366.9K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aks (Episode 08)

Aks by Khanzadi

مہک۔۔۔یہ کیا کر رہی ہو٫پاگل تو نہی ہو گئی تم؟

خاور درد سے چلایا اور اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش کی لیکن نا کر سکا۔

مہک کی آنکھوں میں سرخ روشنی تھی اور ہونٹوں پر ظالمانہ مسکراہٹ۔

خاور اس کی حالت دیکھ کر ڈر چکا تھا درد کے مارے اس کی حالت خراب ہو رہی تھی لیکن مہک اس کا ہاتھ چھوڑنے کا نام ہی نہی لے رہی تھی۔

خاور کبھی اسے دیکھتا اور کبھی اپنے ہاتھ کو۔۔۔اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔

مہک یہ کیا کر رہی ہو تم؟

ہاتھ چھوڑو میرا مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں؟

بہت شوق تھا ناں تمہیں مجھ سے شادی کرنے کا۔۔۔دیکھنا تمہارا یہ شوق میں کیسے پورا کرتی ہوں۔

مہک کی آواز سن کر خاور کا خوف مزید بڑھ گیا کیونکہ بول تو وہ رہی مگر آواز کسی مرد کی تھی۔

مہک۔۔۔ہوش میں آو۔۔۔خاور زور سے چلایا تو مہک نے خاور کے ہاتھ کی طرف دیکھا اور اپنا سر تھامتی ہوئی فرش پر گر گئی۔

ماما۔۔۔ماما۔۔۔پھوپھو۔۔۔کوئی ہے؟

جلدی آئیں۔۔۔

خاور کے شور کرنے پر اس کی امی فوراً وہاں آ گئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر چیخ اٹھی۔

ایک طرف مہک فرش پر گری پڑی تھی اور دوسری طرف خاور کے ہاتھ سے بہتا ہوا خون دیکھ کر ان کے تو جیسے اوسان خطا ہو گئے۔

یہ تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا خاور؟

اتنا خون کیوں بہہ رہا ہے،یہ کانچ کیسے لگ گیا؟

امی مجھے چھوڑیں آپ مہک کو سنبھالیں۔۔۔اسے اٹھائیں جلدی۔

خاور اپنے ہاتھ سے کانچ کھینچتے ہوئے بولا اور کمبل سے اپنا خون روکنے کی کوشش کی۔

دیکھتے ہی دیکھتے سب وہاں جمع ہو گئے۔۔۔شمع اور شازیہ مہک کو سہارا دیتی ہوئی صوفے پر لے آئی۔

ڈاکٹر کو کال کرو کوئی۔۔۔دائم کی امی کے چلانے پر مصباح تیزی میں کمرے سے باہر بھاگی۔

فرسٹ ایڈ لاو کوئی جلدی۔۔۔

جی ممانی ابھی لائی۔۔۔خاور کی امی کی آواز پر شازیہ فوراً فرسٹ ایڈ باکس لے آئی اور خاور کے ہاتھ کی پٹی کرنے میں ان کی مدد کی اور ساتھ ہی ساتھ آنسو بھی بہا رہی تھی۔

پھوپھو اسے ہوش کیوں نہی آ رہا؟

خاور بے چین ہو رہا تھا مہک کی حالت دیکھ کر۔

آ جائے گا ہوش تم فکر نہی کرو بیٹا۔۔۔مصباح گئی ہے ڈاکٹر کو کال کرنے۔

جلدی کریں۔۔۔کیا کر رہے ہیں آپ سب؟

کچھ کریں۔۔۔اسے ہوش کیوں نہی آ رہا ماما؟

خاور کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

شازیہ مزید وہاں نہ رک سکی۔۔۔بے دردی سے اپنے آنسو پونچھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی لیکن پھر مہک کی حالت دیکھ کر دروازے سے ہی واپس آ گئی۔

مصباح نے ڈاکٹر کے ساتھ دائم کو بھی کال کر دی وہ ڈاکٹر کو ساتھ لیے فوراً گھر آ گیا۔

مہک کی حالت پھر سے ویسی ہی تھی ڈاکٹر کے مطابق وہ بلکل ٹھیک تھی۔

بلڈ پریشر کم ہے تھوڑا لیکن اتنا بھی نہی کہ یہ بے ہوش ہو جائیں۔۔۔ان کا کوئی روحانی علاج بھی کروائیں۔۔۔کبھی کبھی دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب مشورہ دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔

یہ ایسے کیسے جا سکتے ہیں ماما؟

مہک کو ہوش تو آیا ہی نہی ابھی۔۔۔خاور کسی صورت سکون سے نہی بیٹھ رہا تھا۔

دائم ڈاکٹر کو گیٹ تک چھوڑ کر واپس آیا اور مہک کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے قرآنی دعائیں پڑھنا شروع کر دی۔

سب حیرت زدہ سے مہک کو دیکھ رہے تھے اور معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے مہک نے آنکھیں کھول دی اور تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

خاور تم ٹھیک ہو؟

تمہارا ہاتھ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مزید بولتی خاور نے سر نفی میں ہلایا اور اسے چپ رہنے کا اشارہ دیا۔

مہک نے سب کی طرف دیکھا اور سمجھ گئی خاور نے کیوں چپ رہنے کو بولا۔

آپ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں کیا ہوا ہے؟

مہک پریشان سی سب کو دیکھتی ہوئی بولی۔

لو کر بات۔۔۔ہم سب کیا شوق سے یہاں کھڑے ہیں؟

دائم کی امی بے زار سی بولی۔

تم بے ہوش تھی اور ہم سب پریشان کھڑے ہیں یہاں۔۔۔کیا کہنے ہیں تمہارے کہ آپ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔

ڈرامے دیکھ لیں اس لڑکی کے۔۔۔ایسے بول رہی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہی۔

تائی امی یہ ڈرامہ نہی کر رہی تھی۔۔۔یہ واقعی بے ہوش تھی۔جواب خاور کی طرف سے آیا۔

تم چپ رہو۔۔۔عجیب تماشہ لگایا ہوا تم دونوں نے ایک ہاتھ پر چوٹ لگوائے بیٹھا اور دوسری بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔

بس کر دیں امی۔۔۔

ٹھیک ہے میں ہی بس کر دیتی ہوں۔۔۔تم بچے کبھی نا سننا بڑوں کی بات۔

دائم کے روکنے پر وہ غصے میں کمرے سے باہر نکل گئی۔

مہک نے دائم کی طرف دیکھا اور نظریں جھکا لی۔

اسے کیا ہوا تھا دائم بھائی۔۔۔؟

مصباح پریشان سی دائم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

کچھ نہی ہوا۔۔۔اب یہ بلکل ٹھیک ہے۔تم لوگ جاؤ اپنا اپنا کام کرو،فضول کوئی سین نا کری ایٹ کرو سب۔۔۔چلو شاباش نکلو سب کمرے سے۔

دائم کے ڈانٹنے پر شمع،نازیہ٫شازیہ،فوزیہ اور مصباح سب چہ میگوئیاں کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

آپ لوگ بھی جائیں سب خیریت ہے بس اس کا بلڈ پریشر تھوڑا ڈاؤن ہے اس کے لیے کچھ کھانے کو لا دیں۔

دائم سب کو تسلیاں تو دے رہا تھا لیکن کچھ کچھ معاملہ تقریباً سب کی سمجھ میں آ چکا تھا۔

پھوپھو اور خدیجہ چچی بھی بے بس سی کمرے سے باہر نکل گئی۔

تم ٹھیک ہو۔۔۔؟

دائم نے پلٹ کر خاور سے سوال کیا۔

جی۔۔۔ٹھیک ہوں۔

خاور نے رسما سا جواب دیا۔۔۔اس کی نظریں آنسو بہاتی ہوئی مہک پر جمی تھی۔

کیوں رو رہی ہو تمہارا بھائی ہے ناں ساتھ۔۔۔میرے ہوتے ہوئے کیوں پریشان ہو رہی ہو؟

دائم جانتا تھا مہک ڈر چکی ہے اسی لیے اسے تسلی دینے کے لیے مہک کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

کچھ زیادہ ہی قریب نہی بیٹھے آپ مہک کے اور اسے ہاتھ کس حق سے لگا رہے ہیں آپ؟

خاور کے غصے بھرے جملے سن کر دائم نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا اور وہاں سے اٹھ کر خاور کے سامنے بیٹھ گیا کیا مطلب؟

مطلب تو صاف ہے دائم بھائی۔۔۔مجھے آپ کا مہک کے ساتھ اتنا فرینک ہونا اچھا نہی لگتا٫اس کے دکھ درد سننے کے لیے میں بیٹھا ہوں یہاں۔

آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔اس کی فکر کرنے کے لیے میں ہوں۔

کیا کہا زرا دوبارہ کہنا۔۔۔دائم بے یقینی سے خاور کو دیکھتے ہوئے بولا۔

جی بلکل ٹھیک سنا آپ نے۔۔۔مہک سے دور رہیں آپ۔

اچھا۔۔۔دائم نے سر اثبات میں ہلایا اور ظبط سے مٹھی بند کی۔

تمہیں پتہ ہے خاور تم کیا کہہ رہے ہو؟

ہوش میں تو ہو؟

جی بلکل۔۔۔میں ہوش میں ہوں اور جو کہہ رہا ہوں بلکل سہی کہہ رہا ہوں آپ یہاں سے چلے جائیں اور آئیندہ کے لیے ایک بات یاد رکھیں۔

مہک میری ہونے والی بیوی ہے اور اس کے اردگرد میں کسی بھی وجود کو برداشت نہی کر سکتا۔

Shut up!

دائم کا ظبط بس یہی تک تھا اس نے ایک زور دار تھپڑ خاور کے گال پے لگایا۔

شرم آنی چاہیے تمہیں ایسی بات کرتے ہوئے۔۔۔میرے لیے مہک اور مصباح میں کوئی فرق نہیں ہے چھوٹی بہن سمجھتا ہوں میں اسے لیکن تم نے۔۔۔مجھے بولتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے۔

تم نے ایسا سوچا بھی کیسے۔۔۔؟

جان لے لوں گا میں تمہاری اگر دوبارہ ایسا کچھ بولنے کی ہمت کی۔

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا شاید۔۔۔میرے میرے لیے مصباح اور باقی سب میں کوئی فرق نہی ہے سب کو بہنیں سمجھتا ہوں میں لیکن تم نے آج یہ ثابت کر دیا خاور کہ تمہاری سوچ بہت گھٹیا ہے۔

میری سوچ گھٹیا ہے تو پھر گھٹیا ہی سہی۔۔۔آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھیں لیکن اب آپ مہک سے دور رہیں۔

یہی بہتر ہو گا آپ کے لیے۔۔۔پہلے بات اور تھی میں چپ چاپ سب کچھ برداشت کر لیتا تھا لیکن اب یہ میری ہونے والی بیوی ہے۔

رشتہ طے ہوا ہے سب کی مرضی سے اور مجھے پورا حق ہے آپ کو روکنے کا۔

صرف رشتہ ہی طے ہوا ہے نکاح یا رخصتی نہی جو تم اس پر ایسے حق جتا رہے ہو۔۔۔اور اگر میں چاہوں ناں تو یہ رشتہ ابھی ختم کروا سکتا ہوں۔

سلام ہے تمہاری سوچ کو۔۔۔ابھی مجھے جانا ہے لیکن شام کو نمٹتا ہوں تم سے۔۔۔دائم غصے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

اس کے جاتے ہی مہک بھی افسوس میں سر ہلاتی ہوئی کمرے سے باہر جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

تم کہاں جا رہی ہو؟

بیٹھ جاؤ چپ چاپ یہاں۔۔۔اس کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔تمہارے لئے اس سے زیادہ ضروری میں ہوں۔

تم کبھی نہیں بدل سکتے۔۔۔میرے دل کے کسی کونے میں تمہارے لئے تھوڑی سی محبت پیدا ہوئی تھی لیکن تم نے پھر سے اسے نفرت میں بدل دیا۔

مجھے لگا تھا کہ تم بدل رہے ہو لیکن میں غلط تھی تم وہی کے وہی ہو۔۔۔تمہیں اتنا تو پتا ہونا چاہیے کہ کون سی بات کہاں بولنی ہے۔

مجھے ٹارچر کرتے رہے وہاں تک ٹھیک تھا لیکن اب تم حد سے بڑھ رہے ہو۔

کتنا دل دکھایا ہے تم نے دائم بھائی کا کیا سوچ رہی ہوں گے میرے بارے میں کہ میں نے ایک لفظ بھی نہیں بولا ان کے لئے۔

تو تمہارا بولنا بنتا بھی نہیں ہے مہک۔۔۔میں نے جو کیا بالکل صحیح کیا ہے اور تمہیں مجھ سے نفرت ہو یا محبت جو بھی ہو تم میری ہو۔

اس حقیقت کو تم جھٹلا نہی سکتی۔میں کسی کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ اسے جو کرنا ہے کرے دیکھ لوں گا میں یہ کیسے رشتہ ختم کرواتا ہے۔

خدا کے لئے چپ ہو جاؤ خاور۔۔۔بس کر دو۔ تمہیں ذرا بھی افسوس نہی ہو رہا اپنی غلطی پر کہ تم نے کیا کیا ہے۔

ابھی بھی تمہاری اکڑ ویسی کی ویسی ہے۔ تھوڑی سی تو شرم کر لو۔

جو کہنا تھا مجھے کہتے بھائی سے ایسا بولنے کی کیا ضرورت تھی؟

کتنے دکھی لگ رہے تھے وہ تمہاری باتوں پر۔تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ مجھے بہن سمجھتے ہیں۔

اپنے دماغ سے فضول باتیں نکال دو اور جیسے ہی وہ واپس آئیں ان سے معافی مانگو

بلکہ ان کے آنے کا انتظار مت کرو ان کو ابھی کال کرو اور معافی مانگو۔

کس بات کی معافی مانگو میں؟

وہ میرے سامنے میری ہونے والی بیوی کے کندھے پر ہاتھ رکھ رہا تھا۔۔۔اتنا بے غیرت نہیں ہوں میں کہ چپ چاپ سب دیکھتا رہوں۔

پہلے کی بات اور تھی لیکن اب بات اور ہے میری ایک بات تم کان کھول کر سن لو اگر تم دوبارہ مجھے اس کے آس پاس بھی نظر آئی تو تمہارے لئے اچھا نہی ہو گا۔

میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گی۔

اچھا۔۔۔پہلے اپنے پاؤں پر تو کھڑے ہو جاؤ پھر کر لینا میرا جو حال کرنا ہو۔

تم مجھے طعنہ دے رہی ہوں معزوری کا؟

وہ شخص تمہارے لئے اتنا اہم ہے کہ تم اس کے لیے اپنے ہونے والے شوہر کو معزوری کا طعنہ دے رہی ہو؟

میں نے معذوری کا طعنہ نہیں دیا تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں تو تمہیں یہ سمجھا رہی ہو اس وقت جو تمہاری حالت ہے تمہیں سب کی دعائیں لینی چاہیے بجائے اس کے کہ تم اپنے بڑوں کا دل دکھاؤ۔

“یہ کیسی محبت ہے تمہاری؟”

“میری نظر میں محبت کی پہلی شرط عزت ہوتی ہے” جو تم مجھے کبھی نہیں دے سکتے۔

تم نے بس مجھے اپنی ضد بنا لیا ہے کہ بس ہر حال میں جیسے بھی ہو مجھے حاصل کرنا ہے۔

ٹھیک ہے ہو گئی تمہاری ضد پوری۔۔۔میں نے ہار مان لی تمہارے سامنے لیکن اس طرح اپنے بڑوں کی انسلٹ بالکل برداشت نہیں کروں گی میں۔

میری بات بھی کان کھول کر سن لو تم۔۔۔تمہیں پوری بات کا پتا ہی نہیں ہے وہ مجھے کسی بات پر تسلی دے رہے تھے۔

اس لئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ مجھے ہاتھ لگانے کے بہانہ تلاش کر رہے تھے۔

اگر انہیں میرے پاس آنے کا اتنا ہی شوق ہو ہو تو وہ گھر پر بھی آ سکتے ہیں۔آج تک کسی نے نہی روکا انہیں میرے کمرے میں آنے سے اور نہ ہی کوئی روکے گا۔

ان کی ہمدردی کو پتہ نہی کیا سمجھ لیا ہے تم نے۔

کس بات کا دلاسہ۔۔۔کس بات کی ہمدردی مہک،کیا چل رہا ہے تم دونوں کے درمیان، ایسا کیا ہے جو تم اس کو بتا سکتی ہوں لیکن مجھے نہی؟

اور جہاں تک ہمدردی کی بات ہے جو چیز میری آنکھ دیکھ سکتی ہیں تم نہی دیکھ سکتی۔

تم نے ہمیشہ ان کو اپنے بھائی کے روپ میں دیکھا ہے لیکن میری نظریں تو کچھ اور ہی دیکھتی ہیں۔

تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے خاور اور تمہیں سمجھانا دیوار کو سمجھانے کے برابر ہے جارہی ہوں میں بیٹھو اکیلے تم اسی لائق ہو۔

مہک غصے میں کمرے سے باہر جانے ہی لگی تھی کہ دائم نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی چھری اٹھائی اور اپنی کلائی پر رکھ دی۔

اگر تم یہاں سے گئی تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔میں اپنا وہ حال کروں گا کہ تم ساری زندگی پچھتاو گی۔

مہک نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور افسوس سے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔اس کو سائیڈ پر رکھ دو۔

نہیں رکھوں گا سائیڈ پر تم یہاں بیٹھو میرے پاس۔۔۔تم کمرے سے باہر نہیں جاؤ گی جب تک میں نہی کہوں گا۔

کلائی پر چھری کا دباؤ بڑھتے دیکھ کر مہک نے کمرے سے نہ جانے کا فیصلہ کیا اور چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گئی۔

کہی نہی جا رہی میں یہی ہوں اب تم اسے واپس رکھو۔

خاور نے مسکراتے ہوئے چھری ہاتھ میں دبا لی جب میرا دل چاہے گا ناں میں واپس رکھ دونگا۔

یہ تو زبردستی ہے۔۔۔تم مجھے ٹارچر کر رہے ہو یہ سب ٹھیک نہیں ہے ایسا کرنے سے کیا ہو جائے گا؟

مجھے نہیں پتہ کیا ہو گا۔۔۔زبردستی،ضد یا کچھ اور تم وہی کروں گی جو میں کہوں گا۔

یہ چھری اب میرے پاس ہی رہے گی۔تم یہی رہو گی شام تک اور گھر جا کر مجھے کال کرو گی۔

جب میں کال کروں گا تم میری کال پک کرو گی اگر ایسا نہ کیا تو یہ چھری تو میرے ہاتھ میں ہے ہی اور تم جانتی ہو میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں ہو اسے مذاق مت سمجھنا اور نہ ہی دھمکی۔

کہو تو ایک چھوٹا سا ٹریلر دکھاوں تمہیں۔۔۔دکھا ہی دیتا ہوں۔۔۔خاور نے تیزی سے چھری اپنے بازو پر چلائی۔

پاگل ہو گئے ہو تم یہ کیا حرکت کی ہے؟

میں نے کہا تو ہے تم جو کہو گے میں وہی کروں گی تو پھر یہ سب کیوں کر رہے ہو؟

عجیب حرکتیں ہیں تمہاری۔۔۔مہک نے فرسٹ ایڈ باکس اٹھایا یا اس کے بازو پر پٹی باندھ دی۔

خاور کے ہونٹوں پر مسلسل مسکراہٹ تھی۔تمہیں مجھ سے کوئی بھی نہی چھین نہیں سکتا۔۔۔کوئی بھی نہی۔

مہک نے فرسٹ ایڈ باکس بند کرتے ہوئے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا کوئی نہی چھین رہا مجھے تم سے۔

یہ سب تمہارے ذہن کا وہم ہے اور کچھ نہیں نہیں اور وہم کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔

اس وہم کو جتنا محسوس کرو گے یہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا سمجھنے کی کوشش کرو۔ میرے لیے دائم بھائی ویسے ہی ہیں جیسے قاسم بھائی اور ان کے لیے میں ویسے ہی ہوں ہو جیسے مصباح اور باقی سب۔

کبھی کبھی انسان جو سوچتا ہے وہی دیکھتا ہے اپنی سوچ کو ٹھیک کرو۔

اصل میں غلطی تمہاری نہیں ہے تمہارا دماغ ایک بات کو قبول کر چکا ہے اور وہ تمہیں وہی دکھاتا ہے جو بات تمہارے ذہن میں بیٹھ چکی ہے۔

اپنے دل سے دائم بھائی کے لیے بد گمانی نکال دو۔

بس جو میں کہوں تم وہی کرو مہک پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔

مہک کے نرمی سے بولنے پر خاور کا غصہ تھوڑا کم ہوا۔

اب بتاؤ مجھے کیا بات ہے کیا ہوا تھا تمہیں؟

جو بھی پریشانی ہے مجھے بتاؤ مل کر اس کا کوئی حل نکالتے ہیں بجائے اس کے کہ تم غیروں کو اپنے دکھ سناؤ۔

میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی اور کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہانے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں ہوں یہاں تمہارے پاس ہمیشہ۔۔۔

ٹھیک ہے میں بتاتی ہوں۔۔۔مہک کرسی کھینچتے ہوئی بیڈ کے پاس لے آئی اور وہی بیٹھ گئی۔

جب سے ہم لوگ اس نئے گھر میں شفٹ ہوئے ہیں میرے ساتھ کچھ عجیب و غریب واقعات ہو رہے ہیں کسی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں مجھے۔

کیا مطلب۔۔۔کیسی آوازیں سنائی دیتی ہیں تمہیں؟

ایسے ہی کبھی کسی عورت کے رونے کی کبھی کسی بچے کے چیخنے کی اور کبھی کوئی میرا نام پکارتا ہے اور وہ آواز کسی لڑکے کی ہے۔

کیا مطلب کوئی لڑکا تمہیں کیوں آواز دے گا؟

عورت کے رونے کی آواز اور بچوں کے چیخنے کی آواز ہو سکتا آس پاس کے کسی گھر سے آتی ہو۔

نہیں وہ آوازیں آس پاس کے گھر سے نہیں آتی بلکہ میرے کمرے سے ہی آتی ہیں اور میرے کمرے میں جو شیشہ لگا ہے زیادہ تر اس کے نزدیک سے آتی ہیں۔

وہ بڑا سا شیشہ جو تمہارے کمرے میں لگا ہے اس کی بات کر رہی ہو تم؟

ہاں میں اسی کی بات کر رہی ہوں ایسے لگتا ہے جیسے دوسری طرف کوئی مجھے دیکھتا ہے۔

امی کو بہت بار بت چکی ہوں پہلے تو وہ میرا یقین نہیں کرتی تھی لیکن اب انہیں تھوڑا تھوڑا یقین ہو رہا ہے میری باتوں پر۔

مجھے ایسے لگتا ہے کہ۔۔۔۔مہک بولتے بولتے خاموش ہوگئی۔

کیا لگتا ہے تمہیں چپ کیوں ہو گئی بتاؤ مجھے۔

مجھے ایسے لگتا ہے کہ شاید کوئی جن ہے اسے کسی کا بھی میرے پاس آنا اچھا نہیں لگتا۔

اس دن گجرے میں نے نہیں توڑے تھے اور نہ ہی گول گپے میں نے گرائے تھے اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہو چکا ہے۔

گجرے ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ ڈسٹبن میں خودبخود بعد جل گئے تھے۔

امی بھی بہت پریشان ہو چکی تھی پہلے تو نے لگا کہ یہ سب میں کر رہی ہو ہو لیکن جب تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا اس کے بعد انہیں یقین آ گیا کہ میں سچ بول رہی ہو۔

کیا مطلب اس بات کا میرے ایکسیڈنٹ سے کیا تعلق؟

وہ ایک حادثہ تھا۔

نہیں یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کسی نے جان بوجھ کر کیا ہے تمہارے ساتھ۔

جیسے ہی تم میرے نزدیک آنے کی کوشش کرتے ہو وہ تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس دن جب تم میرے کمرے سے گئے تو میں نے تمہیں روکنے کے لیے تمہارے پیچھے آنا چاہا لیکن میں پہنچ ہی نہی سکی۔

مجھے خود سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میرا ساتھ ہو کیا رہا ہے۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے پاؤں پتھر کے بن چکے ہو اور حیرت تو اس بات کی ہے جب تم گھر سے چلے گئے تو میرے پاؤں بالکل ٹھیک ہو گئے۔

جیسے ہی میں نیچے آئی امی نے مجھے کہا کہ خاور تمہارے لئے کچن میں کچھ رکھ کے گیا ہے۔میں کچن میں گئی وہاں کی حالت دیکھ کر میرا سر چکرا گیا۔

سارے گول گپے فرش پر بکھرے پڑے تھے امی کو لگا میں نے کیا ہے اور مجھے لگا شاید گھر میں کوئی بلی گھس آئی ہے لیکن جب وہ گجرے جلے تب مجھے اس بارے میں سوچنا پڑا۔

جب میں نے گہرائی میں جا کر سوچا تو مجھے اس کا نتیجہ یہی ملا کہ وہ جو کوئی بھی ہے اسے تمہارا میرے پاس آنا پسند نہی ہے۔

اس لئے وہ تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے

اچھا۔۔۔کچھ کچھ یاد تو مجھے بھی ہے اس دن جب کمرے میں تمہارا ہاتھ پکڑنے کے لیے غصے میں تمہاری طرف بڑھا تو کسی نے بہت زور سے مجھے دھکا دیا تھا اور میں گر گیا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا تمہیں یاد ہو گا شاید۔۔۔

لیکن وہ بات پرانی ہو چکی تھی اس کے بعد ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تو میرے ذہن میں نہیں رہا اس بات کا تذکرہ کرنا۔

آج تمہاری جو حالت تھی تم نے میرے ہاتھ پر کانچ مارا٫تمہاری آنکھیں لال تھیں اور بول تو تم رہی تھی لیکن آواز کسی مرد کی تھی۔

یہ واقعی خطرے والی بات ہے اس گھر میں رہنا مناسب نہیں ہے۔

ایک منٹ۔۔۔ابھی بھی تو تم میرے پاس ہی بیٹھی ہو تم نے مجھے ہاتھ بھی لگایا میری ڈریسنگ کی اگر واقعی ایسا کچھ ہے تو ابھی بھی کوئی نقصان ہو سکتا تھا؟

ہاں ہو سکتا تھا لیکن کیوں نہیں ہوا مجھے نہیں پتا اور تم اللہ کا شکر ادا کرو کہ کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔

میں نے تمہیں جو کچھ بتایا حرف بہ حرف سچ ہے۔

میں ایسا تو نہیں کہہ رہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔سمجھ سکتا ہوں میں تم جو کہنا چاہ رہی ہو ہمیں کسی نہ کسی کو تو بتانا پڑے گا۔

ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔کسی اور سے بات کرتا ہوں میں یا پھر چاچو سے بات کرتا ہوں۔

نہیں میں گھر جا کر امی سے بات کرتی ہوں دیکھتی ہوں وہ کیا کہتی ہیں اس کے بعد تم نے جو کرنا ہو کر لینا۔

فی الحال تم آرام کرو میں یہی ہوں کہی نہیں جا رہی۔۔۔دائم بھائی کی گاڑی کی آواز آ چکی ہے اور وہ گھر سے جا چکے ہیں۔

میں باہر جا کے بیٹھتی ہوں سب کے ساتھ۔۔۔ہماری شادی کی بات پکی ہوئی ہے ابھی شادی نہیں ہوئی ہوئی جو میں اس طرح تمہارے پاس بیٹھی رہوں۔

سب کو منہ دکھانا ہے مجھے اس طرح اچھا نہیں لگتا۔۔۔تمہارے لیے میری عزت سب سے پہلے ہونی چاہیے۔

ٹھیک ہے جاؤ بیٹھو سب کے ساتھ اور اپنا خیال رکھو۔

ہاں بس جا رہی ہوں۔۔۔کچھ دیر تک بابا آ جائیں گے مجھے پک کرنے۔

جاتے ہوئے مل کر نہیں جاؤ گی؟

اگر موقع ملا تو آ جاؤں گی نہی تو خدا حافظ۔

مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

خاور بیڈ سے ٹیک لگائے نظریں چھت پر جمائے کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا۔

____________________

شایان اپنی ماں کے کمرے میں تھا اچانک سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اسی وجہ سے اسے ان کے پاس بیٹھنا پڑا۔

جب سے اس کے چھوٹے بھائی کی موت ہوئی تب سے وہ نہ تو کسی سے بات کرتی ہیں اور نہ ہی کہی آتی جاتی ہیں۔

اچانک سے بھی ہو جاتی ہیں اور پھر گھنٹوں بے ہوش ہی رہتی ہیں۔

اپنے لخت جگر کی حادثاتی موت کا صدمہ کسی گہری چھاپ کی طرح ان کے دل و دماغ پر چھپ چکا ہے اور وہ اس صدمے سے باہر آنے کا نام ہی نہی لے رہی۔

شایان کرسی پر بیٹھا ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ان کے ہاتھ پر ہونٹ رکھتے ہوئے روئے آنسو بہا رہا تھا۔

بس کر دیں ماں اور کتنا تڑپے گی آپ؟

فھان کی موت پر جتنا آپ تڑپ رہی ہیں ہم سب سے بھی اتنا ہی تڑپے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہر زخم بھر جاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں آپ ماں ہیں اور ہمارا دکھ آپ کے دکھ سے بہت کم ہے لیکن ہم آپ کو ایسے روز روز مرتے ہوئے نہی دیکھ سکتے۔

ہمارے لئے جینے کی کوشش کریں ایسا کب تک چلے گا؟

جانے والے لوٹ کر کبھی نہیں آتے۔۔۔سفر پر جانے والے واپس لوٹ سکتے ہیں ان کی واپسی کی امید تو لگائی جاسکتی ہے لیکن جس دنیا میں وہ جا چکا ہے وہاں سے واپسی کی امید صرف مایوسی ہے اور کچھ نہیں۔

دس سال ہو چکے ہیں اس بات کو ہمیں آپ کی ضرورت ہے ہم بھی آپ کے بیٹے ہیں۔

ہیزل بھی آپ کی بیٹی ہیں اور بابا کو بھی آپ کی ضرورت ہے۔

ہمارے لئے کوشش تو کریں۔۔۔آپ کر سکتی ہیں۔

ہم سے نہیں دیکھی جاتی آپ کی یہ حالت ہم بہت بے بس ہو چکے ہیں آپ کے لیے۔

آپ بتائیں ہم ایسا کیا کریں کہ آپ پہلے جیسے ہو جائیں؟

ہمیں کسی بھی طرح ہماری رانی ماں واپس چاہیے۔۔۔ہم آپ کے بغیر نہیں جی سکتے۔

فہان کو تو واپس نہیں لا سکتے ہم لیکن آپ کو اس طرح نہ گھٹ گھٹ کر جیتے نہیں دیکھ سکتے۔

آپ کو جینا ہوگا ہمارے لئے۔۔۔نہ جانے کتنی ہی دیر ان سے باتیں کرتا رہا لیکن وہ تو آنکھیں بند کئے ایسے لیٹی تھی جیسے کچھ سنا ہی نہی۔

آخرکار شایان تھک کر ہیزل کو ان کے پاس چھوڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے آنکھوں کے نیچے ٹہری نمی صاف کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔

ایک نظر شیشے کو دیکھا اور پھر پلٹ گیا۔

کچھ یاد آنے پر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا شیشے کی طرف بڑھا اور شیشے پر ہاتھ رکھا۔

سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی پوری طاقت سے شیشے پر ہاتھ مارا تو شیشہ چکنا چور ہو گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *