Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 05)
Rate this Novel
Aks (Episode 05)
Aks by Khanzadi
اگلے دن مہک کالج گئی تو وہاں سب کچھ نارمل تھا۔سر شایان پورا دن کہی نظر نہی آئے۔
اگلا پورا ہفتہ بھی ایسے ہی گزر گیا لیکن سر شایان کالج نہی آئے۔
چھوڑ بھی دو اس بات کو کیوں پریشان ہو رہی ہو مہک؟
ٹھیک ہے ان کو اچھی نہی لگی ہو گی یہ جاب تو کسی اور کالج میں چلے گئے ہو گے۔
مدیحہ اسے پورے ہفتے سے سمجھا رہی تھی لیکن مہک کے ذہن سے یہ بات نکل ہی نہی رہی تھی کہ سر شایان دوبارہ کالج کیوں نہی آئے۔
ایسے کیسے چھوڑ دوں اتنا کچھ ہوا میرے ساتھ آخر ہمیں پوچھنا تو چاہیے کہ سر گئے کہاں؟
وہ ایسے ایک دن آ کر اچانک سے غائب کیسے ہو سکتے ہیں؟
سوچنے والی بات ہے مدیحہ۔۔۔پتہ نہیں تمہیں کیوں نہیں سمجھ آ رہی میری بات۔
اصل وجہ تو یہ ہے کہ وہ سر شایان نہیں کوئی اور ہی تھا۔
میں نے پورے کالج میں دیکھ لیا ہے مگر مجھے سر شایان کہیں بھی نظر نہیں آئے اس کا مطلب سمجھتی ہو تم؟
وہ سر نہیں کوئی اور تھا کیونکہ اگر وہ ٹیچر ہوتا تو وہ دوبارہ بھی یہاں آتا لیکن وہ دوبارہ یہاں نہیں آیا۔
اف توبہ مہک پتا نہیں تمہارے دماغ میں کیا کھچڑی پک رہی ہے مجھے نہیں سمجھ آنے والی تمہاری یہ فضول باتیں تم اپنے پاس ہی رکھو پتہ نہی کہاں سے سوچتی لیتی ہو ایسی باتیں۔
کہی سے نہیں سوچتی یہی سے سوچ رہی ہوں۔۔۔ سوچو یار وہ صرف ایک دن کے لیئے آئے اور میرے ساتھ اتنا کچھ ہوا۔
مجھے کلاس سے باہر نکالا گیا۔۔۔تم لوگ کہہ رہے تھے میں کلاس سے باہر گئی ہی نہی۔
لائبریری میں اس لڑکی کی آواز اور میرا بے ہوش ہونا وہ سب کچھ نارمل نہیں تھا۔۔۔جو کچھ میں نے دیکھا وہ تم لوگوں نے نہیں دیکھا۔
کچھ تو ہے جو ہمارے سامنے ہو کر بھی ہمیں نظر نہیں آ رہا سمجھنے کی کوشش کرو۔
تم دیکھو اور تم ہی سمجھو مجھے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔تم تو پاگل ہو گئی ہو اب مجھے بھی پاگل کرو گی۔۔۔میں تمہارے ساتھ نہیں بیٹھ رہی میں جارہی ہوں کینٹین آجاؤ کچھ کھاتے ہیں۔
تم میری بات کبھی نا سننا۔۔۔مہک بے بس سی بیگ اٹھائے اس کے پیچھے چل دی۔
چھٹی کے ٹائم قاسم کی بجائے اسے خاور لینے آیا تھا۔اس نے فوراً بابا کو کال کی بابا بھائی کیوں نہی آئے مجھے لینے کے لیے؟
کیا آپ نے خاور کو بھیجا ہے؟
جی بیٹا قاسم ذرا کام سے گیا تھا تو میں نے خاور کو کہا کہ واپسی پر تمہیں گھر چھوڑ دے۔
اس کے ساتھ گھر چلی جاؤ اور گھر پہنچ کر مجھے کال کر دینا۔
ٹھیک ہے بابا۔۔۔گھر پہنچ کر آپ کو کال کر دیتی ہوں۔
نا چاہتے ہوئے بھی منہ پھلائے خاور کے پیچھے بائک پر بیٹھ گئی۔
چاہو تو میرے کندھے پر ہاتھ رکھ سکتی ہو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
تمیز سے بیٹھو تم سمجھ آئی۔۔۔بابا کی وجہ سے تمہارے ساتھ جا رہی ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم شوخے ہو جاؤ چپ چاپ بائک چلاؤ اور مجھے گھر چھوڑو۔
میں زیادہ فری ہونے کی کوشش نہیں کر رہا مس مہک۔۔۔صرف اتنا بتا رہا ہوں کہ مجھے بائیک تیز چلانے کی عادت ہے کہی تم گر نہ جاؤ۔
مجھے تمہارا بازو تھامنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تم چپ چاپ بائیک چلاو میں مینیج کر لوں گی۔
مہک نے بے رخی سے جواب دیا۔
بدلے میں خاور مسکرا دیا اور بائیک اسٹارٹ کر دی۔ جیسے ہی بائیک کی رفتار تھوڑی تیز ہوئی مہک نے نا چاہتے ہوئے بھی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
خاورکے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
آرام سے نہیں چلا سکتے تم؟
اتنی سپیڈ میں چلاؤ گے تو میں گر جاؤں گی۔
Don’t worry
میں تمہیں گرنے نہی دوں گا۔۔۔خاور نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
مہک نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
خاور نے اپنا ہاتھ واپس ہٹا لیا اور ایک دکان کے باہر بائیک روک دی۔۔۔آتا ہوں پانچ منٹ میں۔
مہک کو باہر چھوڑ کر کر خود اندر چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک شاپر بیگ اٹھائے واپس آیا اور مہک کی طرف بڑھایا یہ لو یہ تمہارے لئے۔
کیا ہے اس میں؟
مہک نے بے زار سے لہجے میں جواب سوال کیا۔
“گجرے ہیں تمہارے لیے”۔۔۔رکھ لو پسند ہیں ناں تمہیں۔
خاور کے جواب پر مہک اسے دیکھتی رہ گئی۔تم سے کس نے کہا مجھے گجرے پسند ہیں؟
بالکل پسند نہیں ہیں مجھے اور تمہیں کس نے حق دیا کہ تم میرے لیے گجرے خرید کر لاو؟
بس پتہ ہے مجھے۔۔۔خاور نے گجرے والا شاپر زبردستی مہک کے ہاتھ تھمایا اور بائیک پر بیٹھ گیا۔ یہ حق تو مجھے کسی نے نہیں دیا لیکن یہ میرا ہی ہے “آج نہیں تو کل یہ حق مجھے ملنا ہے۔”
اتنی بے رخی نہ برتا کرو میرے ساتھ۔۔۔میرے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔
مجھے سمجھ نہیں آتا تم مجھ سے اتنی جلی کٹی کیوں رہتی ہو۔
آخر اس میں غلط کیا ہے؟
“محبت کرتا ہوں تم سے سے کوئی گناہ تو نہیں کیا میں نے؟”
عجیب ہی ہو تم خاور۔۔۔مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی میں تمہیں کتنی دفعہ سمجھا چکی ہوں کہ میرے دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
پتا نہیں کب سمجھو گے تم۔۔۔ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی تمہیں جو سوچنا ہے سوچتے رہے ہو لیکن میں یہ گجرے نہی لے سکتی تم اسے اپنے پاس ہی رکھو۔
مہک نے وہ شاپر خاور کی طرف بڑھایا لیکن خاور نے ہاتھ خالی نہ ہونے کا اشارہ دیا تو مجبوراً مہک کو گجرے اٹھائے پیچھے بیٹھنا پڑا۔
گجرے تو تمہیں رکھنے ہی پڑیں گے بہت پیار سے خریدے ہیں میں نے تمہارے لیے۔۔۔چلو محبوب نہ سہی کزن سمجھ کر ہی رکھ لو۔
“اگر کوئی اتنے مان اور خلوص سے آپ کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کے جزبات کو سمجھنا چاہیے نا کہ اس کے جزبات کا مذاق بنا کر اس کے منہ پر دے ماریں۔”
ٹھیک ہے ابھی ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے اسی لیے تم ایسے بی ہیو کرتی ہو لیکن بہت جلد تم میرے نکاح میں ہوگی۔
“جب تم میرے نکاح میں آ جاؤ گی پھر انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی یہ ساری بے رخیاں پیچھے چھوٹ جائیں گی۔”
بہت بڑی خوش فہمی ہے تمہیں لیکن میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
ٹھیک ہے نا کرنا شادی۔۔۔شادی کرنے کو کون کہہ رہا ہے “میں تو نکاح کی بات کر رہا ہوں۔”
خاور نے اس کی بات مذاق میں ڈال دی۔
مہک کو غصہ تو بہت آیا لیکن خاور نے بائیک سپیڈ مزید بڑھا دی تو اسے سے نا چاہتے ہوئے بھی خاور کے کندھے پے ہاتھ رکھنا بڑا۔
خاور نے اسے گھر کے باہر چھوڑا اور بیل دی اس سے پہلے کہ وہ گجروں والا شاپر خاور کی طرف بڑھاتی وہ فوراً سے بائیک بھگا کر لے گیا۔
اب ان کا میں کیا کروں؟
امی کو کیا بتاؤں گی۔۔۔تیزی سے وہ گجرے بیگ میں رکھے اور سلام کرتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔
اپنے کمرے میں آئی اور شاپر نکال کر ڈریسنگ پر رکھ دیا۔
چینج کرکے واپس آئی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔۔۔وہ گجرے زمین پر بکھرے پڑے تھے۔
ان کی حالت ایسی تھی جیسے ایک ایک پھول کو نوچ کر الگ کیا گیا ہو۔
گجروں کی یہ حالت دیکھ کر مہک دھنگ رہ گئی۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
شاید کمرے میں بلی گھس آئی ہو گی اسی نے یہ حرکت کی ہو گی۔
سارے پھول سمیٹ کر اسی شاپر میں واپس رکھ کر بیگ سے فون نکال کر کمرے سے باہر چلی آئی اور نیچے آ کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔
کھانا کھا کر دوبارہ کمرے میں آئی تو پھر سے اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
گلاب کی پتیاں پھر سے زمین پر بکھری پڑی تھیں۔ جیسے کسی نے بہت غصے میں نوچ نوچ کر پھینکی ہو۔
کیا بدتمیزی ہے یہ ابھی تو سب کچھ سمیٹا تھا میں نے۔۔۔پتہ نہیں یہ بلی کہاں سے گھس آئی ہے کمرے میں۔
پھر سے سب کچھ سمیٹتی ہوئی وضو کرنے چلی گئی۔
خاور دروازے پر دستک دیتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی نظر زمین پر بکھری ہوئی پتیوں پر پڑی بڑی سے ایسے لگا جیسے اس کے دل کو نوچ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین پر پھینک دیا گیا ہو۔
بے بس سا آگے بڑھا اور زمین سے پتیاں اٹھا کر ہتھیلی پر رکھ کر مٹھی بند کی اور ظبط سے آنکھیں بند کر لی۔
اسی وقت مہک واشروم سے باہر آئی اور خاور کو سامنے دیکھ کر چونک گئی تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
خاور نے اس کے سامنے ہتھیلی پھیلا دی۔۔۔اس کی آنکھوں میں درد اور بے بسی تھی۔
چند لمحے مہک اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہی رہ گئی لیکن پھر اس نے سر نفی میں ہلایا نہ جانے کیوں اسے اس وقت خاور پر بہت ترس آیا۔
نہیں تم غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔یہ میں نے نہیں کیا۔وہ ایک نظر پھر سے فرش پر بکھری ہوئی پتیوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
اللہ۔۔۔یہ پھر سے زمین پر بکھری پڑی ہیں۔ان گجروں کو میں نے نہیں توڑا مجھے نہیں پتا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
میں تو یہاں ڈریسنگ پر رکھ کر گئی تھی جب واپس آئی تو ان کا یہ حال تھا شاید کوئی بلی گھس آئی ہے کمرے میں۔
خاور خاموشی سے مہک کو دیکھتا رہا اور بے بس سا کمرے سے باہر نکل گیا پھر دروازے میں رک کر پلٹا تمہارے لئے کچھ لایا تھا۔
گول گپے تمہیں پسند ہیں ناں۔۔۔چچی جان کو پکڑا دیے ہیں کھا لینا۔۔۔اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر بکھر گیا لیکن پھر بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
رکو خاور۔۔۔تم غلط سمجھ رہے ہو ہو مہک اس کے پیچھے دوڑی لیکن اس کے قدم کا ساتھ ہی نہی دے رہے تھے۔
کیا ہو رہا ہے یہ میرے ساتھ؟
ڈر کے مارے اس کا چہرہ پسینے سے تر ہو گیا۔جیسے ہی گیٹ بند ہونے کی آواز آئی اس کے قدم پھر سے چلنے لگے۔
جلدی سے نیچے آئی امی خاور چلا گیا کیا؟
ہاں وہ تو چلا گیا کہہ رہا تھا تمہارے لیے کچھ لایا ہے۔۔۔کچن میں رکھا گیا ہے،دیکھ لو۔
اچھا میں دیکھتی ہوں۔۔۔وہ اداس سی کچن کی طرف بڑھی لیکن کچن کی حالت دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔
کیا ہوا؟
اس کی امی تیزی سے دوڑتی ہوئی آئی۔۔۔کیا ہو گیا مہک کیوں اتنا چلا رہی ہو؟
تم نے تو میری جان نکال دی تھی۔
سامنے کا منظر دیکھ کر ان کی بھی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں سارے گول گپے زمین پر بکھرے پڑے تھے۔
یہ کیا کر دیا تم نے مہک؟
ابھی تو میں نے ساری صفائی کی تھی۔تم نے کیا حالت بنا دی ہے کچن کی۔
ایک کام نہیں ہوتا تم سے ٹھیک سے۔
امی میں نے کچھ نہیں کیا میں تو ابھی ابھی کچن میں آئی ہوں میرے آنے سے پہلے یہ سب کچھ ہو چکا تھا۔
تم نے نہیں کیا تو کیا تمہارے فرشتوں نے کیا ہے؟
کچن میں تمہارے علاوہ اور کوئی ہے؟
نہیں امی کچن میں میرے علاوہ تو کوئی نہیں ہے لیکن یہ میں نے نہیں کیا،میں خود حیران ہو۔
اچھا مذاق ہے بیٹا جی۔۔۔جائیے اپنے کمرے میں آپ۔
چائے میں کمرے میں بھیج دوں گی کوئی اور نقصان نہ کر دینا یہاں پر۔
لیکن امی میں نے کچھ کیا ہی نہیں آپ مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہیں؟
مہک رونے کو تیار تھی۔
کہا ناں جاو اپنے کمرے میں۔۔۔ایک بار سنائی نہی دیتی میری بات تمہیں؟
جی امی۔۔۔جا رہی ہوں لیکن میں نہی کیا یہ۔۔۔مزید بولتی رہتی لیکن ماں کے گھورنے پر چپ چاپ کسی گہری سوچ میں اوپر کمرے میں آئی اور صوفے پر بیٹھ گئی ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
صوفے سے اٹھ کر فرش پر بیٹھ گئی اور پتیاں سمیٹنے میں مصروف ہوگئی
شاید کوئی بلی ہے گھر میں جو یہ سب کچھ کر رہی ہےاور امی بھی ناں سوچے سمجھے بغیر مجھ پر الزام لگائیں جا رہی ہیں کہ یہ میں نے کیا ہے۔
اور یہ خاور کا بچہ اس کو بھی لگتا ہے کہ یہ گجرے میں نے توڑے ہیں۔
ٹھیک ہے میں اس کے لائے ہوئے گجرے نہ پہنتی پڑے پڑے سوکھ جاتے جاتے لیکن میں کبھی بھی ان کا یہ حال نہ کرتی۔
کیسے سمجھاؤں میں سب کو کسی کو میری بات پر یقین ہی نہیں ہے۔
ساری پتیاں سمیٹ کر ڈسٹبن میں پھینکی اور ہاتھ دھو کر واپس صوفے پر بیٹھ گئی۔
اوہو۔۔۔مجھے تو نماز پڑھنی تھی ان گجروں کے چکر میں تو میں بھول ہی گئی کہ وضو کر کے آئی ہوں اور مجھے نماز پڑھنی ہے۔
تیزی میں اٹھی اور دوپٹہ اچھی طرح چہرے کے گرد لپیٹ کر جاۓ نماز بچھائے نماز پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔
دوسری طرف شیشے کے اس پار شایان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی مہک کو نماز پڑھتے دیکھ کر اس بہت سکون محسوس ہوا۔
کسی گہری سوچ میں گم آنکھیں بند کی اور پھر پھر تیزی سے کھول دیں۔
“کوئی انسان تو دور کی بات ہے آپ کے وجود کے پاس ہم کسی کی خوشبو بھی نہی بھٹکنے دیں گے”
بس اتنا ہی بولا اور ڈسبن میں بڑی پتیوں کی طرف دیکھا تو وہ جل کر راکھ ہوگئی۔
مہک اتنے پرسکون انداز میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اس کے ہر ایک سجدے پر شایان اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
“کتنا سکون ہے اس عبادت میں جو آپ اپنے خدا کے لیے کر رہی ہیں۔۔۔صرف دیکھنے میں ہی اتنا سکون ہے تو کرنے سے کتنا سکون ملے گا۔”
ہمیں بہت شدت سے انتظار ہے اس دن کا جس دن ہم آپ سے ملیں گے۔۔۔اس دن ہم آپ سے اس عبادت کا طریقہ سیکھیں گے۔
ہمیں بھی یہ سکون چاہیے ہماری زندگی بہت بے سکونی ہو چکی ہے لیکن جب ہم آپ کو عبادت کرتے دیکھتے ہیں ہمیں ایسے لگتا ہے جیسے ہماری زندگی میں میں کوئی پریشانی ہے ہی نہیں۔
اگر اس عبادت کو دیکھنے میں اتنا سکون ہے تو اسے کرنے میں کتنا سکون ملے گا ہم اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
کوشش کیجئے کہ جلدی ہمیں آواز دیں ہمیں بہت چینی سے انتظار ہے آپ کا۔۔۔”آپ ہمیں محسوس کیوں نہی کر پا رہی؟”
کیا آپ کو ہماری “محبت” دکھائی نہیں دیتی؟
ہماری آپ کے لیے تڑپ آپ کو محسوس کیوں نہیں ہوتی،کیا آپ کو ایک لمحے کے لئے بھی ہمارا خیال نہیں آتا؟
ایک لمحے کے لئے بھی آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ہم کتنی شدت سے آپ کی پکار کا انتظار کر رہے ہیں؟
آپ سے ملنے کی شدت دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے جلدی کریں اس سے پہلے کہ زندگی ہمارا ساتھ چھوڑ جائے ہمیں آپ کا ساتھ چاہیے۔
شایان شیشے کے اس پار کسی خوبصورت احساس کے تحت مہک کو دیکھتے ہوئے اپنی محبت کا اقرار کر رہا تھا۔
راجہ صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور صاحبزادے کو خود سے ہی باتیں کرتے دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
شایان تیزی سے واپس پلٹا اور نظریں جھکا لی۔ معذرت راجہ صاحب۔۔۔ہمیں آپ کی موجودگی کا علم نہیں ہوا۔
علم ہوگا بھی کیسے آپ تو اپنی ہی دنیا میں گم ہیں۔کس سے باتیں کر رہے تھے آپ؟
ہم نے سنا آپ کچھ کہہ رہے تھے آپ کو کسی کی پکار کا انتظار ہے۔
کسی سے محبت ہو چکی ہے آپ کو؟
ہمیں بتائیں کون ہے وہ شہزادی؟
ہم دنیا و جہاں کی خوشیاں آپ کے قدموں میں بچھا دیں گے۔
شہزادے آپ حکم تو کریں آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔
راجہ صاحب کی باتوں پر شایان مسکرا دیا اور نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا ابھی ہم خود کسی کشمکش میں ہیں راجہ صاحب۔
کیا کریں اور کیا نہ کریں کی جنگ لڑ رہے ہیں خود سے۔۔۔ابھی ہم کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہے۔
جیسے ہی ہم کسی فیصلے پر پہنچیں گے تو سب سے پہلے آپ ہی کو آگاہ کریں گے۔
کیا کریں اور کیا نا کریں گی جنگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے شہزادے۔۔۔کوشش کریں کہ جلد کسی فیصلے پر پہنچ جائیں۔
اسی کشمکش میں پڑے رہے تو فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔اپنی زندگی کے لیے ایک مضبوط فیصلہ کریں۔
اس طرح کب تک اس کشمکش میں رہیں گے اور کون ہے ہمیں بتائیں تو سہی۔
ابھی ہم آپ کو نہیں بتا سکتے کہ وہ کون ہے کیونکہ ابھی تو وہ خود بھی نہیں جانتی کہ ہم ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔
ابھی تو ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ ہماری محبت کا اظہار سن کر جواب میں انکار کریں گی یا اقرار۔
وہ ہماری محبت کو قبول کریں گی بھی یا نہی ابھی ہم کچھ نہیں جانتے۔
آپ ہمیں بتائیں کون ہیں وہ؟
ہم ان کے پاس آپ کی محبت کی داستان لے کر جائیں گے اور ان کو بتائیں گے کہ ہمارے شہزادے آپ کے عشق میں چور چور ہو چکے ہیں۔
راجہ صاحب کی بات پر شایان ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔کاش یہ ممکن ہو سکتا لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے دل کی بات ہم خود کریں۔
ہم ان تک اپنی آواز پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ وہ ہماری پکار سن لیں۔ جس دن وہ ہماری پکار سن لیں گی ہم سب سے پہلے یہ خوشخبری آپ کو سنائیں گے۔
چلیں ہم انتظار کریں گے۔۔۔وہ سب تو ٹھیک ہے شہزادے دے لیکن اس انتظار میں میں آپ اپنی رعایا کو مت بھولیں۔
اپنا عہدہ یاد رکھیں یاد رکھیں کہ آپ اس سلطنت کے شہزادے ہیں اور آپ کے کندھے پر اس سلطنت کی ذمہ داری آنے والی ہے۔
ہم اکیلے کب تک سنںھالیں گے یہ سب کچھ؟
ہم تو آپ کے جوان ہونے کا انتظار کر رہے تھے اور اب آپ کی جوانی پورے جوش پر ہے تو ہم یہ ذمہ داری آپ کو سونپنا چاہتے ہیں اور خود اس ذمہ داری سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں۔
آپ اپنے ہوش و حواس نے واپس آجائیں تو ہم اس بارے میں کچھ بات کریں کیونکہ ابھی آپ ہماری بات سننے کے قابل نہیں لگ رہے آپ کا دھیان تو کہیں اور ہی ہے۔
جتنی جلدی ہو سکے کے کوئی فیصلہ کریں تاکہ ہم بھی آپ کی آنے والی زندگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکیں۔
بہت محنت لگی ہے ہمیں اس سلطنت کو سنبھالنے میں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس سلطنت کو کسی مضبوط ہاتھوں میں سونپ دیں۔
ابھی آپ کو انتظار کرنا پڑے گا راجہ صاحب کیونکہ ابھی ہم یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
شایان کے جواب پر راجہ صاحب مسکرا دیئے کتنا انتظار کرنا پڑے گا ہمیں یہ بھی بتا دیجئے؟
شایان نے ایک گہری سانس لی۔۔۔اس کا جواب ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔کتنا وقت لگے گا یہ تو ہمیں بھی نہیں پتا۔
جب تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتے تب تک ہم کوئی اور ذمہ داری سنبھال ہی نہیں سکتے۔
ہمیں معاف کیجیے گا۔۔۔نظریں جھکائے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔
ٹھیک ہے لے لیجئے جتنا وقت آپ کو چاہیے لیکن کوشش کیجئے گا کہ ہماری آنکھیں بند اور سانس رکنے سے پہلے آپ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو جائیں۔
لیکن۔۔۔شایان کچھ بولنے ہی والا تھا کہ راجہ صاحب اس کا کندھا تھپکتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
شایان نے ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے سر جھکالیا۔
آنکھیں کھولی اور نظریں اٹھائے شیشے پر پر ہاتھ رکھا مہک۔۔۔بڑے پیار سے مہک کا نام پکارا۔
مہک نماز پڑھ کر جائے نماز سمٹتی ہوئی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی اور پھر شیشے کے پاس پہنچ کر رک گئی۔
اسے ایسا لگا جیسے دوسری طرف کوئی اسے دیکھ رہا ہو۔۔۔ہاتھ بڑھا کر کر شیشے پر پھیرا۔
دوسری طرف شایان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ہاں ہم ہیں یہاں مہک۔۔۔ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں ہیں ہمیں محسوس کیجیے۔
وہ بے بسی کی انتہا پر تھا۔۔۔مہک نے سر پہ ہاتھ رکھا اور ماتھے کو مسلتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اس کی امی چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئیں۔
کہاں جا رہی تھی آؤ بیٹھو ادھر میں چائے ادھر ہی لے آئی ہوں تمہارے لیے۔
پتا نہی دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا۔۔۔ایک بھی کام ٹھیک سے نہیں ہوتا تم سے۔
امی میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے نہیں پتا وہ گول گپے کیسے نیچے گرے میں تو ابھی کچن میں آئی ہی تھی اور کچن کی حالت دیکھ کر میری چیخ نکل گئی کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔
یہ عجیب سی بدبو کیسی ہے؟
ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی چیز جل رہی ہو۔۔۔وہ پریشان سی اٹھی اور ادھر اُدھر دیکھتی ہوئی ڈسٹبن تک پہنچی۔
شاپر میں موجود جلے ہوئے پھولوں کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔یہ پھول کہاں سے آئے؟
مہک نے گہری سانس لیتے ہوئے آنکھیں بند کیں کی اور ماں کی طرف دیکھا۔۔۔یہ آپ کے کبھی نہ ہونے والے داماد نے دیے تھے مجھے۔
خاور نے؟
جی امی۔۔۔اور کون دے گا۔
ٹھیک ہے اگر اس نے تمہیں تخفہ دے ہی دیا تھا تو ان پھولوں کو اس طرح جلانے کی کیا ضرورت تھی؟
چلانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔کیا مطلب ہے امی؟
مہک چائے کا کپ ٹرے میں رکھتی ہوئی فورا وہاں آئی اور جلی ہوئی پتیوں کو دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھا۔
حیرت زدہ سی ماں کو دیکھتی رہ گئی اور سر نفی میں ہلایا۔۔۔یہ میں نے نہی کیا۔
میں آپ کو بتانے ہی والی تھی میرے ساتھ بہت کچھ عجیب ہو رہا ہے آپ یقین نہیں کریں گی لیکن میں نے یہ گجرے لا کر یہاں ڈریسنگ پر رکھے تھے اس کے بعد میں چینج کرنے چلی گئی جب میں واپس آئیں تو یہ زمین پر بکھرے پڑے تھے ہر ایک پتی الگ تھی۔
میں ان کو سمیٹ کر وضو کرنے کے لیے گئی تو پھر سے یہی حال تھا سمجھ میں نہیں آرہا کمرے میں کوئی بلی ہے یا کچھ اور لیکن یہ پھول جل کیسے گئے یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔
میں نے تو سمیٹ کر شاپر میں ڈال کر یہاں پھینک گئی تھی کیونکہ یہ دو بار نیچے گر چکے تھے لیکن یہ جل کیسے گئے؟
بس کر دو مہک۔۔۔جھوٹ بولنے کی بھی حد ہوتی ہے اگر تمہیں یہ گجرے نہیں چاہیے تھے تو مجھے دے دیتی یا پھر رکھ دیتی اس طرح ضائع تو ناں کرتی۔
پہلے تم نے ان کو توڑا اور پھر جلا کر شاپر میں ڈال کر ڈسٹبن میں پھینک دیا اور اوپر سے کہہ رہی ہوں کہ پتا نہیں کس کا کام ہے۔
چلو ایک منٹ کے لئے مان بھی لوں کہ بلی نے ان پھولوں کو توڑا ہے لیکن پھر بلی نے آگ لگا کر ان کو جلا کر واپس شاپر میں ڈال کر ڈسٹبن میں بھی پھینک دیا؟
بڑی عقلمند بلی تھی۔۔۔جھوٹ بولنے کے لیے بھی نا عقل کی ضرورت ہوتی ہے جو تمہارے پاس بالکل نہیں ہے۔
کتنے پیار سے لایا تھا وہ تمہارے لیے تمہیں نہیں چاہیے تھے تو سنبھال دیتی اس طرح جلانے کی کیا ضرورت تھی؟
کتنی محبت سے لایا ہو گا وہ تمہارے لیے اور تم نے اس کے ارمانوں پر آگ لگا دی۔
میں نے کوئی آگ نہیں لگائی امی میں سچ بول رہی ہوں۔مجھے نہیں پتا یہ کیسے جلے میں نے تو گجرے والا شاپر یہاں ڈریسنگ رکھا تھا اس کے بعد کیا ہوا مجھے نہیں پتا۔
اور آپ کیسی ماں ہیں وہ آپ کی بیٹی پر ڈورے ڈال رہا ہے اور آپ اسی کی حمایت کر رہی ہیں؟
پہلی دفعہ دیکھی ہے ایسی ماں۔۔۔
بے شرم۔۔۔ انہوں مسکراتے ہوئے مہک کے کندھے پر تھپکی لگائی پاگل ہو گئی ہو کیا؟
وہ کوئی غیر تھوڑی ہے تمہارے چاچو کا بیٹا ہے اور اگر تمہارا اس سے رشتہ ہو جاتا ہے تو اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔
آج کل اچھے رشتے کون سے راستے میں پڑے ہیں کہ کسی کے ساتھ بھی بیٹی بیاہ دی جائے۔
آنکھوں دیکھا بچہ ہے گھر کا کوئی بری عادت نہیں ہے اس میں اور کیا چاہیے تمہیں؟
سب سے بڑھ کر اتنا خیال رکھتا ہے تمہارا ابھی سے اتنی فکر کرتا ہے تمہاری اور تمہاری ضرورتوں کا اتنا خیال رکھتا ہے کہاں ملتے ہیں آج کل کے دور میں ایسے لڑکے؟
عقل سے کام لو۔۔۔کل کو کسی انجان گھر میں جانے سے بہتر ہے کہ اپنے چاچو کے گھر چلی جاؤ۔
کم از کم وہاں سب اپنے تو ہیں کوئی غیر تو نہیں ہے۔
پرائے لوگوں میں رشتہ کر دیا تو پتا نہیں کیسا لڑکا ہو اور کیسے لوگ ہو تمہیں خوش رکھیں گے یا نہی اور تمہارا ان میں گزارہ ہو گا یا نہی۔
زندگی بہت مشکل ہے بیٹا کوشش کرو کہ اس میں تھوڑی آسانیاں ڈھونڈو۔
خدیجہ غصے کی تیز ہے اور غصے میں تھوڑا زیادہ بول دیتی ہے لیکن ہے تو اپنی ناں۔
ایک ایک بیٹی ہو تم ہماری۔۔۔جب خاندان میں اتنا اچھا رشتہ موجود ہے تو باہر کیوں تلاش کریں ہم؟
لیکن امی۔۔۔آپ نے تو کہا تھا جیسا میں چاہوں گی ویسا ہی ہو گا تو پھر ان سب باتوں کا مقصد؟
کہی ایسا تو نہی کہ آپ بھی باقی سب کے ساتھ شامل ہو گئی ہیں؟
میں کسی کے ساتھ شامل نہی ہوئی خیر تم چھوڑو یہ سب باتیں اور کل کی تیاری کرو کل سب آ رہے ہیں گھر قاسم اور شمع کے رشتے کی بات پکی کرنے۔
اچانک۔۔۔؟
اچانک نہی میڈم تمہیں کب کا بتا چکی ہوں میں لیکن تمہارا دھیان پتہ نہی کہاں ہوتا ہے۔
اپنی تیاری مکمل کر لو۔۔۔میں صبح یہ نہ سنوں کہ میں کیا پہنوں۔۔۔وہ افسوس میں سر ہلاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
مہک غصے میں چائے کا کپ اٹھائے چائے پینے میں مصروف ہو گئی۔
اگلے دن سب یہاں موجود تھے کھانے کے بعد قاسم اور شمع کے رشتے کی بات پکی ہوئی اور نکاح کی ڈیٹ فکس کر دی گئی لیکن اس کے ساتھ ایک دھماکہ اور ہوا اور وہ دھماکہ تھا مہک اور خاور کی منگنی۔
اپنا نام سن کر مہک چپ چاپ اپنے کمرے میں آ گئی۔
اسے جاتے دیکھ کر خاور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔کوئی بات نہی میں جانتا ہوں تم اس رشتے سے خوش نہی لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر تمہیں خوش رکھوں گا۔۔۔دل ہی دل میں خود سے عہد کیا۔
جاری ہے۔۔۔
