Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 34)
Rate this Novel
Aks (Episode 34)
Aks by Khanzadi
ادینہ ایونن کے ساتھ مہک کے پاس پہنچی اور اس کی حالت دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
ایونن یہ سب کیا ہے؟
آپ نے کیا کر دیا اس کے ساتھ؟
اتنی اذیت کیوں دی آپ نے اس بے گناہ لڑکی کو؟
ادینہ سوال پر سوال کرتی چلی گئی اور اس کی آواز سن کر مہک کی آنکھ کھل گئی۔
وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی روتے روتے پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی۔۔۔ادینہ کو سامنے دیکھ کر اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
آپ ٹھیک ہیں؟
ادینہ آگے بڑھی اور مہک کے کندھے پر ہاتھ رکھنے ہی والی تھی کہ مہک پیچھے ہٹ گئی۔۔۔آپ بھی مجھ سے بدلہ لینا چاہتی ہیں کیا؟
نہیں ہم ایسا کچھ نہیں چاہتے۔۔۔ادینہ نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔
اوہ۔۔۔ہمیں معاف کر دیجئے ہم بھول گئے تھے۔ہماری آپ سے کوئی دشمنی نا تھی اور نا ہے،ہم تو بس شایان کے لیے وہاں آئے تھے۔
اپنے بھائی کی غلطی پر ہم بہت شرمندہ ہیں،انہیں معاف کر دیجئے۔
ہم آپ کو آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔۔۔آپ کو کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ادینہ کی باتیں سن کر مہک کو تھوڑی تسلی ہوئی۔۔۔اس کی ادینہ سے پہلی ملاقات اچھی نہی تھی لیکن آج اس کا رویہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔
ہرگز نہیں!
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی۔۔۔جب تک ہم نہیں چاہیں گے یہ یہاں سے نہی جا سکتی۔
آپ ہمارے کام میں مداخلت کرنے کی کوشش مت کریں،آپ کو اس سے ملنا تھا ہم نے ملوا دیا۔
اب آپ کو واپس محل جانا چاہیے۔۔۔ایونن کا انداز حکمرانی تھا۔
اور اگر ہم ایسا نا کریں تو؟
ادینہ کے سوال پر ایونن مہک کی طرف بڑھا اور اس کی گردن پر تلوار رکھ دی۔۔۔اگر آپ نے پیار سے ہماری بات نا مانی تو ہم اسی وقت اس کی جان لے لیں گے۔
تلوار پیچھے ہٹائیے ایونن۔۔۔ادینہ زور سے چلائی۔
ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہمارا بھائی اتنا خود غرض بھی ہو سکتا ہے۔۔۔اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے کسی کی بیٹی کی زندگی کیسے برباد کر سکتے ہیں آپ؟
چھوڑ دیجیے یہ ضد اور اسے جانے دیں۔۔۔اس کے گھر والے بہت پریشان ہو گے۔
ضد ہم نہی آپ کر رہی ہیں۔۔۔یہ سب کچھ ہم آپ کی خاطر کر رہے ہیں اور آپ ہمیں خود غرض کہہ رہی ہیں؟
اگر اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے کسی کی جان لینا خود غرضی ہے تو ہاں ہم ہیں خود غرض۔
آپ کو خوش دیکھنے کے لیے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔۔۔اپنی جان دے بھی سکتے ہیں اور کسی کی جان لے بھی سکتے ہیں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔آپ چاہیں تو اس بے گناہ لڑکی کی جان بچا سکتی ہیں۔
ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے ایونن۔۔۔آپ جیسا چاہیں گے ویسا ہی ہو گا،آپ یہ تلوار ہٹا دیں۔
ایونن کی اس حرکت پر ادینہ ڈر گئی اور فوراً اس کے سامنے ہار مان لی۔
ہمیں معاف کر دینا مہک۔۔۔ادینہ نے مہک کی طرف دیکھا اور سر جھکائے شرمندہ سی بولی۔
مہک طنزیہ مسکرائی اور دوبارہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔
چلیں۔۔۔؟
ایونن نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
ادینہ نے افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور نا چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
الوداع کہہ دیجئیے اپنی دوست کو۔۔۔کیونکہ آپ ان سے دوبارہ نہیں مل سکیں گی۔۔۔ایونن ہنستے ہوئے بولا۔
ادینہ نے اسے غصے سے گھورا اور ایک دکھ بھری نظر مہک پر ڈالتے ہوئے ظبط سے آنکھیں بند کر لی۔
بدلے میں مہک نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے ادینہ اور ایونن اس کی نظروں کے سامنے غائب ہو گئے اور اسی وقت سورج بھی غروب ہو گیا۔
مہک نے سر گھٹنوں پے گرا لیا۔۔۔یہ کیسی آزمائش میں پھنس گئی ہوں میں،ایک امید نظر آئی ہی تھی کہ نظر آتے ہی ٹوٹ گئی۔
پتہ نہی اور کتنے دن اس اندھیر نگری میں گزارنے پڑیں گے،پتہ نہی شایان مجھے بچانے کیوں نہیں آ رہا؟
عجیب سی دنیا ہے یہ۔۔۔کوئی اپنا نہی ہے یہاں،مجھے اپنے گھر جانا ہے امی کے پاس۔
مجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے؟
میں نے کبھی کسی کا برا نہی چاہا پھر بھی سزا کی حقدار میں ہی کیوں؟
پہلے شایان کی زبردستی مجھ پر حق جتانا،میرے لیے کسی نا کسی کو نقصان پہنچانا اور پھر اچانک میری زندگی سے چلے جانا۔
اس کے بعد خاور کا دھوکہ اور پھر دائم کا میری زندگی میں شامل ہونا۔۔۔پھر شایان کا اچانک واپس آنا اور مجھے دھوکے باز کہنا،ہر بار بے گناہ ہوتے ہوئے بھی گناہگار ثابت ہوتی آ رہی ہوں میں۔
میری زندگی ایک تماشہ بن چکی ہے۔۔۔سمجھ میں نہیں آ رہا کون میرے ساتھ ہے اور کون میرے خلاف۔
پہلے کم آزمائشوں سے گزری ہوں میں جو اب یہ ایونن آ گیا۔۔۔احساس نام کی کوئی چیز نہی ہے اس میں،اپنی بہن کی خوشیوں کی فکر ہے اسے لیکن کسی اور بہن کی زندگی تباہ کرتے ہوئے اسے کوئی افسوس نہیں ہے۔
یہ ادینہ بھی یقین کے قابل نہیں ہے۔۔۔مجھے تو لگتا ہے اپنے بھائی کے ساتھ ملی ہوئی اس پلان میں اور مجھے بے وقوف بنا رہی ہے۔
عجیب ہی لوگ ہیں یہ۔۔۔یہاں کسی کو میری تکلیف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
شایان کے مطابق وہ میری تکلیف سے واقف ہے۔۔۔اگر وہ میری تکلیف سے واقف ہے تو مجھے بچانے کیوں نہیں آ رہا؟
وہ یہاں اپنی دنیا میں واپس آ گیا وہ بھی مجھے بتائے بغیر اور آج اسے میری کوئی خبر نہی۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
میرے لیے کسی کی جان تک لے سکتا تھا وہ۔۔۔اتنی محبت کرنے والا مجھ سے بے خبر کیوں ہے آج؟
پہلے تو میرے لیے کہی بھی پہنچ جاتا تھا اور بغیر کہے میری آنکھوں سے ہر بات پڑھ لیتا تھا اور آج میں چیخ چیخ کر اس کا نام پکار رہی ہوں اور اسے میری آواز سنائی ہی نہیں دے رہی۔
بہت دیر چیخ چیخ کر روتی رہی اور پھر دیوار کے ساتھ سمٹ کر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لی۔
______________________
شایان اپنے کمرے میں مغرب کی نماز کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک اسے گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگ گئی۔
کمرے سے باہر نکل کر چھت پر آ گیا لیکن اسے کسی صورت چین نہی مل رہا تھا۔
یہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ؟
عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے۔۔۔ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی نے بہت شدت سے ہمیں یاد کیا ہے۔
پتہ نہی کیوں لیکن ہم جب سے یہاں آئے ہیں ہمیں کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا۔
ایسے لگ رہا ہے جیسے یہ ہماری دنیا ہے ہی نہی۔۔۔سب کچھ الگ ہے یہاں۔
ہمیں مہک کے پاس جانا ہے،اسے دیکھنا ہے،جب تک ہم اسے سہی سلامت نہیں دیکھ لیتے ہمیں سکون نہی ملے گا۔
مہک آپ کہاں ہیں آپ،ہمیں دکھائی کیوں نہیں دے رہی؟
ایسی کیا غلطی ہو گئی ہم سے جو آپ ہمیں اتنی بڑی سزا دے رہی ہیں؟
شایان بے بس سا زمین پر بیٹھ گیا اور نظریں آسمان پے جما لی۔۔۔اس کی آنکھوں سے چند آنسو بہہ کر زمین میں جذب ہو گئے۔
ہم نہی مان سکتے کہ آپ ہمیں خود سے دور بھیج سکتی ہیں۔۔۔یہ ہو ہی نہی سکتا۔
آپ پریشان ہو گئی تھیں ناں ہمارے جانے کا سن کر تو پھر ہم کیسے یقین کر لیں بابا کی باتوں پر؟
بس ایک بار۔۔۔ہمیں ایک موقع دے دیں ہم وعدہ کرتے ہیں آپ سے اگر ہمیں دور بھیجنا چاہیں گی تو ہم چلے جائیں گے لیکن ہمیں ایسی سزا نا دیں۔
اتنے بہادر نہیں ہیں ہم کہ آپ کی جدائی برداشت کر سکیں۔۔۔ہمیں آپ کی ضرورت ہے,اتنی جلدی بچھڑنے کا تو سوچا ہی نہیں تھا ہم نے۔
ایک آخری ملاقات باقی ہے ابھی۔۔۔
بھائی۔۔۔آپ ایسے کیوں بیٹھے ہیں؟
ہیزل اچانک وہاں آئی اور شایان کو زمین پر بیٹھے دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
شایان نے فوراََ منہ دوسری طرف موڑ لیا اور آنسو پونچھتے ہوئے ادینہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
کچھ نہی ہوا ہمیں۔۔۔ہم بس یونہی بیٹھے تھے،آپ کو کوئی کام تھا؟
ہیزل رونا شروع ہو گئی۔۔۔آپ جتنی بھی کوشش کر لیں چھپانے کی بے کار ہے،ہم جانتے ہیں آپ رو رہے تھے۔
آپ کب سے اتنے کمزور ہو گئے؟
خود کو سزا مت دیں۔۔۔جو کچھ اس میں آپ کا کوئی قصور نہی ہے۔
ہم کیا کریں ہیزل۔۔۔؟
ہمیں اس کے بغیر سکون ملتا ہی نہیں ہے۔۔۔جب تک ہم اسے دیکھ نہی لیتے ہم یونہی تڑپتے رہیں گے۔
سنبھالیں خود کو۔۔۔بابا نے یاد کیا ہے آپ کو،ہم آپ کی آرام گاہ میں گئے تھے لیکن آپ وہاں نہی تھے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آپ یہاں آئے ہیں۔
ٹھیک ہے آپ جائیے ہم آتے ہیں۔۔۔شایان نے سر اثبات میں ہلایا۔
آتے ہیں نہیں آئیے۔۔۔ہیزل اسے زبردستی نیچے لے کر آئی اور راجا صاحب کے کمرے میں لے گئی۔
جی بابا جان۔۔۔آپ نے ہمیں بلایا،کوئی ضروری کام تھا؟
جی۔۔۔بیٹھئیے،راجا صاحب نے شایان کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ دیا اور ہیزل کو اپنے پاس بلایا۔
آپ جانتے ہی ہیں اب ہم تینوں ہی ایک دوسرے کا سہارا ہیں،زندگی بہت چھوٹی سی ہے۔۔۔ہم جانے سے پہلے آپ دونوں کی خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔
بابا جان آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں،ہم اپنے چھوٹے بھائی اور ماں کو کھو چکے ہیں مزید کچھ نہی کھو سکتے ہم،آئیندہ ایسی بات مت کرئیے گا۔۔۔ہیزل باپ کے کندھے پے سر رکھ کر رونا شروع ہو گئی۔
ہمارا ارادہ آپ کو دکھ پہنچانے کا نہیں تھا بیٹا۔۔۔ہم تو حقیقت بیان کر رہے ہیں۔۔۔راجا صاحب ہیزل کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
آپ جائیے ہمیں شایان سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔
جی بابا جان۔۔۔ہیزل حیران سی کمرے سے باہر نکل گئی کہ آخر ایسی کونسی بات تھی جو اس کے سامنے نہی ہو سکتی تھی۔
جی بابا جان فرمائیے۔۔۔ایسی کیا بات تھی جو آپ نے ہیزل کے سامنے نہی کی؟
بات ہی کچھ ایسی تھی شایان۔۔۔اگر آج آپ کی ناں زندہ ہوتی تو یہ بات وہ خود ہیزل سے کرتی لیکن اب وہ نہیں ہیں تو ہم یہ زمہ داری آپ کو سونپ رہے ہیں۔
دراصل ایونن کو ہیزل اچھی لگ گئی ہیں اور اپنے ماں باپ کے ساتھ ہمارے محل آنا چاہتا ہے ہماری ہیزل کا ہاتھ مانگننے۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ یہاں آئیں ہم چاہتے ہیں کہ ہیزل کی مرضی جان لی جائے۔
اب یہ آپ کی زمہ داری ہے۔۔۔ہیزل سے پوچھ کر ہمیں بتا دیں تا کہ ہم بات آگے بڑھا سکیں۔
اس وقت وہ سب سے زیادہ آپ کے قریب ہیں اور آپ کو کھل کر اپنا فیصلہ سنا سکتی ہیں۔
ٹھیک ہے۔۔۔ہم بات کرتے ہیں ہیزل سے،دیکھتے ہیں وہ کیا کہتی ہیں پھر بتاتے ہیں ہم آپ کو۔۔۔اجازت دیجئیے۔
جائیے۔۔۔اجازت ہے۔
شایان حیران و پریشان سا کمرے سے باہر نکل آیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔اچھی طرح دروازہ بند کیا اور مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ہیزل کے پاس پہنچا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔
ہیزل نے شایان کا ہاتھ تھاما اور مسکرا دی۔۔۔آپ کو ہمارے لیے جو بہتر لگتا ہے آپ کریں۔ہمیں کوئی اعتراض نہی۔
ہمیں آپ پر پورا یقین ہے۔۔۔آپ ہمارے لیے جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا۔
شایان نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔یعنی ہم آپ کی طرف سے ہاں سمجھیں؟
ہیزل نے سر اثبات میں ہلایا اور بھائی کے کندھے پر سر رکھے مسکرا دی۔
چلیں ٹھیک ہے ہم یہ خوشخبری بابا کو سنا دیتے ہیں۔۔۔باقی جو ان کو ٹھیک لگے۔
شایان ہیزل کے کمرے سے باہر نکل گیا اور راجا صاحب کے کمرے میں آ گیا۔
راجا صاحب اسے واپس آتے دیکھ کر مسکرا دیے اور کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
شایان کرسی پر بیٹھ گیا اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہیزل کو منظور ہے۔
یہ ہوتی ہے فرمانبردار اولاد کی نشانی۔۔۔ہمیں اپنی بیٹی سے یہی امید تھی۔
امید ہے آپ بھی ہماری بات کا مان رکھیں گے۔۔۔ہیزل کی طرح ہماری امیدوں پر پورا اتریں گے۔
جی۔۔۔ہم کچھ سمجھے نہی۔
شایان ناسمجھی کے انداز میں بولا۔
ہم سمجھاتے ہیں آپ کو۔۔۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کا بیاہ ادینہ سے کر دیا جائے۔
ادینہ کے نام پر شایان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
کل آپ ہمارے ساتھ ادینہ کے محل جائیں گے اور ان کے ماں باپ سے ان کا ہاتھ مانگیں گے۔
ہم ایسا نہی کر سکتے۔۔۔آپ جانتے ہیں کسی اور سے محبت کرتے ہیں۔۔۔شایان سر جھکائے نظریں فرش پر جمائے بولا۔
شایان کے جواب پر راجا صاحب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔جان چھوڑ دیں اس لڑکی کی،خاک میں مل گئی آپ کی محبت۔
محبت محبت۔۔۔ایک ہی بات پر ڈٹ گئے ہیں آپ،جو کام ممکن ہی نہی ہے اس کرنے کے بارے میں سوچنے کا بھی کوئی فائدہ نہی شایان۔
ہم فیصلہ کر چکے ہیں۔۔۔جا کر آرام کرئیے صبح جانا ہے ہمیں۔
ہم نے کہا ناں ہم سے نہی ہو گا یہ۔۔۔آپ زبردستی نہیں کر سکتے ہمارے ساتھ۔
شایان کے جواب پر راجا صاحب تخت سے اتر کر اس کے پاس آئے اور اگر ہم آپ سے یہ کہیں کہ وہ لڑکی ہمارے قبضے میں ہے،اگر آپ نے ہماری بات نا مانی تو ہم اس کی جان لے لیں گے۔۔۔کیا اب بھی آپ کا جواب ناں ہے؟
راجا صاحب کی بات سن کر شایان اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔کیا کہا آپ نے؟
مہک آپ کے قبضے میں ہے؟
ہاں۔۔۔بلکل ٹھیک سنا آپ نے وہ لڑکی اس وقت ہماری قید میں ہے۔
ہمیں ملنا ہے مہک سے ابھی۔۔۔بدلے میں آپ جو چاہیں گے ہم وہ کریں گے،کہاں ہے وہ؟
ہمیں اسے دیکھنا ہے ابھی اسی وقت۔۔۔ہم جانتے تھے کچھ تو غلط ہے۔
ہماری بے چینی بلاوجہ نہی تھی۔۔۔بتائیے ہمیں کہاں ہے وہ؟
شایان کی مہک کے لیے بے چینی دیکھ کر راجا صاحب دھنگ رہ گئے۔۔۔صبر سے کام لیں آپ شایان،وہ لڑکی ٹھیک اور ابھی تک زندہ ہے لیکن اگر آپ نے ہماری بات نا مانی تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
فیصلہ آپ نے کرنا ہے،بس یہ سمجھ لیں کہ اس کی سانسوں کی ڈور اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
لیکن آپ ایسا کیوں کر رہے ہے مہک کے ساتھ،آخر اس نے آپ کا کیا بگاڑا ہے بابا جان؟
اس نے ہم سے ہمارا بیٹا چھیننے کی کوشش ہے۔۔۔راجا صاحب غصے سے چلائے۔
اس کی وجہ سے ہماری ناک کٹ گئی اور آپ کہتے ہیں اس نے بگاڑا کیا ہے؟
آپ ہماری نرمی کا فائدہ مت اٹھائیں شایان۔۔۔جتنا کہا ہے اتنا کریں،جا کر آرام کریں صبح جانا ہے ہمیں۔
ہمارے غصے کو ہوا مت دیں۔۔۔آپ کا ایک غلط قدم اس لڑکی کی جان لے سکتا ہے۔
یہ ظلم ہے۔۔۔مہک کی اس میں کوئی غلطی نہی ہے،ہم خود وہاں گئے تھے نا کہ اس نے ہمیں آپ سے چھیننے کی کوشش کی تھی۔
ہمارے کیے کی سزا اسے نا دیں آپ۔۔۔اگر اس کی جان بچانے کی بات ہے تو ہم اس کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔سب کچھ،اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔
ہمیں آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے لیکن اس سے پہلے ہم ایک بار اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔
یا ناممکن ہے شایان۔۔۔ہم آپ کی یہ خواہش پوری نہیں کر سکتے لیکن ہمارا آپ سے وعدہ ہے اگر آپ خوشی خوشی ادینہ سے بیاہ کر لیتے ہیں تو ہم اس لڑکی کو سہی سلامت اس کے گھر پہنچا دیں گے۔
ہاں اس کے جانے سے پہلے ایک بار آپ کو اس سے ملنے کی اجازت مل سکتی لیکن آخری بار۔۔۔اس کے بعد آپ کبھی اس کی دنیا میں نہی جائیں گے۔
اب بتائیں کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔اس کی زندگی یا پھر موت؟
ہمیں اس کی زندگی چاہیے۔۔۔ہم ہار مانتے ہیں بابا جان،اگر ہماری ہار میں آپ کی جیت ہے تو آپ کو یہ جیت مبارک ہو لیکن آپ جانتے ہیں اس کے بعد کیا ہو گا؟
ہم بتاتے ہیں۔۔۔اس کے بعد آپ جیت کر بھی ہار جائیں گے کیونکہ آپ خود اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے موت چن چکے ہیں۔
شایان غصے اور بے بسی کی کیفیت میں وہاں سے چلا گیا اور راجا صاحب کو اس کے جانے پر زرا افسوس نہی ہوا۔
وہ مسکرائے اور اپنے تخت پر براجمان ہو گئے۔
اگلا دن۔۔۔
ادینہ اپنے کمرے میں گم سم سی بیٹھی تھی کہ داسی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔شہزادے ایونن آپ سے ملنا چاہتے ہیں شہزادی۔
ان سے کہیے چلیں جائیں یہاں سے۔۔۔ہمیں نہیں ملنا ان سے۔۔۔۔ادینہ غصے سے چلائی۔
داسی ڈر کر فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔
ادینہ کا جواب سن کر بھی ایونن کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔یہ کیسی ضد ہے آپ کی؟
کل سے خود کو قید کر کے بیٹھی ہوئی ہیں۔۔۔کس بات کی سزا دے رہی ہیں خود کو؟
آپ چلے جائیں یہاں سے ایونن۔۔۔ہمیں آپ سے کوئی بات نہی کرنی نہ ابھی اور نہ ہی بعد میں۔
آپ کو جو کرنا ہے کریں لیکن ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔
کیسے چھوڑ دیں آپ کو اکیلا؟
ایونن گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
ادینہ نے بے رخی سے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
ادھر دیکھئیے ہماری طرف۔۔۔ایونن نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
یہ سب کچھ ہم نے آپ کی خوشی کے لیے کیا ہے آپ کو دکھی دیکھنے کے لیے۔
اچھے سے تیار ہو جائیں شایان آنے والا ہے۔
شایان کیوں آنے والا ہے؟
ادینہ کے سوال پر ایونن مسکرا دیا۔۔۔جن خوشیوں کی آپ منتظر تھیں ناں وہ خوشیاں آپ کے دروازے پر دستک دینے والی ہیں۔
یہ رونا دھونا بند کریں اور شایان کی دلہن بننے کی تیاری کریں۔
کچھ دیر تک وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ ہمارے ماں باپ سے آپ کو مانگنے آ رہے ہیں۔
یہ نہی ہو سکتا۔۔۔ادینہ تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
یہ دھوکہ ہے اور ہم اس دھوکے میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتے ایونن۔
کیسا دھوکا؟
ایونن اٹھ کر اس کی طرف بڑھا۔۔۔اپنی محبت کو حاصل کرنا دھوکا نہی ہوتا،اپنی خوشیاں حاصل کرنے کے لیے کبھی نا کبھی ہمیں خود غرض ہونا پڑتا ہے۔
گھر آئی خوشیوں کو ٹکرانے سے خوشیاں لوٹ جاتی ہیں۔۔۔کیا آپ نہی چاہتی شایان ہمیشہ کے لیے آپ کا ہو جائے؟
ہاں ہم ایسا چاہتے ہیں ایونن لیکن اس طرح سے نہیں۔۔۔ہم کسی کو تکلیف دے کر کیسے خوش رہ سکتے ہیں؟
کسی کو تکلیف نہی دی آپ نے۔۔۔وہ لڑکی بلکل ٹھیک ہے اور اگر آپ نے ہمارا ساتھ دیا تو ہم آپ کے ساتھ خود جا کر اسے اس کی دنیا میں چھوڑ کر آئیں گے،ہمارا وعدہ ہے آپ سے۔
خود کو قصور وار ٹہرانا بند کریں اور اچھے سے تیار ہو جائیں وہ لوگ کچھ دیر میں پہنچنے والے ہیں۔
ایونن کمرے سے باہر نکل گیا اور ادینہ خود کو شیشے میں دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔۔۔سہی کہہ رہے ہیں آپ ایونن،کبھی کبھار ہمارا خود غرض ہونا ہمارے لیے اچھا ثابت ہو سکتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔
