366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Last Episode in PDF)

Aks by Khanzadi

ادینہ اپنے کمرے میں بیٹھی خود کو سجانے میں مصروف تھی کہ داسی نے اسے شایان کے آنے کی خوشخبری سنائی۔

شایان کے نام پر نظریں جھکاتے ہوئے مسکرا دی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

سر تا پاؤں اچھی طرح اپنا جائزہ لیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

کمرے کے باہر بنی راہداری پر چلتے ہوئے ایک نظر نیچے محل کے درمیان میں بنے حصے میں دیکھنے کے لیے تھوڑا سا پردہ پیچھے سرکایا۔

گم سم سے نظریں جھکائے بیٹھے شایان پر نظر پڑی تو ہلکا سا مسکرا دی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔

ادینہ کو نیچے آتے دیکھ کر راجا صاحب نے شایان کو اس کے پاس جانے کا اشارہ دیا۔

شایان نا چاہتے ہوئے بھی بے بس سا آگے بڑھا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

ادینہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔۔اسے لگا شاید وہ کوئی خوبصورت سا خواب دیکھ رہی ہے۔

شایان نظریں جھکائے اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔۔۔اس نے نظریں اٹھا کر ادینہ کی طرف دیکھا تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔

شایان کی آنکھوں میں بے بسی تھی۔۔۔ایک لمحے کے لیا ادینہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے سر پر آسمان گرا دیا ہو۔

احساسِ شرمندگی سے اس کی آنکھوں سے چند آنسو گرے لیکن اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا اور مسکراتے ہوئے شایان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

شایان نے آنکھیں بند کیں اور بے بس سا مسکراتے ہوئے سب کی طرف پلٹا۔

ادینہ کا ہاتھ تھامے آگے بڑھا اور اس کے بیٹھنے کے انتظار میں اس کے پاس کھڑا رہا۔۔۔جب وہ بیٹھ گئی تو خود بھی اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔

تو پھر طے ہوا آج سے ادینہ ہماری بیٹی ہوئی۔۔۔راجا صاحب ادینہ پر خوب حق جتا رہے تھے جبکہ ادینہ بس پھیکا سا مسکرا رہی تھی کیونکہ اس کی نظریں شایان کی چہرے پر ٹک سی گئی تھیں۔

شایان اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا اور ادینہ کو اس کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔وہ یہاں بیٹھا تو تھا لیکن یہاں تھا نہی۔

دونوں خاندان آپس میں شادی کی تاریخ اور اوقات طے کرنے میں مصروف تھے لیکن شایان کا دھیان کہی اور تھا۔

اس کا دھیان تو مہک پر تھا۔۔۔اسے ان سب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ بس یہ چاہتا تھا کہ سب کچھ جلدی ہو اور وہ مہک کے پاس جا سکے۔

وہ مہک جو دل ہی دل میں اسے بے وفا تصور کر چکی تھی۔۔۔اگر اس وقت شایان کی حالت دیکھ لیتی تو اپنی عقل پر ماتم کرتی۔

اس سے پہلے کہ آپ سب کوئی فیصلہ کریں ہم شایان سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔

ادینہ کی آواز پر پورے محل میں سناٹا سا چھا گیا۔

ایونن نے اسے گھورا اور سر نفی میں ہلایا لیکن ادینہ نے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔

ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔آپ مل سکتی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہی۔۔۔جواب ادینہ کے باپ کی طرف سے آیا۔

جائیے مل لیجئیے۔۔۔

شایان نے چونک کر ادینہ کی طرف دیکھا اور جانے کے لیے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

ادینہ آگے بڑھی اور شایان کے ساتھ چلتی ہوئی اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔

ایونن کا سارا دھیان ان دونوں کی طرف ہی لگا تھا۔

بیٹھئیے۔۔۔ادینہ نے شایان کو بیٹھنے کا کہا لیکن بدلے میں شایان نے دونوں بازو سینے پر فولڈ کرتے ہوئے ابھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔آپ جو بتانے آئی ہیں وہ بتائیے ہماری فکر مت کریں۔

ہمارے پاس ان سب کاموں کے لیے وقت نہیں ہے۔

شایان کا بدلہ ہوا لہجہ دیکھ کر ادینہ پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔ہمیں لگا تھا شاید آپ خوش ہیں اور خوشی خوشی اور ہمارا ہاتھ مانگنے آئے ہیں لیکن آپ کو دیکھ کر تو ایسا نہی لگ رہا۔

ادینہ کی بات پر شایان طنزیہ مسکرایا۔۔۔آپ تو ایسے پوچھ رہی ہیں جیسے آپ کو کچھ پتہ ہی نہی۔

کیا مطلب۔۔۔ہم سمجھے نہی؟

ادینہ نے فوراً سوال کیا۔

کچھ نہی۔۔۔چھوڑئیے ان سب باتوں کو آپ نے ہمیں کیوں بلایا یہ بتائیے؟

ہم خوش ہیں یا نہی ہیں یہ ہمارا مسئلہ ہے،آپ جو چاہتی تھی وہ ہو رہا ہے۔۔۔آپ خوش ہیں آپ کے لیے اتنا کافی ہے۔

ہاں شایان ہم ایسا چاہتے ہیں لیکن اس طرح سے نہی۔۔۔ہمیں آپ کی آنکھوں میں بھی ویسی خوشی دیکھنی ہے جیسی ہماری آنکھوں میں ہے۔

ہماری خوشی مہک میں ہے ادینہ۔۔۔اور یہ بات ہم آپ کو بہت پہلے سمجھا چکے ہیں لیکن آپ نے ہماری ایک نہی سنی۔

ہم سوچ میں نہیں سکتے تھے کہ آپ اتنا گر جائیں گی۔۔۔ہمارے خلاف ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ ہونے کا دکھاوا کرتی رہی آپ۔

واہ۔۔۔داد دینی پڑے گی آپ کی اداکاری کی،دوستی جیسے خوبصورت رشتے کو ریزہ ریزہ کر دیا آپ نے۔

ہمیں آپ سے یہ امید ہرگز نہی تھی۔۔۔ہم اس وقت بے بس ہیں لیکن ہم سے کوئی امید مت رکھئیے گا۔

شایان کے جواب پر ادینہ دھنگ رہ گئی اور سر نفی میں ہلایا۔۔۔شایان آپ ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں۔

جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ بھی نہی ہے،ہمارا اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

بس!!!!

شایان غصے سے چلایا اور ادینہ کی طرف بڑھا۔

آپ کا اس میں کتنا ہاتھ ہے اور کتنا نہیں ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا،ہماری نظروں میں گر چکی ہیں آپ۔

صرف اور صرف آپ کی ضد کی وجہ سے آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں اور مہک۔۔۔وہ کہاں ہے،کس حال میں ہے ہم یہ تک نہیں جانتے۔

ہمیں بس اس کی سلامتی چاہیے۔۔۔ایک بار ہم اس تک پہنچ جائیں پھر بتائیں گے ہم آپ سب کو۔

اگر اسے ایک خراش بھی آئی ناں تو ہم آپ سب کی جان لے لیں گے۔۔۔پھر چاہے وہ کوئی بھی ہو۔۔۔کوئی بھی مطلب کوئی بھی،ہمیں اس بات کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ سامنے کون ہے۔

بس ہم مہک کو تکلیف پہنچانے والے کو یاد رکھیں گے اور اس کا وہ حشر کریں گے کہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔

بس ایک بار وہ ہمیں سہی سلامت مل جائے۔

شایان آپ ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں ہم نے ایسا کچھ نہی کیا۔۔۔ادینہ بولتی رہ گئی لیکن شایان تیزی میں کمرے سے باہر نکل گیا۔

اس کے کمرے سے باہر نکلتے ہی ایونن کمرے میں داخل ہوا۔۔۔وہ راہداری میں بنے پلر کے پیچھے چھپا شایان کے کمرے سے باہر آنے کا ہی انتظار کر رہا تھا۔

کیا تھا یہ سب۔۔۔؟

ہم نے کتنا سمجھایا تھا آپ کو اور آپ بنا بنایا کھیل بگاڑنے جا رہی تھیں۔

یہ سب غلط ہے ایونن۔۔۔شایان ہمیں غلط سمجھ رہا ہے،اسے لگتا ہے مہک کو ہم نے قید کر رکھا ہے۔

اسے لگتا ہے تو لگنے دیں۔۔۔آپ اس فکر سے آزاد ہو جائیں اور اپنی آنے والی زندگی کا سوچیں۔۔۔ایونن نے ادینہ کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔

چھوڑئیے ہمیں۔۔۔ادینہ نے اس کے ہاتھ پیچھے جھٹک دیے۔

آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔اگر شایان کو معلوم ہو گیا کہ یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے تو وہ زندہ نگل جائیں گے آپ کو۔

اور مہک کو جس حال میں آپ نے رکھا ہوا ہے اگر اس کی حالت بھی دیکھ لی تو پتہ نہیں کیا کریں گے آپ کے ساتھ۔

شایان کی نظروں میں گر چکے ہیں ہم۔۔۔نہی چاہیے ہمیں ایسی خوشی جس کی بنیاد جھوٹ پر رکھی گئی ہے۔

ہمیں نیچے جا رہے ہیں شایان کو ساری حقیقت بتانے۔۔۔ہم مزید جھوٹ نہیں بول سکتے۔

ہمممم۔۔۔اہونن نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔آپ کو جانا ہے آپ جائیے لیکن جانے سے پہلے ایک نظر ادھر دیکھ لیجئیے۔

ایونن نے اسے شیشے میں دیکھنے کا اشارہ کیا۔

ادینہ شیشے کی طرف بڑھی اور سامنے کا منظر دیکھ کر زور سے آنکھیں بند کر لی۔

مہک دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی سو رہی تھی اور اس کے اردگرد آگ جل رہی تھی۔

ہمارے ایک اشارے پر یہ لڑکی جل کر راکھ بن جائے گی۔۔۔لیکن آپ جائیے،آپ فکر مت کریں اس بے گناہ اور معصوم لڑکی کی۔

ایونن بے گناہ اور معصوم کے لفظ کو تھوڑا کھینچتے ہوئے بولا۔

ادینہ نے بے بسی سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔ہم آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں ایونن، آپ یہ ضد چھوڑ دیں۔

جانے دیں اسے۔۔۔آپ کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہماری جان کے بھی دشمن بن رہے ہیں؟

ایسی خوشیاں ہمارے کسی کام کی نہیں ہیں بلکہ اس طرح زبردستی شایان کو حاصل کر کے ہم تا عمر اذیت میں رہیں گے۔

ہم شایان کے سامنے سر اٹھا کر نہی جی پائیں گے۔

آپ نہیں جانتے شایان آپ کے ساتھ کیا کر سکتا ہے۔۔۔بند کر دیجیئے یہ سب کچھ ورنہ انجام بہت برا ہو گا۔۔۔ہم بتا رہے ہیں آپ کو۔

شایان شایان شایان۔۔۔کیا کر لے گا شایان؟

ایک ہی بات کتنی بار دہرائیں گی آپ؟

ایونن غصے سے چلایا۔

جب یہ آپ کو یہ سب پتہ چلا ہے ہم آپ کے منہ سے ایک ہی بات سن رہے ہیں کہ شایان یہ کر دے گا شایان وہ کر دے گا۔۔۔ہم نے پوچھا کیا کر لے گا شایان؟

اگر ہمیں شایان کا ڈر ہوتا تو ہم اتنا بڑا قدم اٹھاتے ہی نا۔۔۔ہمیں سب پتہ ہے شایان کیا کر سکتا ہے کیا نہی،آپ ہمیں شایان کے نام سے دھکانہ بند کر دیں اب۔

تنگ آ گئے ہیں ہم ایک ہی بات سن سن کر۔۔۔سمجھ کیوں نہیں رہی آپ کہ ہم یہ سب کچھ آپ کے لیے کر رہے ہیں۔

اگر ہم آپ کے لیے اپنی جان ہتھیلی پے لیے پھر رہے ہیں تو آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ خوشی خوشی ہماری ہاں میں ہاں ملائیں۔

لیکن آپ تو ہمارے خلاف جانے کا ہی سوچ رہی ہیں۔

ہم سب کچھ جانتے ہیں ہر چیز سے واقف ہیں۔۔۔آغاز سے لے کر انجام تک کا نقشہ ہے ہمارے ذہن میں لیکن ہمارے قدم ایک بار بھی نہیں لڑکھڑائے۔۔۔جانتی ہیں کیوں؟

کیونکہ ہماری آنکھوں میں آپ کی خوشی کی جھلک ہے اور ہم اس جھلک کو حقیقت میں بدلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہم آپ کی خاطر سب سے لڑ سکتے ہیں۔۔۔بچپن سے لے آج تک ہم نے آپ کو کسی چیز کے لیے تڑپتے اور روتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن آپ شایان کے رو رہی تھیں اور ہم سے یہ برداشت نہیں ہوا۔

کیسے برداشت کر لیتے ہم؟

ہماری جان بستی ہے آپ میں اور آپ کی جان شایان میں بستی ہے۔۔۔ہمارا انجام جو بھی ہو ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ایک بار آپ کا شایان سے بیاہ ہو جائے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ہم ہیزل سے بیاہ کر رہے ہیں تا کہ شایان آپ کو چھوڑنے کا سوچ بھی نا سکے۔

اگر وہ آپ کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا تو ہم ہیزل کو تکلیف پہنچائیں گے کیونکہ جس طرح ہمیں ہماری بہن پیاری ہے بلکل اسی طرح شایان کو بھی ہیزل بہت پیاری ہے۔

ہم اس کی کمزوریوں پر وار کریں گے۔۔۔ایک آخری بار آپ کو سمجھا رہے ہیں سمجھ جائیے ورنہ اس لڑکی کا انجام آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو گا۔

ہم چلتے ہیں نیچے سب انتظار کر رہے ہو گے۔۔۔آپ بھی نیچے آ جائیے۔

ایونن کمرے سے باہر نکل گیا اور ادینہ دیوار کے سہارے فرش پر بیٹھ کر رونا شروع ہو گئی۔

____________________

دونوں محلوں میں شادی کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔۔۔ادینہ بے بس سی چپ چاپ ایونن کا حکم مان رہی تھی۔

شایان اور ادینہ کی شادی سے ایک دن پہلے ایونن اور ہیزل کی شادی تھی۔۔۔ہیزل اور ایونن کی شادی تو ہو گئی اور ہیزل رخصت ہو کر ایونن کے محل آ گئی لیکن اسی رات ایونن کے باپ کو شایان کی حقیقت پتہ چل گئی اور انہوں نے فوراً ایونن کو اپنے پاس بلایا۔

یہ بیاہ نہی ہو سکتا۔۔۔راجا صاحب کو شادی سے ایک دن پہلے شایان کے مسلمان ہونے کی حقیقت پتہ چلی تو وہ ایونن پر بس پڑے۔

آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم ایسا ہونے دیں گے؟

ایونن ماں باپ کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔لیکن اس میں غلط ہی کیا ہے بابا جان؟

وہ پہلے جیسا ہو جائے گا ہم وعدہ کرتے ہیں آپ سے۔۔۔اور ادینہ بھی اس سے محبت کرتی ہیں۔

سہی کیا ہے اور غلط کیا ہے اب آپ ہمیں سمجھائیں گے؟

چھوٹے ہیں تو چھوٹے ہی رہئیے۔۔۔ہماری جگہ لینے کی کوشش مت کریں آپ۔

کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ابھی ہم زندہ ہیں۔

ہم نے جو کہہ دیا وہ کہہ دیا۔۔۔یہ بیاہ نہیں ہو سکتا مطلب نہی ہو سکتا۔

ادینہ کیا چاہتی ہیں کیا نہیں یہ بات آپ چھوڑ دیجئیے۔۔۔چار دن کی محبت کے لیے ہم اپنی عزت داؤ پر نہیں لگا سکتے۔

کس کس کو جواب دیں گے ہم؟

لیکن ہمارا کیا بابا جان۔۔۔؟

ہم بھی ہیزل سے محبت کرتے ہیں اگر آپ اس بیاہ سے انکار کرتے ہیں تو ہمیں ہیزل سے دور جانا پڑے گا۔

آپ کو کیوں دور جانا پڑے گا ہیزل سے؟

اب وہ آپ کی ہیں اور کوئی بھی انہیں آپ سے دور نہی کر سکتا۔۔۔اپنے اندر سے یہ ڈر نکال دیجئیے۔

ہم آپ سے یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ ہیزل کو چھوڑ دیں۔۔۔ہم بس اتنا کہہ رہے ہیں کہ ہم شایان کو قبول نہیں کر سکتے۔۔۔یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔

اس سے پہلے کہ شایان اس لڑکی تک پہنچے آپ اسے اس کی دنیا میں واپس چھوڑ کر آئیے ابھی کے ابھی۔۔۔یہ ہمارا حکم ہے۔

آپ کو زرا ڈر نہیں لگا اتنا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے؟

بہن کی محبت میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں آپ کہ غداری کرنے والے سے رشتہ جوڑنے چلے تھے۔

جو اپنے ماں باپ کا نہی ہوا وہ ہماری بیٹی سے خاک نبھائے گا۔۔۔اس نے اپنا دیوتا کسی اور کو مان لیا اور آپ کو لگتا ہے کہ وہ آپ کی بہن کو خوش رکھے گا۔

یہ نا ممکن ہے۔۔۔جو ایک انسان کے لیے اپنے ماں باپ اور بہن کو دھوکہ دے سکتا ہے اس کی نظر میں ہماری ادینہ کیا چیز ہے۔

زبردستی کے رشتے نہیں چاہیے ہمیں۔۔۔ہم اپنی ادینہ کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک شہزادہ تلاش کر سکتے ہیں لیکن شایان کو قبول کرنا ہماری شان کے خلاف ہے۔

لیکن بابا جان یہ سب غلط ہے۔۔۔ہم نے کہا ناں ہم شایان کو پہلے جیسا کر دیں گے،ہمارا آپ سے وعدہ ہے۔

آپ ایک بار بیاہ تو ہونے دیں ادینہ خود بدل دے گی اسے اور وہ پھر سے ہمارے جیسا ہو جائے گا۔

ہمیں لگتا ہے اس لڑکی نے شایان پر کوئی جادو کیا ہے۔۔۔آپ جانتے ہی ہیں انسان کتنے دھوکے باز ہوتے ہیں۔

وہ لڑکی شایان کو اپنے قابو میں کرنا چاہتی تھی تا کہ تا عمر اسے اپنا غلام بنا کر رکھ سکے۔

ہم بچا کر لائے ہیں شایان کو انسانوں کی دنیا سے۔۔۔ہم اسے اکیلا نہی چھوڑ سکتے۔

آپ خود سوچیں آج تک ہم میں سے کسی نے ایسا کیا ہے؟

نہیں ناں۔۔۔تو پھر شایان نے ایسا کیوں کیا؟

یہ اس لڑکی کی چال تھی ورنہ شایان تو سیدھے سادھے ہیں۔

بھلا کوئی شہزادہ اپنی عیش و عشرت اور شان و شوکت کی زندگی چھوڑ کر ایک عام سے انسان کی زندگی کیسے گزار سکتا ہے؟

ماننے میں نہی آتی ناں یہ بات۔۔۔؟

شایان غلط نہیں ہے اسے غلط بنایا گیا ہے،یہ انسانوں کی سازش ہے وہ ہمارے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں تا کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں۔

آپ ہمیں ایک موقع دیجئے ہم سب ٹھیک کر دیں گے۔۔۔بس ایک موقع بابا جان۔

ایونن کے انکشافات پر راجا صاحب سوچ میں پڑ گئے اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔ہم آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نا ہوا تو؟

آپ جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہو گا بابا جان۔۔۔آپ ہم پر بھروسہ کر کے تو دیکھئیے۔

چلئیے ٹھیک ہے۔۔۔کر لیتے ہیں ہم آپ پر بھروسہ ہمیں نا امید مت کرئیے گا۔

بے فکر رہئیے آپ۔۔۔ہم آپ کا بھروسہ کبھی نہی توڑیں گے۔۔۔ایونن سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکاتے ہوئے بولا۔

جائیے آرام کیجئیے آپ کی شادی کی پہلی رات ہے اور ہمیں مجبوراً آپ کو یہاں بلانا پڑا،ہم بہت شرمندہ ہیں آپ سے۔۔۔راجا صاحب کسی گہری سوچ میں ڈوبے بولے۔

آپ کا حکم سر آنکھوں پر بابا جان۔۔۔آپ کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایونن تیزی سے آگے بڑھا اور ان کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے بولا۔

جائیے۔۔۔ہیزل انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔راجا صاحب اس کا کندھا تھپکتے ہوئے مسکرائے۔

جی بابا جان۔۔۔ایونن چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ لیے وہاں سے چل دیا۔

ہیزل دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

وہ جب سے رخصت ہو کر یہاں آئی ایونن کمرے میں نہیں آیا۔

ادینہ کچھ دیر پہلے اس کے کمرے سے باہر نکلی کہ جا کر ایونن کو بھیجتی ہوں لیکن ایونن نہی آیا۔

آخر کار کمرے کا دروازہ کھلا اور ایونن کمرے میں داخل ہوا۔

مسکراتے ہوئے ہیزل کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگایا۔۔۔ہمیں آنے میں بہت دیر ہو گئی اس کے لیے معزرت۔

دراصل بابا جان کو کچھ ضروری بات کرنی تھی ہم سے بس اسی لیے ہمیں دیر ہو گئی۔۔۔خیر چھوڑئیے آپ بتائیں آپ کو کیسا لگ رہا ہے ہمارے محل میں؟

ہمارا مطلب ہے اپنے محل میں آ کر کیسا لگ رہا ہے آپ کو،کسی چیز کی کمی تو نہیں یہاں؟

نہی ایسا کچھ نہی ہے ایونن۔۔۔ہم بہت خوش ہیں،سچ کہیں تو ہم نے ایسا کبھی سوچا ہی نہی تھا۔

سب کچھ اتنا اچانک اور جلدی جلدی ہوا کہ ہمیں موقع ہی نہی ملا آپ سے بات کرنے کا۔

اگر آپ ہمیں پسند کرتے تھے تو اب تک ہمیں بتایا کیوں نہیں؟

بتایا تو تھا لیکن آپ کو نہی آپ کے بابا جان کو۔۔۔آخر کل کو انہی کے پاس تو جانا تھا ہمیں آپ کا ہاتھ مانگنے تو ہم نے سوچا کیوں نا سیدھے انہی کے پاس چلے جائیں۔

اگر وہ انکار کر دیتے تو؟

ہیزل کے سوال پر ایونن مسکرا دیا۔۔۔انکار کی گنجائش ہی نہی تھی۔۔۔ہمارا مطلب ان کے پاس انکار کی کوئی وجہ ہی نہی تھی۔

ہم میں کوئی کمی تو تھی نہی جو وہ انکار کرتے۔۔۔ہم خوبصورت ہیں،اپنے ماں باپ کے اکلوتے شہزادے ہیں،کوئی ہمیں انکار کر ہی نہی سکتا۔

جی یہ تو ہے۔۔۔ہیزل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور نظریں جھکا لی۔

ایونن اس کے شرمانے کے انداز پر مسکرا دیا اور اس کے مزید قریب ہوا۔۔۔ویسے آپ دلہن کے روپ میں بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔

ہیزل شرما کر خود میں سمٹ سی گئی لیکن پھر تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ہم یہ کپڑے مزید نہی پہن سکتے۔۔۔بہت تھک چکے ہیں ہم اور نیند بھی آ رہی ہے۔

اچھا۔۔۔آئیے ہم مدد کر دیتے ہیں۔۔۔ایونن اٹھ کر اس کی طرف بڑھا اور اس کی کمر میں بازو ڈالتے ہوئے اپنی طرف کھینچا۔

ہیزل فرار ہونے کی کوشش میں تھی لیکن ایونن اس کے فرار ہونے کے سارے راستے بند کر چکا تھا۔

_________________

اگلا دن۔۔۔

ایونن دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا مہک کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ہم تمہارے ساتھ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن کیا کرتے ہم بہت مجبور تھے

ہماری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔۔۔ہمیں معاف کرنے میں آسانی ہو گی۔

تمہیں معاف کر کون رہا ہے؟

مہک نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

مہک کے سوال پر ایونن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔نا کرنا معاف ویسے بھی ہمیں فرق نہی پڑتا۔

ہمیں جو چاہیے تھا وہ مل گیا اب تمہاری یہاں کوئی ضرورت نہی۔۔۔کچھ دیر بعد تمہیں ہمیشہ کے لیے آزاد کر دیا جائے گا۔

پر کاٹ کر کیسی آزادی؟

مہک چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے بولی۔

اس کے سوال پر ایک لمحے کے لیے ایونن کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی لیکن اگلے ہی پل وہ پھر سے مسکرا دیا۔۔۔یہ بات بھی ٹھیک ہے۔

مجھے اب آزادی نہی چاہیے مسٹر ایونن۔۔۔لیکن پھر بھی اگر آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں اور مجھ سے آزادی چاہتے ہیں تو ایک کام کریں۔

ہم تم سے آزادی نہیں چاہتے۔۔۔بلکہ ہمیں تمہیں آزادی دے رہے ہیں،اس آزادی کو ہمارا احسان سمجھو۔۔۔خیر کام بتاو؟

ایونن کے لہجے میں غصہ تھا لیکن اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔

یہ احسان نہ ہی کرو تو بہتر ہے۔۔۔اگر تم مجھ سے رہائی چاہتے ہو تو ایک کام کرنا۔۔۔مجھے میرے گھر پہنچانے سے پہلے میری جان لے لینا کیونکہ میں اپنے ماں باپ،بھائی اور شوہر کو میری وجہ سے سب کی نظروں سے گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکوں گی۔

بس یہ چھوٹا سا کام کر دینا میرے لیے۔۔۔چپ کیوں ہو؟

بتاؤ کرو گے ناں؟

ہم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔کسی کی جان نہی لے سکتے ہم۔

ایونن کے جواب پر مہک نے تالی بجائی۔۔۔واہ کیا کہنے ہیں آپ کے،آپ کی سوچ پر داد دینی تو بنتی ہے۔

سچ سننے کی ہمت ہے تو سنو۔۔۔تم میری جان لے چکے ہو وہ بھی بہت دن پہلے،اب جو مہک تمہارے سامنے بیٹھی ہے یہ ایک زندہ لاش ہے۔

مر چکی ہوں میں۔۔۔سنا تم نے؟

مار دیا تم نے مجھے۔۔۔اب یہ سانسیں بس نام کی ہیں،زندگی تو بچی ہی نہی میرے اندر۔

ایک کام کرو گلہ دبا دو میرا۔۔۔مہک اٹھ کر تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور ایونن کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن ایونن نے اپنے ہاتھ پیچھے کر دیے پاگل تو نہیں ہو گئی تم؟

ہم نے نہی مارا تمہیں۔۔۔سمجھی؟

مہک زنجیروں کی بندش کی وجہ سے اس کے قدموں میں گر گئی۔

ہم پر اتنا بڑا الزام مت لگاو۔۔۔سنبھالو خود کو،ہم کچھ دیر میں واپس آئیں گے اور تمہیں تمہاری دنیا میں چھوڑ کر آئیں گے۔

اب ہم چلتے ہیں۔۔۔شایان پہنچنے والا ہو گا محل،کچھ دیر میں وہ ادینہ کو بیاہ کر لے جائے گا پھر تمہاری سزا ختم۔

میری سزا تو شاید آج ختم ہو جائے گی ایونن لیکن تمہاری سزا کبھی ختم نہی ہو گی۔۔۔دیکھ لینا تم۔

میرے ایک ایک آنسو کا حساب دو گے تم۔۔۔وقت کا پہیہ گھومے گا اور آج جس مقام پر میں کھڑی ہوں تم بھی اس مقام پر آؤ گے یہ ایک مظلوم کی بدعا ہے۔

ایونن اس کی باتوں کو ان سنا کرتے ہوئے نظروں اور اوجھل ہو گیا اور مہک اٹھ کر پھر سے دیوار کے ساتھ بیٹھ گئی۔

دونوں ہاتھوں سے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے اور جتنی زور سے چلا سکتی تھی چلائی۔

__________

ادینہ دلہن بنی گم سم سی شیشے کے سامنے کھڑی سر سے لیکر پاؤں تک خود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔اس کے چہرے پر غم تھا یا خوشی اس بات کا فیصلہ نہی کر پا رہی تھی۔

تقریباً بیس دن ہو چکے تھے مہک کو ایونن کی قید میں اور ادینہ سے اس کی حالت نہی دیکھی جاتی تھی۔

اس کی جان بچانے کی خاطر نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس سازش کا حصہ بن چکی تھی۔

ہم نہیں جانتے ہماری زندگی میں آگے کیا ہونے والا ہے۔۔۔ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم خوش ہیں یا نہیں؟

ہم جو چاہتے تھے وہ ہو رہا ہے لیکن ایسے ہو گا ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

کاش ہم شایان کے پیچھے گئے ہی نہ ہوتے۔۔۔اگر ہم وہاں نہ جاتے تو آج ایک معصوم لڑکی اس حال میں نہ ہوتی۔

ہمارے کیے کی سزا مل رہی ہے اسے۔۔۔ہم خود کو کبھی معاف نہیں کر پائیں گے،کبھی بھی نہیں۔

مہک کو آج یہاں سے رہائی مل جائے گی لیکن ہم تا عمر ان چند دن کی قید میں رہیں گے،اس کی بے بسی نہی بھلا پائیں گے ہم۔

ہماری وجہ سے وہ اپنوں سے دور ہوئی ہے اور ہم جن خوشیوں کو اپنی قسمت سمجھ رہے ہیں وہ اس کی زندگی کی قیمت ہیں،ہم اس بوجھ تلے دب کر زندگی کیسے گزار پائیں گے؟

شایان ہمارے لیے نہی بلکہ اس کے لیے ہمارے ہونے جا رہے ہیں۔۔۔ہم اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے۔

وہ اپنی ہی خیالوں میں گم کھڑی تھی کہ اچانک اس کے کانوں میں اپنے بابا کے چلانے کی آواز سنائی دی۔

فوراً کمرے سے باہر نکلی اور محل کے اس حصے کی طرف بڑھی جہاں شایان اپنے بابا اور باقی مہمانوں کے ساتھ دلہا بنے کھڑا تھا۔

ادینہ نے تھوڑا سا پردہ پیچھے سرکایا اور شایان کی طرف دیکھا۔۔۔وہ سر جھکائے ایسا کھڑا تھا جیسے کوئی مجرم کٹہرے میں کھڑا ہو۔

پوچھئیے اس سے راجا صاحب آخر یہ اتنے دن تک کہاں تھا؟

باپ کے سوال پر ادینہ ان کی طرف متوجہ ہوئی۔

پوچھئیے اس سے یہ کون سا ہنر سیکھ کر آیا ہے انسانوں کی دنیا سے؟

ایک انسانی لڑکی کی محبت میں گرفتار یہ اس کے رنگ میں رنگ گیا اور اس کے دیوتا کو اپنا دیوتا مان بیٹھا ہے۔۔۔ہم پر نہیں یقین تو پوچھئیے اس سے۔

انسانوں کا نام سن کر پورے محل میں ہل چل سی مچ گئی۔۔۔ہر کوئی شایان کو شک کی نظر سے دیکھنے لگ گیا اور اس کے خلاف طرح طرح کے جملے بولے جانے لگے۔

یہ سب باتیں ہم اکیلے میں بھی تو کر سکتے ہیں۔۔۔شایان کے بابا ادینہ کے باپ کے سامنے التجائیہ انداز میں بولے۔

ہرگز نہیں۔۔۔جو بات ہو گی سب کے سامنے ہو گی۔۔۔آخر رعایا کو بھی تو پتہ چلے ان کے شہزادے نے کیا گل کھلایا ہے۔

دیکھئے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔شایان نے ایسا کچھ نہی کیا،ہاں یہ سچ ہے کہ یہ ایک انسانی لڑکی کے عشق میں مبتلا تھے لیکن ہم سے غداری کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

بس کر دیجئیے راجا صاحب۔۔۔اپنی آنکھوں سے بیٹے کی محبت کی پٹی اتار کر پھینک دییجیے اور اس کی جھکی ہوئی گردن کی طرف دیکھئیے۔

آپ کے بیٹے کا جھکا ہوا سر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک غدار ہیں۔

شایان کے بابا نے شایان کی طرف دیکھا تو غصے سے اس کی طرف بڑھے۔۔۔کہہ دیجئیے کہ یہ سب جھوٹ ہے شایان۔

شایان نے ان کی طرف دیکھا اور سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔نہی بابا جان یہ سچ ہے۔

شایان کی آواز سن کر پورے محل ہر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔

نکالئیے انہیں یہاں سے۔۔۔یہ غدار ہیں،انہیں کوئی حق نہیں اس دنیا میں رہنے کا،انہیں کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے،یہ انسانوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔۔۔ہر طرف سے شایان کے خلاف جملے کسے جانے لگے۔

راجا صاحب کا ہاتھ اٹھا اور شایان کے گال پر جا لگا۔۔۔وہ شایان کے چہرے پر تھپڑوں کی برسات کرتے چلے گئے۔

شایان نے ظبط سے آنکھیں بند کر لی اور بنا کچھ کہے ان کی مار سہتا گیا۔

ایونن ہیزل کے ساتھ وہاں پہنچا اور سامنے کا منظر دیکھ کر تیزی سے شایان کی طرف بڑھا اور اس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔

یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟

کس بات کی سزا دے رہے ہیں آپ شایان کو؟

ایونن زور سے چلاتے ہوئے بولا۔

غداری کی۔۔۔غداری کی سزا دے رہے ہیں ہم انہیں،ایونن آپ سامنے سے ہٹ جائیے۔۔۔ہم انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

کیسی غداری راجا صاحب؟

ہم اس بارے میں رات کو بات کر چکے ہیں ایونن۔۔۔آپ اس معاملے سے دور رہئیے۔

باپ کی آواز پر ایونن نے گہری سانس لی اور ظبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔یہ آپ نے کیا کر دیا بابا جان٫ہم نے اب تک یہ بات راجا صاحب سے چھپائی تھی اور آپ نے سارا کھیل بگاڑ دیا۔۔۔دل ہی دل میں سوچا لیکن باپ کے سامنے کچھ نہیں بولا۔

ایونن۔۔۔آپ نے ہم سے یہ بات کیوں چھپائی،آپ سب جانتے تھے ناں؟

شایان کے بابا کے سوال پر ایونن کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے اور اس کی یہ گھبراہٹ کسی نے بہت اچھی طرح محسوس کی تھی۔

کککیا مطلب ہے آپ کا راجا صاحب؟

ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔۔۔ہمیں تو خود رات کو پتہ چلا اور ہم نے بابا جان کو یقین دلایا تھا کہ ہم شایان کو پھر سے پہلے جیسا کر دیں گے۔

غلطی سب سے ہوتی ہے شایان سے بھی ہو گئی۔۔۔یہ شرمندہ ہیں اپنی غلطی پر اور ہم جو کہیں گے وہی کریں گے۔۔۔ہے ناں شایان؟

آپ معافی مانگ لیں سب سے اور بتا دیں سب کو ہمارا دیوتا کون ہے،اس بات کو یہی ختم کر دیتے ہیں۔

شایان نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ہم ایسا کچھ نہی کریں چاہے ہماری جان کیوں ناں چلی جائے۔

لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔۔۔یہ عہد ہم آخری سانس تک یاد رکھیں گے۔

شایان کے کلمہ پڑھنے کی آواز پر پورے محل میں سکتہ طاری ہو گیا۔۔۔سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ آخر شایان کیا بول رہا ہے۔

یہ آگ۔۔۔یہ مٹی اور یہ ہوا یہاں تک کہ ہم بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں ناں کہ آگ کے۔

ہمیں جو سزا دینا چاہیں ہمیں منظور ہے لیکن ہم اس عہد سے پیچھے نہی ہٹیں گے۔

ایونن کو سب کچھ ہاتھوں سے نکلتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا۔۔۔یہ جو کچھ ہو رہا تھا ایسا تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔

تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔آپ کو سزا ملے گی وہ بھی سب کے سامنے تا کہ آئیندہ ہماری نسل میں سے کوئی بھی غداری کرنے کی جرات نا کر سکے۔

راجا صاحب اسے بازو سے کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گئے۔

ادینہ بے بس سی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔

رک جائیے راجا صاحب۔۔۔ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں،شایان آپ ادینہ کو ایسے چھوڑ کر نہی جا سکتے۔

ایونن چلاتا رہ گیا لیکن کسی نے اس کی ایک نا سنی۔

بابا جان روکیے انہیں۔۔۔ادینہ مر جائے گی شایان کے بغیر۔

آپ ادینہ کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟

ایونن باپ کی طرف بڑھا اور غصے سے چلایا مگر ان پر کچھ اثر نہی ہوا۔

ہیزل دور کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔وہاں سے جانے ہی لگی تھی کہ ادینہ پر نظر پڑ گئی۔

تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی۔

جانے دیجئے انہیں ایونن۔۔۔کچھ نہی ہو گا ادینہ کو،وہ ہماری بیٹی ہیں اور وہی کریں گی جو ہم چاہیں گے۔

لیکن آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا بابا جان۔۔۔ہم نے آپ سے ایک موقع مانگا تھا تو پھر آپ نے سب کے سامنے ایسا کیوں کیا؟

کیسا موقع ایونن۔۔۔اور کس کے لیے موقع چاہتے تھے آپ شایان کے لیے؟

اس نے تو انکار کر دیا آپ کی بات ماننے سے۔۔۔یہ موقع ہی تو تھا جو وہ گنوا کر چلا گیا،اب کچھ نہی ہو سکتا۔

ہم نے جو کیا بلکہ ٹھیک کیا۔۔۔ہم اپنی بیٹی ایک غدار کے ساتھ نہی بیاہ سکتے تھے۔

ادینہ کا بیاہ ہو گا وہ بھی ابھی۔۔۔آپ بلا کر لائیے بہن کو۔

نہی بابا جان یہ ظلم ہے۔۔۔ہم اپنی بہن پر یہ ظلم نہی ہونے دیں گے،آپ کچھ بھی کہیں ہم شایان کو واپس لینے جائیں گے۔

آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ایونن۔۔۔جتنا کہا ہے اتنا کرئیے،ہمارے غصے کو ہوا مت دیں کہی ایسا نا ہو ہم آپ کے لیے کوئی سخت فیصلہ کر دیں۔

کرنا کیا چاہ رہے ہیں آپ بابا جان؟

ایونن کے سوال پر راجا صاحب آگے بڑھے اور اپنے بھائی کے بیٹے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔یہ کریں گے ادینہ سے بیاہ۔

ایونن نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔یہ ظلم ہے بابا جان۔

آپ سے نہی ہو گا ہم خود جاتے ہیں۔۔۔راجا صاحب ادینہ کو لینے خود چلے گئے اور انہیں ادینہ پردے کے پیچھے کھڑی نظر آئی۔

وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔۔۔ہیزل ادینہ سے الگ ہوئی اور آنسو پونچھتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔

آئیں ہمارے ساتھ۔۔۔وہ ادینہ کا بازو تھامے اسے وہاں سے لے گئے۔

ادینہ نے پلٹ کر ہیزل کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

چلتے ہوئے ادینہ کی نظر ایونن پر پڑی تو طنزیہ مسکرائی اور چپ چاپ اپنے کزن کے ساتھ بیٹھ گئی۔

شادی کی ساری رسمیں پوری ہوئی اور وہ رخصت ہو گئی۔۔۔جاتے جاتے ایونن کے گلے لگی اور روتے ہوئے اس کے کان میں چند الفاظ بولے۔۔۔”اس بے گناہ کی آہ آپ کی بہن کی خوشیاں کھا گئی ایونن”۔

ایونن کے کانوں میں مہک کی آواز گونجی۔

“میرے ایک ایک آنسو کا حساب دو گے تم۔۔۔میری سزا تو ختم ہو جائے گی لیکن تمہاری سزا کبھی ختم نہی ہو گی۔۔۔آج جس مقام پر میں کھڑی ہوں تم بھی اس مقام پر آؤ گے”

بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں آیا اور زور سے چلایا۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا،ہم نہیں ہار سکتے،ایک عام سی لڑکی ہمیں کیسے ہرا سکتی ہے؟

کیسے۔۔۔؟

جتنی زور سے چلا سکتا تھا۔۔۔آنکھوں کے سامنے بہن کا بے بس سا چہرہ نظر آیا۔۔۔سر تھامے فرش پر بیٹھ گیا۔

ہیزل کمرے میں داخل ہوئی اور تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔سنبھالئیے خود کو۔

ہم ٹھیک ہیں دور رہئیے آپ ہم سے۔۔۔اس سے پہلے کہ ہیزل اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ایونن زور سے چلایا۔

ہیزل ڈر کر وہی رک گئی۔۔۔ہمیں محل جانا ہے،بابا بہت غصے میں یہاں سے گئے ہیں۔

ہمیں ڈر ہے کہی ان کے ساتھ کچھ غلط نا ہو جائے۔

آپ ہمارے ساتھ چلیں گے ناں ایونن۔۔۔؟

ایونن اٹھ کر کھڑا ہوا اور ہیزل کی طرف بڑھا۔۔۔چلئیے،ویسے بھی اب یہاں آپ کا کچھ نہی ہے۔

ہیزل نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔کیا مطلب ہے آپ کا؟

مطلب ہم آپ کو ابھی سمجھاتے ہیں۔۔۔وہ ہیزل کو بازو سے کھینچتے ہوئے تقریباً گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گیا۔

_______________________

لے جائیے انہیں اور قید کر دیجئیے۔۔۔راجا صاحب شایان کو ساتھ لیے اپنے محل میں پہنچے اور غصے سے چلائے۔

آپ ایسا نہیں کر سکتے راجا صاحب۔۔۔آپ اپنا وعدہ بھول رہے ہیں شاید۔

آپ نے جو کہا ہم نے کیا۔۔۔آپ بھی اپنا وعدہ پورا کیجئیے۔۔۔شایان نے انہیں مہک کی یاد دلائی۔

مہک کے ذکر پر راجا صاحب مزید تپ گئے۔۔۔جو حالات آپ پیدا کر چکے ہیں ناں اس کے بعد تو سوچئیے گا بھی مت۔

ہم اس لڑکی کے ٹکرے کر دیں گے لیکن آپ کو اس سے ملاقات نہیں کرنے دیں گے۔

سارے فساد کی جڑ وہی ہے۔۔۔ہم اس جڑ کو ہی کاٹ دیں گے۔

ایسا سوچئیے گا بھی مت۔۔۔شایان غصے سے چلایا۔

ہم اب تک اس کی حفاظت کے لیے چپ تھے اگر آپ نے اسے چوٹ پہنچانے کی کوشش کی تو سمجھ لیجئیے گا آپ اسے نہیں بلکہ ہمیں تکلیف پہنچائیں گے۔

ہمارے وجود میں بستی ہے وہ اور اس کی تکلیف ہمیں محسوس ہوتی ہے۔

ہم نے وہ سب کیا جو آپ نے کہا لیکن اب اگر آپ نے اس کو تکلیف پہنچانے کا سوچا تو ہم خود کو ختم کر لیں گے۔

آپ سزا دینا چاہتے ہیں تو ہمیں دیجئیے۔۔۔ہمیں قید کرنا چاہتے ہیں تو کیجئیے لیکن بدلے میں ہمیں مہک کی رہائی چاہیے۔

ہم آپ کی ہر سزا ہنستے ہنستے سہہ لیں گے لیکن ہماری مہک کو جانے دیں،ہم آپ سے اس کی زندگی کی بھیک مانگتے ہیں۔

شایان کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح بے بس سا ان کے سامنے گھٹنوں کی بل بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔

ہم آپ سے اور کچھ نہی مانگیں گے۔۔۔چاہے آپ ہمارا سر قلم کر دیں،اف تک نہی کریں گے ہم۔

راجا صاحب وہاں سے چلتے ہوئے اپنے تخت کی طرف بڑھے۔۔۔ٹانگ پے ٹانگ جمائے بیٹھ گئے اور غرور سے گردن اکڑائی۔

چلئیے ہم آپ کو ایک اور موقع دیتے ہیں،آج رات تک کا وقت دیتے ہیں ہم آپ کو٫اپنے نئے دیوتا کو بھول جائیے اور پوری رعایا سے معافی مانگ لیجئیے ہم اس لڑکی کی جان بخش دیں گے اور آپ کی طاقتیں بھی آپ کو واپس کر دیں گے،اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

جائیے اپنے کمرے میں اور اچھی طرح سوچ لیجئیے۔۔۔کل صبح تک کا وقت ہے آپ کے پاس۔

شایان اٹھ کر کھڑا ہوا اور سر نفی میں ہلایا۔

ہم نے کہا ناں کل صبح تک سوچ لیں۔۔۔جائیے یہاں۔

اس سے پہلے کہ شایان کچھ بولتا راجا صاحب بول پڑے۔

شایان بغیر کچھ بولے اپنے کمرے میں آ گیا۔

ابھی کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ ہیزل روتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔بھائی آپ ٹھیک تو ہیں ناں,تیزی سے دوڑتی ہوئی شایان کے گلے لگ گئی۔

ہم ٹھیک ہیں ہیزل۔۔۔شایان نے اس کے سر ہاتھ رکھا۔

ہم بہت ڈر گئے تھے بھائی۔۔۔ہمیں لگا کہی بابا جان آپ کو کچھ کر نہ دیں اسی لیے ہم جلدی سے یہاں آ گئے۔

فکر مت کرئیے ہم ٹھیک ہیں ہیزل۔۔۔شایان نے اسے خود سے الگ کیا۔

آپ کو پتہ ہے آپ کے جانے کے بعد کیا وہاں کیا ہوا۔۔۔ادینہ کا کسی اور کے ساتھ بیاہ کر دیا گیا ہے۔

ہممم۔۔۔شایان نے سر اثبات میں ہلایا۔یہ تو اچھا ہو گیا،ویسے بھی سب کچھ زبردستی ہو رہا تھا۔

زبردستی ہو رہا تھا۔۔۔اس بات کا کیا مطلب ہوا بھائی؟

یہی سچ ہے۔۔۔مہک بابا جان کی قید میں ہے اور اس کی رہائی کے لیے ہمیں ادینہ سے بیاہ کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

کیا۔۔۔ہیزل حیران رہ گئی۔

آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہی بتایا؟

ہمیں موقع ہی نہی ملا ہیزل اور بتانے سے کیا ہو جاتا؟

ہمیں بس مہک کی زندگی چاہیے تھی۔۔۔ہم کسی بھی قیمت پر اسے کھونا نہی چاہتے تھے۔

اب کہاں ہے مہک؟

ہیزل کے سوال پر شایان نے بے بسی میں سر نفی میں ہلایا۔۔۔ہم نہیں جانتے۔

راجا صاحب کا حکم ہے کہ ہم کل صبح تک پرانے والے شایان بن کر سب سے معافی مانگ لیں۔۔۔اس کے بعد وہ مہک کو چھوڑیں گے ورنہ نہی۔

تو آپ ان کی بات مان لیں بھائی۔۔۔اس میں حرج ہی کیا ہے؟

ممکن ہی نہی ہے ہیزل۔۔۔ایسا ہو ہی نہی سکتا،آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتی بہتر یہی ہو گا آپ اس وقت ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔

ہیزل نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

______________________

یہ سب کیا تھا ایونن؟

راجا صاحب غصے سے ایونن پر چلائے۔

اتنی بڑی بات کیوں چھپائی آپ نے ہم سے؟

اگر آپ نے یہ سچ ہمیں پہلے بتایا ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

بابا جان اتنا بڑا قدم اٹھائیں گے ہمیں بھی اس بات کا اندازہ نہی تھا۔۔۔کل رات ہماری ان سے بات ہو چکی تھی پھر بھی انہوں نے سب کے سامنے ایسا کیا۔

ہم آپ کو بتا دیتے تو اب تک آپ شایان کو کھو چکے ہوتے راجا صاحب۔۔۔ایونن بھی انہی کے انداز میں چلایا۔

ہمارا احسان مانییے کہ ہم نے یہ بات چھپا لی اور آپ بیٹے آپ کی نظروں کے سامنے ہیں۔

سب کچھ ختم ہو گیا۔۔۔ہمیں تو کچھ حاصل نہیں ہوا۔

آپ کو وہاں سے آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔ہماری بہن کو کسی اور کے ساتھ بیاہ کر رخصت کر دیا ہمارے باپ نے۔

وہ کیسے خوش رہ سکیں گی وہاں؟

بتائیے ناں۔۔۔ہمیں جواب دیجئے راجا صاحب۔

آپ نے وعدہ کیا تھا ہم سے کہ آپ ادینہ کو شایان کی دلہن بنائیں گے تو پھر آپ نے وعدہ خلافی کیوں کی؟

اور کیا کرتے ہم ایونن۔۔۔؟

وہاں کھڑے اپنا تماشہ بنتے دیکھتے رہتے۔۔۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا،ہمارے بس میں کچھ بھی نہی تھا اس وقت۔

آپ اس لڑکی کو اس کی دنیا میں واپس چھوڑ آئیے اور شایان کو اپنے جادو سے آزاد کرئیے۔

یہ نا ممکن ہے راجا صاحب۔۔۔

ایونن کے جواب پر راجا صاحب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔۔۔کیا مطلب ہے آپ کا؟

آپ نے وعدہ کیا تھا ہم سے۔۔۔شایان کا بیاہ ادینہ سے نہیں ہو سکا اس کا مطلب یہ تو نہی کہ آپ وعدہ خلافی کریں۔

وعدہ خلافی تو آپ نے بھی کی ہے راجا صاحب۔۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں ہم اس لڑکی کو ایسے ہی آزاد کر دیں گے؟

ہرگز نہیں۔۔۔آپ جانتے ہیں کہ آپ کے شہزادے کی جان اس لڑکی میں بستی ہے اسی لیے بڑی چالاقی سے اسے بیاہ سے بھی بچا لیا اور اپنا وعدہ بھی پورا کروا رہے ہیں۔

ہم چھوٹے بچے نہی ہیں جو آپ کی چال نہ سمجھ سکیں۔۔۔وہ لڑکی شایان کو کبھی نہی مل سکتی کبھی بھی نہی۔

ہم اس لڑکی کی جان خود لیں گے۔۔۔رہائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ہماری بہن کی خوشیاں برباد کرنے والوں کو ہم اتنی آسانی سے رہا کر دیں گے۔

دونوں کو سزا ملے گی۔۔۔شایان کو بھی اور اس لڑکی کو بھی۔

شایان کو سزا دینے کے لیے ہمیں کچھ نہی کرنا پڑے گا۔۔۔بس ہم اس لڑکی کی جان لیں گے اور شایان اسے تڑپتے دیکھ کر خود ہی مر جائے گا۔

اتنی آسانی سے ختم نہی ہو گا یہ سب کچھ۔۔۔آپ بس دیکھتے جائیے۔

اور جہاں تک ہیزل کی بات ہے۔۔۔سنبھال کر رکھئیے اپنی بیٹی کو اپنے پاس،ہمارا ان سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایونن غصے میں وہاں سے چلا گیا اور راجا صاحب گرنے کے انداز میں بے بس سے بیٹھ گئے۔

_____________________

ایونن مہک کے پاس پہنچا۔۔۔

مہک دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی سر اوپر اٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا پھر سے سر گھٹنوں پر گرا دیا۔

ہو گئی آپ کی ضد پوری؟

سر جھکائے ہی سوال کیا۔

ایونن چپ چاپ دیوار سے ٹیک لگائے مہک کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

مہک کو جواب نا ملا تو سر اوپر اٹھایا اور مسکرا دی۔۔۔خوش نہیں لگ رہے آپ،سب ٹھیک ہے ناں؟

اتنی خاموشی کیوں ہے آج یہاں؟

کہی ایسا تو نہیں کہ مجھے یہاں سے بھیجنے کا فیصلہ مشکل تو نہی لگ رہا یا پھر اپنے کیے پر افسوس ہو رہا ہے؟

جو بھی ہے بولو۔۔۔میں سن لوں گی۔

ایونن کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا اور وہ مہک کی طرف بڑھا۔۔۔تم جیت گئی اور ہم ہار گئے۔

سنا تم نے ہم نے کیا کہا؟

ہم نے کہا ہم ہار گئے۔۔۔غصے سے چلایا۔

مہک ڈر کر خود میں سمٹ سی گئی اور کانوں پر ہاتھوں رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر لی۔

سب ختم ہو گیا۔۔۔ادینہ کا بیاہ کسی اور سے ہو گیا اور ہم اس کے لیے کچھ بھی نہی کر پائے۔

شایان بھری محفل میں ہماری بہن کو چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔اس کی سزا تو ملتی چاہیے ناں اسے٫ہے ناں؟

چلیں ایک کام کرتے ہیں کیوں ناں تمہیں آزاد کر دیں؟

کیا خیال ہے٫آزادی چاہیے تھی ناں تمہیں ہم سے؟

آج ہم تم آزاد کرتے ہیں صرف ہم سے نہیں بلکہ اس زندگی سے بھی۔۔۔یہی چاہتی تھی ناں تم؟

فکر نہی کرو ہم تمہیں تمہارے گھر پہنچا دیں گے تمہارے اپنوں کے پاس۔۔۔مگر افسوس تم کسی سے بھی مل نہی پاؤں گی۔

مہک اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور حیرت زدہ سی ایونن کو دیکھنے لگی۔

ایونن نے اس کے دونوں طرف دیوار پر ہاتھ رکھے اور اس کے چہرے پر جھکا۔۔۔تمہاری اس خوبصورتی کو ہم تمہارے لیے عبرت کا نشان بنا دیں گے۔

اس نے مہک کی گردن دبانے کے لیے دایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔

مہک نے آنکھیں زور سے بند کر لی۔۔۔چند لمحے بند رکھی جب گردن پر ایونن کا ہاتھ محسوس نہی ہوا تو آنکھیں کھول دی اور سامنے کا منظر دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھے حیرت زدہ سی دیکھتی ہی رہ گئی۔

سامنے شایان کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایونن کی گردن تھی۔۔۔مہک کو تکلیف پہنچانے کا سوچا بھی کیسے آپ نے؟

شایان نے اسے زور سے دیوار میں مارا اور اس کے چہرے پر تھپڑوں کی برسات کرتا چلا گیا۔

مہک کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔وہ بے یقینی سے شایان کو دیکھتے دیکھتے زمین پر بیٹھ گئی۔

بس کرئیے چھوڑ دیجئیے انہیں۔۔۔راجا صاحب آگے بڑھے اور ایونن کو شایان سے الگ کیا۔

راجا صاحب درمیان میں آئے لیکن شایان پھر سے آگے بڑھا اور ایونن کا سر دیوار میں مارا۔

ان کی ہمت بھی کیسے ہوئی ایسا کرنے کی؟

شک تو ہمیں اسی وقت ہو گیا جب آپ نے ان کی ہمایت کی تھی۔۔۔اگر آپ ہمیں یہاں نہ بھی لاتے تو ہم اس تک پہنچ چکے تھے۔

ہم لے تو آئے ہیں آپ کو یہاں۔۔۔راجا صاحب چلائے اور ایونن کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔

آپ کو یہ لڑکی چاہیے تھی ناں تو ہم نے پہنچا دیا آپ کو اس تک،ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اب آپ بھی ہمارا ساتھ دیں شایان۔

بعد میں دیکھتے ہیں ہم آپ کو۔۔۔ بابا جان ان سے کہئیے ہم پر کیا گیا جادو ختم کریں ابھی۔۔۔شایان غصے سے چلایا۔

ایونن نے شایان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔ایک انسان کے لیے اپنے رشتوں کے لیے لڑ رہے ہیں آپ،شرم نہی آ رہی آپ کو؟

بابا جان انہیں لے جائیے یہاں سے ورنہ ہم کچھ کر بیٹھیں گے۔۔۔شایان پھر سے ایونن کی طرف بڑھا لیکن راجا صاحب کی وجہ سے رک گیا۔

چلئیے یہاں سے ایونن۔۔۔راجا صاحب نے ایک نظر مہک کو دیکھا اور شایان کو دیکھتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

ان دونوں کے وہاں سے جاتے ہی شایان مہک کی طرف بڑھا اور اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔

مہک نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

چند لمحے دونوں خاموشی سے آنسو بہاتے رہے۔۔۔دونوں بولنے کی ہمت ہی نہی کر پا رہے تھے،سمجھ ہی نہی آ رہا تھا کیا بولیں۔

آخر کار شایان نے ہمت کی اور مہک کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ہم بہت شرمندہ ہیں آپ سے۔۔۔ہم آپ سے کیا وعدہ پورا نہیں کر سکے مہک،آپ کی حفاظت نہیں کر سکے ہم۔

مہک نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔آپ نے آنے میں بہت دیر کر دی شایان،سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔

اب تک تو میرے گھر والے میری موت کا یقین کر چکے ہو گے۔

اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو۔۔۔شایان نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔

آپ پر آنے والی بلائیں ہم اپنے سر لے لیں گے۔۔۔آپ کے ساتھ یہ سب کچھ ہماری وجہ سے ہوا ہے،ہم خود کو کبھی معاف نہی کریں گے کبھی بھی نہی۔

آپ فکر نا کریں ہم آپ کو آپ کے گھر واپس لے کر جائیں گے۔۔۔انہیں سمجھائیں گے کہ ہماری غلطی سے ہوا ہے یہ سب کچھ۔

کونسا گھر،کس گھر کی بات کر رہے ہیں آپ؟

اب اس گھر میں کوئی بھی مجھے نہی اپنائے گا۔۔۔سب یہی سمجھ رہے ہو کہ میں اپنی مرضی سے کہی چلی گئی ہوں۔

تائی امی نے تو میرے گھر والوں کا جینا حرام کر دیا ہو گا اور الزامات کی بوچھاڑ کر رہی ہو گی،میں ان کا سامنا کیسے کروں گی؟

کوئی کچھ بھی کہے دائم ہمارا یقین کرے گا،ہمیں دائم پر بھروسہ ہے مہک۔۔۔رکئیے ہم آپ کو اس قید سے آزاد کر دیں پہلے۔

شایان نے ہاتھ کے اشارے سے مہک کے ہاتھ پاؤں آزاد کر دیے۔۔۔ہمیں یقین نہی آ رہا ایسا بھی ہو سکتا تھا۔

ایونن نے ہم پر جادو کر دیا تھا اسی لیے ہم آپ تک نہی پہنچ سکے اور پہنچتے بھی کیسے،ہم آپ کو وہاں ڈھونڈ رہے تھے جہاں آپ تھی ہی نہیں۔

یہ زخم کیسے ہیں؟

شایان نے مہک کی گردن پر نشان دیکھے تو تڑپ سا گیا۔۔۔اس ایونن کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔

ایک بار آپ کو آپ کے گھر پہنچا دیں پھر دیکھتے ہیں انہیں۔

شایان نے ہاتھ اوپر اٹھایا تو سفید روشنی مہک کے زخموں پر پڑی اور اس کے سارے زخم ٹھیک ہو گئے۔

آپ ہمارے ساتھ محل چلیں گی؟

شایان کے سوال پر مہک نے حیرت زدہ انداز میں اسے دیکھا۔

ہمارا مطلب ہے کچھ دیر کے لیے۔۔۔جب تک ہم دائم سے نہی مل لیتے،ہم آپ کے گھر والوں کو آپ کی بے گناہی کا یقین دلا دیں اس کے بعد آپ کو وہاں چھوڑ دیں گے۔

اگر انہوں نے آپ پر یقین نہی کیا تو؟

مہک کے سوال پر ایک لمحے کے لیے شایان سوچ میں پڑ گیا لیکن پھر مسکرا دیا۔۔۔”تو ہم ہیں ناں آپ کے ساتھ،ہم کریں گے آپ پر یقین۔۔۔ہمارے محل کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہیں گے،اگر آپ نے چاہا تو ہم آپ کی خاطر سب سے لڑ جائیں گے”

مہک روتے روتے مسکرائی۔۔۔”اتنی محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے؟”

مہک کے سوال پر شایان مسکرا دیا۔۔۔کیا ابھی بھی ہمیں یقین دلانے کی ضرورت ہے؟

نہی۔۔۔مہک نے سر نفی میں ہلایا۔آپ میرے لیے زمین پر نہ بیٹھا کریں۔آپ ایک شہزادے اور شہزادے زمین پر نہی تخت پر بیٹھے اچھے لگتے ہیں۔

مہک کی بات پر شایان نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ہم شہزادے ہو گے اپنے محل میں لیکن آپ کے سامنے ہمیں ایسے بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔

کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا؟

کوئی کیا سوچے گا اس کی فکر تو ہم نے کبھی کی ہی نہی مہک۔۔۔ہماری محبت آپ کے لیے کبھی کم نہی ہو گی،کبھی بھی نہی۔

ہماری داستان سب جان چکے ہیں۔۔۔ہمارا رشتہ جسمانی نہی بلکہ روح کا رشتہ ہے اور روح کے رشتے کبھی ختم نہیں ہوتے۔

ہم جب سے یہاں آئے تھے ایک پل کے لیے چین نہی ملا ہمیں۔۔۔آپ کے لیے ہماری بے چینی ختم ہی نہی ہو رہی تھی اور ہوتی بھی کیسے٫آپ تکلیف میں تھی تو ہمیں سکون کیسے مل سکتا تھا؟

مہک نے دل ہی دل میں خود کو کوسا۔۔۔میں کتنا غلط سمجھ رہی تھی اسے اور یہ تو مجھے روح میں بسائے بیٹھا ہے۔

خیر چھوڑئیے ان سب باتوں کو ابھی ہمیں محل چلنا چاہیے۔۔۔آپ چلیں گی ناں ہمارے ساتھ؟

Last episode in pdf شایان نے مہک کی طر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *