Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 12)
Rate this Novel
Aks (Episode 12)
Aks by Khanzadi
مہک نے گھٹی گھٹی سی آواز میں تین بار “قبول ہے”کہا اور کانپتے ہاتھ سے نکاح نامے پر دستخط کر دیے۔
اس کے بابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔”اللہ میری بیٹی کا نصیب اچھا کرے”۔
آمین۔۔۔سب نے آمین کہتے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے اور مہک کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں اور مبارک باد دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
سب کے کمرے سے باہر نکلتے ہی مہک دادو کے گلے لگ کر آنسو بہانا شروع ہو گئی۔
چپ ہو جاؤ میری جان سب ٹھیک ہے۔۔۔کچھ غلط نہی ہوا۔
“قسمت میں یہی لکھا تھا”۔۔۔جیسے اللہ کی مرضی۔
اس میں رونے والی کیا بات ہے پگلی؟
پوتی کے نکاح کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔
دادی جان کی کچھ رشتہ دار خواتین کمرے میں داخل ہوئی۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا آپا۔۔۔عین وقت پر دلہا بدل دیا۔
ایسا بھی کیا ہو گیا بھلا جو خاور نے نکاح سے انکار کر دیا؟
ہم نے تو سنا ہے مہک پر کوئی براسایہ ہے۔۔۔یہ بات سچ ہے؟
تم سے کس نے کہہ دیا؟
دادی جان حیران رہ گئی ان کے انکشاف پر۔
کس نے کہا میری بچی پر سایہ ہے؟
یہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔کوئی کمی نہی ہے میری پوتی میں۔
کھانا کھا کر جانا سب۔۔۔انہوں نے بے رخی سے منہ دوسری طرف پھیرا تو سب چہ میگوئیاں کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
زخموں پر نمک چھڑکنے آئی تھیں کمبختیں۔۔۔ان کے جاتے ہی دادی جی غصے سے بولی۔
دادو خاور نے ایسا کیوں کیا میرا ساتھ؟
یہ رشتہ اس کی مرضی پر ہی طے ہوا تھا وہ تو کہتا تھا مجھ سے بہت محبت کرتا ہے تو پھر یہ سب کیا تھا؟
اگر اسے نکاح سے انکار ہی کرنا تھا تو اتنا ڈرامہ کیوں کیا میرے ساتھ؟
دادو آپ اس سے پوچھیں ناں اس نے کیوں کیا میرے ساتھ ایسا؟
مہک کسی صورت چپ ہونے کا نام ہی نہی لے رہی تھی۔۔۔رو رو کر اپنا برا حال کر لیا۔
چپ ہو جاو میری بچی۔۔۔پوچھوں گی میں اس سے سب کچھ پوچھوں گی لیکن ابھی تم صبر رکھو۔
مہمان ہیں گھر میں۔۔۔سب کسی چٹ پٹی خبر کے انتظار میں ہیں اگر تم اس طرح روتی رہی تو تمہارا مذاق بنائیں گی۔
تم فکر نا کرو ان کے جاتے ہی خاور کی کلاس لیتی ہوں میں۔۔۔اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی اتنی بڑی حرکت کرنے کی۔
میں تو خود سوچ سوچ کر حیران ہوں کہ آخر ایسا کیا ہو گیا جو اسے نکاح سے انکار کرنا پڑا۔
اس کی مرضی پر ہی یہ رشتہ طے ہوا تھا انکار کی تو گنجائش ہی نہی تھی۔
یہ کوئی مذاق تھا کہ نکاح سے تھوڑی دیر پہلے انکار کر دیا۔
ابھی آتے ہیں ناں سب تو پوچھتی ہوں سب سے۔۔۔بلاتی ہوں اسے ٹوٹی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ یہاں۔
اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی میری بچی کو رلانے کی۔
چپ ہو جاو۔۔۔
وہ مہک کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا۔
مہک نے سر اٹھا کر دروازے میں کھڑے شخص کو دیکھا اور نظریں جھکا لی۔۔۔چند لمحوں میں کتنا کچھ بدل گیا۔
اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے گہری سانس لی اور آگے بڑھا۔۔۔کرسی کھینچتے ہوئے دادو اور مہک کے سامنے رکھی اور بیٹھ گیا۔
دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپایا اور کچھ دیر خاموشی کے بعد سر اوپر اٹھایا اور مہک کی طرف دیکھتے ہوئے نظریں دادو کے چہرے پر جمائی۔
انہوں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔کچھ بولو گے یا بس ہمیں دیکھتے ہی رہو گے۔
میں کیا بولوں دادو جان؟
سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مجھے کچھ سمجھ میں نہی آیا۔۔۔اس وقت یہی مناسب لگا مجھے۔
ایک گھنٹہ پہلے خاور نے نکاح سے انکار کر دیا تھا یہ کہتے ہوئے کہ اسے مہک سے نہی بلکہ شازیہ سے شادی کرنی ہے۔
کیا۔۔۔؟
شازیہ نے نام پر مہک چونک گئی۔
ہاں۔۔۔اس نے یہی کہا تھا۔
سب نے اسے بہت سمجھایا اور چاچو نے چار پانچ تھپڑ بھی لگائے لیکن اس کی ضد قائم تھی۔
اس کے ساتھ بہت بخث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اس کا نکاح شازیہ سے پڑھا دیا جائے۔
شازیہ کو بلایا گیا اور اس کی مرضی جاننے کے بعد ان کا نکاح پڑھا دیا گیا۔
اب باری آئی قاسم اور شمع کی۔۔۔چاچو کو لگا کہی ان کے رشتے پر کوئی اثر نہ پڑ جائے تو ان دونوں کا بھی نکاح پڑھانا پڑا۔
پھر باری آئی اس محترمہ کی۔۔۔خاور تو انکار کر چکا تھا پھر آپ کے لاڈلے پوتے دائم کو یہ قربانی دینی پڑی۔
آخری بات ہنستے ہوئے بولا۔
دادو بھی ہنس پڑی۔۔۔چلو یہ تو اچھا ہو گیا۔
مہک کے چہرے کے تیور کچھ اچھے نہی تھے۔۔۔دائم اسے دیکھ کر مسکرادیا۔
ہنس لو تھوڑا سا۔۔۔رو رو کر سارا میک اپ اتار دیا ہے۔
اتنا خرچہ ہو گیا ہے ہمارا اور تم رو رو کر سارے پیسے ضائع کر رہی ہو۔
آپ نہ دیتے قربانی۔۔۔آپ سے کسی نے زبردستی تو نہی کہا تھا کہ مجھ پر ترس کھائیں۔
کیا ہو گیا؟
مذاق کر رہا تھا تمہیں ہنسانے کے لیے۔۔۔فضول باتیں مت کرو مہک۔
جانتی ہو تم مجھے اچھی طرح۔۔۔میں کوئی بھی فیصلہ زبردستی نہی کرتا۔
اس وقت جو مجھے سہی لگا میں نے وہی کیا۔
آپ ہی بتائیں دادو میں کیا کرتا؟
خاور انکار کر چکا تھا یہ دلہن بنی کمرے میں بیٹھی تھی۔۔۔سب رشتہ دار جمع تھے۔
ایسے حالات میں میں اپنے چاچو کا سر کیسے جھکنے دے سکتا تھا؟
ساری زندگی یہ رشتہ دار ان کو طعنے مارتے رہتے کے اس کی بیٹی پر کوئی جن عاشق ہو گیا ہے اور اسی ڈر سے خاور نے نکاح سے انکار کر دیا۔
میں اپنا خاندان ٹوٹتے ہوئے نہی دیکھ سکتا تھا۔۔۔اس وقت چاچو پوری طرح سے ٹوٹ چکے تھے۔
ان کی آنکھوں میں ازیت کے آنسو دیکھے تھے میں نے۔۔۔وہ آنسو جو شاید کسی اور نے نہی دیکھے تھے۔
اس وقت ان کی آنکھوں میں جو درد تھا ناں یہ بس میں جانتا ہوں۔
انہیں ایک مظبوط سہارے کی ضرورت تھی۔مجھے انہیں سہارا دینے کے لیے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھنا پڑا۔
قاسم اور شمع کا نکاح ہوتے ہی میں نکاح خواں کے پاس بیٹھا اور ان سے ایک اور نکاح پڑھانے کو بولا۔
میرے اس فیصلے پر ابو نے میرا پورا ساتھ دیا اور چاچو کو اپنے ہونے کا احساس دلایا۔
آپ ہی بتائیں دادو جان کیا میں نے کچھ غلط کیا؟
نہی بلکل بھی نہی۔۔۔تم نے سہی وقت پر بلکل سہی فیصلہ کیا ہے بیٹا۔
اللہ تمہیں ہمیشہ ایسے ہی ثابت قدم رکھے اور تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے آمین۔
سم آمین۔۔۔
دائم کے سم آمین کہنے پر مہک نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پھر سے رونا شروع ہو گئی۔
پاگل ہو تم بلکل۔۔۔دائم اٹھ کر اس کے قریب ہوا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور انگوٹھوں سے آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔
فضول رو رہی ہو تم مہک۔۔۔جو ہونا تھا ہو گیا رونے سے کیا مل جائے گا؟
مہک حیرت زدہ سی اسے دیکھتی ہی رہ گئی پھر اس کے کندھے پے سر رکھتے ہوئے مزید رونا شروع کر دیا۔
دادو نے منہ پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دی۔
دائم بھی ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا اور مہک کے کان میں سرگوشی کی۔
کچھ زیادہ ہی رومانٹک نہی ہو رہی۔۔۔ٹھیک ہے مان لیا میں ہینڈسم ہوں لیکن اس وقت ہم دادو کے کمرے میں ہیں۔
مہک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو فوراً پیچھے ہٹی اور دادو کی گود میں سر رکھے لیٹ گئی۔
آپ سنبھالیں اسے میں آتا ہوں تھوڑی دیر تک۔
دائم کے کمرے سے باہر نکلتے ہی مہک پھر سے دادو کے گلے لگ کر رونا شروع ہو گئی۔
جیسے ہی سب مہمان گھر سے باہر نکلے دائم کی امی چیخنا شروع ہو گئی۔
کس سے پوچھ کر یہ نکاح پڑھا تم نے دائم؟
ماں کی مرضی جاننا بھی ضروری نہی سمجھا تم نے۔۔۔ایسا بھی کیا ہو گیا تھا جو تمہیں یہ قربانی دینا پڑی؟
تمہیں اچھا بننے کا بہت شوق ہے لیکن یہ تم نے کیا کر دیا؟
اپنی زندگی برباد کر لی تم نے۔۔۔
تائی کے طنزیہ جملے سن کر مہک سہم کر بیٹھ گئی۔
وہ غصے سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ نکاح قبول کرنے کی؟
مہک کو بازو سے جھنجھوڑتے ہوئی بولی۔
تائی امی وہ میں۔۔۔مہک کچھ بولنے ہی والی تھی کہ دائم کمرے میں داخل ہوا۔
اس کا بازو چھوڑیں امی۔۔۔کیا ہو گیا ہے آپ کو؟
اچھا۔۔۔اس کا بازو چھوڑ دوں٫تمہیں اس کی تکلیف سے فرق پڑ رہا ہے لیکن ماں کی تکلیف کا کچھ اندازہ نہی ہے۔
وہ مہک کا بازو چھوڑتی ہوئی غصے سے دائم کی طرف بڑھی اور ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر لگا دیا۔
پاگل تو نہی ہو گئی تم؟
شرم نہی آئی جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔
دادی جان غصے سے چلائی۔
دماغ خراب ہو گیا ہے کیا تمہارا؟
ادھر آؤ دائم میرے پاس۔۔۔تمہاری ماں پاگل ہو گئی ہے۔
دادو جان آپ رکیں میں بات کر رہا ہوں۔۔۔آپ زیادہ نہ بولیں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔
مہک منہ پر ہاتھ رکھے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔اسے اندازہ نہی تھا کہ تائی امی اس سے اتنی نفرت کرتی ہے۔
وہ سمجھتی تھی کہ بس انہیں غصہ کرنے کی عادت ہے لیکن آج اسے سمجھ آ گئی یہ غصہ نہی نفرت ہے۔
میں کیوں چپ رہوں دائم؟
تمہاری ماں کا دماغ ٹھکانے پر نہی ہے۔۔۔اسے ٹھکانے پر لگانا جانتی ہوں میں۔
ایسا بھی کیا کر دیا بچے نے جو تم اس پر ہاتھ اٹھا رہی ہو؟
نکاح ہی تو کیا ہے کوئی گناہ تو نہی کر دیا جو تم اس کی جان کی دشمن بن گئی ہو۔
بس اماں۔۔۔آپ چپ ہی رہیں تو بہتر ہے٫آپ کے لاڈ پیار نے ہی اسے بگاڑا ہے۔
اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اور اس نے ماں سے اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔
یہ میرا بھی بیٹا ہے۔۔۔میرا اس پر کوئی حق ہے یا نہی؟
اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ تو لیتے آپ لوگ۔
کسی نے بھی مجھ سے مشورہ کرنا ضروری نہی سمجھا۔۔۔میرے بھولے بھالے بیٹے کو پھنسا دیا مجبوریوں کا رونا رو کر۔
خاور نے انکار کر دیا تھا تو اس میں دائم جا کیا قصور؟
اسے کیوں زبردستی اس نکاح پر مجبور کیا آپ لوگوں نے؟
دنیا میں اور کوئی لڑکا نہی بچا تھا جو میرے بیٹے کو قربانی کا بکرا بنا دیا آپ لوگوں نے؟
امی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟
آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔میرے ساتھ کسی نے کوئی زبردستی نہی کی۔
مہک سے نکاح میں نے اپنی مرضی سے کیا ہے۔۔۔کسی نے مجبوری کا رونا نہی رویا میرے سامنے۔
جب گھر میں ایک لڑکا موجود تھا تو دنیا کے کسی لڑکے کے آنے کا انتظار کیوں کرتے ہم؟
عجیب باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔بس اب اس ٹاپک پر مزید بخث نہی کرنی مجھے۔
میں نے اپنے پورے ہوش و حواس میں اس نکاح کو دل سے قبول کیا ہے۔۔۔”مہک میری بیوی ہے”
یہی حقیقت ہے۔۔۔آپ بھی تسلیم کر لیں اس حقیقت کو۔۔۔یہی بہتر ہے ہم سب کے لیے۔
میں اس لڑکی کو ہرگز قبول نہیں کروں گی دائم۔۔۔تمہارے قبول کرنے یا ناں کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
جب تک میں اسے قبول نہی کروں گی یہ اس گھر میں تمہاری بیوی بن کر نہی آ سکتی۔۔۔سمجھے تم؟
امی آہستہ بولیں چاچو سن لیں گے۔۔۔کیا ہو گیا آپ کو؟
آخر آپ کو مسئلہ کیا ہے مہک سے؟
دروازہ کھلنے کی آواز پر دائم نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا اور نظریں جھکا لی۔
سامنے مہک کی امی اور بابا کھڑے تھے۔۔۔ان کے پیچھے قاسم بھی کمرے میں داخل ہوا۔
یقیناً وہ سب کچھ سن چکے تھے۔۔۔
مہک کے بابا بے بس سے آگے بڑھے اور بیٹی کا ہاتھ تھام کر اس کا سر کندھے سے لگاتے ہوئے اسے چپ رہنے کو بولا۔
معاف کیجئے گا بھابھی۔۔۔مجھے نہی پتہ تھا آپ کو اس رشتے سے اتنا زیادہ اعتراض ہو گا اگر مجھے زرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ آپ میری بیٹی کو پسند نہیں کرتی تو میں کبھی بھی یہ نکاح نہ ہونے دیتا۔
ابھی بھی کچھ نہی بگڑا۔۔۔آپ فکر نہی کریں جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہو گا۔
دائم وہی کرے گا جو آپ کہیں گی۔۔۔میری بیٹی کسی پر بوجھ نہی بنے گی۔
بہت شکریہ دائم بیٹا تم نے مشکل وقت میں ہماری عزت رکھ لی لیکن معاف کرنا بیٹا رشتہ دونوں طرف سے نبھایا جاتا ہے۔
تم وہی کرنا جو تمہاری ماں چاہتی ہے۔۔۔طلاق دے دینا میری بیٹی کو۔
چاچو آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟
طلاق کے لفظ سن کر دائم کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین کھسک گئی۔
اجازت دیں اماں جان۔۔۔کافی دیر ہو گئی ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔وہ دائم کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے مہک کو ساتھ لیے کمرے سے باہر نکل گئے۔
مہک کی امی بھی آنسو بہاتی ہوئی قاسم کو ساتھ لیے وہاں سے چلی گئی۔
چاچو۔۔۔چچی جان رکیں۔
دائم ان کے پیچھے دوڑا۔۔۔
دیکھا آپ نے کیسے میرے بیٹے کو کٹھ پُتلی بنا دیا ہے آپ کے بیٹے نے۔۔۔یہاں کھڑی ماں کے آنسو نظر نہی آئے لیکن چاچو اور چچی جان کی تکلیف میں کیسے ان کے پیچھے دوڑتا چلا گیا۔
یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے اماں جان۔۔۔میں آپ سب کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔
ارے کمبخت۔۔۔مجھے کچھ نہی پتہ تھا اس بارے میں اور نہ ہی کسی نے مجھ سے مشورہ مانگا۔
میں تو خود حیران تھی خاور کی جگہ دائم کا نام سن کر۔۔۔لیکن تم نے میرے بیٹے کا دل دکھا کر اچھا نہی کیا۔
کتنی ازیت سے اس نے طلاق کا لفظ بولا ہے یہ میں ہی جانتی ہوں۔۔۔ہونٹ کانپ رہے تھے میرے بیٹے کے اور زبان لرز رہی تھی لیکن تمہارے دل میں زرا رحم نہی آیا۔
اپنی مرضی سے کیا ہے یہ نکاح تمہارے بیٹے نے۔۔۔کسی نے کوئی زبردستی نہی کی اس کے ساتھ۔
جو منہ میں آتا ہے بول دیتی ہو۔۔۔نکل جاؤ میرے کمرے سے اور دوبارہ میرے سامنے نہ آنا۔
ٹھیک ہے اماں جان۔۔۔نہی آتی آپ کے سامنے٫آپ کو تو ہمیشہ میں ہی غلط لگتی ہوں۔
وہ غصے میں کمرے سے باہر نکل گئی۔
دائم نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ لوگ نہیں رکے۔
گھر پہنچ کر مہک اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کیے بیڈ پر گر کر آنسو بہانا شروع ہو گئی۔
یہ تم نے کیا کیا خاور۔۔۔۔تم نے میری زندگی برباد کر دی۔
مجھے نہیں پتا تھا کہ تائی امی مجھ سے اتنی نفرت کرتی ہیں۔
پتا نہیں وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں۔۔۔وہ اس رشتے کو کبھی قبول نہیں کریں گی تو کیا دائم۔۔۔مجھے طلاق دے دے گا۔
کیا ہوگا میرا۔۔۔کوئی مجھ سے شادی نہیں کرے گا۔
میں طلاق کا دھبہ لیے ساری زندگی ماں باپ پر بوجھ بن کر پڑی رہوں گی۔
خاور تم نے بالکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔
آنسو پونچھتے ہوئے اٹھی اور الماری سے اپنا جلھسا ہوا موبائل نکال کر اسے آن کرنے کی کوشش کی کی لیکن فون ویسے کا ویسا ہی بند پڑا تھا۔
الماری کا دروازہ بند کرکے پلٹی تو سامنے شایان کھڑا تھا۔
___________________
شازیہ خاور کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔نکاح کے بعد وہ پہلی دفعہ اس کے پاس آئی۔
خاور نے اسے دیکھ کر منہ دوسری طرف موڑ لیا چلی جاؤ یہاں سے اور دوبارہ یہاں مت آنا۔
ایسا کیوں بول رہے ہو خاور؟
ہمارا نکاح ہو چکا ہے اور مجھے پورا حق ہے اس کمرے میں آنے کا۔
خاور نے غصے سے اس کی طرف دیکھا نکاح ہو گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھ پر حق جتاؤ۔
تم جو چاہتی تھی وہ ہو گیا ناں۔۔۔اب یہاں سے نکل جاؤ اور جب تک میں نہ کہوں میرے کمرے میں مت آنا۔
کیوں نہ آؤں میں اس کمرے میں؟
تم نے نکاح کیا ہے مجھ سے۔۔۔دل سے قبول کیا ہے مجھے تمہاری بیوی ہوں میں۔
اگر تم نے یہ سب کچھ ہی کرنا تھا تو پھر مجھ سے نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے اچھا تھا کہ تم مہک سے ہی نکاح کر لیتے۔
فی الحال میرا بحث کا کوئی موڈ نہیں ہے شازیہ۔۔۔بہتر یہی ہو گا کہ تم میرے کمرے سے چلی جاو۔
جو تم نے کہا میں نے وہ کر دیا کیا لیکن فی الحال مجھے اکیلا چھوڑ دو میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔
لیکن میں تو۔۔۔۔
شازیہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ خاور نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا شیشے کا گلاس اٹھایا اور ڈریسنگ کے شیشے پر مار دیا۔
شیشہ چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گیا۔
شازیہ خوف زدہ سی سمٹ کر دیوار کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
ایک بار کہی ہوئی بات سمجھ نہیں آتی تمہیں؟
میں نے کہا کہ جاؤ تو اس کا مطلب ہے جاؤ۔۔۔
خاور کے چلانے پر منہ پر ہاتھ رکھتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگ گئی۔
خاور کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔دائیں ہاتھ میں اپنے بال جھنجھوڑتے ہوئے زور سے چلایا۔
یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
بہک گیا تھا میں۔۔۔
“کسی کو چاہنے سے اچھا احساس تھا کسی کی چاہت بن جانا۔۔۔”
مجھے لگا شازیہ مجھ سے محبت کرتی ہے ہے تو میں دنیا کا خوش قسمت انسان ہوں لیکن میں یہ کیسے بھول گیا کہ میں مہک سے محبت کرتا ہوں؟
شازیہ کی میٹھی میٹھی باتوں میں الجھ گیا میں اور مجھ سے زندگی کی سب سے بڑی بھول ہو گئی۔
اپنی محبت کو کھو دیا میں نے کسی اور کی محبت بننے کے لیے۔
میں نے اسے کسی اور کے آسرے پر چھوڑ دیا اور وہ زندگی بھر کے لئے اس شخص کی ہو گئی جس سے مجھے سخت نفرت ہے۔
وہ شخص جس کا وجود بھی مجھے اس کے اردگرد برداشت نہیں ہوتا تھا ساری زندگی کے لیے اسے مجھ سے چھین کر لے گیا۔
بیوی بن گئی وہ اس کی۔۔۔مجھے اس کا مہک کو صرف دیکھنا ہی برداشت نہیں ہوتا تھا لیکن اب تو وہ اسے ہاتھ بھی لگائے گا اور وہ بھی پورے حق سے۔
کیسے برداشت کروں گا میں۔۔۔؟
نہیں برداشت ہو گا مجھ سے یہ سب کچھ۔خاور یہ تم نے کیا کر دیا۔۔۔غصے میں اپنے ہی چہرے پر تھپڑ لگاتا رہا۔
جب تھک گیا تو بیڈ سے ٹیک لگائے نظر چھت پے جمائے آئے آنسو بہانہ شروع ہو گیا اور سر نفی میں سر ہلایا۔
کچھ نہیں ہو سکتا اب کچھ بھی نہیں۔۔۔میں نے تمہیں کھو دیا مہک۔
تمہارے بغیر نہیں رہ پاؤں گا کھو دیا میں نے تمہیں۔۔۔مجھے معاف کر دینا غلط راستہ چن لیا میں نے بہت بڑی بھول ہوگئی مجھ سے۔
بہت بڑی غلطی کر دی میں نے۔۔۔شازیہ مجھ سے محبت کرتی تھی اس کی محبت کے اظہار نے مجھے اس قدر پاگل کر دیا کہ میں اپنی محبت کو بھول گیا۔
اس سے چاہے جانے کا احساس ہی اتنا خوبصورت تھا کہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے قدم نہیں روک سکا اور اس کی محبت کو قبول کر بیٹھا۔
یہ بھول گیا کہ میری محبت اور میرا سکون تو تم ہو۔
یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔میں دائم کو تمہارے ساتھ کیسے برداشت کروں گا؟
میں نہیں دیکھ سکوں گا اسے تمہارے ساتھ۔۔۔مر جاؤں گا۔
جتنی زور سے چلا سکتا تھا چلایا اور زور زور سے رونا شروع ہو گیا۔
اس کے رونے کی آواز سن کر سب کمرے میں داخل ہو گئے اس کی ماں جلدی سے آگے بڑھی اور بیٹے کا سر کندھے سے لگائے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
چپ ہو جاؤ کیا ہو گیا ہے خاور تمہیں؟
کس بات پر رو رہے ہو اب٫جو تم چاہتے تھے وہ ہو تو گیا اب ہمیں کس بات کی سزا دے رہے ہو؟
سزا تو اسے ملے گی اور ملنی بھی چاہئیے۔۔۔ جواب خاور کے باپ کی طرف سے آیا۔
اس نے ہمیں کہی منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا۔۔۔اس کا چیخنا چلانا تو بنتا ہے۔
اس نے پہلے مہک سے محبت کا دعوی کیا اور پھر نکاح سے انکار کرکے اس بچی کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔
اتنی آسانی سے سکون تھوڑی ملے گا اسے۔۔۔ جتنا اس نے اسے بے سکون کیا ہے اتنا ہی بے سکون خود بھی ہو گا۔
مذاق سمجھ رکھا ہے اس نے رشتوں کو۔۔۔
اور اس نے جو میرے بیٹے کی زندگی برباد کر دی اس کا کیا؟
دائم کی امی غصے سے چلائی۔
اور اگر تمہیں یہی سب کچھ کرنا تھا تو پہلے ہی بتا دیتے ہم تمہارا رشتہ شازیہ سے طے کر دیتے کم از کم میرا بیٹا تو نہ برباد ہوتا۔
تمہاری وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے میرے بیٹے نے اتنی بڑی قربانی دی ہے۔
اس نے ماں سے پوچھنا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سب کچھ۔۔۔اس لئے اب تمہیں بھی سکون نہیں ملے گا تم نے ایک ماں کا سکون برباد کیا ہے۔
بھابھی کیا ہو گیا ہے آپ کو کیوں میرے بیٹے کو بد دعائیں دے رہی ہیں؟
آپ سب کیوں اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں؟ غلطی ہو گا ناں اس سے اب کیا سب جان لیں گے اس کی؟
خاور کی ماں نے سب کو چپ کروایا تو دیکھتے ہی دیکھتے سب کمرے سے باہر نکل گئے۔
میرا بچہ چپ ہو جاؤ جو ہونا تھا وہ ہو گیا کیا اب کس بات کا پچھتاوا ہے تمہیں؟
ماما وہ کسی اور کی ہو گئی ہے۔۔۔ایسا تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔
مجھ سے دائم بھائی کا سایہ بھی برداشت نہیں ہوتا اس پر اور وہ ساری زندگی کے لئے اس کی ہو گئی ہے۔
مجھ سے برداشت نہی ہو رہا یہ سب کچھ ماما۔
یہ سب تمہیں پہلے سوچنا چاہیے تھا خاور۔ تم اسے چھوڑ دو گے تو کیا وہ ساری زندگی تمہارے لیے بیٹھی رہے گی؟
بیٹا ایسے تو نہیں ہوتا ناں۔۔۔اس بارے میں تمہیں پہلے پتہ ہونا چاہیے تھا۔
تمہارے ایک انکار نے رشتوں میں کتنی دراڑیں ڈال دی ہیں کچھ اندازہ ہے تمہیں؟
بھابھی نے مہک کو اتنی باتیں سنائی ہیں۔ تمہارے چاچو ناراض ہو کر یہاں سے چلے گئے ہیں انہوں نے تو دائم کو یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ مہک کو طلاق دے دے۔
ہاں ٹھیک ہے ماما۔۔۔آپ کہیں ان سے آپ لوگ دائم بھائی کو سمجھائیں کہ وہ مہک کو طلاق دیں دے۔
میں کروں گا اس سے شادی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
پاگل ہو گئے ہو تم خاور؟
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے دائم اسے طلاق کیوں دے گا بھلا؟
اگر اس نے طلاق ہی دینی ہوتی تو کبھی بھی نکاح نہ کرتا۔
سنبھالو خود کو جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب جو تمہاری زندگی میں ہے اس کی قدر کرو۔ تم نے کہا کہ شازیہ تم سے محبت کرتی ہے۔
تم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی اس سے نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا۔
اب اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہو۔۔۔اچھے مرد اپنے فیصلوں سے قدم پیچھے نہیں ہٹاتے۔ کوشش کرو اب جو تمہاری زندگی میں ہے اسے سنبھال کر رکھو۔۔۔مہک کو تو تم نے کھو دیا ہے اب اسے مت کھو دینا۔
عجیب کشمکش میں ڈال دیا ہے تم نے ہم سب کو۔۔۔ہم سب ایک دوسرے سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے۔
تمہاری پھوپھو کا رو رو کر برا حال ہے کہ شازیہ کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا وہ تو اپنی بیٹی کو ہی قصوروار سمجھ رہی ہیں۔
کب دل سے ڈانٹ رہی ہیں اسے کہ تمہاری وجہ سے میرے بھائی الگ ہو گئے رشتوں میں دراڑیں پڑ گئی۔
اگر تم نے اس کا ہاتھ تھامنے کا ارادہ کیا ہے ہے تو اس کا ساتھ بھی نبھاو۔۔۔اپنے قدم پیچھے نہ ہٹاؤ۔
تم مہک کی وجہ سے چیخو گے چلاو گے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی؟
جس طرح تم مہک کو کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے بلکل اسی طرح وہ بھی تمہیں کسی اور کے لئے روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔
میں بیٹی والی ہوں اس لیے تمہیں سمجھا رہی ہوں۔۔۔مزید کسی کی بیٹی کے آنسووں کی وجہ مت بنو۔
مہک کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔۔دائم اچھا لڑکا ہے اسے خوش رکھے گا کچھ وقت لگے گا پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔
لیکن جو تم کر رہے ہو یہ صحیح نہیں ہے اس طرح تم خود کو بھی اذیت دے رہے ہو اور ہم سب کو بھی۔
ہاتھ سے نکلا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا لیکن آنے والے وقت کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ اپنے آنے والے کل کا سوچو جو اگر تم نے شازیہ سے نکاح کا فیصلہ کیا تھا تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔
اپنے فیصلے پر قائم رہوں اور اپنے قدم پیچھے مت ہٹاو اب۔۔۔ہم سب کو مزید رسوا مت کرنا پہلے ہی ہم کسی سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہے۔
سو جاؤ چپ چاپ میں باہر جاو۔۔۔اماں کی طبیعت خراب ہو گئی پریشانی کی وجہ سے۔
اب مزید کوئی تماشہ نہ لگانا تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔
وہ ہاتھ جوڑتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
جاری ہے۔۔۔
