Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anazadi (Episode 08)

Anazadi by Noor ul Huda

نہ سہہ سکا جب مسافتوں کے عذاب سارے

تو کر گئے کوچ میری آنکھوں سے خواب سارے

بیاض دل پر غزل کی صورت رقم کیے ہیں

ترے کرم بھی ترے ستم بھی حساب سارے

بہار آئی ہے تم بھی آؤ ادھر سے گزرو

کہ دیکھنا چاہتے ہیں تم کو گلاب سارے

یہ سانحہ ہے کہ واعظوں سے الجھ پڑے ہم

یہ واقعہ ہے کہ پی رہے تھے شراب سارے

بھلا ہوا ہم گناہ گاروں نے ضد نہیں کی

سمیٹ کر لے گیا ہے ناصح ثواب سارے

فرازؔ کس نے مرے مقدر میں لکھ دیے ہیں

بس ایک دریا کی دوستی میں سراب سارے

کمرے میں اندھیرا کیے وہ ریوالونگ چیئر سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔کمرے میں گونچتی چیئر کی آواز دروازہ کھلنے پر رکی تھی۔

“آزاد!یہاں ایسے کیوں بیٹھے ہو؟”

جہانگیر صاحب نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔

“آپ کیوں گئے تھے وہاں ڈیڈ؟”

اس نے سپاٹ انداز میں سوال کیا تھا۔جہانگیر صاحب نے گہری سانس لی تھی۔

“تمہاری آنکھوں کی چمک،تمہارے چہرے کی مسکان واپس لانے کے لیے۔”

ان کے جواب پر وہ ہنسا تھا۔

“سب کتابی باتیں ہیں ڈیڈ!بہلاوے ہیں۔آپ نے وہاں جا کر میرے ضمیر کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔میں نے کبھی موت کا نہیں سوچا تھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری زندگی کی ضمانت نہیں تھی۔لیکن پچھلے بیس گھنٹوں سے میں نے دعا کی ہے ڈیڈ مرنے کی،جلد مرنے کی۔کاش کہ۔۔۔۔۔۔۔”۔

اس کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ جہانگیر صاحب کے تھپڑ نے اس کے الفاظ روک دیئے تھے۔

“پہلے تمہاری ماں کو مرنے کی جلدی تھی،ہر وقت اپنی موت کا ذکر کرتی رہتی تھی۔اب تم بھی۔۔۔۔۔۔بہت آسان ہے ناں مرنا؟بولو؟؟؟”

وہ غصے سے بول رہے تھے جب آزاد ان کے گلے لگا تھا۔

“جینا بھی آسان نہیں ڈیڈ! میری اس دن کی ایک غلطی۔۔۔۔۔۔”

“آزاد!!!دوبارہ اس بات کو زبان پر مت لانا۔”

ان کے لہجے تنبیہہ تھی۔

“شاور لے کر فریش ہو جاؤ۔آفس جانا ہے تمہیں میرے ساتھ۔ “

جہانگیر صاحب نہیں چاہتے تھے وہ کبھی بھی پورا سچ جانے آزاد نے ان کی بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ وہ فریش ہونے چلا گیا تھا جبکہ جہانگیر صاحب کے چہرے کے تاثرات فورا تبدیل ہوئے تھے۔

************

“اس نے کہا وہ مجھے پسند نہیں کرتا۔”

آئینے کے سامنے کھڑی وہ خود کو دیکھتی ہوئی بولی تھی۔

“نہیں!یہ تو نہیں کہا اس نے، اس نے تو وقت کا کہا تھا۔ “

اپنی ہی تصیح کرتی وہ اب غور سے اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

“اتنی پیاری تو ہوں میں۔ایسے کیسے اسے مجھ میں انٹرسٹ پیدا نہیں ہوا؟”

نیا سوال پیدا ہوتے ہی اس نے میک اپ کا سامان نکالا تھا۔

“جھوٹ بول رہا ہوگا، دل میں خوش ہوگا اتنی پیاری لڑکی آسانی سے مل گئی۔”

ہلکے سے تفاخر سے بولتی وہ لائٹ میک اپ کرنے لگی۔

“لیکن اتنے دن سے وہ مجھے اگنور کر رہا ہے، مجھ سے بات کرنے کی بھی کوشش نہیں کی اس نے اور صبح بھی تو ناشتے کے بنا ہی چلا گیا تھا جبکہ میں نے کتنے اچھے سے بات کی تھی؟”

مسلسل سوچتی وہ ساتھ ساتھ میک اپ بھی کر رہی تھی۔ دروازہ تین بار کھٹکھٹایا گیا تو وہ مڑی تھی۔ ریحان نے اندر داخل ہو کر بنا اس پر نظر ڈالے اپنا بستر زمین پر لگایا تھا۔ ہاتھ میں لائنر پکڑے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔شاید اس کا کام رہتا تھا،وہ تیزی سے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔

“سنو؟ “

ارمینہ نے بالآخر اسے پکار ہی لیا تھا۔ریحان کے اس کی جانب دیکھنے پر ارمینہ نے غور کیا تھا اس کی آنکھوں میں ارمینہ کے لیے کوئی ستائش نہیں ابھری تھی۔ اسے برا لگا تھا۔ وہ آہستگی۔ سے چلتی اس کے پاس آئی تھی۔

“میرا لائنر دونوں سائیڈ سے برابر ہے؟ “

آنکھیں بند کر کر اس نے پوچھا۔فون بیل کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں تھی۔ ریحان فون اٹھا کر بستر سے نکل سے کمرے سے ہی نکل گیا تھا۔ شدید غصے سے ارمینہ نے دروازے کی سمت دیکھا تھا۔ غصہ نکالنے کے لیے اس کے دماغ نے ریحان کے لیپ ٹاپ کا سگنل دیا تھا۔ اس نے آگے ہوکر دیکھا تو اس کی فائل کھلی تھی۔ فائل کو پرمننٹ ڈیلیٹ کر کر وہ سکون سے بیڈ پر لیٹ گئی تھی۔

“اب تو بولو گے۔لیکن بھول ہے تمہاری کہ ارمینہ تمہارے غصے کو برداشت کرے گی۔ “

دل ہی دل میں خوش ہوتی وہ آنکھیں موند کر لیٹ گئی تھی۔ میک اپ اتارنے کی زحمت تک نہ کی تھی۔ کچھ دیر بعد ریحان کمرے میں داخل ہوا تو ارمینہ کو بستر میں لیٹا دیکھ کر اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔ صرف ایک نظر ہی ریحان نے ارمینہ پر ڈالی تھی اپنا لیپ ٹاپ دیکھنے کے بعد ،ارمینہ منتظر ہی رہی تھی کہ وہ کچھ بولے اور وہ اس سے جھگڑا کرے۔ ریحان کی خاموشی ارمینہ کے تجسس کو بڑھا رہی تھی۔ وہ کچھ اور پلان کرتی سو گئی تھی۔ ریحان اپنی فائل کو ہیڈن فولڈر سے نکال رہا تھا۔ اس کی عادت تھی ہمیشہ کاپی تیار رکھتا تھا۔ اب وہ سکون سے اپنا کام کر رہا تھا۔

**********

“پھوپھو! اب میں چلتا ہوں۔ لیکن کھانا مجھے آپ کے ہاتھ کا کھانا ہے۔ “

افراہیم کا اچانک صبح ان کے گھر آجانا ارمینہ کو عجیب لگا تھا۔ وہ جلدی اٹھ گئی تھی۔ اسے معلوم ہوگیا تھا ریحان دس بجے جاتا تھا اور تب تک وہ شمیم بیگم کے پاس ہوتا تھا۔ اس کا موڈ تو خراب ہوا تھا افراہیم کو دیکھ کر مگر ساتھ ہی ریحان کو جیلس کروانے کا خیال اس کے دل میں کوندا تھا۔ جس پر اس نے فورا عمل کیا تھا۔

“ناشتے کے بنا جارہے ہو؟ “

ریحان کو سنانے کے لیے اس نے جان بوجھ کر کمرے کے باہر کھڑے ہوکر پوچھا تھا۔ افراہیم مسکراتا ہوا اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔

“تم کونسا مجھے اپنے ہاتھوں سے بنا کر دینے والی ہو؟ “

افراہیم کے طنز پر ارمینہ کا دل تو کیا اسے منہ توڑ جواب دے مگر پھر ریحان کے قدموں کی چاپ سن کر مسکرائی تھی۔

“بنا تو سکتی ہوں۔ اگر تم رک کر کچھ انتظار کر لو۔ “

اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ریحان ان کے پاس سے گزر کر چلا گیا تھا۔ ارمینہ نے دانت پیسے تھے۔

“ویسے قابل ِقبول صورت ہے اس کی مگر تم سے میچ پھر بھی نہیں بنتا اس کا۔ “

افراہیم ہنسا تو ریحان کو جلانے کی خاطر وہ ہنسی تھی مگر ریحان رکا نہ تھا اور گھر سے نکل گیا تھا۔

“تو کزن جی! رات کا کھانا آپ کی طرف۔ “

افراہیم شوخ لہجے میں کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ ارمینہ کا دماغ اس وقت ریحان میں اٹکا تھا،اس لیے وہ افراہیم کا لہجہ محسوس نہیں کر سکی تھی۔

*********

“واسع! یہ بال کس کا ہے؟”

وہ سونے کے لیے لیٹنے ہی لگا تھا جب اجیہ لڑائی کے موڈ میں اس کے سامنے آئی تھی۔

“یار اتنا لمبا بال ہے تمہارا ہی ہوگا میرا تو ہونے سے رہا۔ “

وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ سونا چاہتا تھا اس لیے جواب دے کر پھر سے لیٹنے لگا۔

“یہ آپ کی شرٹ سے ملا ہے مجھے۔ “

اس کا انداز کسی بھی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہ تھا۔

“یار تمہاری سوتن بہت پریشان کرتی ہے مجھے، صبح اسی سے ملنے گیا تھا اسی کا ہے۔ “

جھنجھلاکر کہتا وہ چادر سر تک تان کر لیٹ گیا تھا۔جب کوئی آواز سنائی نہ دی تو چادر چہرے سے ہٹائی مگر اپنے بالکل سامنے اجیہ کو دیکھ کر وہ ڈرا تھا۔

“یار!یہ کیا حرکت ہے؟ “

وہ سخت چڑا تھا۔

“وہ پہلی بیوی ہے دوسری؟ “

سپاٹ انداز میں اس نے پوچھا تو واسع کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

“وہ تو پہلی ہے،دوسری تم ہو ۔”

واسع کا ارادہ اب اسے تنگ کرنے کا تھا۔مگر اس کے آنسو دیکھ کر وہ فورا ارادہ ترک کر گیا تھا۔

“یار میری ایک ہی بیوی ہے، جو اس وقت شکی مزاج بن کر میری نیند کی دشمن بنی ہوئی ہے۔ “

واسع نے اسے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا تو اجیہ نے اس کے کندھے پر مکا مارا۔

“آپ بہت برے ہیں۔ “

اس نے روتے ہوئے کہا تو واسع نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

“بس کچھ دن ۔۔آفس میں کام بہت زیادہ ہے،اس لیے وقت نہیں دے پاتا میں تمہیں لیکن اس سنڈے میرا سارا وقت تمہارا۔ “

واسع نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اس نے سکون نے آنکھیں موند لی تھیں۔

“اب سونے دو یار! “

واسع نے بے چارگی سے کہا تو اجیہ اس سے دور ہوئی۔

“اس بال کی تفصیل آپ کو پھر بھی بتانی ہوگی۔ آپ بچ نہیں سکتے۔ “

اجیہ نے کہا تو واسع نے فرمانبرداری سے سر ہلایا تھا۔

***********

ارمینہ نے کھانا بنوانے میں مدد کروا دی تھی۔ چچی بار بار اس کی تعریف کررہی تھی۔ جبکہ افراہیم نے اسے داد دی تھی۔

“آئس کریم کھانے چلو گی؟ “

افراہیم نے پوچھا تو ارمینہ نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ ریحان کے آنے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ اس نے حامی بھر دی تھی۔ افراہیم تو حیران ہوا تھا اس کے قسم توڑنے پر۔ پھر چہرے پر پراسرار مسکراہٹ آئی تھی۔

شمشیر اور رامین بھی ان کے ساتھ تھے۔

“ہم دونوں کے ہاتھ دیکھو ساتھ ساتھ اچھے لگ رہے ہیں ناں؟ “

شمیشیر اور رامین آئس کریم کھاتے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔جبکہ افراہیم نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ ارمینہ کے چہرے پر ناگواری آئی تھی۔

اس نے اپنا جھٹکے سے کھینچا تھا۔

“اپنی حد میں رہو۔ “

افراہیم کاچہرہ بے عزتی کے احساس سے سرخ ہوگیا تھا۔

“میں حد میں رہوں؟ سیرئسلی؟؟؟؟حدیں تم بھول رہی ہو۔شادی شدہ ہو کر ایک لڑکے کو ریجھانے کی کوشش کرتے تمہیں شرم آنی چاہیئے؟”

اس کی اونچی آواز پر شمشیر اور رامین بھی ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔

“شٹ اپ افراہیم! “

ارمینہ نے دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ کہا۔

“سچ برا لگ رہا ہے اب؟ اپنے کم صورت شوہر سے تنگ آکر تم صبح سے جو میرے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کر رہی ہوکوئی بے وقوف بھی۔ تمہاری ذہنیت اور کردار کو جان جائے گا۔ “

افراہیم بول تو گیا تھا مگر جیسے ہی اس نے شمشیر اور رامین کا چہرہ دیکھا تھا اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔ ارمینہ وہاں۔سے اٹھ کر بھاگ گئی تھی۔

“اپنی زبان سنبھالیں افراہیم بھائی! “

سخت لہجے میں کہہ کر شمشیر ارمینہ کے پیچھے گیا تھا۔ رامین فقط اسے گھوری سے نواز رہی تھی۔

********

ریحان کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔ اسے دیر ہوگئی تھی۔ کھانے کا منع کرتا وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔ ہینڈل پر ہاتھ رکھتا وہ چونکا تھا۔اندر سے آنے والی توڑ پھوڑ کی آواز پر۔ صبح تک تو اس کا موڈ ٹھیک تھا اب اسے کیا ہوا؟

وہ سوچتا ہوا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ تبھی اس کی جانب مڑتی وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی تھی۔وہ تو سمجھ ہی نہیں پایا تھا اچانک اسے کیا ہوگیا تھا۔

“سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے؟میری زندگی خراب کر دی تم نے۔”

وہ مسلسل روتے ہوئے اسے مار رہی تھی۔ریحان نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا۔

“خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا۔”

اس سے ہاتھ چھڑواتی وہ پھنکاری تھی۔ریحان واپس جانے کے لیے پلٹا۔

“کیا ہوجاتا اگرجو تم ویسے ہوتے جیسا میرا آئیڈیل تھا،وہ مجھ پر بدکرار کا لیبل تو لگنے نہیں دیتا۔”

وہ روتے روتے تکلیف سے بولی تو ریحان رکا تھا۔اس نے مڑ کر ارمینہ کی جانب دیکھا تھا۔

“میں تو کزن سمجھ کر اس کے ساتھ گئی لیکن وہ مجھے۔۔۔۔۔”

اس کا جملہ سنے بنا وہ باہر نکل گیا تھا۔پیچھے وہ روتے روتے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ وہ نیچے اترا تو رامین شرمندہ سی اس کے سامنے آئی۔

“کس نے کہا ہے ؟”

اس کے سنجیدگی سے پوچھنے پر رامین نے سر جھکا کر اسے سب بتا دیا۔ افراہیم جاوید صاحب کے۔ کمرے میں رفعت بیگم سے معافی مانگ رہا تھا۔ جب وہ وہاں آیا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر بنا افراہیم کو سمجھنے کا موقع دیئے اس کو تھپڑ دے مارا تھا۔

“عزت کرنا سیکھو۔ اور دوبارہ میری بیوی کے آس پاس بھی نظر مت آنا مجھے۔ “

جتنے غصے میں وہ اس وقت تھا سب کے لیے ریحان کا روپ نیا تھا۔

“معاف کرنا تائی امی! لیکن میں کسی کو بھی اپنی بیوی کے بارے میں بولنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ “

وہ سنجیدگی سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ افراہیم گال پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا جبکہ باہر کھڑی رامین منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی تھی۔

وہ واپس کمرے میں داخل ہوا تو ارمینہ کی کلائیوں سے خون نکلتا دیکھ کر واپس مڑا تھا۔ کچھ منٹ بعد وہ فرسٹ ایڈ باکس لے کر اندر آیا تھا۔ وہ خاموشی سے ارمینہ کے پاس بیٹھ گیا تھا۔ اس کلائی پکڑ کر اس نے خون صاف کرنا شروع کیا۔ ارمینہ نےکوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔اپنے الفاظ اسے برے لگ رہے تھے مگر اندر کی انا معافی مانگنے سے روک رہی تھی۔ دائیں کلائی کی ڈریسنگ کرنے کے بعد وہ اس کی بائیں کلائی کی چوٹ کو دیکھ رہا جس پر صرف مرہم ہی کافی تھی۔وہ احتیاط سے مرہم لگا تھا،جبکہ ارمینہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔اپنا سارا غصہ تو وہ نکال چکی تھی۔اس لیے اب سکون سے بیٹھی تھی۔دفعتا اس کی نظر ریحان کی شرٹ پر پڑی جس پر سینے کی جگہ پر خون لگا تھا۔اسے کچھ دیر پہلے کا اپنے چوڑیوں بھرے ہاتھ اس کے سینے پر مارنا یاد آیا۔

“اگر مجھے چوٹ لگی ہے تو کیا اسے بھی ۔۔۔۔۔”

اس نے ریحان کا چہرہ دیکھا جو نارمل تھا۔اپنا ہاتھ آگے بڑھاتی وہ سینے تک لائی ہی تھی کہ ریحان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“تمہیں چوٹ لگی ہے؟”

اس نے کہا تو ریحان اس کا ہاتھ چھوڑتا کھڑا ہوا۔

“میں ٹھیک ہوں۔”

ریحان کا چپ کا روزہ ٹوٹا تو اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔

“خون نکل رہا ہے دیکھنے دو۔”

اسے مزید بلوانے کے لیے وہ اس کے سامنے آئی تو ریحان پیچھے ہوا۔

“میں خود دیکھ لوں گا۔”

ارمینہ کو ریحان کا بوکھلانا مزا دے رہا تھا۔کچھ اس کے بولنے کی خوشی تھی۔

“تم نے بھی میری ڈرینسگ کی ہے۔مجھے ادھار رکھنا پسند نہیں۔”

وہ کہہ آگے بڑھی تھی جیسے ہی اس نے شرٹ کی جانب ہاتھ بڑھائے،ریحان تیز قدم لیتا کمرے سے نکل گیا تھا۔ریحان کے ردعمل پر ہنستی چلی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *