیکھا جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“اچھی ہیں۔اب پہنا دو مجھے۔”

واپس اس کے ہاتھ میں باکس دے کر اس نے نخرہ دیکھاتے ہوئے کہا۔ریحان کچھ پل تو سوچتا رہا پھر آگے بڑھ کر اس کے پیروں میں پائل باندھنے لگا۔

“یہ تمہاری طرف سے پہلا تحفہ ہے ،منہ دیکھائی میں تو تم نے چاچی کے کنگن دے دیے تھے۔”

وہ پائل دیکھتے ہوئے اسے جتاتے ہوئے بولی۔ریحان نے باکس اس کے ہاتھ میں رکھا تھا۔

“ابو نے کہا تھا تمہیں تائی امی کے کنگن پسندہیں،اس لیے ویسے ہی بنوائے تھے،امی کے نہیں تھے وہ۔”

اس کی غلط فہمی دور کرتا وہ جاکر اپنے بستر میں لیٹ گیا تھا۔ارمینہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔پھر جلدی سے اتر کر اس کے پاس آئی۔

“چاچو!میرے بارے میں بتاتے تھے تمہیں؟”

اس نے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے پوچھا،جبکہ ریحان کو سمجھ آگیا تھا،آج اس کو سکون کی نیند نہیں ملے گی۔

“لیٹے کیا ہوئے ہو؟اٹھو؟”

زبردستی اسے بیٹھا کر وہ اس کے برابر میں جگہ بنا چکی تھی۔ریحان نے ایک لمبی سانس لی تھی۔

مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت

چپکے سے کسی روز جتانے کے لئے آ

**********

“آزاد!!”

جہانگیر صاحب نے گھر سے باہر نکلتے آزاد کو پکارا تھا۔

“پیچھے سے آواز نہیں دیتے ڈیڈ!”

وہ منہ بنا کر ان کے پاس آیا تھا۔

“کہاں جا رہے تھے؟”

انہوں نے اس کا پھولا منہ اگنور کیا تھا۔

“آپ کی اکلوتی ،پیاری بہو کے لیے پھول لینے۔”

آزاد نے بگڑے موڈ کے ساتھ کہا تو جہانگیر صاحب نے قہقہہ لگایا۔

“اس جناتی قہقہے کی وجہ جان سکتا ہوں؟”

آزاد کے موڈ میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔

“اسے اپنے ساتھ گھمانے لے کر جاؤ،بجائے روز پھول لانے کے۔ “

جہانگیر صاحب نے مشورہ دیاتھا۔

“مجھے اس کا دوست بننا ہے ڈیڈ!وہ بن جائے گی ناں میری دوست؟”

آزاد نے بچوں کی طرح کہا تو جہانگیر صاحب کی آنکھیں بے ساختہ نم ہوئی تھیں۔

“میرا بیٹا بہترین دوست ہے وہ انکار نہیں کرے گی۔”

انہوں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یقین دلانے والے انداز میں کہا۔

“لیکن اگر یہ دوست کھو گیا تو۔۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے ڈیڈ!اس کو دکھ دینے سے۔”

“آزاد!۔۔۔”

جہانگیر صاحب کا دل دہل گیا تھا اس کی بات پر۔

“سوری ڈیڈ!”

وہ شرمندہ ہوتا ان کے گلے لگا تھا۔

“میں کل سکیٹینگ کلب لے جانے والا ہوں آپ کی بہو کو۔آپ کے بیٹے کی پرفارمنس دیکھ کر وہ فدا ہوجائے گی۔”

موڈ کو خوشگوار بناتے ہوئے نے اس نے فرضی کالر کھڑے کیے تھے۔جہانگیر صاحب نے دل میں ہی اس کی زندگی کی دعا کی تھی۔

“پھول ڈیڈ!”

سر پر ہاتھ مارتا وہ گارڈن سے ہی گلاب کے دو پھول توڑ کر کمرے کی جانب بھاگا تھا۔

کلسمندی سے آنکھیں کھول کر وہ اپنے سرہانے کھڑے آزاد کو دیکھ اٹھ کر بیٹھی تھی۔

“گڈ مارننگ!”

آزاد نے پھول اس کی جانب بڑھائے۔ہتھیلی سے نکلتی خون کی لکیر دیکھ کر وہ پریشان ہوئی تھی۔

“یہ کیا کیا ہے؟”

اس نے پریشانی سے اس کی ہتھیلی دیکھی تھی۔

“ہماری دوستی کے لیے کچھ بھی۔”

آزاد نے مسکراتےہوئے کہا تو اسے گھوری سے نواز کر وہ سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اس کی ہتھیلی سے خون صاف کرنے لگی۔

“لاپرواہی مت کیا کریں۔”

“تم دوستی کر لو؟”

آزاد نے دوبدو کہا تو وہ اٹھ کر واش روم کی سمت بڑھ گئی۔آزاد نے اپنے لائے پھولوں کو دیکھا جو سائیڈ ٹیبل پر رکھے تھے۔

“ہم دوست ہیں۔”

اس ایک جملے نے اس کی اداسی پل میں ختم کی تھی،لیکن جملہ بولنے والی واش روم میں بند ہوچکی تھی۔وہ خوشی سے اچھلا تھا۔

کوئی تو سمجھے محبت کی بے زبانی کو

کوئی تو ہاتھ پہ چپکے سے پھول دھر جائے

بس ایک بار وہ اپنا مجھے کہے تو سہی

وہ اپنی بات سے چاھے تو پھر مکر جائے۔

**********

ارمینہ کی آنکھ کھلی تو پہلی نظر ریحان کے چہرے پر پڑی۔کچھ پل تو وہ اسے دیکھتی رہی پھر یک دم اس سے دور ہوئی تھی۔اس کے اس طرح جھٹکنے سے ریحان کی آنکھ بھی کھل گئی تھی۔اس نے بھی پیچھے ہوتے فاصلہ بنایا تھا۔وہ اس سے بات کرتی کرتی اس کے کندھے پر سر رکھ کر سوگئی تھی۔ریحان تھکا ہوا تھا اس بھی پتا نہیں چلا کب اس کی آنکھ لگی۔دونوں ہی نظریں چرا رہے تھے ایک دوسرے سے۔ارمینہ نے۔تیزی سے اٹھ کر جانے کی کوشش کی تو ڈوپٹہ ریحان کے ہاتھ کے نیچے دبا ہونے کی وجہ واپس پیچھے آئی تھی۔ریحان نے جلدی سے اس کے ڈوپٹے سے ہاتھ ہٹایا تھا۔اس کا ہاتھ ارمینہ کے ہاتھ سے ٹچ ہوا تھا۔وہ اٹھنے لگا تو ارمینہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“تمہیں بخار ہے؟”

وہ اب اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کر رہی تھی۔

“میں ابو کو بتاتی ہوں۔”

اس کا بخار کنفرم کرتے ہی وہ اٹھی تھی۔

“میں دوا لے لوں گا تم تایا ابو کو پریشان مت کرو۔”

ریحان نے اسے روکتے ہوئے کہا۔

“ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا۔”

ارمینہ نے آنکھیں چھوٹی کر کر اسے گھورتے ہوئے کہا۔

“چلا جاؤں گا۔ “

اس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔ ارمینہ تیزی سے اٹھ کر کمرے سے نکل گئی تھی۔ ریحان کے بستر اٹھانے تک جاوید صاحب اور رفعت بیگم اس کے کمرے میں آگئے تھے۔ریحان نے بے بسی سے ارمینہ کو دیکھا جو اسے منہ چڑاتی رخ پھیر گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *