Aks by Khanzadi NovelR50491 Aks (Episode 14)
Rate this Novel
Aks (Episode 14)
Aks by Khanzadi
پیار سے بہت سمجھایا تھا آپ کو لیکن آپ کو ہماری باتیں جھوٹی لگ رہی تھی اب بھگتیں۔۔۔شایان مہک کے ماتھے پر ہاتھ رکھے غصے میں سے چلایا۔
مہک تڑپ رہی تھی اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کے سر میں آگ لگی ہو۔۔۔آگ کی تپش سے اسے اپنا چہرہ پگھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
وہ درد سے کراہ رہی تھی اور خود کو بچانے کی پوری کوشش کر رہی تھی لیکن ناکام رہی۔
شایان کی طاقت کے سامنے ہمت ہار چکی تھی۔
وہ ایک الگ مخلوق تھا اور وہ ایک عام سی انسان۔۔۔کہاں اس کی طاقت کا سامنا کر سکتی تھی۔
شایان کو اس پر بلکل رحم نہی آیا وہ اسے لگاتار ازیت دیتا آخر کار اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا کیونکہ مہک اپنے ہوش و حواس سے بیگانی ہو چکی تھی۔
اب آپ یہاں سے کہی نہی جائیں گی۔۔۔ناں تو کوئی آپ کے پاس آ سکے گا اور ناں ہی ہم آپ کو کہی جانے دیں گے۔
جو بھی ہم سے ٹکرانے کی کوشش کرے گا وہ اپنی جان سے جائے گا۔
بس۔۔۔بہت برداشت کر لیا ہم نے۔
بے بس سا بیڈ کے ساتھ بیٹھ گیا اور مہک کے چہرے پر زخم دیکھ کر ظبط سے آنکھیں بند کی۔
جب آنکھیں کھولی تو آنکھوں سے چند آنسو اس کے ہاتھوں پر گر گئے۔
اپنے ہاتھوں پر گرے آنسو دیکھتے ہوئے مہک کی طرف بڑھا اور ہاتھ کے اشارے سے اس کا چہرہ پہلے کی طرح ٹھیک کر دیا۔
ہم آپ کو ازیت نہی دینا چاہتے تھے لیکن آپ نے ہمیں مجبور کر دیا ہے۔
جب ہم نے آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ ہماری ہیں اور ہم آپ کو کسی اور کا نہی ہونے دیں گے تو پھر آپ نے ایسا قدم اٹھانے کا سوچا بھی کیسے؟
آپ نے ہماری محبت کو ہمارے منہ پر مار دیا۔۔۔ہمارے جزبات ہماری تڑپ سب خاک میں ملا دیا۔
ہماری محبت کو قبول کرنے کی بجائے خود کو کسی اور کے نام کر دیا۔
مصروف تھے ہم مر نہی گئے تھے جو آپ نے ہمارا انتظار کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
دیکھ لیں گے ہم اس دائم کو بھی۔۔۔ہم اسے اتنا بے بس کر دیں گے کہ وہ خود آپ کو اپنی زندگی سے باہر نکالے گا۔
اگر اسے لگتا ہے کہ وہ آپ کے نزدیک آ کر ہمیں ہرا دے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
اب اگر اس نے آپ کے قریب آنے کی کوشش کی تو اسے بہت پچھتانا پڑے گا۔
ہم اس کے ساتھ وہ سلوک کریں گے کہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔
دیکھتے ہیں اب کیسے آتا ہے وہ آپ کے قریب۔۔۔آپ کی طرف بڑھتا ہوا اس کا ایک ایک قدم اسے موت کے قریب لے جائے گا اور اگر آپ نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی تو ہم آپ کا بھی وہ حال کریں گے کہ آپ زندگی بھر یاد رکھیں گی۔
آج کی سزا تو بہت چھوٹی تھی لیکن اگر یہ غلطی دوبارہ ہوئی تو ہمارا ہاتھ نہیں رکے گا۔
دوبارہ آپ پر رحم نہیں آئے گا ہمیں کیونکہ بھروسہ توڑنے والے کو ہم معاف نہیں کرتے۔
اگر وہ سمجھتا ہے کہ آپ کے نزدیک آ کر ہمیں ہرا دے گا تو اس بار یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہو گی۔
اس بار ہم اسے آپ کے قریب آنے کا موقع ہی نہیں دیں گے۔۔۔اس کے آپ کے قریب آنے سے پہلے ہی ہم اس پر ایسی چال چلیں گے کہ وہ دوبارہ آپ کے قریب آنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
اس بار راستے سے ہم نہی بلکہ وہ ہٹے گا۔
بس اب ہم یہی ہے آپ کے پاس۔۔۔کہی نہی جائیں گے آپ کو چھوڑ کر۔
بے بس سا صوفے پر گر گیا اور نظریں چھت پے ٹکائے گہری سوچ میں گم ہو گیا۔
زندگی کیا تھی اور کیا ہو گئی۔۔۔ہم نے ایسا کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔
کتنے بے فکر رہتے تھے دنیا جہان کی کوئی فکر نہیں تھی اپنی ہی مستی میں گم رہتے تھے۔
کاش ہم سے وہ غلطی نہ ہوئی ہوتی۔۔۔کاش آپ ہمارے سامنے آئی ہی نہ ہوتی۔
کوئی سادگی میں بھی خوبصورت کیسے لگ سکتا ہے بس آپ کی سادگی اور معصوم چہرے نے ہمیں پہلی نظر میں ہی آپ کا دیوانہ بنا دیا۔
اس دنہم بہت غصے میں تھے اور سارا غصہ اپنے کمرے میں لگے اس شیشے پر نکال دیا۔
قسمت تھی یا جادو ہم نہی جانتے لیکن ہماری اس غلطی نے ہمیں آپ کے سامنے لاکھڑا کیا۔
ہم نے اپنی پوری طاقت اس شیشے پر لگا دی تھی اور نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے اندر ہمیں ایک چہرہ دکھائی دیا۔
آپ الجھی سی اپنے چہرے پر گرتی زلفوں کو باندھتی ہوئی حیران سی شیشے میں دیکھ رہی تھی۔
ہمیں لگا شاید آپ ہمیں دیکھ رہی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔۔۔ہم آپ کو دیکھ پا رہے تھے لیکن آپ نہی۔
بس پھر ہماری نظریں وہی اٹک گئی۔۔۔آپ کے سوا ہمیں کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔
پھر ہم نے آپ تک پہنچنے کے تمام جتن شروع کر دیے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنی مرضی سے آپ تک نہیں پہنچ سکت۔
اس کے لئے ہمیں میں آپ کا انتظار کرنا پڑا۔۔۔ہم نے ہر کوشش کی کہ کسی طرح آپ ہمیں پہچان لیں اور ہمیں محسوس کریں۔
کسی بھی طرح آپ کو ہماری موجودگی کا علم ہو جائے اور اس کے لیے ہم نے کبھی کسی کو تکلیف پہنچائی تو کبھی کسی کو۔
دیر سے ہی سہی لیکن آخر کار ہمیں ہماری منزل مل ہی گئی۔
ہر حربہ آزمانا پڑا ہمیں اپنی آواز آپ تک پہنچانے کے لیے۔۔۔آپ کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے۔
دیر سے ہی سہی مگر ہمیں کامیابی ملی اور ہم آپ کے روبرو آئے۔۔۔یقین ہی نہی آ رہا تھا کہ خواب ایسے بھی حقیقت ہو جاتے ہیں۔
ہمارے لئے وہ دن کسی خواب کی طرح تھا تھا جیسے کوئی خواب حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہو۔
ہمیں تو لگا تھا ہم کبھی آپ تک پہنچ ہی نہی پائیں گے لیکن ہم غلط تھے۔۔۔ہم آپ تک پہنچ گئے۔
آپ پر اپنی محبت بھی واضح کر دی لیکن آپ نے ہماری محبت کو مذاق سمجھ لیا۔
چاہے کسی نے جتنی بھی زبردستی کی ہو آپ کو ہمارا انتظار کرنا چاہیے تھا۔
ہم پر یقین رکھنا چاہیے تھا نا کہ ہم سے فرار کا راستہ چنتی۔
آپ نے یہ راستہ چن تو لیا لیکن ہم اس راستے پر آپ کو چلنے نہی دیں گے ہرگز نہی۔۔۔پھر چاہے ہم خود کیوں نہ مٹ جائیں۔
اور اب جب ہم اپنی منزل کے اتنے قریب آچکے تھے تو آپ نے ہمیں خود سے بیگانہ کر دیا۔
آپ چاہتی ہیں کہ ہم آپ کو چھوڑ دیں کسی اور کے لیے۔۔۔؟
یہ نا ممکن ہے ہمارے لیے۔
ہماری بچپن سے عادت ہے جو چیز ہمیں پسند آجائے ہم اسے کسی اور کے لئے نہیں چھوڑتے۔
آپ اب صرف ہماری پسند نہیں بلکہ ہماری ضد بن چکی ہیں۔
وہ ضد جس کو حاصل کیے بغیر ہم سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔
آپ نے اپنی زندگی میں کسی اور کو شامل کر تو لیا مگر ہم آپ کو کبھی بھی اس کا نہیں ہونے دیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے آپ سے۔
اگر آپ ہماری نہیں ہوئی تو ہم آپ کو کسی اور کا بھی نہیں ہونے دیں گے۔
“آپ کو خود سے الگ نہی ہونے دیں گے۔۔۔آپ کا “عکس” بن جائیں گے ہم۔۔۔جیسے ہمارا عکس ہمارے وجود سے الگ نہی ہو سکتا بلکل ویسے ہی ہم آپ سے الگ نہی ہو گے۔”
چاہے سورج کی روشنی کی ہو یا پھر رات کا اندھیرا۔۔۔ہر جگہ عکس کی شکل میں آپ کا سامنا ہم سے ہوتا رہے گا۔
_________________________
اگلی صبح مہک کی آنکھ کھلی تو سب کچھ نارمل تھا۔
وہ اٹھ کر نیچے آئی اور ماں کو سلام کرتی ہوئی واپس اپنے کمرے میں آئی اور اچھی طرح پورے کمرے میں دیکھ لیا لیکن شایان کہی نہی تھا۔
شاید کوئی برا خواب دیکھا تھا میں نے۔۔۔شیشے کے سامنے آئی اور اچھی طرح اپنا چہرہ دیکھا لیکن کہی بھی جلن کا کوئی نشان نہی تھا۔
سہی کہا تھا دائم۔۔۔اففف ایک تو یہ بار بار ان کے نام کے ساتھ بھائی نکلنے لگتا ہے منہ سے۔
سہی کہا تھا انہوں نے اب میں وہم کرتی ہوں شایان جا چکا ہے میری زندگی سے۔
نماز قضا ہو گئی میری۔۔۔کالج کے لیے بھی لیٹ ہو رہی ہوں تیار ہو کر نیچے پہنچو جلدی اس سے پہلے کہ قاسم بھائی بھی نکل جائیں۔
فوراً تیار ہو کر نیچے پہنچی جلدی سے ناشتہ کیا اور قاسم کے ساتھ کالج چلی گئی۔
سب کچھ نارمل لگ رہا تھا سوائے اس نئے رشتے کے۔۔۔مدیحہ نے ساری بات سنی تو حیران رہ گئی۔
تمہارے کزن نے بلکل اچھا نہی کیا تمہارے ساتھ مہک۔۔۔مجھے تو وہ شروع سے ہی پسند نہی تھا۔
اٹیٹیوڈ بہت ہے اس میں لیکن دائم بھائی کی پرنسیلیٹی پرفیکٹ ہے۔
بہت خوش ہوں میں تمہارے لیے۔۔۔اللہ نے تمہارے لیے بہت بہترین انسان چنا ہے اس میں کوئی شک نہی۔
اب تم بھی ماضی کو ماضی میں چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔
ظاہری سی بات تمہارا خاور سے آمنا سامنا ہوتا رہے گا لیکن اب اگر اس کے لیے اپنے دل میں کوئی بھی جزبات باقی رکھیں ہیں تو انہی آج ہی بھسم کر دو۔
اسی میں بہتری ہے ورنہ اگر پلٹ کر ماضی کو دیکھتی رہی تو آگے کی زندگی بہت مشکل ہو سکتی ہے۔
میرے دل میں کسی کے لیے کوئی بھی جزبات نہیں ہیں مدیحہ۔۔۔خاور کے لیے اب اگر میرے دل میں کچھ ہے تو وہ ہے صرف نفرت۔
دائم کی تو میں شروع سے ہی بہت ریسپکٹ کرتی ہوں اور ہمیشہ کرتی رہوں گی اب رشتہ بدل چکا ہے لیکن ہمارے درمیان تکلف ابھی بھی پہلے جیسا ہے۔
بس میں شایان کی طرف سے پریشان ہوں۔۔۔وہ کبھی بھی سامنے آ جاتا ہے اور کبھی بھی غائب ہو جاتا ہے۔
میں سمجھ نہی پا رہی وہ حقیقت میں ہے بھی یا نہی۔۔۔میرا وہم ہے یا پھر وہ واقعی ہے۔
میں کچھ بھی نہیں سمجھ پا رہی۔۔۔اتنی گہری خاموشی کے پیچھے مجھے کسی طوفان کی گونج سنائی دیتی ہے۔
ایسے لگتا ہے جیسے اس طوفان کے بعد اس کی نفرت کا طوفان سب کچھ برباد کر دے گا۔
ایک پل کے لیے اگر میں آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرتی ہوں تو وہ ایک دردناک آزمائش بن کر میرے سامنے آ جاتا ہے۔
وہ جانتا ہے سچ کو اور میں بھی۔۔۔ہم ایک نہی ہو سکتے لیکن پھر بھی اس نے مجھے اپنی ضد بنا لیا ہے۔
ڈر لگتا ہے کہی اس کی ضد میری آنے والی زندگی کو درہم برہم نا کر دے۔
کچھ نہی ہوتا یار۔۔۔آخر کتنے دن تمہارے پیچھے بھاگے گا؟
تھک کر ہار مان لے گا دیکھ لینا۔
تھک کر ہار انسان مانتے ہیں مدیحہ جن نہی۔۔۔وہ اتنی آسانی سے ہار نہی مانے گا۔
ہر وقت یہی دھڑکہ لگا رہتا کہ کہی وہ دائم کو یا پھر گھر کے کسی اور فرد کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔
ہاں یہ تو ہے مہک۔۔۔لیکن اب اسے سمجھ لینا چاہیے۔
دائم بھائی بہت اچھے ہیں اللہ نا کرے تم دونوں کے ساتھ کچھ غلط ہو۔۔۔میں تو یہی دعا کرتی ہوں کہ اگر اللہ نے تم دونوں کے درمیان یہ رشتہ بنایا ہے تو اس میں ضرور اس کی کوئی مصلحت چھپی ہو گی۔
دائم بھائی تمہارے لیے ایک مظبوط سہارا ثابت ہو گے دیکھ لینا۔
ہاں یہ تو ہے۔۔۔مہک کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی لیکن اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
اس نے گردن گھما کر اپنی دائیں سائیڈ دیکھا تو ہوا کا ایک تیز جھونکا اس کے چہرے سے ٹکراتے ہوئے گزر گیا۔
کیا ہوا۔۔۔؟
مدیحہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔
کچھ نہی۔۔۔تم چلو کلاس میں۔۔۔میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں ایک ضروری کام ہے۔
کیا ضروری کام ہے؟
مدیحہ اس کا بدلتا رویہ دیکھ کر تھوڑا حیران ہوئی۔
کیا ہو گیا مہک اچانک کیا ضروری کام یاد آ گیا تمہیں؟
ابھی تو اچھی بجلی بیٹھی تھی اچانک کیا ہو گیا اور اُدھر کیا دیکھ رہی ہو؟
میری طرف دیکھ کر بات کرو۔
مدیحہ میں نے کہا ناں جاؤ تو اس کا مطلب ہے جاو۔۔۔مہک زور سے چلائی۔
پاس سے گزرتی ہوئی سٹوڈنٹس نے حیرانگی سے مہک کی طرف دیکھا۔
مدیحہ کو مہک کا رویہ بہت عجیب لگا لیکن اس وقت اس نے یہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا۔
مہک وہاں سے چلتی ہوئی گراؤنڈ کی طرف بڑھی۔۔۔وہ شایان کی موجودگی کو اچھی طرح محسوس کر سکتی تھی۔
اس کی خوشبو سے واقف تھی۔۔۔اس کے وجود سے آنے والی خوشبو ہر سو پھیل چکی تھی۔
چلتے چلتے ٹریک تک آئی اور رک کر تیزی سے پلٹی تو شایان اس کے سامنے تھا۔
مجھے پتہ تھا یہ آپ ہی ہیں۔۔۔تیزی سے بولی اور ڈر کر ادھر اُدھر دیکھا۔
اچھا۔۔۔محسوس کرنے لگی ہیں آپ ہمیں؟
ہماری محبت کی خوشبو آپ پر اثر کرنے لگی ہے شاید۔۔۔یہ احساس بہت دلکش ہے ہمارے لیے۔
مہک نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنے سے پہلے ہی نظریں جھکا لی۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے کلاس میں جانا ہے۔
کس سے ڈر رہی ہیں؟
جب تک ہم نا چاہیں ہمیں آپ کے علاوہ کوئی اور نہی دیکھ سکتا۔۔۔آپ نظریں نا چرائیں ہم سے۔
جی بھر کر دیکھ سکتی ہیں ہماری آنکھوں میں۔۔۔ان آنکھوں میں آپ کو بس آپ ہی کا چہرہ نظر آئے گا۔
ٹھیک ہے جائیں لیکن ہماری ایک بات سنتی جائیں۔۔۔کسی اور کے نام کی مسکراہٹ بھی قبول نہی ہمیں آپ کے چہرے پر۔
جائیے۔۔۔
مہک نے گہری سانس لی اور تیزی سے کلاس میں بھاگ گئی۔
جس کے نام کی مسکراہٹ تھی اس کو تو دیکھ لیں زرا ہم۔۔۔شایان مہک کو جاتے دیکھ کر غصے سے بولا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔
جاری ہے
